قومی و بین الاقوامی ایشوز

Constant او ر Relative

گزشتہ صدی کا عظیم ترین سائنس دان البرٹ آئین سٹائن ایک دفعہ کہیں لیکچر دے رہاتھا۔لیکچر کا موضوع اس کا اپنا مشہور زمانہ’’ نظریہ اضافت‘‘ (Theory of Relativity)تھا اور وہ حاضرین کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کس طرح اس نظرئیے کے تحت روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے سے وقت گزرنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے ۔اس ہوشربا نظر ئیے پر بات کرتے ہوئے خود آئین سٹائن کو بھی وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا اور جب اچانک اسے خیال آیا تو اس نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی اورایک تاریخی فقرہ کہا ’’اوہ! معاف کیجئے گا،مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اتنا وقت گزر گیا ہے!‘‘ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے مجھے اسی وقت دلچسپی پیدا ہو گئی تھی جب میں نے پہلی دفعہ اس کے بارے میں میٹرک کی فزکس کی کتاب میں پڑھا تھا۔اس کے بعد جب میں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی کی تو اس دوران جی سی کی لائبریری میں اس موضوع پر جتنی کتابیں تھیں، وہ سب پڑھ ڈالیں اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ نظریہ اضافت اس سال اردو بازار میں بکنے والے ’’گیس پیپرز‘‘ میں ’’Sure Short‘‘ سوال کے طور پرشامل تھابلکہ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ جوں جوں میں اس تھیوری کے بارے میں پڑھتا گیا توں توں حیرت کا ایک جہان میرے سامنے آباد ہوتا چلا گیا۔آئن سٹائن نے یہ نظریہ 30جون 1905کو صرف 26 سال کی عمر میں ایک مضمون میں پیش کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’On the electrodynamics of moving bodies‘‘۔ بعد میںیہSpecial Theory of Relativity کے نام سے مشہور ہوا اور اس نظرئیے نے نہ صرف جدید فزکس کے قوانین بلکہ کائنات کے بارے میں انسانی تصور کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا۔واضح رہے کہ یہ بات میں نے محض آئن سٹائن کی محبت میں لکھی ہے،اس کا مقصد اپنی علمیت کا رعب جھاڑنا نہیں ۔ کیونکہ جب بھی میں یہ رعب جھاڑنے کی کوشش کرتا ہوں،آگے سے کوئی نہ کوئی سینئر مجھے جھاڑ پلا دیتا ہے!

آئن سٹائن کی Special Theory of Relativityکے بنیادی نکات بیک وقت عام فہم اور ناقابل یقین نظر آتے ہیں لیکن در حقیقت کافی پیچیدہ ہیں لہٰذا ہم اس طبیعاتی بحث میں نہیں الجھیں گے اورصرف اس کے حیرت انگیز نتائج پر سر دھنیں گے ۔اس تھیوری کی سب سے حیرت انگیز بات یہ دریافت تھی کہ اگر ہم روشنی کی رفتار کے قریب سفر کریں تو وقت آہستہ ہو جائے گا ۔دوسری حیرت انگیز بات یہ کہ روشنی کی رفتار کے برابر سفر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صورت میں وقت ہی ’’تھم‘‘ جائے گا جو ایک ناممکن سی بات ہے ۔ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کائنات میں صرف روشنی کی رفتار ہی ایک ایسی چیز ہے جو سپیس میں ہر جگہ یکساں یعنی Constantہے جبکہ وقت Relativeیعنی اضافی ہے ۔اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کبھی ہم رات کو کوئی ستارہ ٹوٹتا ہوا دیکھتے ہیں تو جلدی سے اپنے دل میں کوئی تمنا کر لیتے ہیں کیونکہ کہا جاتاہے کہ ٹوٹے ہوئے ستارے کو دیکھتے وقت جو بھی خواہش کی جائے وہ پوری ہوتی ہے حالانکہ صورتحال بالکل اس کے برعکس بلکہ عجیب و غریب ہے ۔درحقیقت جب وہ ستارہ ٹوٹا تھا اس وقت ہمارے آباؤ اجداد بھی پیدا نہیں ہوئے تھے ۔چونکہ وہ ستارہ ہم سے کئی نوری سالوں (Light Years) کے فاصلے پر واقع تھا اس لئے جب ہم تک اس کی روشنی پہنچی ،تب ہمیں پتہ چلا کہ وہ ستارہ ٹوٹا ہے اور ہم نے اس ’’وقت‘‘ کسی احمقانہ خواہش کا اظہار کر دیا کیونکہ اپنے تئیں ہم اس ’’وقت‘‘ ٹوٹا ہوا ستارہ دیکھ رہے تھے۔اسی ضمن میں ایک اور مثال بڑی دلچسپ ہے جسے Twin Paradox کہا جاتا ہے ۔فرض کریں کہ دو جڑواں بھائی ہیں جن کی عمریں اس وقت 20سال ہیں ۔ایک بھائی کا نام عمر ہے اور دوسرے کا نام علی ہے ۔عمر کے پاس ایک خلائی جہاز ہے جو روشنی کی رفتار کی90فیصد رفتار کے برابر سپیس میں سفر کر سکتا ہے۔ ایک دن عمراس جہاز میں بیٹھتا ہے اور علی کو کہتا ہے کہ ’’میں خلائی سفر پر جا رہا ہوں، 6 ماہ بعد لوٹوں گا،خدا حافظ۔‘‘اور اس کے بعد وہ اس سفر پر روانہ ہو جاتا ہے ۔اس دوران علی زمین پر ہی رہتا ہے اور ایک سرکاری دفتر میں نوکری کر لیتا ہے ۔6 ماہ بعد جب عمر اپنے خلائی سفر سے واپس لوٹتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے کہ اس کا جڑواں بھائی بوڑھا ہو کر نوکری سے ریٹائر ہو چکا ہے اور اب پینشن لینے کے لئے دھکے کھا رہا ہے جبکہ خود عمر ابھی محض 20سال اور 6ماہ کاہی ہے!!!پس ثابت ہوا کہ کائنات میں وقت Relativeہے یعنی کائنات میں کسی’’ جگہ ‘‘کے 6ماہ کسی دوسری’’ جگہ‘‘ کے 50سال کے برابر ہو سکتے ہیں۔ ویسے اگر مجھے کوئی کہے کہ آئین سٹائن کے نظریہ اضافت کو ایک سطر میں سمجھاؤ تو میرا جواب ہو گا کہ اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے پانچ گھنٹے یوں گذر جاتے ہیں جیسے پانچ منٹ جبکہ کسی بور شخص کی پانچ منٹ کی محفل پانچ گھنٹوں جتنی طویل لگتی ہے ۔اسی کو Relativityکہتے ہیں ۔

آئن سٹائن کی Relativityکی تھیوری اپنی جگہ لیکن Relativityکی ایک تھیوری اس خاکسار کی ایجاد کردہ بھی ہے۔اس تھیوری کی رو سے اس کائنات میں صرف ٹائم ہی نہیں بلکہ ہر چیز Relativityہے۔ دولت، کامیابی، ناکامی، ترقی، شہرت، محبت، نفرت، سچائی، جھوٹ، نیکی، بدی، اچھائی، برائی غرض ہرچیز Relativity ہے۔ آپ کامیابی کی مثال لے لیں ۔کسی شخص کے نزدیک بے تحاشا دولت کمانا بڑی کامیابی کی بات ہو سکتی ہے جبکہ کسی دوسرے شخص کے نزدیک دولت کی بجائے شہرت کامیابی کا معیار ہو سکتی ہے۔سو ان دونوں اشخاص کے مابین کامیابی کا معیار Relativity ہو گیا۔اور بالفرض اگر دو ایسے ہم خیال مل جائیں جو دولت کو ہی کامیابی کا معیار سمجھتے ہوں تو پھر یہ بات Relativityہو جائے گی کہ کسی انسان کو کامیابی کے لئے کتنی دولت درکار ہے ؟ممکن ہے ان میں سے ایک کے خیال میں دس کروڑ روپے کمانا کامیابی ہو جبکہ دوسرے کے خیال میں دس کروڑ ڈالر کمانا کامیابی ہو۔دوسری مثال محبت کی لیتے ہیں۔دو ایسے ٹین ایجرز کے بارے میں فرض کریں جنہیں تازہ تازہ عشق ہوا ہے اور وہ ’’پہلا نشہ ،پہلا خمار ‘‘ گاتے پھر رہے ہیں ۔ایک سوال جو لا محالہ وہ دونوں ایک دوسرے سے پوچھیں گے ،یہ ہوگا کہ ’’تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے؟‘‘ اس کا جواب بھی Relativityہے کیونکہ فرض کریں اگر لڑکا یہ جواب دے کہ’’ میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں ‘‘ تو اس لڑکے کی یہ ’’بے حدمحبت‘‘ Relativity ہو گی۔کیونکہ عین ممکن ہے کہ لڑکے کی ’’بے حد محبت‘‘ لڑکی کے نزدیک بہت تھوڑی ہو۔دوسرے لفظوں میں یہRelativity Loveہوا۔ اسی طرح جو خود کش بمبار دھماکے میں سیکڑوں بے گناہ لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے ، وہ اپنے تئیں جنت کماتا ہے جبکہ علما ء کرام خود کش دھماکوں کو حرام کہہ کر اس بمبار کو دوزخی قرار دے چکے ہیں ۔شٹل کاک برقع پہننے والی عورت کے نزدیک محض سر پر چادر اوڑھنے والی گناہ گار ہے جبکہ چادر لینے والی کے خیال میں گلے میں دوپٹہ ڈال کر پھرنے والی عورت خدا کو ناراض کر رہی ہے ۔یعنی ہر کسی کا اپنا اپنا اخلاقی پیمانہ ہے ،جسےRelative Moralityکہا جا سکتا ہے ۔امریکہ کا افغانستان پر حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے جبکہ افغانیوں کے نزدیک یہ امریکی دہشت گردی ہے۔کون حق پر ہے اور کون باطل پر‘ اس کا فیصلہ تو اب کوئی سیاسی آئن سٹائن ہی کر سکتاہے ۔

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP