خصوصی ملاقات

(میری دھر تی میرا قیمتی اثاثہ(ثمینہ پیرزادہ

ہمارے نوجوانوں اور اُن کے خاندانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ثمینہ پیرزادہ پاکستان کی معروف اداکارہ، ہدایتکارہ کی ہلال سے گفتگو

ثمینہ پیرزادہ پاکستانی خواتین بالخصوص فنکاراؤں کے لئے رول ماڈل کادرجہ رکھتی ہیں، ماڈلنگ ، اداکاری اور ڈائریکشن ہر شعبے میں ان کا کیرئیر قابل تقلید ہے ۔ وہ پاکستان کی مشہور اور منفرد فنکار فیملی کا حصہ ہیں لیکن انفرادی سطح پر بھی ان کا مقام ایک سپر سٹار سے کم نہیں۔ ٹی وی ڈراموں میں مشکل کردار اتنی عمدگی سے نبھاتی ہیں جیسے کردار لکھا ہی ان کے لئے گیا ہو۔ ثمینہ نے حال ہی میں ایک ملی نغمے کی ویڈیو میں شہید جوان کی والدہ کا کردار ادا کیا ہے۔ ہلال میگزین کے لئے قاسم علی نے ثمینہ پیرزادہ کا انٹرویو کیا ہے جس میں ثمینہ نے اپنی نجی زندگی ، کیرئیر اور مستقبل کے حوالے سے طویل گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔
سوال:آپ کے فنی کیرئیر کا آغاز کب اور کس کی انسپائریشن سے ہوا؟
جواب: مجھے ہمیشہ سے بلیک اینڈ وائٹ سنیما نے انسپائر کیا اور دوران تعلیم ہی میں پرفارمنگ آرٹس کی سرگرمیوں کا حصہ
تھی۔ تعلیم مکمل ہونے پر میں نے کچھ عرصہ ماڈلنگ کی جبکہ اداکاری کا آغاز تھیٹر سے ہوا۔ میرا پہلا کھیل ’’عورت ‘‘ تھا جسے ہم نے مزدوروں کے لئے کیا ۔ میں شیما کرمانی اور ثانیہ سعید کے والد منصور سعید کے ساتھ سماجی موضوعات پر تھیٹر کیا کرتی تھی۔ ٹی وی پر میرا کیرئیر انیس سو بیاسی میں باقاعدہ طور پر شروع ہوا۔ میرا پہلا کھیل’’ تنہا ‘‘ کا دوسرا حصہ تھا۔یہ کھیل پی ٹی وی کا تھا اور شہزاد خلیل مجھے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے عثمان سے کہا کہ ثمینہ کو بس ایک ڈرامہ کرنے دو اور پھر اس کے بعد سے میں نے مڑکر نہیں دیکھا۔ 
سوال: آپ کا فنی کیرئیر تھیٹر اور ٹی وی کے بعد فلم پر بھی کامیاب رہا ، یہ بتائیں کہ فلم نگری کا حصہ کیسے بنیں؟
meri derti1جواب: میری پہلی فلم ’’نزدیکیاں ‘‘ انیس سو چھیاسی میں ریلیز ہوئی جبکہ ٹی وی پر میں بیاسی سے کام کر رہی ہوں۔ نزدیکیاں ایک رحجان ساز فلم ثابت ہوئی جس پر ہمیں نیشنل ایوارڈ بھی ملے تھے۔ مجھے بیسٹ ایکٹر، عثمان کو بیسٹ پروڈیوسر کا، بیسٹ کیمرہ ، بیسٹ میوزک ، یہ چار پانچ ایوارڈ ملے تھے۔ کچھ فلموں میں کام کرنے کے بعد میں واپس ٹی وی کی طرف چلی گئی اور بطور اداکارہ مصروف رہی ، پھر میں نے دوبارہ فلموں میں کم بیک کیا اور بطور ڈائریکٹر ’’انتہا‘‘ اور ’’ شرارت ‘‘ بنائی، انتہا کو تو نو نیشنل ایوارڈملے جبکہ شرارت کوبھی مناسب کامیابی ملی۔ یہ دو فلمیں تھیں جنہوں نے بیج بویا اس سنیما کا جس کی آج آپ شکل دیکھ رہے ہیں۔ میں اس کو ماڈرن انڈیپنڈنٹ کمرشل سنیما کہوں گی۔اب میرادل دوبارہ سے کر رہا ہے کہ میں تھیٹر کروں اور سال میں ایک فلم بناؤں‘ ٹی وی کا کھیل بھی تیار کروں‘ بس یہ میرا پلان ہے۔
سوال: آپ نے زیادہ تر کام ٹی وی پر کیا۔ کیا فلم کا ماحو ل آپ کے مزاج کے برعکس تھا؟
جواب:نہیں!میں سمجھتی ہوں انسان اپنا ماحول خود بناتا ہے۔ میں فلم ورلڈ کا حصہ بنی‘ میں نے وہاں بہت عزت کے ساتھ کام کیا۔ کم کام اس لئے کیا کیونکہ مجھے میرے مزاج کے کریکٹر کم ملے ، جب جب ملے تب تب میں نے کام کیا۔ بس سنیما انڈسٹری کا جو مزاج ہے وہ میرا مزاج نہیں ہے۔لیکن جو کراچی میں ہورہا ہے یا لاہور میں انڈیپینڈنٹ فلم میکرزجو کر رہے ہیں وہ میرا مزاج ہے اسی لئے میں اس کا حصہ ہوں۔
سوال :آپ نے لاہور کی فلمی صنعت کا بائیکاٹ کر رکھا ہے؟
جواب:نہیں! میں نے بائیکاٹ نہیں کیا‘ لیکن میں سمجھتی ہوں جس ٹیم کے ساتھ میں کام کرنا چاہتی ہوں‘ اُس کے پاس وہ ٹیکنالوجی اور سہولیات موجود نہیں ہیں ، دوسرا سنیما ایک سیریس بزنس ہے‘ جب تک پوری ٹیم سیریس نہیں ہوگی ،اچھی فلم بنانا بہت مشکل ہے۔اچھی فلم صرف پروڈیوسر یا ڈائریکٹر نہیں بناتا ، لائٹ مین اور ساونڈ ریکارڈسٹ سے لے کر پوسٹ پروڈکشن ، پری پروڈکشن اور پروڈکشن کے دوران ایک ایک کارکن مل کر دلجمعی سے کام کرے تو اچھی فلم بنتی ہے۔ بائیکاٹ والی بات میں کوئی حقیقت نہیں۔
سوال: پاکستانی فلمی صنعت میں تبدیلی کی لہر چل نکلی ہے ، کیا انڈسٹری دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے گی؟
جواب:مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کی فلمی صنعت نے ایک نیا ہی مزاج دکھایا ہے۔ سٹیریوٹائپ فلمیں نہیں بنا رہے، گھساپٹا طریقہ نہیں ہے۔ پچھلے سال جو فلمیں ریلیز ہوئیں زندہ بھاگ، چنبیلی، میں ہوں شاہد آفریدی، وار، جوش، لمحہ ساری مختلف فلمیں ہیں اس کے بعد یہ سال جب شروع ہوا ہے اس کی فلمیں آپ دیکھ لیجئے۔ دختر، نامعلوم افراد اور زیرو ٹو ون سب مختلف مزاج کی اور اچھی فلمیں ہیں۔ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ ہم آسکر میں فلمیں بھیج رہے ہیں۔ پچھلے سال ہم نے ’’زندہ بھاگ‘‘ بھیجی‘ اس سال شاید ’’دختر‘‘ بھیجی تو آپ دیکھئے ہمارے نئے فلم میکرز کے لئے کتنا اچھا وقت آگیا ہے۔ نئے راستے کھل رہے ہیں، ہماری فلمیں انٹر نیشنل فیسٹیولز کے اندر پریمئیر ہورہی ہیں جو چیزیں میں نے ’’انتہا‘‘ میں شروع کی تھیں‘ وہ پوری طرح کھل کر سامنے آگئی ہیں ، پودا تناور درخت بنتا جارہا ہے۔
سوال:آپ پی ٹی وی کے بہترین ڈراموں کا حصہ رہی ہیں اور آج کی ڈرامہ انڈسٹری کا بھی اہم حصہ ہیں‘ دونوں میں کیا فرق محسوس ہوا؟
جواب: میری کوشش ہوتی ہے کام کرنے کا طریقہ وہی رہے۔ اسکرپٹ پورا ملے، ریہرسلز کریں ، اپنے کریکٹر کو سمجھ کرپرفارم کریں ، کم از کم میرے تئیں کام ابھی بھی ویسے ہی ہورہا ہے جس طرح ہم پہلے کرتے تھے۔لیکن میں شوٹنگ سے پہلے پوری کاسٹ کا اکٹھا ہونا مس کرتی ہوں۔ جن لوگوں کے ساتھ میں نے کام کیا ہے‘ وہ میرے کام کرنے کے طریقے کی عزت کرتے ہیں۔ اب میں انہی ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرتی ہوں جو کام کرنے کے پروفیشنل طریقے کو سمجھتے ہیں جن میں سلطانہ صدیقی ہے‘ مہرین جبار ہے ، سرمد کھوسٹ ہے ، ہائیسم حسین ہے اور بھی ڈائریکٹرز ہیں جن کو میری ڈیمانڈ کا پتا ہے کہ میں پورا سکرپٹ لوں گی ، ریڈنگ ہوگی پھر اس پر بات چیت ہو گی۔فیلوایکٹرز کے ساتھ ریہرسلز کروں گی۔ مجھے تو کوئی ایسی کمپلین نہیں ہے جو میں کہوں کہ کام اچھے طریقے سے نہیں ہورہا۔
سوال: ویسے تو آپ کا ہر ڈرامہ ہی مختلف موضوع کا حامل ہوتا ہے آپ اپنا اداکردہ کون سا کردار اور کھیل فیو رٹ سمجھتی ہیں؟
جواب: میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ میں جو بھی کام کروں وہ میرے دل سے ہو‘ جیسے تھوڑی سی محبت ، کرب ، تھوڑی دور ساتھ چلو ، در شہوار، زندگی گلزار ہے ، میری ذات ذرّہ بے نشان، حتیٰ کہ گھوسٹ میں میرا جو کریکٹر تھا‘ میری کوشش تو پوری ہوتی ہے کہ میں اپنے کریکٹر کو اس زمانے کے لحاظ سے کروں جس میں وہ لکھا گیا ہے اور کریکٹر کی جتنی بھی چھوٹی چھوٹی جزئیات ہیں‘ ان کے مطابق کروں اور شائقین کی توقعات پر پوری اُتروں۔
سوال: آپ نے بڑا بھرپور اور مصروف کیرئیر گزارا ہے۔ کوئی ایسا کریکٹر جس کو ادا کرنے کی خواہش تھی آپ کی؟
جواب: میں
نے ہر طرح کا کام کیا ہے اور کوئی ایسی خواہش تو نہیں ہے دل میں کہ میں نے وہ کریکٹر نہیں کیا۔ یہ نہیں کیا ، میں اپنے کیرئیر سے بہت خوش ہوں اور کوئی ندامت نہیں ہے۔میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں ’’ایلیٹ ایکٹرز ‘‘ سے ملی ہوں۔ میں بھارت کے بڑے بڑے ناموں سے ملی ہوں‘جیسے دلیپ کمار، دیو آنند، چیتن آنند اور وہ لوگ جو بہت عمدہ بات کرتے تھے‘ میں ان کے ساتھ ہم کلام ہوئی ہوں۔ میں نصرت فتح علی خان کی بہت عزت کرتی ہوں کیونکہ وہ پوری دنیا میں ہمارے سفیر تھے۔ آپ یقین نہیں کریں گے میں سنگا پور میں تھی اور اپنی بیٹی کے لئے بازار میں گڑیا کا گھر ڈھونڈ رہی تھی کہ ایک آواز میرے کانوں میں پڑی اور میں بے اختیار اس گانے کی طرف کھنچی چلی گئی۔ میں نے دیکھا کہ جو گانا سن رہا ہے وہ ایک جاپانی تھااور نصرت فتح علی خان کو سن رہا تھا ، میں حیران ہو گئی۔ پھرمیں نے سنگا پور میں نصرت فتح علی کا سارا البم خرید لیا تو میرا تعارف نصرت فتح علی اور پیٹر گبرئیل کے ساتھ سنگا پور میں ہوا حالانکہ میں پہلے ان کی قوالیاں سن چکی تھیں لیکن جو تعارف سنگا پور میں ہوا وہ آج تک یاد ہے۔ واپس آکرمیں نے عثمان کو سنایا۔ میں تو حیران تھی کہ وہ کیا آواز تھی جو پوری دنیا پر چھا گئی۔ پورا یورپ ان کا دیوانہ بن گیا اور جاپان سے لے کر چائنہ اور امریکہ۔ تو کتنی بڑی بات ہے اور اسی طرح عابدہ پروین ہیں وہ کہا ں کہاں نہیں گئی ہیں دنیا میں۔ تاہم ہمیں اپنے آرٹسٹوں کی قدر جب تک نہیں ہوگی دنیا ان کی قدر نہیں کرے گی۔ گھر سے سٹارز بنتے ہیں ، اپنے ملک سے سٹارز بنتے ہیں پھر دنیا ان کی پذیرائی کرتی ہے۔ 
سوال: عثمان صاحب اور آپ کی جوڑی ایور گرین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ بتائیے اس خوبصورت رشتے کا آغاز کیسے ہوا تھا؟
جواب: عثمان راولپنڈی میں کام کر رہے تھے اور میں وہاں اپنے ماموں کو ملنے اور کزن کو چھوڑنے گئی ہوئی تھی، وہاں میری عثمان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ہم ایک دوسرے کو اچھے لگے اور ہم نے شادی کرلی۔
سوال: شادی لومیرج تھی یا ارینج؟
جواب: نہیں نہیں میری شادی ارینج نہیں ہوسکتی ، میں نے پروپوز کیا تھا اور میں نے ہی عثمان کو کہا تھا ’’میرے ساتھ بھاگ چلو۔‘‘
سوال: عثمان کاکیا ری ایکشن تھا؟
جواب: وہ مسکرائے اور یس کردیا تھا۔ہاں عثمان نے کی تھی (مسکراتے ہوئے)
سوال: قدرت نے آپکو دو خوبصورت بیٹیوں سے نوازا ہے ان کی آج کل کیا مصروفیت ہے۔
جواب: میری دونوں بیٹیاں گریجویٹ ہیں۔ انعم نے ویمن اینڈ جینڈر سٹڈیز میں گریجویشن کی ہے اور چھوٹی بیٹی عمل نے انٹی گریٹڈ میڈیا(Integrated Media) کی تعلیم حاصل کی ہے۔ دونوں فائن آرٹسٹ کی ہیں لیکن اپنے آرٹ کو پروفیشنلی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سوال: آپ ایک ملی نغمے میں شہیدفوجی کی والدہ کے کردار میں نظر آئی ہیں، اسے ادا کرتے وقت آپ کی فیلنگز کیا تھیں ؟
جواب: جب آپ اپنے ملک کو بہت پیار کرتے ہیں تو اس کی ہر چیز سے پیار
کرتے ہیں اورآپ سوچ سکتے ہیں آپ نے ایک شخص کو اپنے وطن پر نثار کردیا ہے۔جو شخص آپ کی زندگی کا اثاثہ ہے‘ آپ کے دل کا ٹکڑا ہے‘ اور آپ کا واحد بیٹا ہے تو بس وہ لمحہ تھا میرے لئے جس کو میں نے محسوس کیا تھا۔انسان کے لئے سب سے قیمتی چیز اولاد ہوتی ہے اور اگر وہ اس سب سے قیمتی چیزکو دوسری سب سے قیمتی چیز جو آپ کا وطن ہے‘ پر نچھاور کردے تو کیا ہی بات ہے۔ یہ بڑا عجیب لمحہ تھا اور میں اس وقت یہی محسوس کررہی تھی کہ میری دھرتی‘ میری زمین میرا قیمتی اثاثہ ہے۔میرا ملک میری جان ہے، جائیداد ہے، مان ہے اور میں اس پر اپنا سب سے قیمتی اثاثہ نچھاور کررہی ہوں۔ کسی بھی ماں کے لئے یہ بڑا خاص لمحہ ہوتا ہے۔ اس لئے میں سلیوٹ کرتی ہوں ان تمام ماؤں کو‘ ان تمام والدین کو جن میں اتنا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کوپاکستان کے لئے قربان کردیتے ہیں تاکہ باقی تمام لوگ سکون اور امن سے جی سکیں۔ 
سوال: پاک فوج آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے اس میں جو جوان حصہ لے رہے ہیں ان کو کیا پیغام دینا چاہیں گی۔ 
جواب: میں سلیوٹ کرتی ہوں ان جوانوں کو جو ضرب عضب میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کے خاندانوں کو۔امید ہے کہ یہ ساری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان انشا اللہ دوبارہ سے امن کا گہوارہ بنے گا۔ یہ دنیا کے بہترین ملکوں میں سے ایک ملک ہوگا اور ہمارے وسائل ہمارے اپنے لوگوں کے کام آئیں گے۔ ساری دولت ملک میں ہی صرف ہوگی اور روزانہ جتنے لوگ محنت کے لئے نکلتے ہیں جن میں کسان، مزدور اور دوکاندار شامل ہیں، وہ گیت میں ان کو بھی ڈیڈیکیٹ کرتی ہوں کیونکہ جتنی محنت ہمارے فوجی کررہے ہیں اتنی ہی محنت ہمارے مزدور ، دوکاندار ، ہمارے کسان بھی کرتے ہیں۔
سوال: رفیع پیر فیملی پاکستان کی سب سے بڑی آرٹسٹ فیملی ہے، پیر فیملی کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی الگ شناخت قائم رکھنا کتنا مشکل رہا؟
جواب: میں اس فیملی کا بڑا اہم حصہ ہوں، فیضان، سادان جو جڑواں ہیں اور عمران، کبھی انہوں نے مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں باہر سے آئی ہو ں۔ یہ سب میرے بھائی ہیں۔پیر زادہ فیملی میں ایک بڑی پیاری بات ہے کہ یہ بڑے’’ انکلوسو ‘‘ ہیں۔یہ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔ اسی طرح ہم بہوئیں بھی ایسے ہی اس کا حصہ بنی ہیں۔سب کی اپنی اپنی شناخت اوراپنا اپنا مقام ہے۔ ایسا نہیں کہ آپ نظر ہی نہ آئیں۔ سارے بھائی بڑے بڑے تناور درخت ہیں لیکن بہوئیں بھی اپنی اپنی شناخت رکھتی ہیں یہ بڑی اچھی بات ہے۔ 
سوال:ساس اور بہو کا رشتہ بہت نوک جھونک کا حامل
ہوتا ہے ، ایک ورکنگ لیڈی ہونے کے ناتے آپ نے اسے کیسے نارمل بنایا؟
جواب: میری ساس بہت سپوریٹو(Supportive) تھیں ، جب ساس سپورٹو ہو تو بیٹا بھی کچھ نہیں بولتا۔ ان کو بہت خوشی تھی جب میں نے کام شروع کیا اور جس طرح سے میں نے اپنے آپ کو منوایا ، ساتھ میں جب امی سپورٹو تھیں تو عثمان زیادہ نہیں کہہ پائے اور پھر میری اپنی ڈیڈیکیشن کہ مجھے کام کرنا تھا اور بہت اچھا کرنا تھا۔ میری ساس میرے لئے اینکر ہیں ، انہوں نے مجھے کھلے دل سے ویلکم کیا اور وہ سارا خاص پیار اور توجہ جوبہو کو دینی چاہئے، وہ مجھے ان سے ملی۔ میں ان کے ساتھ بحث کر تی ہوں ، گپ لگاسکتی ہوں جوک کرتی ہوں وہ بھی مجھ سے اپنی شاعری شئیر کرتی ہیں۔ مجھے دیکھ کر کھل جاتی ہیں۔ اس سے بڑی اور کیا بات ہے کہ آپ اپنی ساس کے سامنے جائیں اور اس کے چہرے پر اتنی خوشی اور محبت نظر آئے۔میں سمجھتی ہوں کہ اگر ساس اور بہو آپس میں دوست بن جائیں اور رقابت چھوڑ دیں، اور رقابت کیسی وہ ان کا بیٹا ہے اور آپ ان کی بہو ہیں اور کچھ دن پہلے ہی میں اپنی ساس کے ساتھ ڈسکس کر رہی تھی کہ بہو کا تو بہت خاص رشتہ ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کی نسل آگے بڑھاتی ہیں تو بہو کو کس طرح نہیں آپ سر آنکھوں پر بٹھائیں گے تو امی کہنے لگیں یہ تو بڑی اچھی بات مجھے تم نے آج بتائی ہے۔ انسان کو سارامان نسل پر ہی ہوتا ہے اور بہو اس کو آگے بڑھاتی ہیں تو بہو کو کیسے آپ پاؤں کی جوتی سمجھ سکتی ہیں۔
سوال: آپ شاعری بھی کرتی ہیں اب تک کتنی نظمیں لکھ چکی ہیں کتابی شکل میں‘ شائع کرنے کا ارادہ ہے؟ 
جواب: بہت ساری نظمیں ہیں۔ میں آزاد نظم لکھتی ہوں، غزل کم لکھتی ہوں۔ نظمیں میری ڈائر ی میں بہت ساری ہیں لیکن کبھی میں نے یہ سوچا نہیں کہ میں ان کو کمپائل کروں یا ان کو شائع کروں۔بہت عرصے سے میں نے کچھ لکھا نہیں ہے کبھی بہت سارا لکھ لیتی ہوں تو کبھی کچھ بھی نہیں لکھ پاتی۔ تو دیکھئے اب دوبارہ آمد کا یہ دور کب آتا ہے پھر مکمل کرکے میں شائع کرسکتی ہوں۔
سوال: آپ کے پسندیدہ شاعر اور شعر کونساہے؟
جواب: مجھے غالب اور فیض صاحب بہت پسند
ہیں ، فیض صاحب تو عوامی زبان پر کہیں نہ کہیں آ ہی جاتے ہیں لیکن میں جب بھی یہ سنتی ہوں کہ
’’یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے
لوح جہاں پر حرفِ مکرر نہیں ہوں میں‘‘
تو میرا دل ایسے ہوجاتا ہے کہ بس کیا بات کہی ہے، وہ کیا لمحہ ہوگا غالب کی زندگی میں جب انہوں نے یہ لکھا ہوگا۔ مجھے بڑے غلام علی خان اور بیگم اختر کو سننا بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے ویسٹرن کلاسیکل میوزک بھی مجھے پسند ہے کیونکہ آپ کی رُوح اس میں پرواز کرتی ہے۔آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایلیویٹ ہورہے ہیں ، بڑے غلام علی خان میں بھی یہی خوبی ہے۔مجھے بسم اللہ خان کی شہنائی اور روی شنکر کی ستار بہت پسند ہے۔ مہدی حسن صاحب مجھے بہت پسند ہیں، انہوں نے فلموں میں بہت اچھا گایا اور غیر فلمی غزلوں کے تو وہ بادشاہ رہے ہیں اور مجھے عابدہ پروین ، نیرہ نور اور ٹینا ثانی ، رائٹرز میں نور الہدیٰ شاہ، عمیرہ احمد ، انتظار حسین صاحب کی شارٹ سٹوریز پسند ہیں اور غلام عباس بہت پسند ہیں، عصمت چغتائی ، منٹو ، قرۃ العین حیدر، عبد اللہ حسین کی اداس نسلیں بہت پسند ہے ، میں اپنے ملک کے رائٹرز کے ساتھ غیر ملکی رائٹرز کو بھی پڑھتی ہوں جیسا کہ میلان کندیرا (Milan Kundera) اور آج کل مجھے الف شفق(Elif Shafak) بہت پسند ہیں۔ 
سوال:آپ نوجوان لڑکیوں کے لئے رول ماڈل ہیں ، زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے ان کو کیا پیغام دینا چاہیں گی۔
جواب: ایک تو کتاب پڑھیں، جو ملے پڑھ لیں، یہ میرے استاد نے بھی مجھے ایک مرتبہ کہا تھا۔ جو نظر آئے بس پڑھ ڈالو، پڑھو،پڑھو،پڑھو، ایک میرے بہت پیارے دوست تھے، وہ ہالی وڈ کے پروڈیوسر تھے، برٹش پروڈیوسر ’’ ایلیٹ کیسٹنر ‘‘ وہ مجھ سے کہا کرتے تھے ثمینہ اچھا پروڈیوسر وہ ہوتا ہے جس کا مطالعے سے رشتہ استوار رہتا ہے تاکہ آپ کو نئے نئے آئیڈیاز آئیں کہ کیا لکھنا ہے کس موضوع پر نئی فلم بنانی ہے۔ سو لڑکیاں کتابیں پڑھیں اپنی تعلیم مکمل کریں، اپنے گھر کو اچھا رکھیں اور اپنے ارد گرد سے چوکنارہیں لیکن جو خواب ہیں ان کو ضرور پورا کریں۔کوئی اور آپ کا خواب نہیں پورا کرسکتا یہ صرف آپ کی محنت سے پورا ہوگا۔ آپ کے اندر جو جنون ہے وہ آپ کے خواب پورے کرے گااپنے اندر کی چنگاری کو کبھی بجھنے نہ دیں۔
سوال: جو ہمارے جوان ملک کے بارڈرز پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ان کے لئے ریڈیو‘ ٹی وی کیا کر رہے ہیں؟
جواب: میرا خیال ہے کہ ریڈیو پاکستان سے فوجیوں کے لئے ریگولر شوز ہوا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے، میں بچپن کی بات کر رہی ہوں اس کا عنوان شاید ’’فوجی بھائیو ‘‘ تھا، ایف ایم کے نیٹ ورکس کو یہ میرا خاص پیغام ہے کہ وہ فوجی بھائیوں کے لئے دوبارہ شوز شروع کریں جن میں ملی نغمے ہوں ، آرٹسٹوں کے انٹرویوز ہوں ، اور گھر والوں کے پیغامات ہوں۔ اب تو میڈیمز نے بہت ترقی کرلی ہے۔ آپ ہر چیز ریکارڈ کرسکتے ہیں، آپ کال کرسکتے ہیں، موبائل فون آپ کے پاس ہیں جو جوان بارڈر پر ہیں ان کو آپ فوری اپنا پیغام دے سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایف ایم ریڈیو پر ضرور دوبارہ شروع ہونا چاہئے تاکہ ان کا رشتہ سول سوسائٹی سے برقرار رہے ۔ینگ جنریشن کو بھی یہ کام کرنا چاہئے۔ شام چار پانچ کے قریب یہ پروگرام ہونا چاہئے، ٹی وی وہاں پر نہیں ہوگا لیکن ریڈیو یہ کام کرسکتا ہے۔ ہمیں ان کو بتانا چاہئے کہ ہمیں ان پر کتنا فخر ہے۔ ہماری خاطر وہ اپنے گھروں اور عزیزوں سے دور ہیں۔ اگر کوئی فوجیوں کے لئے نیا پروگرام شروع کرے تو میں سب سے پہلے خود والنٹئیرکرتی ہوں کسی کو کیا کہنا ۔ کہ اگر کوئی ریڈیو پر ایسا پروگرام کرتا ہے تو اس پروگرام کو کمپئیر کرنے کے لئے میں حاضر ہوں ۔یہ بڑا ضروری ہے ہم ان کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ بحیثیت قوم یہ ہمارا فرض ہے فوجی بھائیوں کے لئے ہر چینل پر پروگرا م ہونا چاہئے۔ فوجی بھائیوں کے لئے میرا سلام اور دعائیں ہیں اور وہ اللہ کی امان میں رہیں۔ پاکستان زندہ باد
 

یہ تحریر 42مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP