انٹرویو

''قائداعظم کی بصیرت، تدبر، دیانت اور خلوص سے بہت متاثر ہوا''

قائداعظم، مادرِ ملت، لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین سمیت کئی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔
گولڈ میڈلسٹ کارکن تحریک پاکستان ریاض احمد چودھری کی باتیں،  
ملاقات شعیب مرزا



ریاض احمد چودھری تحریک پاکستان کے بزرگ گولڈ میڈلسٹ کارکن ہیں۔ انہیں 23مارچ1940ء کے جلسے میں شرکت، قائداعظم، ماردِ ملت، لیاقت علی خان اور تحریک پاکستان کے دیگر کئی اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی انگریزی کتاب ''The Real Face of India'' کو پذیرائی حاصل ہو چکی ہے۔ حال ہی میں ان کی کتاب ''تحریک پاکستان۔ چند یادیں، کچھ ملاقاتیں'' بھی شائع ہوئی ہے۔ اسلام ، پاکستان، امت مسلمہ، کشمیر، فلسطین اور دیگر موضوعات پر ان کے کالم شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان دنوں بطور ڈائریکٹر''بزم اقبال'' خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان سے کی گئی گفتگو پیش خدمت ہے۔


سوال:اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب: میرا خاندان امرتسر میں متوسط درجے کا دینی مزاج رکھنے والا گھرانہ تھا۔ میرے جد امجد چودھری فتح شیر مرحوم مشرقی پنجاب میں ضلع ہوشیار پور کے گاؤں سے امرتسر منتقل ہوئے تھے۔ میرے دادا چودھری دین محمد مرحوم تحصیل امرتسر کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما تھے۔ وہ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے جو دامے، درمے اور سخنے مسلم لیگ کی مدد کرتے تھے۔ میرے والد چودھری فرزند علی مرحوم پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔ انہوں نے تھام سنگھ انجینئرنگ کالج روڑکی (یوپی انڈیا) سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ بھی تحریک پاکستان کے حامی تھے تاہم اکتوبر 1939 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ اپنی زندگی میں جہاں بھی رہے ، لوگوں کی بھرپور خدمت کرتے رہے۔ 
سوال: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے، بچپن کیسے گزرا  ؟
جواب : میں فروری 1931ء میں امرتسر میں پیدا ہوا اور میرا بچپن کھیل کود اور حصول تعلیم میں گزرا۔ مجھے بچپن ہی سے کھیل کود سے دلچسپی رہی ہے۔ میں کبڈی، فٹ بال، والی بال کھیلتا رہا ہوں۔ یہ جنگ عظیم دوئم کا زمانہ تھا۔ تحریک پاکستان زوروں پر تھی۔ان دنوں ہمارے ہاں لاہور سے دو اخبار روزنامہ زمیندار اور روزنامہ احسان آیا کرتے تھے۔ روزنامہ احسان مسلم لیگ کی سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دیتاتھا۔ میں لوگوں کوجنگ کے علاوہ آل انڈیا مسلم لیگ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیاکرتا تھا۔
سوال: ابتدائی تعلیم کن اداروں سے حاصل کی، اساتذہ اورساتھی طلبا ء کا رویہ کیسا تھا؟۔
جواب: ابتدائی تعلیم مڈل سکول فتح پور راجپوتاں میں حاصل کی۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر محترم فضل دین مرحوم بہت عظیم انسان تھے جو طلباء کی تعلیم و تدریس اور تربیت میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ میرے سامنے وہ ایک مثالی معلم اور استاد تھے جنہیں میں ہر وقت یاد رکھتا ہوں۔ غالباً وہ میرے والد کے بھی استاد تھے۔ہم امرتسر سے ہجرت کر کے جب 15 اگست کی صبح منٹگمری پہنچے تو وہ مہاجرین کی آمد کی اطلاع پاکر بڑی تلاش کے بعد ہمیں ملنے آئے اور خیریت دریافت کی۔ اس سے ان کی محبت کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ جب میں پاکستان ٹائمز میں کام کرتا تھا تو ماسٹر فضل دین مرحوم اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان میں مقیم تھے۔ ان کا بیٹا پاکستان آیا تو انہوں نے خاص طور پر اپنے بیٹے کو ہدایت کی کہ ریاض احمد جو پاکستان ٹائمز میں کام کرتے ہیں ان سے مل کر آنا۔ 
سوال: تحریک پاکستان میں کس عمر میں حصہ لینا شروع کیا، سرگرمیاں کیا ہوتی تھیں؟
جواب: میں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی تحریک پاکستان میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ میرے دادا چودھری دین محمد مرحوم اور والد چودھری فرزند علی مرحوم تحریک پاکستان کی حمایت کرتے تھے، اس لیے مجھے گھر سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی ترغیب ملی۔ 1945- 46ء کے عام انتخابات میںہم نے بہت کام کیا۔ سٹی مسلم لیگ کے صدر شیخ صادق حسن مرحوم اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرپرست اور بزرگ سیاسی رہنما مولوی سراج الدین پال ایڈووکیٹ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔مولوی سراج الدین پال، عزالدین پال، ذکی الدین پال اور تقی الدین پال ، خواجہ رفیق شہید ، ڈاکٹر عبدالغفور مرحوم(فیصل آباد) ، چودھری اصغر علی مرحوم (اوکاڑہ ) کے ہمراہ مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں گھر گھر جاکر ووٹ مانگے۔ 
سوال: اس دورمیں بچوں، نوجوانوں اور عمومی طورپر مسلمانوں میں الگ وطن کے حوالے سے کیا جوش و خروش تھا؟
جواب :ہم ایم ایس ایف کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان کی حمایت میں سرگرم رہتے تھے۔بچوں اور نوجوانوں میں اس زمانے میں بہت جوش و خروش ہوتا تھا۔ نوجوانوں نے انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنوں پر بڑی سرگرمی سے کام کیا اور مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے  والے  لوگوں کی بھرپور رہنمائی کی۔ انہیں گھروں سے پولنگ سٹیشنوں تک پہنچایا اور ووٹ ڈلوا کر واپس اپنے گھروںتک پہنچایا۔ تحریک پاکستان کے دوران طلباء اور نوجوانوں میں جو جوش و خرو ش تھا میں نے ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔
سوال :کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برصغیر میں تمام مذاہب کے لوگ اچھے طریقے سے رہ رہے تھے۔ برصغیر کی تقسیم کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:جو لوگ کہتے ہیں کہ برصغیر میں لوگ سکون و آرام سے رہ رہے تھے، تقسیم کی کوئی ضرورت نہیں تھی، ان کو حالات کا درست علم نہیں ہے۔ بنگال کی تقسیم سے لے کر 1935ء تک کانگریسی حکومتوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ کانگریسی حکومتوں کے خلاف عالمگیر احتجاج کے بعد جب یہ دور ختم ہوا تو برصغیر کے مسلمانوں نے یوم نجات منایا۔ جو لوگ تقسیم ہند کے خلاف ہیں وہ کانگریس اور ہندوؤں کے قوم پرستانہ ذہن کا ساتھ دینے والے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے جید علمائ، تقسیم ہند کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ انگریز سے آزادی تو مل جائے مگر متحدہ قومیت کے نظریے کے تحت ہندوستان ایک رہے۔ آج بھارت میں مسلمانوں اور جومقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے۔ امریکہ بھارت اور دیگر یورپی ممالک اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی طرح بھارت بھی اسرائیل طرز پر کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ انہیں جبری ہندو بنایا جا رہا ہے۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ قائداعظم  اور علامہ اقبال کی ولولہ انگیز قیادت کے باعث ہم آزا د وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ورنہ آج مودی سرکار جو بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کر رہی ہے وہ ہم سب کے ساتھ ہو رہا ہوتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں مسلمان آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ بلکہ یہاں اقلیتیں بھی آزاد ہیں۔ انہیں مکمل مذہبی آزادی ہے اور معاشرتی طورپر بھی انہیں بہتر مقام حاصل ہے۔ پاکستان نہ بنتا تو ہندو راج آج سارے مسلمانوں کو ہندو بناچکا ہوتا اور دنیا میں کوئی بھی اس کے خلاف آواز نہ اٹھاتا۔ پاکستان کی وجہ سے ہی دنیا میں کچھ ممالک دبی زبان میں ہی سہی، کشمیریوں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ 
سوال : تحریک پاکستان میں خواتین کاکیا کرداررہا  ؟
جواب: تحریک پاکستان میں خواتین نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں خواتین نے بھی تحریک پاکستان کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے بذات خود بیمار بھائی قائد اعظم کو سہارا دیا۔ ان کی صحت اور ان کے آرام کا نہ صرف خیال رکھا بلکہ تحریک پاکستان میں بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔ پنجاب کے سیکرٹریٹ پر ایک بہادر لڑکی نے ہی سبز ہلالی پرچم لہرایا تھا۔ اس وقت بہت کم خواتین تعلیم یافتہ تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے تحریک پاکستان میں شاندار کردار ادا کیا۔ 
سوال: قائد اعظم سے ملاقات یا ان کو دیکھنے کا کتنی بار موقع ملا، تب آپ کے تاثرات و جذبات کیا تھے؟
جواب: مجھے مارچ 1940ء کے اجلاس میں قائد اعظم کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ قائد اعظم دنیا کی تاریخ ساز شخصیت ہی نہیں بلکہ آزاد اسلامی ریاست کے بانی بھی ہیں۔ 1940ء کے اجلاس میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ منٹو پارک میں برصغیر کے کونے کونے سے آئے ہوئے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ یہ سب اپنے رہنما قائد اعظم کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کے لیے بے تاب تھے۔ قائداعظم نے اگرچہ انگریزی میں خطاب کیا لیکن تمام شرکاء جو انگریزی نہیں بھی جانتے تھے وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کے قائد نے جو کچھ کہا ہے سو فیصد درست کہا ہے۔ 
سوال: قائد اعظم کی کن خوبیوں سے آپ متاثر ہوئے؟
جواب : قائد اعظم کی بصیرت، تدبر، دیانت اور خلوص سے بہت متاثر ہوا۔ قائد اعظم عام آدمی کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سیکھا۔  قائد کی صلاحیت اور بصیرت کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے 13 سال کے مختصر عرصے میں انگریزوں سے آزادی حاصل کی اور آزاد ملک بنایا۔ قائد اعظم 1934ء میں علامہ اقبال کی درخواست پر برصغیر واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔ خطبہ الہٰ آباد میں آزاد وطن کی تصویر کو 1940ء کے اجلاس میں اجاگر کیا۔ یوں علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ذہن ملتے جلتے تھے۔ اور دونوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے آزاد اسلامی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ قائد اعظم  کی دیانت کا اندازہ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ اگر چند مسلمان مل کر مسلم لیگ کے فنڈ میں چندہ دیتے تو قائد اعظم اپنی جیب سے اس سے پانچ گنا زیادہ چندہ دیتے۔ 
سوال : قائد اعظم کے علاوہ تحریک پاکستان کے کن رہنماؤں سے ملاقات ہوئی؟
جواب : قائد اعظم کے علاوہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ،نواب زادہ لیاقت علی خان شہید،خواجہ ناظم الدین، خواجہ خیر الدین، چودھری خلیق الزمان ، اے کے فضل حق، مولانا حسر ت موہانی، علامہ شبیر احمد عثمانی، شریف الدین پیرزادہ، کے ایس خورشید سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ بیسیوں دیگر مسلم لیگی قائدین سے مختلف اوقات میں ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ 
سوال : ہجرت کے دوران کیا مشکلات پیش آئیں۔ آپ کب پاکستان آئے؟
جواب: ہجرت کے دوران کافی مشکلات پیش آئیں۔ 13 اور 14 اگست کی درمیانی رات کو سکھوں اور ہندوؤ ں کے منظم جتھوں نے انبالہ اور دیگر علاقوں میں سکھ پولیس اور سرکاری فورسز کے ساتھ مل کر چاروں طرف سے امرتسر کو گھیر لیا اور مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ ہزاروں مسلمان تہہ تیغ کیے۔ رمضان المبار ک کے دن تھے۔ شہر کے گر د باغات تھے جہاں لوگ وقت گزارنے جاتے تھے۔ میں بھی اسی طرح کے ایک باغ میں تھا کہ مجھ پر بھی ایک سکھ نے کرپان سے حملہ کر دیا۔ لیکن درخت کی شاخ درمیان میں آنے کی وجہ سے میں بچ گیا اور خوف سے بے ہوش ہوگیا۔ وہ سکھ مجھے مرد ہ سمجھ کر آگے بڑھ گیا۔ کافی دیر بعد میں جب اٹھا تو میں نے سیکڑوں شہدا کو دیکھا۔ میں ان شہدا کی لاشوں میں سے راستہ بناتے ہوئے گھر پہنچا۔ اسی روز کرنل موسیٰ نے مغربی پنجاب سے بلوچ بٹالین کو مسلمانوں کی حفاظت کے لیے امرتسر بھیجا۔ بہت سے سکھ ان سے مقابلے میں مارے گئے او ر باقی پسپا ہوگئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مسلمان ریلوے سٹیشن پر پہنچ جائیں۔ امرتسر سے پہلی ٹرین آٹھ بجے لاہور کے لیے روانہ ہوئی۔ جس پر سکھوں نے جگہ جگہ حملے کیے اور پٹڑی پر بھی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ مگر فوج کی وجہ سے ہزاروں سوار محفوظ رہے۔ یہ پہلی ٹرین تھی جو ہربنس پورہ کے راستے والٹن پہنچی۔ جہاں ضلعی انتظامیہ نے امدادی کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ یہیں سٹیشن پر 12 بجے رات قیام پاکستان کا اعلان سنا۔ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات لاہور، پشاور اور ڈھاکا سٹیشنوں سے رات11 بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ بارہ بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذر کی آواز میں انگریزی زبان میں فضا میں ایک اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت معرض وجود میں آ جائے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے لاکھوں سامعین کے کانوں میں پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔ انگریزی میں یہ اعلان ظہور آذر نے اور اردو میں یہ اعلان مصطفی علی ہمدانی نے کیا۔ اس اعلان کے فوراً بعد مولانا ظاہر القاسمی نے قرآن مجید کی سورة فتح کی آیات تلاوت فرمائیں جس کے بعد ان کا ترجمہ نشر کیا گیا۔ بعد ازاں خواجہ خورشید انور کا مرتب کیا ہوا ایک خصوصی سازینہ بجایا گیا۔
والٹن میں رش ہونے کے سبب ہم ٹرین میں منٹگمری آگئے۔ یہاں گورنمنٹ کالج میں ہمار ا قیام تھا۔ ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوںنے مہاجرین کی بڑی خدمت کی۔ منٹگمری میں ہم دو اڑھا ئی ماہ رہے۔ 
سوال : پاکستان آنے کے بعدکیا مصروفیت رہی اور روزگار کے کیا معاملات رہے؟
جواب : پاکستان آنے کے بعد پانچ چھ سال تو آبادکاری کی نذر ہوگئے۔ بڑی مشکل سے آبادکاری ہوئی۔ تقسیم کے بعد اچھے روزگار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتاتھا۔تما م جمع پونجی خرچ ہوگئی۔ قیام پاکستان سے قبل میں سیاسی طور پر بہت سرگرم رہا تھا۔ اس وقت اخبارات پڑھنا، خبریں سنانا میرا مشغلہ تھا۔ لہٰذا میں نے روز گار  کے لیے اسی فیلڈ کو چنا۔ پاکستان آنے سے قبل بھی میں اخبارات میں آرٹیکل لکھتاتھا۔ یہاں آکر بھی میں نے اسی سلسلے کو جاری رکھا اور صحافت کے میدان میں قسمت آزمائی کی۔ خوش قسمتی سے کامیاب رہا۔ آزادی کے بعد لاہور ، ملتان اور فیصل آباد کے متعدد اخبارات میں کام کیا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ 
سوال : آپ کی زندگی کا سب سے اہم یادگار واقعہ کون سا ہے؟
جواب: میری زندگی میں بہت سے واقعات میرے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سب سے پہلے تو 23 مارچ1940ء کا اجلاس جس میں، میںنے شرکت کی۔ وہاں قائد اعظم کو براہ راست سنا۔ پھر 3 جون 1947ء کو ریڈیو انڈیا سے قائد اعظم کا خطاب جس میں انہوں نے پاکستان بننے کی خوشخبری سنائی اور آخر میں پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگایا۔ اس کے علاوہ ہجرت کے سنگین لمحات میں کیسے بھول سکتا ہوں۔ 
سوال :آپ نے اب تک کتنی اور کون سی کتابیں لکھیں اور موجودہ مصروفیات کیا ہیں ؟
جواب: میری پہلی کتاب، اردو میں ''ہندوستان کا اصل چہرہ'' 2010ء میں شائع ہوئی جس پر محترم الطاف حسن قریشی نے بڑا جامع تبصرہ کیا ۔ اس کے بعد انگریزی میں The Real Face of India بھی 2010ء میں شائع ہوئی۔  اس کے علاوہ شیخ عبدالقادر مرحوم کی علامہ اقبال  بارے کتاب'' دی گریٹ پوئٹ آف اسلام'' میں بھی میرا ایک چیپٹر شامل ہے۔ یہ کتاب شیخ عبدالقادر نے اس وقت لکھی جب اقبالگورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کے طالب علم تھے۔ اس کے علاوہ یہ آرٹیکل بزم اقبال کے رسالے میں بھی موجود ہے۔ 2021ء میں میری کتاب ''حیات اقبال'' شائع ہوئی۔ 2022ء میں میری ایک اور کتاب'' تحریک پاکستان، چند یادیں، کچھ ملاقاتیں'' کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان، اسلام، امت مسلمہ، کشمیر اور فلسطین جیسے موضوعات پر میرے سیکڑوں آرٹیکل اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ 
سوال: نوجوانو ں کوکیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: تحریک پاکستان میں نوجوانوں کا بہت اہم کردار تھا۔ قائد اعظم نے متعد د بار نوجوانوں کو مخاطب کیا۔ وہ نوجوانوں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام اور قائد  کے فرمودات کے مطابق پاکستان کی خدمت کریں۔ سب سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کریں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کو بحال ہونا چاہیے کہ وہ جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ کل کو سنوارنے کے لیے آج کو بہتر بنانا ہے۔ کھیل کا میدان ہو یا صحافت کا شعبہ، سیاست ہو یا علمی معرکے، فنون لطیفہ کا میدان ہویا دیگر شعبے سب میں نوجوانوں کی شمولیت ضروری ہے۔نوجوانوں کوہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے ہیں یہی وطن عزیز کی ترقی کا راز بھی ہے۔ 
سوال :قیام پاکستان کے پچھتربرس مکمل ہونے پر کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب:ہم قومی زندگی کے 75 سال مکمل کر چکے ہیں۔ ہمیں یہ دن ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے وطن کے قیام کی صورت میں رنگ لائی۔ قیام پاکستان کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا آزاد وطن حاصل کرنا تھا جہاں مکمل طورپر اسلامی معاشر ہ ہو۔ مسلمان اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ آج ہمیں اپنا حساب کرنا چاہیے کہ بطور قوم ہماری کارکردگی کیسی رہی۔ آگے کا سفر اسی صورت ممکن ہوگا جب ماضی کے تجربات سے سیکھا جائے گا۔ز ندہ قومیں اپنے قومی دن پورے فخر سے مناتی ہیں۔پاکستان کے قیام، جمہوریت کے استحکام، اظہار کی آزادی، انسانی حقوق کے تحفظ اور معیار تعلیم بڑھانے کے لیے پاکستانیوں نے جو جدو جہد کی ہے، قربانیاں دی ہیں، اس موقع پر ان کو سامنے لایا جائے۔ ہر شعبے میں حقیقی ہیروز موجود رہے ہیں۔تحقیق کے ذریعے انہیں متعارف کروایا جائے۔ ||


[email protected]


 

یہ تحریر 62مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP