ہمارے غازی وشہداء

(ایک فضائی محافظ فلائٹ لیفٹیننٹ ملک غلام مرتضٰی( شہید

ر وسعت ہے جو آزادی کا تاثر دیتی ہے اور نیلگوں فضاؤں میں پرندے کی طرح تیرنے پر ابھارتی ہے۔ فضائی اڑان کا ایک ایسا ہی خواب چھنی اعوان کے فلائٹ لیفٹیننٹ ملک غلام مرتضیٰ( شہید) نے دیکھا اور تمغہ جرأت حاصل کیا جو نشان حیدر، ہلال جرأت اور ستارہ جرأت کے بعد چوتھا سب سے بڑا ملٹری اعزاز ہے۔

 

پوٹھوہار کے لوگ روایتاً سپہ گر ہیں۔ یہ لوگ بیرونی حملہ آوروں کی فوج میں شامل ہونے کے لئے انتظار میں رہتے تھے۔ دو عالمگیر جنگوں میں بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ شامل ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد بری فوج کے ساتھ ساتھ نیوی اور ائیرفورس میں جانے کا رحجان بڑھ گیا۔ غلام مرتضیٰ نے بھی 19جون 1958 کو پاک فضائیہ میں بطورِ ائر کرافٹ ٹیکنیشن شمولیت اختیار کی۔ جنوری 1963 میں انہیں پاک فضائیہ کی رسالپوراکیڈمی میں آفیسر ٹریننگ کے لئے منتخب کیا گیا۔ انہیں 30جنوری 1968میں کمیشن ملا اور وہ آپریشنل نیویگیٹربن گے۔

 

5دسمبر1971کو فلائٹ لیفٹیننٹ جاوید اقبال کے ساتھ انہیں تیسرے جنگی مشن امرتسرائیربیس کو غیر فعال بنانے کا ٹارگٹ دیا گیا‘ لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئے۔ پاک فضائیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کا جہاز حادثے کا شکار ہو گیا ہے اور انہیں لاپتا قرار دے دیا گیا۔ ملک غلام مرتضیٰ شہید کی بیوہ ’’بشیراں بی بی‘‘ اپنے دوبچوں 4ماہ کے عثمان اور 4 سال کے بابرکے ساتھ اُن کی واپسی کی آس لگائے بیٹھی رہیں۔

 

انتظار کا کرب بھی جان لیوا ہوتا ہے۔ ’’بشیراں بی بی‘‘ کو کچھ سال بعد ہلالِ احمر کی جانب سے ایک خط کی صورت میں اُن کی شہادت کی اطلاع ملی۔ شہادت کے اطمینان کے باوجود ایک اضطراب دامن گیر تھا کہ انہیں ایک خوش خبری جناب نظام الدین اولیا کے قبرستان کے متولی کے خط سے ملی جس کے مطابق غلام مرتضیٰ شہید کوتمام اسلامی آداب کے ساتھ دفن کر دیا گیا ہے۔

 

شہید کی زوجہ کی عمر گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں تدریس میں گزر گئی۔ عثمان انجم فوج میں میجر ہو گئے اور بابر اقبال مرتضیٰ ایک اچھے عہدے پرپہنچ گئے۔ زندگی پرسکون گزر رہی تھی کہ پچھلے سال جذبات کے پرسکون تالاب کو ایک کتاب نے چھلکا دیا۔

 

43برس بعد کرنل (ر) اعظم قادری اور گروپ کیپٹن محمد علی کی 1971 کے ایک سو بے نام شہداء اور غازیوں کے بارے میں کتاب ’’سینٹینلزان دی اسکائی‘‘ سے یہ منکشف ہوا کہ امر تسر ائربیس کو تباہ کرنے کے مشن میں فلائٹ لیفٹیننٹ جاوید اقبال اور فلائٹ لیفٹیننٹ ملک غلام مرتضٰی کامیاب ہو گئے تھے لیکن دشمن کی جوابی کارروائی میں زخمی ہو گئے۔۔۔طیارے سے چھلانگ لگا دی۔۔۔ پکڑے گئے۔۔۔ انہیں دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔۔۔ 16 دسمبر کو پاکستان دولخت ہوا اوراگلے دن غلام مرتضیٰ کی جان قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ انہیں سعودی سفارت خانے سے حاصل کردہ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر تمام اعزاز کے ساتھ قبرستان نظام الدین اولیا ء کے احاطے میں دفن کر دیا گیا۔

[email protected]

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP