قومی و بین الاقوامی ایشوز

''لُک افریقہ '' پالیسی۔وقت کی ایک ضرورت

افریقہ کے ساتھ سیاسی، تجارتی، اقتصادی اورفوجی سفارتکاری کے میدان میں تعلقات کے فروغ کی ضرورت سے متعلق سینیئر صحافی تزئین اختر کی تحریر

ہماری بڑی بدقسمتی رہی ہے کہ ہم نے مفروضوں اور اندازوں کی بنیاد پر اپنی پالیسیاں مرتب کر کے بہت ساوقت اور بہت سے مواقع ضائع کر دئیے اور آج یہ حالت ہے کہ ہم اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لئے دوسرے ملکوں کی مدد کے محتاج ہیں۔ ہم نے فرض کر لیا کہ کمیونسٹ ممالک ہمارے نظریاتی مخالف ہیں اور ہم نے سوویت یونین کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا ہمیں نقصان ہوا اور فائدہ ہمارا دشمن بھارت لے گیا۔ ہم نے افریقہ کے متعلق فرض کئے رکھا کہ یہ تاریک براعظم ہے۔ یہاں جنگلی رہتے ہیں جو تن ڈھانپنے کے لئے درختوں کے پتے استعمال کرتے ہیں مگر اس دوران بھارت وہاں بھی فوائد سمیٹتا رہا تھا اور یورپ، افریقہ کے ساتھ تجارت بڑھا تارہا اور تو اور ہم اپنے عزیز ترین دوست چین سے بھی نہ سیکھ سکے جو افریقہ کے ساتھ 150 ارب ڈالر کی تجارت کر رہا ہے۔ بھارت کی افریقہ کے ساتھ تجارت 70 ارب ڈالر ہے۔ ترکی 50 ارب ڈالر جبکہ پاکستان صرف 4 ارب 30 کروڑ ڈالر کی تجارت کر رہا ہے۔ ہم نے افریقہ کو بھوک اور افلاس زدہ براعظم سمجھ کر نظرانداز کئے رکھا جبکہ دنیا کے دیگر ممالک افریقہ کے ساتھ تعاون بڑھا کر اپنی معیشتیں مضبوط بناتے رہے۔ ہماری یہ بھی بڑی بدقسمتی رہی کہ افریقی ممالک ہمارے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لئے بے چین رہے کیونکہ پاکستان نے ان کی آزادی کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا تھا مگر ہم انہیں چوتھی دنیا سمجھ کر پہلی دنیا کو ترجیح دیتے رہے۔ وہ بھی ہماری نہ ہوئی اور یہ بھی گئی۔ البتہ اب امید کی ایک کرن نمودار ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ موجودہ حکومت نے افریقہ کی اہمیت کے پیش نظر'' Look Africa '' پالیسی اختیار کی اور گزشتہ کچھ مہینوں سے اس پر پیشرفت بھی جاری ہے۔ افریقہ تجارت وسرمایہ کاری کے حوالے سے بھی پاکستان کے لئے مواقع کی سرزمین ہے اور دفاعی اعتبار سے بھی یہاں بڑے امکانات موجود ہیں۔ یہاں سیاسی، تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور فوجی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔



دفتر خارجہ پاکستان نے 27، 28 نومبر 2019ء کو اپنے ہاں انگیج افریقہ کانفرنس منعقد کی جس میں ان تمام مواقع اور امکانات پر تفصیل سے بات ہوئی اور مزید خوش آئند بات یہ تھی کہ اس میں تمام متعلقین بھی موجود رہے۔پہلے روز صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی مہمان خصوصی تھے اور دوسرے روز وزیراعظم عمران خان نے افریقہ کے حوالے سے اپنا ویژن اور ترجیحات بیان کیں۔ وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود میزبان تھے۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے افریقہ کے 13 ممالک میں تعینات سفیروں کو بھی بلایا گیا تھا جبکہ پاکستان میں متعین افریقی ملکوں کے سفیروں اور ہائی کمشنروں کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا اور معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں جبکہ دفاعی اداروں کی نمائندگی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس طرح ان دو دنوں میں تمام متعلقین نے ایک جگہ بیٹھ کر تفصیل سے بات کی اور اہم فیصلے کئے جن کے مثبت نتائج کی مستقبل قریب میں امید کی جاسکتی ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستانی سفیر برائے مراکش حامد اصغر خان کی پریذینٹیشن نے عمل انگیزی کا ایسا کام کیا کہ نہ صرف شرکاء نے یہ محسوس کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ تھوڑی سی کوشش کر کے ملک کے لئے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان بھی  داد  دئیے  بغیر نہ رہ سکے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس پریذینٹیشن میں اتنے مثبت پہلو بیان کئے گئے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں سے شروع کریں۔
حامد اصغر خان مراکش میں تعیناتی سے پہلے دفتر خارجہ میں افریقہ ڈیسک کے انچارج رہ چکے ہیں۔ سفارتکاری اور خارجہ امور میں 25 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ کے 54 ممالک میں اس وقت پاکستان کے 13سفارتخانے ہیں جبکہ 2 ممالک میں اعزازی قونصل مقرر ہیں۔ بھارت کے افریقہ میں 47 اور ترکی کے 46 سفارتخانے ہیں۔ بھارت ہر 3 سال بعد افریقی ممالک کی کانفرنس منعقد کرتا ہے۔ بھارت میں جو آخری کانفرنس منعقد ہوئی اس میں 37 افریقی ملکوں کے صدر، وزرائے اعظم اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ اسی طرح ترکی، جاپان، یورپی یونین والے بھی افریقی ملکوں کی کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ گزشتہ دس سال میں لیڈرشپ کی سطح پر کوئی دورہ ہوا نہ معاہدہ۔ افریقہ میں لیڈر جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اس لئے ہماری طرف سے کوئی لیڈر ان کے لیڈروں سے ملے گا تو بات آگے بڑھے گی۔ ماضی میں جنرل پرویز مشرف نے افریقہ کا دورہ کیا اور مراکش تک گئے تھے اور اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مراکش کے دورے کی دعوت مل چکی ہے۔ انگیج افریقہ کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم یا صدر کے ہر سہ ماہی میں افریقہ کے ایک دورے پر بھی اتفاق ہوا اور مذکورہ ہردورے میں وہ تین چار افریقی ملکوں میں جایا کریں گے۔


پاکستان کی سمندری حدود میں کچھ عرصہ قبل ہونے والے اضافے کے بعد ہماری بحری فوج کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ گوادر بھی بہت جلد ایک مصروف بندرگاہ بن رہا ہے جس سے آگے کی تجارت مشرق وسطیٰ اور پھر افریقہ تک جائے گی۔ اس لئے بھی افریقی ممالک خصوصاً بحرہند اور بحیرہ احمر کے اہم ساحلوں پر واقع ممالک کے ساتھ قریبی تعلق وتعاون پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔


افواج کی بات کی جائے تو فوجیں اب پہلے زمانوں والی نہیں رہ گئیں جن کا کام صرف لڑنا تھا۔ فوجوں کے اب اپنے دفاعی تعلقات اور تعاون کا زمانہ ہے۔ فوجی سفارتکاری دنیا بھر میں عام ہوچکی ہیں۔ افریقہ کے ساتھ تعاون بڑھانے میں پاکستان کی مسلح افواج کا اپنا ایک کردار بھی اس پریذینٹیشن میں واضح کیا گیا۔ افریقہ کے کئی ملکوں کو دہشتگردی اور جنگوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کی فوج نے دہشتگردی کے خلاف ایک طویل اور صبرآزما جنگ لڑی ہے۔ اس میں ہزاروں جوان، افسر اور شہری شہید ہوئے مگر بالآخر فوج نے دہشتگردوں کی کمرتوڑ دی اور امن قائم کر دیا۔ افریقہ کے ممالک پاک فوج کی اس مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کی فوج سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں ہم یہ بھی اضافہ کرتے چلیں کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن دستوں میں فوجی اور دیگر اداروں کے جوان بھیجنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے اور ان کی بڑی تعداد افریقی ممالک میں تعینات ہے۔
 دفاعی اعتبار سے افریقی ممالک  میں سفارتخانے بڑھانے اور تعلقات وتعاون کا فروغ اس لئے بھی ضروری ہے کہ دنیا کی معروف اور مصروف ترین سمندری گزرگاہیں بحرہند سے گزرتی ہیں۔ دنیا کی تجارت کا بڑا حصہ اسی سمندر کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کی ایک سائڈ پر افریقہ ہے۔ پاکستان کی سمندری حدود میں کچھ عرصہ قبل ہونے والے اضافے کے بعد ہماری بحری فوج کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ گوادر بھی بہت جلد ایک مصروف بندرگاہ بن رہا ہے جس سے آگے کی تجارت مشرق وسطیٰ اور پھر افریقہ تک جائے گی۔ اس لئے بھی افریقی ممالک خصوصاً بحرہند اور بحیرہ احمر کے اہم ساحلوں پر واقع ممالک کے ساتھ قریبی تعلق وتعاون پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ پاک بحریہ اس وقت نہ صرف سمندروں کی حفاظت بلکہ قزاقوں کی سرکوبی بھی کر رہی ہے۔ سی پیک اور گوادر کی فعالیت کے بعد افریقی ممالک سے فوائد اٹھانے کے امکانات دوچند ہو جائیں گے۔
چین نے ملک سے باہر دنیا بھر میں جو سب سے پہلا دفاعی مقام بنایا ہے وہ افریقہ کے چھوٹے سے ملک جبوتی میں ہے۔جبوتی بحیرہ احمر کے ساحل پر ہے ۔بحیرہ احمر کے ایک طرف سعودی عرب اور دوسری طرف جبوتی اور مصر ہیں۔یعنی چین دونوں اطراف سے رابطہ رکھ سکتا ہے جبکہ بحیرہ احمر کی اس سے بھی بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس کے دوسرے سرے پر نہر سویز ہے یعنی بحیرہ روم کے ساتھ بھی قربت ہوگئی اور اس طرح یورپ اور شمالی افریقہ کے سمندری تجارتی مراکز پر چین موجود ہوگا۔پاکستان نے افریقہ کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ افریقہ میں مزید6نئے سفارتخانے کھولے جائیں گے اور ان میں ایک جبوتی میں ہوگا۔مذکورہ بالا پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ انتہائی احسن فیصلہ ہے۔اس طرح سی پیک پر پاک چین تعلق گوادر تک ہی نہیں جبوتی تک وسیع ہوجائے گا۔
جبوتی کے علاوہ روانڈا،یوگنڈا،گھانا،انگولا اور آئیوری کوسٹ میں پاکستانی سفارتخانے قائم کئے جائیں گے۔الجزائر،ایتھوپیا ،سینی گال،نائیجیریا اور کینیا میں کمرشل سیکشن2020میں کام شروع کردیں گے۔یعنی اندازہ لگائیں کہ نائیجیریا اور کینیا جیسے اہم ملکوں میں بھی ابھی تک کمرشل اتاشی مقرر نہیں تھے جبکہ نائیجیریا ٹیکسٹائل سمیت ہمارا اہم تجارتی پارٹنر ہے اور ڈویلپنگ ایٹ میں ممبر بھی ہے۔کینیا سے ہم اربوں روپے کی چائے درآمد کرتے ہیں اور اب تک یہاں کمرشل افسر کوئی نہیںتھا جو تجارتی توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔چلیںدیر آید درست آید۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ6افریقی ملکوں میں کمرشل سیکشن کھولنے پر کوئی اضافی خرچ نہیں ہوگا۔مشیر اور سیکرٹری تجارت نے اس حوالے سے کانفرنس میں یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ موجودہ سٹاف ہی میں سے وہاں تعیناتی کریں گے۔کانفرنس میں یہ بات ڈاکٹر فردوس عاشق کی توجہ دلاکر نوٹ کی گئی کہ افریقہ میں پاکستان کے کسی سفارتخانے میں کوئی ایک پریس اتاشی بھی مقرر نہیں ۔یعنی آج جبکہ میڈیا کا دور ہے تو افریقہ میں ہمارے سفارتخانے  مقامی پریس میڈیا سے کوئی رابطہ رکھنے کے قابل ہی نہیں۔ڈاکٹر فردوس نے اس حوالے سے یقین دلایا کہ وہ وزارت اطلاعات سے پریس اتاشی فراہم کریں گی۔2020 میں7مقامات پر پریس اتاشی مقررکئے جائیں گے۔
افریقہ کے54ملکوں میں سے27اسلامی ممالک کی تنظیم''او آئی سی'' کے رکن ہیں یعنی پاکستان کے ساتھ اس تنظیم میں بیٹھے ہیں مگر ہم نے ا ن کے ساتھ بھی اب تک کوئی شراکت نہیں بنائی۔لیبیا میں کسی وقت ہمارے2لاکھ پاکستانی کام کررہے تھے۔اب صرف5ہزار رہ گئے ہیں۔لیبیا کی گورنمنٹ آف نیشنل ایکارڈ پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے۔لیبیا کے سفیر نظاراے نابیھاکے ساتھ ہماری گفتگو ہوتی رہتی ہے۔وہ پاکستان کے بہت اچھے دوست ہیں ۔لیبیا کو ایک مسلح گروہ کی بغاوت اوربیرون ملک سے اس کی حمایت کا سامنا ہے۔لیبیا کے خصوصی نمائندے پاکستان کے دورے کے لئے کلیئرنس کے منتظر ہیں جو ان کو نہیں مل رہی حالانکہ وہ صرف دورہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اس میں کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کرے۔اقوام متحدہ لیبیا کے ساتھ ہے اور اب امریکہ نے بھی لیبیا میں مسلح گروہ کی بغاوت ختم کرنے میں تعاون کا یقین دلادیا ہے کیونکہ یہ مسلح گروہ اپنے سربراہ حفتر کی قیادت میں اب دوسرے ملکوں سے دہشتگردوں کو لارہا ہے جوکہ افریقہ کے مستحکم اور متمول ترین ملک کو مزید تباہی کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے جس کے اثرات مصر سمیت دیگر ہمسایہ ممالک،خلیج کے بعض ممالک اور یورپ تک بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اگر یہاں مداخلت کرنے والے ممالک رکاوٹ نہ بنیںتو لیبیا  پاکستان سے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور انسانی سمگلنگ روکنے کے لئے تعاون حاصل کرسکتا ہے۔ 
مراکش کی اہمیت خاص الخاص ہے۔اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے منفرد مقام دیتی ہے۔یہ شمالی افریقہ کا آخری ملک ہے اور یورپ یعنی سپین سے اس کا فاصلہ صرف13کلومیٹر ہے۔اس کی بندرگاہ تانجیر(TANGIER) پاکستان کے لئے ایک مثال ہے۔ہم گوادر بنارہے ہیں تو اس کے لئے تانجیر ماڈل بہت اہم ہے۔مراکش گاڑیوں،جہازوں کے پرزے،ہائی ٹیک اشیاء تیارکرکے یورپ کو برآمد کرتا ہے۔گوادر اگر ایک خواب ہے تو تانجیر اس کی عملی شکل ہے۔یہاں ہر شعبے کے لئے الگ الگ زون ہیں۔ایکسپورٹ زون، ایروسپیس زون وغیرہ وغیرہ۔مراکش اس وقت سپین کو بجلی فراہم کررہا ہے۔ گوادر اور تانجیر میں تعاون کے لئے حامداصغر خان نے کراچی میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین سے ملاقات کی ہے اور وہ امید ظاہر کرتے ہیں کہ بہت جلد ہم دونوں بندرگاہوں کو سسٹر پورٹس یا اس طرح کے کسی معاہدے  میں مربوط کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔مراکش اب اس بندرگاہ کومزید وسیع کررہا ہے ۔بادشاہ نے اس کے فیز2کی منظوری دے دی ہے۔مراکش کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ پوری دنیا میں امریکہ کا جس ایک ملک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہے وہ مراکش ہے اور یہ ترجیح اس لئے امریکہ نے دی ہے کہ امریکہ کی آزادی کے بعد سب سے پہلے مراکش نے اسے تسلیم کیا تھا۔اس طرح یورپی یونین کے ساتھ بھی ایف ٹی اے ہے۔یعنی اگر کوئی پاکستانی مراکش میں فیکٹری لگاتا ہے تو اس کی مصنوعات یورپ اور امریکہ میں بغیر ڈیوٹی جائیں گی۔اب پاکستان مراکش کے ساتھ پرائم فیورٹ پارٹنر کا معاہدہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دونوں ملکوں نے فی الحال 12-12آئیٹمز کی نشاندہی کردی ہے جو بغیر ڈیوٹی ایک دوسرے کو بھیجی جائیں گی۔
 حامد اصغر خان کی قیادت میں ایف پی سی سی آئی کا 25رکنی وفد مراکش کا دورہ کررہا ہے۔ مراکش کے شہر فیض میں فیسٹیول منعقد ہوگا جس میں یہ وفد بھی شرکت کرے گا۔اس موقع پر مقامی صنعتکاروں،سرمایہ کاروں اور حکام سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔اس سے دونوں ملکوں کے کئی شعبے کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور مواقع وامکانات پر بات ہوگی جس میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
ایک اور اہم فیصلہ جو افریقہ کانفرنس اسلام آباد میں کیا گیا وہ یہ ہے کہ 31جنوری2020کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ''پاکستان افریقہ ٹریڈ انویسٹمنٹ کانفرنس''ہوگی جو وزارت خارجہ اوروزارت کامرس مل کر منعقد کرائیں گی۔مشیر تجارت عبدالرزاق دائود ،وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی اور تمام پاکستانی سفیر بھی اس میں شرکت کریں گے۔
پاکستان کو افریقی ممالک میں متعارف کروانے کے لئے ثقافتی شعبے میں بھی کام ہوگا۔ اداکار ہمایوں سعید اپنی اگلی فلم مراکش میں بنائیں گے۔پی ٹی وی اپنے ڈرامے فری فراہم کرے گا جن کو پاکستانی سفیر افریقی زبان میں ڈب کرواکر وہاں چلوائیں گے۔افریقہ میں چونکہ کرکٹ نہیں کھیلی جاتی اس لئے سپورٹس میں فٹبال،پولو،رگبی میں اگلے سال ٹیموں کے تبادلے ہوں گے۔اس حوالے سے ہماری تجویز ہے کہ پاکستان میں موجود دیگر امکانات اور مواقع کو بھی دیکھا جائے۔گوادر سمیت مکران کے ساحل اور سندھ تک کراچی سمیت کئی پاکستانی ایسے ہیں جن کے آباء اومان اور افریقی ممالک سے آئے۔سندھ اسمبلی میں ایک خاتون ایم پی اے اس پس منظر کی ہیں۔صومالیہ سمیت افریقی ممالک کے طلباء وطالبات کراچی اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ صومالیہ کے کئی ارکان پارلیمنٹ پاکستان سے فارغ التحصیل ہیں ۔ان پر بھی کام کیا جاسکتا ہے۔صومالیہ کے طلباء اس حوالے سے پُرجوش ہیں اور پاکستان سے محبت بھی کرتے ہیں۔
افریقہ جون2020تک ایک مشترکہ مارکیٹ بننے جارہا ہے ۔پورا افریقہ فری ایریا ہوگا۔افریقہ یونین کے ساتھ شراکت بھی پاکستان کے لئے بہت مفید ہوگی۔یہ تنظیم براعظم کے تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کئے ہوئے ہے۔28-27نومبر کی کانفرنس میں جو بھی فیصلے کئے گئے ان پر عملدرآمد کے لئے افریقہ ٹاسک فورس کا قیام خوش آئند ہے۔یہ فورس فالو اپ رکھے گی کہ ان فیصلوں پر کہاں تک عمل ہوا۔سب وزارتوں کے نمائندے اس میں شامل ہوں گے۔افریقہ کے ساتھ قریبی تعلق اور تعاون پاکستان کی ضرورت ہے۔جب افریقہ میں معیشت وتجارت کے حوالے سے گریٹ گیم جاری تھی تب ہم سورہے تھے۔اب جاگے ہیں تو اب بھی دیر نہیں ہوئی اگر ہم نے جو طے کیا ہے اس پر بروقت اور مکمل عمل ہوجائے تو ۔۔۔بصورت دیگربقول منیر نیازی :
 ''ہمیشہ دیر کردیتا ہوں۔''


[email protected]

یہ تحریر 6مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP