گوشہ عساکر

'میں ایک حوالدار ہوں'

 ٹرین اپنی مخصوص رفتار اور آواز کے ساتھ کراچی سے لاہور کی جانب فراٹے بھرتی محوِ سفر تھی۔ درخت اپنے سائے سمیت مخالف سمت میں بھاگتے نظر آ رہے تھے۔ ہچکولے کھاتی، گرد اڑاتی ٹرین ایک لمحے کے لیے سانس لیتی اور دوسرے ہی لمحے ہارن بجا کر رفتار بڑھا دیتی۔ یہ حیدرآباد کے بعد اندرونِ سندھ کا کوئی ویران علاقہ تھا جہاں قرب و جوار میں کوئی ایسااسٹیشن نہیں تھا جہاں اس ٹرین کو رکنا ہو، لہٰذا ٹرین اپنی مست خرامی میں آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ نشستوں پر بیٹے مسافر اونگھ رہے تھے، کچھ ماضی اور حال کے خیالوں میں کھوئے کسی گہری سوچ میں گم تھے، کچھ سفر کی تھکان اور بوریت دور کرنے کی غرض سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کارگل کامحاذ گرم اور پاک بھارت سرحدوں پر کشیدگی عروج پر تھی۔ اسی موضوع کولے کر ٹرین کے مسافر بھی چہ مگوئیوں میں مصروف تھے۔
اچانک ایک مسافر وہاں پر آیا اورلوگوں سے مخاطب ہو کربولا کہ ٹوائلٹ کے قریب ایک بیمار شخص پڑا ہے جسے پانی کی اشد ضرورت ہے، وہ شدید نقاہت میں ہے اور پانی کے چند گھونٹ کے لیے دہائی دے رہا ہے۔ براہ مہربانی پانی کا ایک گلاس دے دیں تا کہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ سب لوگوں نے اس پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی اور دوبارہ بحث میں مصروف ہو گئے ۔ کچھ لوگوں نے اسے بھکاری اور کچھ نے نوسر باز گردانتے ہوئے نظر انداز کر دیا ۔ کچھ اسے دیکھ کر زیرِ لب مسکرا دیے، وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ اس شعبدہ باز گروہ کا ہراول دستہ ہے جو تھوڑی دیربعد کسی طرف سے نمودار ہو گا اور مسافروں کی جیب سے پیسے نکلوا کر رفو چکر ہو جائے گا۔ وہ کسی بھکاری یانشئی کے استعمال کے بعدگلاس کے گندا ہو جانے کے خوف سے بھی اسے نظر انداز کر رہے تھے۔ کوئی بھی شخص پانی دینے کے لیے آمادہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس نے اصرار کیا کہ مریضجاں بلب ہے اور پانی کے چند گھونٹ اس کی جان بچا سکتے ہیں ۔ایک شخص جو اِن سب میں کچھ نرم دل معلوم ہوتا تھا اس نے کولر کے ڈھکن میں پانی ڈال کر سائل کو تھما دیا۔ میں دور بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ جب وہ شخص پانی لے کر چلا گیا تو میں بھی فطری تجسس کے تحت اس کے پیچھے چل دیا ۔ 
ٹرین کے فرش پر ٹوائلٹ سے ٹیک لگائے ایک شخص بے سدھ پڑاتھا اس کی عمر لگ بھگ 50 سال رہی ہو گی۔ تراشے ہوئے سفید بالوں کو ہوا کے تیز جھونکوں نے بے ترتیب کر دیا تھا۔ شیو تازہ بنائی ہوئی تھی، شلوار قمیض میں ملبوس یہ شخص بے چینی سے پانی کا منتظر تھا، اس کی آنکھیں گدلائے ہوئے بنٹوں کی طرح تھیں جن میں پانی کی شدید خواہش مچل رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا،پانی کے چند گھونٹ پینے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ مددگار پانی پلانے کے بعد واپس جا چکا تھا، مریض زیرِ لب بڑبڑانے کی کوشش کرنے لگا، مگر ٹرین کی رفتاراور ہوا کے تیز جھونکوں کے شور کی وجہ سے میں کچھ سننے سے قاصر تھا، ایک لفظ جو میرے کانوں سے ٹکرایا، وہ تھا ''میں حوالدار ہوں''میں سرک کر اس کے اور قریب ہوگیا ۔ اس بار وہ کچھ اونچی آواز میں بولاگرائیں میں کوئی نشئی ، فقیر یا لٹیرا نہیں ہوں، میں پاکستان آرمی کا ایک ریٹائرڈحوالدر ہوں اور شدید بخار کی وجہ سے پانی کے چند گھونٹ مانگنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اپنی قوم کی خدمت پر صرف کیے ہیں۔ میں نے ہمیشہ اپنی قوم کو اپنا لہو پلایا ہے اور پلاتا رہوں گا،میں اندھیری راتوں میں سرحدپار سے آنے والی اندھی گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنا فرض ادا کرتا رہا ہوں ،تپتے صحرائوں ،سنگلاخ چٹانوں ،گھنے جنگلوں اور برف پوش پہاڑوں پر اپنے ملک اور قوم کی خاطر مستعد کھڑا رہا ہوں ۔میں نے زلزلے ،سیلاب ،دہشت گردی ، تخریب کاری اور بم دھماکوں کے دوران اپنا سکون غارت کر کے قوم کی آواز پر لبیک کہا ہے اور ہمیشہ فخر محسوس کیا ہے کہ میری قوم میری پشت پر کھڑی ہے مگر آج میں دو گھنٹوں سے پانی پانی پکار رہا ہوں کسی نے میر ی فریاد نہیں سنی، ہر کوئی مجھے فقیر یا نشئی سمجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔  اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پاک آرمی سے اپنی وابستگی کا دستاویزی ثبوت میرے سامنے لہرا دیا۔ میں نے فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کراپنا ہاتھ آگے بڑھا یا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کا بدن بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔ میں نے اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی مگر نقاہت کے سبب اس کا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا۔ میں نے کسی مسافر سے ایک پیراسٹامول کی گولی مانگ کر حوالدار صاحب کو کھلا دی۔ پینے کے لیے مزید پانی دیا اور اپنی پانی کی بوتل لا کر اس کے سرہانے رکھ دی، پھر میں نے اس کے بدن کو دبانا شروع کیا۔ اس کا جسم گرم اور سانسیں بے ترتیب تھیں۔ تقریباً دس منٹ کی کوشش کے بعد میری یہ ترکیب رنگ لائی اس کی طبیعت سنبھلنا شروع ہوگئی   اور حوالدار پہلے سے بہتر محسوس کرنے لگا۔ وہ میرے اس رویے سے متاثر ہوا، محبت بھری نگاہ سے میری طرف دیکھا اور پوچھا کون ہو؟ میں نے کہا : پاکستان بحریہ کا ملازم ہوں، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، بولا:میں کسی فوجی کا ہی منتظر تھا، میں پاکستان آرمی کا ریٹائرڈ حوالدار ہوں ملکی حالات کی خرابی کے باعث یونٹ نے مجھے ری کال کر لیا ہے۔ کارگل میں حالات ٹھیک نہیں ہیں، ریٹائرڈ فوجی ریزرو دستے میں ہوتے ہیں، انہیں کسی بھی وقت قوم کی آواز اور ضرورت پڑنے پر بلایا جا سکتا ہے۔ میرا تعلق 13 سندھ سے ہے، جو اب تک سیالکوٹ سیکٹر پر جاچکی ہوگی۔ پاکستان آرمی نے مجھے خط لکھ کر بلایا ہے میں پچھلے کئی دنوں سے بخار میں مبتلا ہوں مگرملکی حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر گھر پر رک نہیں پایا، گھر والوں نے بہت منع کیا کہ طبیعت بہتر ہو تو چلے جانا مگر ضمیر نہیں مانا کہ تمام عمر جس قوم اورادارے کا کھایا ہے وقت پڑنے پر اپنے آرام کی خاطراس قوم کو بے آرام کیسے چھوڑ سکتا ہوںچنانچہ بیماری کی حالت میں ہی رختِ سفر باندھ لیا۔ ایمرجنسی میں سیٹ بھی نہیں مل سکی۔ ملک و ملت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔ میں گھر کا سکون ترک کر کے اپنی قوم اور وطن کے دفاع کی خاطر ڈیوٹی پر جا رہا ہوں۔ بخار کی شدت اور گولی کے زیرِ اثر اس کی آواز خمار میں ڈوب رہی تھی ۔
وہ مڈل پاس تھا مگررندھی ہوئی آواز اور لہجے کے ساتھ کسی منجھے ہوئے جہاندیدہ شخص کی طرح اپنا موقف بیان کرتے ہوئے حالات پر تبصرہ کر رہا تھا اور میں تیز رفتار ٹرین کے شور میں اس کے بکھرے لفظوں کو سمیٹتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اس نے کس عظیم ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہے، کس استاد سے علم کی پیاس بجھائی ہے اور کس محب وطن ادارے سے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی ہے کہ اس کے کردار ،عزم اور ارادوںکی پختگی اسے وطن سے محبت پر بے کل کیے دیتی ہے۔ یقینا پاکستان کی مسلح افواج کا ہر فرد اسی عزم اور ارادے کے ساتھ استحکامِ پاکستان کی خاطر اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے ۔یہی وہ جذبہ ہے جو محدود وسائل کے باوجودپاکستا ن کی مسلح افواج کو دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس عسکری طاقتوں کے سامنے اپنے نظریے اور مؤقف پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔بھاگتے درختوں کے سائے مزید لمبے اور گہرے ہوتے جارہے تھے، برقی روشنیاں جل اٹھی تھیں، سورج اپنا سفر ختم کر کے مغرب کی آغوش میں چھپ گیا تھا، مضبوط چٹان کے ارادوں والے سخت جان حوالدار کو بھی اونگھ نے آ لیا تھا۔ میں بھی مسلح افواج اور استحکامِ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کرتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ||


  [email protected]

یہ تحریر 91مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP