متفرقات

''ملت کے ستارے''

بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والے چند ستاروں کا تذکرزندہ اقوام کی ترقی کا دارومدار ایسے باہمت افراد پر منحصر ہوتا ہے جو ہر طرح کے حالات میں خود کو منوانے کا بھرپور حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایسے افراد ہی اقوام کی تقدیر اور ملت کے مقدر کا روشن ستارہ بنتے ہیں۔ آئیے ان روشن ستاروں سے ملتے ہیں جنھوں نے رواں برس یعنی 2021 میں دنیائے افق پر جگمگا کر پاکستان کا نام خوب روشن کیا۔ 



اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب پاکستان کے مشہور و معروف سماجی کارکن ہیں۔ 31 اگست 2021 کو انہیں گراں قدر سماجی خدمات پر ایشیا کے سب سے بڑے "رامون مگسیسے ایوارڈ"       (Ramon Magsaysay Award)سے نوازا گیا۔ غربت کے خاتمے کی خاطر عظیم عوامی خدمات کے اعتراف میں پیش کیے گئے ایوارڈ کو ڈاکٹر امجد ثاقب نے پاکستان اور پاکستانیوں کے نام کر دیا۔
فلپائن کے ساتویں صدر رامون دلفیئیرو مگسیسے کی یاد میں شروع کیا گیا رامون مگسیسے ایوارڈ 1958 سے عالمی امن، علم و تحقیق، انسانی حقوق، سماجی خدمات اور ماحولیات کے لیے عظیم تر خدمات سر انجام دینے والوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اعلیٰ ترین ایوارڈ، ایشیا کا نوبل انعام کہلاتا ہے۔ ایشیا کے نوبل انعام سے اب تک کل دس ممتاز پاکستانی شخصیات کو نوازا جا چکا ہے۔ جن میں ڈاکٹر امجد ثاقب سمیت مرحوم عبدالستار ایدھی، بلقیس ایدھی، اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے بانی اختر حمید خان، شعیب سلطان خان، عاصمہ جہانگیر، ڈاکٹر ادیب رضوی، تسنیم احمد صدیقی، ڈاکٹر رتھ فا اور آئی اے رحمان شامل ہیں۔
محمد امجد ثاقب تعلیمی لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔وہ سول سروسز میں بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 2001 میں شروع کی گئی اخوت فائونڈیشن کے مائیکرو فنانس پروگرام کو انتہائی کامیابی سے چلا کر انہوں نے 2021 میں ایشیا کا نوبل انعام حاصل کر کے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا۔ دنیا کا سب سے بڑا قرضہ حسنہ دینے والی اخوت فائونڈیشن پاکستان اب تک ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ کے قرضے چالیس لاکھ سے زائد افراد کو دے کر اپنے پائوں پر کھڑا کر چکی ہے۔ چھوٹے کاروبار کے لیے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے علاوہ بچوں کے لیے اخوت سکول و کالج پروگرام ہے۔ مزید براں اخوت خواجہ سرا سپورٹ پروگرام کے تحت دو ہزار سے زائد خواجہ سرائوں کو ملک بھر میں مالی امداد، تعلیمی  و طبی سہولیات اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصفہ اختر کو 15 مارچ 2021 کو گنجلک جینیاتی گتھیاں سلجھانے پر جرمنی میں سائنسی تحقیق کے اعلیٰ ترین ایوارڈ ''لائبنس انعام'' (Leibniz Prize)سے نوازا گیا۔ ایوارڈ کے ساتھ مزید تحقیق کے لیے پاکستانی نژاد محقق کو تقریباً پچیس لاکھ یورو کی انعامی رقم بھی ملی۔ سائنسی تحقیق کے لیے یہ مختص شدہ بلند ترین انعامی رقم ہے۔
1971 میں کراچی میں پیدا ہونے والی آصفہ اختر کے والد پیشے کے لحاظ سے بینکر تھے۔ تقریباً آٹھ برس کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ وہ متحدہ عرب امارات گئیں اور کچھ عرصے بعد کراچی لوٹ آئیں۔ پاکستان میں اپنا اے لیول مکمل کر کے وہ اپنے والدین کے ساتھ پیرس میں رہائش پذیر ہوئیں۔انہوں نے یونیورسٹی کالج لندن سے حیاتیات میں بی ایس کیا اور 1997 میں ایمپیریئل کینسر ریسرچ  فنڈ انگلینڈ سے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ پھر جرمنی میں یورپین مالیکیولر بائیالوجی لیبارٹری میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی غرض سے فیلو شپ اختیار کی۔ 
2020 میں وہ میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف امیونو بائیولوجی کی منتظم اور میکس پلانک سوسائٹی کی نائب صدر منتخب ہوئیں۔  ڈاکٹر آصفہ اختر عالمی شہرت کے حامل جرمن ادارے کے شعبہ حیاتیات اور طب کی سربراہی کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون نائب صدر ہیں۔ ماکس پلانک سوسائٹی کی عالمی شہرت کی اہم وجہ یہ ہے کہ 1948 سے لے کر اب تک اس ادارے کے 18 محققین نوبل انعامات حاصل کر چکے ہیں۔ بحیثیت نائب صدر ڈاکٹر آصفہ اخترستائیس اداروں اور سات مختلف تحقیقی تجربہ گاہوں کا انتظام سنبھالتی ہیں۔ فی الوقت وہ جرنل آف سیل سائنسز سمیت کئی معروف سائنسی جریدوں کی مدیر کے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہیں۔ 
مائیکرو بائیولوجی میں اپنی تحقیق کے باعث اس سے قبل ڈاکٹر آصفہ اختر کو 2008 میں ''یورپین لائف سائنسز آرگنائزیشن ایوارڈ'' اور 2017 میں''فیلڈ برگ پرائز'' سے بھی نوازا گیا تھا۔
ابھرتے ہوئے سائنسی تحقیقی میدان جینیات کا براہ راست تعلق انسان کو والدین سے وراثت میں ملنے والی خوبیوں اور خامیوں سے ہے۔ جینیات میں جدید ترین پیشرفت کی بدولت سائنس دان پرامید ہیں کہ وہ انسانی جین میں موجود خرابی کو دور کر کے آنے والی نسلوں کو بہت سی بیماریوں سے پاک زندگی کی نوید دے سکیں گے۔
پاکستانی ڈاکٹر اقبال چوہدری کو شعبہ بائیو آرگینک کیمسٹری میں گراں قدر خدمات پر 21 اکتوبر 2021  کو مسلم دنیا کے سب سے بڑے سائنسی ایوارڈ ''مصطفی پرائز لاریئٹ 2021 ''سے نوازا گیا۔ ایوارڈ اپنے نام کرنے پر انہیں5 لاکھ ڈالر کا انعام، سرٹیفکیٹ اور میڈل بھی دیا گیا۔ مسلم دنیا کا نوبل انعام سمجھا جانے والا یہ ایوارڈ 2012 میں بین الاقوامی سطح پر بطور سائنسی مہارت کی علامت قائم ہوا۔ مصطفی پرائز لاریئٹ سائنس و ٹیکنالوجی کا  اعلیٰ ترین ایوارڈ ہے جو ہر دو برس بعد مسلمان ممالک کے چوٹی کے محققین اور سائنس دانوں کو چار مختلف شعبوں میں دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیکل اور حیاتیاتی سائنسز، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری عالمی شہرت یافتہ ادویات کے کیمسٹ ہیں۔ پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی اور سی کیم کے ڈگری یافتہ ڈاکٹر اقبال چوہدری کو مختلف پاکستانی حکومتیں ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے نواز چکی ہیں۔ وہ معروف اکیڈمیز کے فیلو بھی رہ چکے ہیں۔ ان میں اکیڈمی آف سائنسز فار دی ڈیولپنگ ورلڈ، اسلامک ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز، رائل سوسائٹی آف کیمسٹری اور کیمیکل سوسائٹی آف پاکستان سرفہرست ہیں۔ بین الاقوامی جرائد میں نامیاتی اور جیو نامیاتی کیمسٹری کے شعبہ جات میں ان کے 1175 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ مذکورہ موضوع پر ان  کے76 مقالے اور 40 ابواب اب تک امریکی اور یورپی پریس سے شائع شدہ کتب کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب تک وہ چالیس امریکی پیٹنٹ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے قبل آپ کو ایران کے صدر نے "خوارزمی بین الاقوامی ایوارڈ" سے نوازا تھا۔ آذربائیجان کے صدر نے تعلیم کے شعبے میں "آئی سی او ایوارڈ" اور وزیراعظم پاکستان نے کیمسٹری میں "کامسٹیک ایوارڈ" سے نوازا۔ 2004 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے انہیں "ممتاز قومی پروفیسر" اور 2013 میں جامعہ کراچی کی جانب سے "قابل پروفیسر" کا اعزاز بھی پیش گیا تھا۔
پاکستانی ڈاکٹر کاشف ریاض کو 22 ستمبر 2021 کو ویانا میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی 65 ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر بین الاقوامی ادارہ برائے جوہری توانائی اور خوراک و زراعت کی تنظیم کی جانب سے "ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ 2021'' سے نوازا گیا۔ جنرل کانفرنس میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے تین ایوارڈز اٹامک انرجی کمیشن پاکستان کے تحت فیصل آباد میں قائم زرعی تحقیقی ادارہ نایاب کو بہترین ادارہ، کپاس کا بہترین بیج تیار کرنے والے تحقیقی سائنس دانوں کی ٹیم اور بالخصوص ڈاکٹر کاشف ریاض خان کو نمایاں کارکردگی پر عطا کیے۔ جوہری تکنیک کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبہ میں بیک وقت تین عالمی اعزازات تحقیق کے اعلیٰ معیار کا عالمی اعتراف ہے۔ 

زین اشرف مغل نے اقوام متحدہ سے ''چیمپئن آف چینج ایوارڈ'' 14 اگست 2021 کو حاصل کیا۔ کووڈ کی عالمی وباء کے دوران نوجوانوں اور مستحق افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے مقابلے میں پاکستان نے 39 ممالک پر بازی لے کر ایوارڈ اپنے نام کیا۔  
پاکستان کے انتہائی باصلاحیت نوجوان زین اشرف مغل کی فلاحی تنظیم نے 1400 خاندانوں کو بلاسود قرضے دے کر ذاتی کاروبار کا مالک بنایا اور تعلیم چھوڑ جانے والے 4200 بچوں کی تعلیم پھر سے شروع کروائی۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ زین اشرف مغل نے 2013 میں یونیورسٹی آف میامی سے انٹرپرینیور کی ڈگری حاصل کی۔ پھر ایک این جی او تشکیل دی جس کا مقصد غریب مستحق افراد کو بلاسود سرمایہ فراہم کر کے کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانا تھا۔ غربت کے خاتمے کے لیے پرعزم زین اشرف مغل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کا نام عالمی شہرت یافتہ فوربز میگزین کی جاری کردہ سالانہ ٹاپ انڈر 30 سوشل انٹرپرینیورز لیڈر شپ کی فہرست میں شامل ہے۔ حال ہی میںانہوں نے "بین الاقوامی اسلامک ڈویلپمنٹ بینک انسٹی ٹیوٹ اچیومنٹ ایوارڈ" اپنے نام کر کے عالمی افق پر پاکستان کا نام خوب روشن کیا۔ چار براعظموں کے 57 اسلامی ممالک میں پہلی بار کسی پاکستانی نوجوان کو اس اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسلامی معاشی تاریخ کے 32 برس میں پہلی بار یہ بین الاقوامی ایوارڈ پاکستان کے نام ہوا ہے۔ زین اشرف "بین الاقوامی کامن ویلتھ ایوارڈ" بھی جیت چکے ہیں جب کہ پرائم منسٹر نیشنل یوتھ کونسل کے ممبر بھی ہیں۔

اکیس سالہ عمیر مسعود کو بین الاقوامی امریکی ادارے لیب روٹ کی جانب سے8 مارچ 2021 کو "ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ "2021سے نوازا گیا۔ کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کے طالب علم عمیر مسعود کو یہ ایوارڈ  ان کے دو تحقیقاتی مقالوں پر پیش کیا گیا۔ دونوں تحقیقاتی مقالے انٹرنیشنل کانفرنس آف مالیکیولر بیالوجی اینڈ بائیو کمیسٹری آسٹریلیا اور تیرھویں انٹرنیشنل کانفرنس آف ٹشو اینڈ ری جنریٹو میڈیسن امریکہ میں پیش کیے گئے۔ انھیں کانفرنس میں شرکت کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ ساتھ ان کی مالیکیولر بائیولوجی ڈیاگنوسٹک تکنیک کے شعبے میں شاندار خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا۔

مشال عامر کو قابل قدر سماجی خدمات پر "لیڈی ڈیانا ایورڈ "2021سے نوازا گیا۔ برطانیہ کا باوقاراعزاز "لیڈی ڈیانا ایوارڈ"  شہزادی ڈیاناکی سالگرہ کے موقع پر ہر سال مختلف ممالک میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات سر انجام دینے والے نوجوانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔  پشاور سے تعلق رکھنے والی مشال عامر پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔انہوں نے سماجی و رفاہی خدمات کا آغاز 16 دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد کیا تھا۔ پاکستان سمیت جنوبی کوریا اور امریکہ میں بھی دکھی انسانیت کے لیے کام کر چکی ہیں۔ 
مشال عامر نے اسلام آباد اور پشاور میں ہائی سکول مکمل کیا اور پھر کیمبرج ، گلاسگو اور نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کا شمار اسکاٹ لینڈ کی تیس بااثر نوجوان خواتین میں ہوتا ہے۔

پندرہ سالہ سید عماد علی "ورلڈ یوتھ اسکریبل کپ"2021جیت کر ناصرف پاکستان بلکہ دنیا کے کامیاب ترین اسکریبل کھلاڑی بن گئے۔ 2018 میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والا ویسپا یوتھ اسکریبل کپ بھی عماد علی نے جیتا تھا۔ یوں وہ دو بار ویسپا یوتھ کپ جیتنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی ہیں۔ 2019 کی ورلڈ جونئیر اسکریبل چیمپیئن شپ میں بھی عماد علی فاتح ٹھہرے تھے۔ بوجہ کووڈ ویسپا یوتھ اسکریبل کپ کے آن لائن مقابلے پاکستان کی میزبانی میں ہوئے۔ سید عماد علی نے یوں پہلی انفرادی ورچوئل چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔
پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ 11 مئی 2021 کو سر کر کے انیس برس کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز اپنے نام کیا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز کاشف نے اپنی اس کامیابی کو علی سدپارہ کے نام کر دیا۔ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے وہ پانچویں پاکستانی ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز کے ٹو اور براڈ پیک بھی سر کر چکے ہیں۔ بہت سے لوگ انھیں "براڈ بوائے" کے نام سے جانتے ہیں کیوں کہ براڈ پیک پر پاکستانی پرچم لہرانے والے سب سے کم عمر کوہِ پیما کا اعزاز بھی انہی کو حاصل ہے۔ شہروز کاشف اب تک مائونٹ ایورسٹ میٹر براڈ پیک  میٹرکے علاوہ مکڑا پیک میٹر، خوردوپن پاس  موسی کا مصلہ ، کہسار کنج  میٹر، چمبرا پیک میٹر، منگلک سرمیٹراور گوندوگرولا پاس  میٹرکو سر کر چکے ہیں۔
نامور اداکار سرمد کھوسٹ کی فلم "زندگی تماشا" نے لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے چھٹے فلم فیسٹیول میں بہترین فلم اور بہترین اداکار کے ایوارڈ جیت لیے۔ اس سے قبل پاکستانی فلم "زندگی تماشا"(سرکس آف لائف)کو جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والے ایشیا کے اعلیٰ ترین فلم فیسٹول "بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹول" کے معتبر ترین ایوارڈ "کم جے سیوک" سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ رواں برس کے آسکرز 2021 کی نامزدگی کے لیے بھی پاکستان کی جانب سے اسی فلم کو منتخب کیا گیا۔ بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتنے والے عارف حسن کے مطابق زندگی تماشا کی بدولت بیرونی دنیا کے پاکستان سے جوڑے گئے انتہا پسندی کے تاثر میں بہتری آئے گی۔
کسی بھی ریاست کی ترقی کا راز اس کے نوجوانوں کے مثبت کردار میں پنہاں ہوتا ہے۔ پرجوش اور ذہین نوجوان ہی قوم کی طاقت اور اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ کچھ کر دکھانے کا جذبہ رکھنے والے وطن عزیز کے نوجوان دراصل اقبال کے شاہین ہیں جنھوں نے ستاروں پر کمند ڈال کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ تعلیم اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر یہ ثابت کیا کہ انتھک محنت اور سچی لگن سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر کے کیسے اپنا آپ منوایا اور ملت کے مقدر کا ستارہ بنا جا سکتا ہے۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 229مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP