ہمارے غازی وشہداء

''مجاہد''کی شہادت کا سفر

(دوسرا حصہ)



ایوی ایشن کیڈٹ عاصم پراچہ کو جب ہوش آیا تو انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنے پیراشوٹ پر آہستہ آہستہ زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جہاز میں گزرے آخری لمحات ایک لمحے میں ان کی نظروں کے سامنے سے گزرگئے۔ انہوں نے بے تابی سے نیچے زمین کی طرف نظر دوڑائی تو انہیں کچھ فاصلے پر ایک کھیت میں جلتے ہوئے جہاز کا ملبہ نظر آگیا۔ تاہم اب ان کی آنکھیں انتہائی بے قراری سے فضا میں دوسرے پیراشوٹ کو تلاش کر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی گردن گھمائی کہ فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد کے پیراشوٹ کو کہیں تلاش کر سکیں، تاہم فضا میں ایک عمیق خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اب ان کی پریشانی بے انتہا بڑھ گئی اور ایک اَنجانے خوف نے ان کو آن گھیرا۔ ہوا میں تیرتا ہوا پیراشوٹ پھر انہیں زمین کے نزدیک لے آیا اور کچھ ہی لمحوں میں ان کے پیر ایک جھٹکے کے ساتھ زمین سے ٹکرا گئے۔ درد کی ایک ٹیس اٹھی جو انہیں اپنی کمر کے مہروں سے ہوتے ہوئے گردن تک محسوس ہوئی۔
 زمین پر اترتے ہی بہت سے مقامی افراد ان کے قریب پہنچ گئے۔ صورتحال کو سمجھتے ہوئے لوگوں نے فورا ًہی ایک چارپائی کا بندوبست کیا اور انہیں اس پر بٹھا دیا۔ تاہم متواتر اعصاب شکن لمحات اورپھر کمر کی چوٹ کے باعث وہ چارپائی پر ڈھے گئے۔ کچھ لوگ قریب ہی جلتے جہاز کے ملبے کے ارد گرد کھڑے تبصروں میں مصروف تھے ۔ عاصم کی پریشان نظریں اس حالت  میں بھی فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد کی تلاش میں آس پاس کے علاقے کا طواف کر رہی تھیں کہ اچانک انہوں نے لوگوں میں سراسمیگی کی لہر دوڑتی ہوئی محسوس کی۔کسی خبر کو سنتے ہی بہت سے لوگ ایک سمت کو لپکے۔ عاصم کو کھٹکا ہوا کہ کچھ غلط ہے۔ انہوں نے چارپائی سے اٹھنے کی کوشش کی ، تاہم ان کے قریب موجود کچھ ادھیڑ عمر لوگوں نے ان کو اٹھنے سے منع کر دیا۔
فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے رسالپور ٹاور سے اپنے آخری ریڈیائی رابطے میں جہاز کو درپیش ہنگامی حالات کے بارے میں معلومات فراہم کر دی تھیں۔ جہاز سے رابطہ منقطع ہونے پر انتظامیہ نے فوری طور پر ایک ہیلی کاپٹر کو علاقے کا جائزہ لینے اور جہاز کو تلاش کرنے کے لئے بھجوا دیا تھا۔ رسالپور کے نواح میں موجود کھیتوں میں جلتے ہوئے جہاز کے ملبے سے اٹھنے والا دھواں دور سے انتہائی واضح طور پر دیکھا جاسکتا تھا۔ ہیلی کاپٹر کچھ ہی لمحوں میںT-37طیارے کے کریش کے مقام کے عین اوپر پہنچ گیا۔ہیلی کاپٹر دھیرے دھیرے نیچے آتا ہوا ایک ہموار مقام پر اتر گیا۔ طبی اور ٹیکنیکل عملہ بلاتاخیر جہاز سے باہر نکلا مقامی افراد نے ایویشن کیڈٹ عاصم کی جانب ان کی رہنمائی کردی۔ بعد ازاں کچھ مزید لوگ عملے کے افراد کو ساتھ لے کر کچھ دور، موجود شہید فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد کی میت تک لے آئے۔ شہید کے احترام میں ان کے جسدِ خاکی کو انتہائی احتیاط سے مقامی افراد نے ایک چارپائی پر منتقل کر دیا تھا۔ ان کے ارد گرد کا ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ مقامی لوگوں کے لیے بیشک وہ ایک انجان مجاہد کا لاشہ تھا ، مگر وہ اس سے اپنا قلبی تعلق محسوس کر رہے تھے۔ اس کی وردی پر موجودسبز ہلالی پرچم،شہید سے ان کے ایک اٹوٹ رشتے کو ظاہر کر رہا تھا ۔ اسی لیے وہ سب لوگ اس خوبصورت نوجوان کی شہادت پربے حدآزردہ اور مغموم نظر آرہے تھے۔ 
میت کو سٹریچر پر لٹا کر ہیلی کاپٹر کی طرف لے جایا گیا۔ یہی عین وہ لمحہ تھا جب مقامی افراد میں گھرے عاصم کو فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد کی شہادت کا علم ہوا۔دور سے سٹریچر پر میت کو دیکھ کر عاصم بکھر کر رہ گئے۔ میت کو انتہائی احترا م سے ہیلی کاپٹر میں رکھ دیا گیا ۔ عاصم بھی ساتھ ہی سوار ہوگئے۔ واپسی کے اس مختصر سفر میں عاصم نے اپنے سامنے موجود فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد کا خون آلود ہاتھ تھامے رکھا۔ یہ نہ جانے معذرت تھی کہ تشکر، مگر ان کچھ لمحوں نے عاصم کی بقیہ تمام زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔
آنے والے دن ایوی ایشن کیڈٹ عاصم پراچہ کے لیے انتہائی دل شکستہ اورمغموم تھے۔ وہ جس تکلیف اور اضطراب سے گزر رہے تھے اس کا کوئی بھی دوسرا شخص درست طرح سے اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ حادثے کے بعد ہونے والی انکوائری نے بھی ان کے زخموں کو تازہ رکھا اور شدید ذہنی تنائو میں مبتلا کر دیا۔ 
ابتدائی انکوائری کے مکمل ہونے اورحقائق کے تعین کے بعد پاک فضائیہ کی انتظامیہ کے لیے ایک اہم فیصلہ عاصم کو دوبارہ تربیت کی اجازت دینے کا تھا۔ اس معاملہ میں متضاد رائے تھیں تاہم غور کرنے کے بعد آخرکار یہ فیصلہ ہوگیا کہ ایوی ایشن کیڈٹ عاصم کو تربیت مکمل کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ اس فیصلہ تک پہنچنے میں یہ امر بھی ملحوظ تھا کہ عاصم کا اس سے قبل فلائنگ ریکارڈ بہترین رہا تھا۔ تاہم انہیں وقت دیا گیا کہ وہ مکمل صحت مند اور ذہنی طور پر دوبارہ تربیت کے لیے تیار ہوجائیں۔
عاصم اس سے قبل ہی کچھ عرصے کے لیے چھٹی پرگھر واپس آگئے تھے۔ اپنے تئیں انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ دوبارہ فلائنگ کے شعبے میں واپس نہیں جائیں گے۔ وہ ذہنی طور پر خود کو دوبارہ جہاز کے کاک پٹ میں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ ایک خاص طرح کی سنجیدگی ان کی شخصیت کا جزو بن چکی تھی۔ کچھ وقت انہی حالات میں گزر گیا اوروہ اب ایک نئے کیریئر کاآغاز کرنے کے لیے دوسرے شعبوں کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے تھے ۔ اس دوران ان کے والدین اور دوست ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ، تاہم وہ ان کو واپس فضا میں جانے کے لئے آمادہ نہیں کرسکے۔
 اور پھر اسی دوران انہیں پی اے ایف اکیڈمی سے واپس رپورٹ کرنے کا سرکاری حکم موصول ہوا۔ اگلی ٹرم شروع ہونے کو تھی۔ چونکہ ان کا بہت سا وقت اس حادثہ کے بعد ضائع ہوچکا تھا، اس لیے اب انہیں واپس آکر اگلے کورس کے ساتھ اپنی تربیت مکمل کرنی تھی۔ اس حکم نے انہیں ایک بار پھر شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔ انہیں بہت جلد فیصلہ کرنا تھا۔ وہ غور وفکر میں پڑ گئے ۔ کبھی ذہن میں ایک خیال آتا تو کبھی دوسرا، کبھی واپسی کا ارادہ کر بیٹھتے اور کبھی ہمت جواب دے جاتی۔ پھر اسی کشکمش میں ان کے ذہن میں ایک بجلی کوندی اور کئی گتھیاں سلجھ گئیں۔یکبارگی ان کی فہم میں یہ بات آگئی کہ اگر یہ فیصلہ فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد پر چھوڑا جاتا تو ان کی یقینا یہی خواہش ہوتی کہ عاصم اپنی تربیت مکمل کر کے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کریں۔ عاصم کے اسی تابناک مستقبل کے لیے تو انہوں نے اپنی جان قربان کر دی تھی۔ عاصم کے ذہن سے تمام غبار اچانک چھٹ گیا اور انہوں نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ 
اس لمحے کے بعد عاصم نے زندگی میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے کبھی لوگوں کے خیالات کی پروا نہیں کی۔ ان کے سامنے ایک مشن تھا جس کی انہوں نے تکمیل کرنی تھی۔ ہنستا مسکراتا اور شوخ مزاج عاصم اب ایک انتہائی متین شخص بن چکا تھا ،جس کی شخصیت میں بے انتہا ٹھہرائو آچکا تھا۔ اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد عاصم نے میانوالی سے اپنی فائٹر طیاروں کی تربیت مکمل کی اور پھر مختلف جہازوں کا تجربہ حاصل کرتے ہوئے وہ میراج طیاروں پر تعینات ہوگئے۔ ان کی عمومی شہرت پاک فضائیہ میں ایک شفیق دوست اور قابل پائلٹ کی تھی، جو ساتھیوں کی مدد کے لیے کسی بھی حد سے تجاوز کرنے کو تیار رہتے۔
25مارچ1999کوعاصم رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوگئے ۔ ان کی شادی ہماسجادسے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین خوبصورت بیٹیوں ماہا، ہانیہ اور نوال سے نوازا جن کی موجودگی سے ان کی خوبصورت زندگی مزید خوشگوار ہوگئی تھی۔ ان تینوں کو عاصم اپنے دل کے بہت قریب رکھتے تھے۔ 
19 اکتوبر2011 کو پاک فضائیہ کے مسرور بیس سے اڑان بھرنے والا وہ میراج طیارہ کراچی کے قریب تربیتی علاقے میں ایک دوسرے طیارے کے ساتھ جنگی دا ئو پیچ کی مشقیں کر رہا تھا ۔ اسی دوران سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک طیارہ غیر متوقع طور پربے قابو ہوکر پہلے بائیں جانب جھکا اور پھراس نے اپنی ناک کا رخ نیچے کی جانب کرکے تیزی سے زمین کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ جب تک طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر عاصم پراچہ طیارے کو سنبھالتے، طیارہ23000 فٹ کی بلندی سے چند ہی لمحوں میں صرف 5000 فٹ پر آچکا تھا۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر عاصم نے انتہائی پرسکون انداز سے کمال مہارت کے ساتھ طیارے کے رخ کو تبدیل کیا اور اس کی ناک کو دوبارہ جہاز کے طاقتور انجن کے زور پر اوپر کی جانب اٹھا دیا۔ تاہم انہوں نے محسوس کر لیا کہ کسی سنگین فنی خرابی کے باعث ان کا طیارہ متواتر بائیں جانب کو جھک رہا ہے۔ دوسرے طیارے پر پرواز کرتے ونگ کمانڈر عاصم کے ساتھی نے بھی جان لیا تھا کہ ان کے طیارے میں کوئی شدید خرابی پیدا ہوچکی ہے۔ اس لئے انہوں نے اس انتہائی بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے عاصم کو فوری طور پر جہاز کو چھوڑنے اور ایجیکشن کرنے کا مشورہ دے دیا۔ تاہم اپنی زندگی میں دوسری دفعہ عاصم نہیں چاہتے تھے کہ پاک فضائیہ کے قیمتی اثاثے کو فضا میں چھوڑ کر وہ اپنی جان بچا لیں۔ انہیں شدید احساس تھا یہ قوم اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر ان جہازوں کی اڑان کو یقینی بناتی ہے تاکہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے ۔ اس لئے انہوں نے اپنی حتی الوسع کوشش جاری رکھی اور فیصلہ کر لیا کہ وہ طیارے کو بحفاظت زمین پر اتارنے کے لیے اپنے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ 
اور پھر اپنی ہمت اور جانفشانی سے آخرکار وہ طیارے کو دوبارہ 12000  فٹ کی بلندی پر واپس لے آئے۔ ان کا جہاز بہرحال متواتر بائیں جانب کو جھک رہا تھا جسے وہ تمام تر مہارت کو بروئے کارلاتے ہوئے  سیدھا رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ طیارے کو کچھ دیر12000  ہزار فٹ کی بلندی پر برقرار رکھنے کے بعد انہوں نے اب دھیرے دھیرے طیارے کو  نیچے لانے کا عمل شروع کیا تاکہ اس کو واپس مسرور بیس کے رن وے تک پہنچا کر زمین پر اتار سکیں۔ میراج طیارے کو اس کے بھاری وزن اور تکون پروں کے باعث کم رفتار پرقابو رکھنا پائلٹ کے لیے انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔
طیارے کو کسی نہ کسی طرح اپنے قابو میں رکھتے ہوئے ونگ کمانڈر عاصم اب 4000  فٹ کی بلندی تک لاچکے تھے، انہوں نے جہاز کو مزید نیچے اتارنے کے لیے اس کی رفتار بھی لامحالہ کچھ کم کردی تھی کہ اچانک ایک مرتبہ پھر جہاز بے قابو ہو کرتیزی سے اپنے بائیں جانب جھکا اور سرعت سے زمین کی جانب بڑھنے لگا۔ دوسرے طیارے سے ونگ کمانڈر عاصم کے جہاز پر کڑی نظر رکھے ہوئے ساتھی نے ان کو درپیش شدید خطرات کو بھانپتے ہوئے اسی لمحے ریڈیو پر پکارا، سر عاصم ایجیکٹ۔۔۔ ایجیکٹ۔۔۔۔ ایجیکٹ !!
تاہم عاصم نے جہاز کو بچانے کی ایک آخری کوشش کی اور اس کو ایک بار پھر سیدھا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔ مگر اب یہ ایک لاحاصل جدوجہد تھی۔ زمین بے انتہا قریب آچکی تھی۔جہاز نے اپنا رخ نہ بدلا اور ایک بھاری پتھر کی طرح زمین کی جانب بڑھتا گیا۔
 اور پھر پلک جھپکتے میں جہاز اپنے شہسوار کے ہمراہ زمین کے ساتھ ٹکرا گیا ۔ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور طیارہ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوتا ہوا دیس کی مٹی میں نقش ہو گیا ۔ ریڈیو پر ان کومسلسل متنبہ کرتے ساتھی کو اب جواب دینے والا کوئی نہ تھا، صرف ایک گہرا سکوت تھا۔ ایک اور مجاہدنے اپنا قرض چکا دیا تھا۔ 
ونگ کمانڈر عاصم پراچہ کی شہادت کے ساتھ ہی عزم و ہمت کا ایک عالی باب بند ہوا ۔اور اس کے ساتھ ہی فلائٹ لیفٹیننٹ مجاہد کی بھی اپنے رب سے عاصم کی درازیٔ عمر کی مہلت دنیاوی طور پر تو فقط سترہ سال اور ایک ماہ کے بعدختم ہوگئی، تاہم شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو کر عاصم پراچہ ابدی طور پر زندہ و جاوداں ہوگئے۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 131مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP