ہمارے غازی وشہداء

(سُپرنٹنڈنٹ عابدحسین شہید (این ایل سی

وطن عزیز کو درپیش سنگین خطرات میں سے دہشت گردی بلا شبہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس عفریت کا سامنا کرتے ہوئے گزشتہ دہائی کے دوران پاک افواج کے جوانوں سمیت تقریباً پچاس ہزار معصوم پاکستانی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اس انسانیت سوز فعل میں ملوث ملک دشمن عناصر نے مذہب کا سہارا لے کر پاکستان کی بُنیادیں کھوکھلا کرنے اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے جس کشت و خُون کا بازار گرم کر رکھا ہے اس کی زد میں روزانہ بے گُناہ افراد لُقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وحشت کے پیروکار اسلام اور مذہب کے نام پر یہ گھناؤنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ ہمارے امن و سلامتی کے دین کی بھی عالمی سطح پر رسوائی ہو رہی ہے ۔ 20 جنوری 2014 کو راولپنڈی کے علاقے آر اے بازار میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی بھی تخریب کاری کے پے در پے واقعات کی وہ کڑی ہے جس کا مقصد وطن عزیز کو کمزور کرنا ہے۔ اس تخریبی کارروائی میں 13 افراد شہید اور 29 زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں کا اصل ہدف تو حساس مقامات تھے مگر پاک فوج کے جاں نثاروں نے اپنی جان کی بازی لگاتے ہوئے ان مقامات کو نشانہ بننے سے بچا لیا۔ آر اے بازار خود کش حملے میں ہیڈ کوارٹرز این ایل سی آفس سُپرنٹنڈنٹ عابد حُسین جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اس واقعے میں این ایل سی کے مزید تین اہلکار ناصر رضا، منور جان اور یوسف مسیح زخمی ہوئے ۔

عابد حُسین شہید این ایل سی کے نہائت فرض شناس، محنتی، ملنسار اور ایمان دار ملازم تھے۔ پاکستان ایئر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کچھ عرصہ بحرین ایئر فورس میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں این ایل سی میں ملازمت اختیار کی۔ عابد حسین کی شخصیت وضع داری ، مروت اور اخلاص سے عبارت تھی۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھاجو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کو عبادت کا درجہ دیتے تھے ۔ عابد حسین کے دل میں جونیئرز کے لئے پدرانہ شفقت بدرجہ اتم پائی جاتی تھی وہ ہمیشہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے۔ دفتری تنا ؤ اور کام کے بوجھ سے بھی ان کی طبیعت کی چاشنی اور شگفتگی کبھی ماند نہیں پڑتی تھی۔ اوقات کار شروع ہونے سے پہلے دفتر آنا ان کا معمول تھا۔ پیشے سے لگن، محنت اور رزق حلال پر یقین رکھنے والے عابدحسین 20 جنوری2014کی صُبح اپنے معمول کے مُطابق اپنے گھر سے دفتر کی طرف روانہ ہوئے۔ آراے بازار جو اس سے پہلے ستمبر 2007 اور فروری 2008 میں بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چُکا ہے‘ ایک دفعہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر تھااور صُبح 7:35 پر ایک خود کُش بمبار نے خُود کو زور دار دھماکے سے اُڑا لیا جس میں عابد حسین سمیت دیگر 12 افراد نے بھی جام شہادت نوش کیا ۔ این ایل سی حکام نے شہید کے لواحقین کی ہر ممکن دادرسی اور زخمیوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں۔ سات لاکھ کی امدادی رقم واقعے کے دوسرے ہی دن شہیدکی بیوہ کے حوالے کر دی گئی جبکہ گروپ انشورنس کی مد میں شہید کے اہل خانہ کو تین لاکھ پینتیس ہزار روپے بھی ملیں گے۔

این ایل سی نے شہید کے اہل خانہ کے لئے دیگر امداد فراہم کرنے کے علاوہ شہیدکے بیٹے کو فوری طور پر ادارے میں مُلازمت بھی دی۔ زخمی ہونے والے اہلکاروں کے لئے طبی امداد کے علاوہ 50,000 روپے فی کس کی امدادی رقوم بھی فراہم کی گئیں۔ دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لئے کسی بھی قوم کا پُرعزم ہونا کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب ہم اپنے شُہداء کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کو اپنا اولین فریضہ سمجھیں۔

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP