متفرقات

2021 ۔ میرا ملک، میرا عزم

معروف شخصیات کے نئے سال کے موقع پر' نیو ایئر ریزولیوشن '

ماہِ دسمبر کی گزرتی ہوئی سرد اور طویل راتوں کے ساتھ ساتھ آنے والے نئے سال ،نئی صبح اور نئی اُمیدوں کا بھی آغاز ہوا چاہتا ہے۔ نئے سال کا سورج دیکھ کر قدرتی طور پر نئی تمنائیں اور آرزوئیںجنم لینے لگتی ہیں۔ یکم جنوری کا دِن ہر سال ایک جُدا قسم کے جوش و خروش اور مثبت لہروں سے لبریز ہوتا ہے۔ ہر شخص آنے والے سال کو بہتر سے بہترین اور خوب سے خوب تر بنانے کی تگ و دَو اور کاوشوں میںمصروف نظر آتا ہے۔ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ لوگوں میں نئے عہد و پیمان بھی پروان چڑھتے نظر آتے ہیں۔نئے سال کے عہدجن کو ''نیوایئر ریزولیوش'' کے نام سے جاناجاتا ہے۔ ہر شخص ہر سال نئے انداز اور نئی سوچ سے اپنے عہد کاتعین کرتا ہے۔ وقت کے تیز رفتار پہیے اور رواں زندگی کے چند لمحوں میں سے ہمیں کچھ وقت ، کچھ ایسے کاموں میں ضرور صرف کرنا چاہئے جس سے ہماری روح کو سکون میسر ہو۔ ہر آنے والے سال میں اُن چیزوں ، اُن عادات، اُن جذبوں اور اُن مسنگ چیزوں کو شامل کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے جو ہماری زندگی میں مسرت کا باعث بنیں کیونکہ زندگی ہمیشہ ہماری پسند اور شرائط پر نہیں چلتی۔ اس کے اپنے اصول وضوابط ہیں۔ لہٰذا ہر آنے والے سال میں ہر شخص نئے خیال اور نئے عزم لے کر سالِ نو کا باقاعدہ آغاز کرتا ہے۔اس سلسلے میں ملک کے چند نامور حضرات کے خیالات اور عزائم جاننے کا ہمیں مواقع  ملا اور ہم نے ان سے اُن کے نئے سال کے عہد و پیمان جاننے کی کوشش کی جن میں کچھ نام یہ ہیں: 
ڈاکٹر فتح محمد ملک
مجھے یقین ہے کہ نیا سال نئی اُمیدوں اور خوشگوار توقعات کا سال ثابت ہوگا۔ قومی بیداری کی موجودہ صورتحال بڑی اُمید افزاء ہے۔ دعا ہے کہ یہ بیداری وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کی رفتار کو مسلسل تیز سے تیز تر کرتی چلی جائے۔ میرا یہ عزم ہے کہ پاکستان میںعلم و عمل کی شمع کو ہر سُو پورے ملک میں پھیلا دوں پچھلے سالوںکی طرح 2021 میں بھی اس سلسلے میں مصروفِ عمل رہوں گا۔ تمام پاکستانیوں کو نیا سال مبارک۔

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
قومیں وطن سے ہوتی ہیں اور وطن قوم سے۔ وطنِ عزیز پاکستان ہمارے لئے خدائے بزرگ و برتر کا ایک ایسا انعام ہے جس کے لئے ہم جتنا شکر کریں کم ہے۔ اس قوم کا ایک ذمہ دار فرد ہونے کے ناتے ہم سب کو اپنی اپنی جگہ وطن کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔ میں اپنے اندر اپنے وطن کے لئے ایک انوکھی لگن اور آسودگی محسوس کرتا ہوں۔ اپنی سرزمین کے ساتھ میری وارفتگی میرا انمول اثاثہ ہے۔ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارا ہر فعل اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اس مقصد کے لئے ہو جس سے ہمارے ملک و قوم کی تعمیرو ترقی میں اضافہ ہو۔ بحیثیت قوم یہی ہمارا فریضہ ہے اور میں اس وطن کا مستقبل بہت شاندار اور تابناک دیکھتا ہوں خدا اسے ہمیشہ سلامت رکھے۔
حسینہ معین
نئے سال میں میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ ہم سب اکٹھے ہو جائیں، متحد ہو جائیں، ایک دوسرے کا خیال رکھیں، یہ نہ سوچیں کہ ہم کون ہیں تم کون ہو، ہم سب پاکستانی ہیں، مل کر پاکستان کو بنائیں اور جو کچھ ہماری خامیاں ہیں، جو کچھ ہم سے غلطیاں ہو گئی ہیں اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں اور یہ بھی سوچیں کہ اگر ہم نے یہ کوشش نہ کی اور ہم الگ ہوتے چلے گئے، بکھرتے چلے گئے تویہ ملک بھی بکھر جائے گا اور جب یہ ملک بکھر جائے گا تو ہمیں روکنے والا کوئی نہیں بچے گا۔ ہم ہوائوں کی طرح اڑجائیں گے۔ پُرزوں کی طرح بکھر جائیںگے اس لئے نئے سال میں کم ازکم ایک بات سوچ کر رکھئے کہ یہ ملک آپ کا ہے، آپ کو اِسے بچانا ہے، آپ نفرتوں کو الگ کردیں، دوسروں کی باتوں میں نہ آئیں، صرف یہ سوچیں کہ اپنا یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے۔ اگر یہ ملک نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے، یہی ہمارا مقصد ، یہی ہماری زندگی ہے۔
جمال شاہ
یہ سال 2020 تو بے شمار خوابوں اور ارادوں کو مسلتا ہوا کرونا کی حدوں میں قید ہو کر رہ گیا۔ لیکن آنے والے سال سے ہمیشہ کی طرح بہت اُمیدیں ہیں۔ سال2021 میں میںنے ایک شفاف معاشرے اور روشن پاکستان کا خواب دیکھا ہے اور طے کیا ہے کہ میں اپنے آرٹ کے ذریعے وطن کی خوشبودُنیا میں پھیلائوں گا۔ مصوری کی نمائش ، میری چین کے ساتھ بننے والی فلم کی پروڈکشن اور ریلیزIAF-19 کے بعد دوسرا اسلام آباد آرٹ فیسٹول اکتوبر2021 میں منعقد کرنا ہے۔ جس میں گزشتہ برس کی طرح آرٹ کے تمام شعبوں کے نمائندے اور عالمی شہرت یافتہ فنکار شریک ہوں گے۔اس سلسلے میں مختلف ممالک سے900 سے زائد فنکاروں کی شراکت سے پاکستان عالمی سطح پر پوری دنیا سے ایک عالمی ثقافتی مکالمہ کررہا ہوگا اور اپنی اصل شناخت پوری دنیا کے سامنے لائے گا۔
عفت حسن رضوی
مٹی اور ماں سے وفادار رہنا انسان کی سرشت میں ہے، پھر چاہے وہ وفا اپنے خون سے نبھائی جائے یا قلم کی سیاہی سے۔
سال بدلتے ہیں ،عزم نہیں بدلے جاتے۔
 

جویریہ صدیق
2020 نے ہم سب کو بہت رنجیدہ کیا لیکن یہ ہمارے حوصلے کو پست نہیں کرسکا۔ Covid  کی وبا کے باوجود ہم میڈیا پرسنز نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور عوام کو بروقت خبروں اور حالات سے آگاہ رکھا۔2021 میں میرا یہ عزم ہوگا کہ اس ملک کی ترقی کے لئے شب وروز کام کرنا ہے اور انفارمیشن وار سمیت ہر میدان میں دشمن کو شکست دینی ہے۔

شہزاد رائے
سال 2020 بہت Slow گزرا ہے، بہت سے لوگ ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔  اس سال میں ہم نے بہت مشکلات دیکھی ہیں، شائد 2021 میں بھی ہم یہ مشکلات دیکھ رہے ہوں، لیکن ہم دعا گو ہیں کہ ایسا مزید نہ ہو۔ سال 2021 میں میری کوشش ہوگی کہ میں اپنے آپ کو زندگی کے ہر مرحلے میں چاہے وہ میری سوچ ہو میری فزیکل ہیلتھ ہو، ٹیلنٹ ہو یا منزل، خود کو مزید سنوارنے کی کوشش کروں گا، خود کو مزید منوانے کے لئے ہر ممکن کوشش ہوگی کہ مجھے مجھ میں موجود Potential کو سامنے لانے کا موقع ملے، سال 2021 میں میری کوشش حالیہ برس کی طرح یہی ہوگی کہ میں مزید اپنے آپ کو ان تمام چیزوں کی جانب گامزن رکھوں اور بحیثیت شہری میرا یہ پیام عام ہے کہ آپ سب اپنا خیال رکھیں اور لوگوں میں آگہی اور شعور بیدار کرنے کا کام ہمیشہ جاری رکھیں۔ کیونکہ موجودہ حالات اوربیماری سے لڑنے کے لئے یہ شعور اور آگہی ہی آئندہ ہمارے کام آئے گی۔
فریال علی گوہر
جیسا کہ اس ہنگامہ خیز سال کا اختتام ہونے جارہا ہے، میں اپنی صحت مند زندگی اور تندرستی کے لئے خدا کی بے حد شکرگزار ہوں۔ 2020 حساب کتاب ، پچھتاوے اور زندگی کی خواہش کو دوبارہ  زندہ کرنے کا سال تھا۔جیسا کہ ہر سُو بیماری، موت اور مایوسی رہی ہے، لیکن الحمدﷲیہ سال میرے لئے حیرت انگیز طاقت اور سکون لایا ہے۔جس چیز کے لئے میں نے دعا کی، جس چیز کا میں نے تصور بھی نہ کیا اس سال میں اُس کے حقیقی تجربے سے گزری۔ ہر چھوٹی چیز بھی نعمت ثابت ہوئی۔غرضیکہ میرے باغ میں پرندوں کے نغمے جو بیماری، پریشانی اور تھکاوٹ میں بھی میرے سانسوں کے لئے راحت بنے۔ یہ سال مجھے میرے پسندیدہ مضمون کی تعلیم کی جانب واپسی اور حکومتِ پاکستان کو( میرے ڈریم پروجیکٹ دیامیر، بھاشا ڈیم سے متاثر ہونے والے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لئے مجھے بطورِ مشیر تعینات کیاگیا ہے) کے بارے میں مشورہ دینے کی مسرت سے بھرپور تھا۔
میں دعا اور اُمیدکرتی ہوں کہ میں اُن تمام لوگوں کی توقعات پر پورا اُتروں جنہوںنے مجھ پر اعتماد کیا، دونوں ادارے جہاں میں پڑھا رہی ہوں اور واپڈا جہاں میں کام کرتی ہوں۔ زندگی میں زندہ رہنے اور حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ میں ہمیشہ نرم مزاج، اچھا انسان اور ہمدرد رہنے کی خواہش مند رہی ہوں اور اسی کے لئے آئندہ سال میں بھی دُعا کرتی ہوں۔ اگر میں زندگی کے اس سفر میں کسی فرد کی مدد کرنے کے قابل ہوسکوں تو یہ بات میرے لئے باعثِ سکون ہوگی اور میرے احساس کے معنی میں مزید اضافہ ہوگا جو میں پہلے ہی محسوس کرتی ہوں وہ احساس جو اﷲ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے۔
عائشہ عمر
سال2021 میری زندگی میں Self Healingاور Self Work کے بارے میں ہوگا۔ اس سال میں اپنی والدہ کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کا ارادہ کرتی ہوں، اس کے علاوہ اپنی روزمرہ زندگی کے دوران اپنی نیند کا دورانیہ مرتب کروں گی اور اپنی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی صحت اور جذبات پر بھی توجہ دوں گی اور جسمانی صحت کے لئے ورزش اور یوگا کو زندگی میں شامل کرنا اہم ہے۔ روزانہ ورزش کو عادت بنائوں گی۔ اپنی ذات سے مخلص رہنے، امانتداری اور قناعت پسندی کو اپنانے کی کوشش کروںگی۔ اس کے علاوہ لوگوں میں اور زیادہ پیار، محبت اور مسکراہٹیں بکھیرنا چاہوں گی۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کو ضرورت ہو اس وقت نہ کہنے کی عادت ڈالنا، یہ وہ چیز ہے جس میں میں بہت محنت کررہی ہوں، اس کے علاوہ اس سال میں سماجی روابط کو کم کرکے فیملی، دوست احباب اور کام پر توجہ مرکوز رکھنا میرے اہداف میں شامل ہے۔ یہ وہ چند چیزیں ہیں جو میں نئے سال میں کرنے کی اُمید کرتی ہوں۔
محمد فیضان ناصر
میں بی ایس الیکٹرونکس کے فائنل سمسٹر کا طالب علم ہوں، اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جنوری2021 میں ان شاء اﷲمیری ڈگری مکمل ہو جائے گی۔ پاکستان کے تمام نوجوانوں کی طرح میرابھی یہ یقین ہے کہ پاکستان 2021 میں ترقی و خوشحالی کی مزید نئی منازل طے کرے گا۔ پاکستان نوجوانوں کے لئے اُمید کی کِرن ہے اور پاکستان کی اُمید ہم نوجوان ہیں،اُمید واثق ہے کہ جلد میں بھی کسی ادارے سے وابستہ ہو کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کروں گا۔ کیونکہ کامیابی عزم سے ملتی ہے اور عزم اعتماد سے آتا ہے۔پاکستان زندہ باد۔

نئے سال کا مطلب ہے نئی اُمید، نئے سبق ، نئے چیلنجز اور توقعات۔ نیا سال ہمیں خود کو درست کرنے اور سدھارنے اور سنوارنے کے بے شمار راستے اور مواقع مہیا کرتا ہے۔ نیا سال خوابوں کی تعمیر میں ایک نیا باب بن کر سامنے آتا ہے جس سے بنی نوع انسان کو نئی اُمید نظر آتی ہے۔ گزرتے وقت سے سیکھنا اور آنے والے وقت کے لئے تیار رہنا عقلمندی کی نشانی ہے اور آنے والے وقت کے لئے تیاری کے ساتھ ساتھ مثبت سوچ اور لائحہ عمل رکھنا زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم آنے والے سال میں ملکِ خداداد کی کامرانی و کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال و افکار میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔ اُس رب کریم سے دعا ہے کہ یہ بے یقینی کی فضا جو ہرسو چھائی ہوئی ہے، آنے والے برس میں ہمارے لئے پُرسکون اور خوشیوں بھرا پیغام لے کر آئے اور سال 2021 وطنِ عزیز کے لئے خیروبرکت کا سال ثابت ہو۔ آنے والا ہر سال ہماری سرزمین کے لئے خوشحالی لائے اور یہ دھرتی یونہی مسکراتی رہے۔ ||



 

یہ تحریر 11مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP