شعر و ادب

''جب''


جب شب کے شکستہ زینوں سے مہتاب اُبھرنے لگتا ہے
جب غم کے سرد اَلائو میں اُمیدیں بجھنے لگتی ہیں
جب دل کے شوریدہ سمندر میں آوازیں مرنے لگتی ہیں
جب موسم ہاتھ نہیں آتے، جب تتلی بات نہیں کرتی
جب زندہ رہنا اِک بے معنی کام دکھائی دیتا ہے
جب آنے والا ہر لمحہ ، دُشنام دکھائی دیتا ہے
جب یاد کے گہرے سنّاٹے میں چہرے گم ہو جاتے ہیں
جب درد سے بوجھل آنکھوں میں گرداب سے پڑنے لگتے ہیں
جب شمعیں گل ہو جاتی ہیں، جب خواب بکھرنے لگتے ہیں
اُس وقت اگر تم آجائو !
(امجد اسلام امجد)

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP