متفرقات

'میڈ اِن پاکستان'

مقدونیا کے دارالحکومت اسکوپیا  سے ملحقہ سرحد پرواقع  25سے30   ہزار کی آبادی پر مشتمل کوسوو کاایک شہر قاچانقKaçanik   واقع ہے۔ 24 اپریل 2006  کی ایک رات میں اپنی جرمن ساتھی  Leifheit Gunnar کے ہمراہ کوسوو بارڈر پولیس کی رہنمائی کے لیے شہرکی ایک سرحدی چوکی پر موجود تھا۔ قاچانق جو کبھی البانوی راہزنوں کی کمین گاہ تھا، 1420 میں عثمانی اور البانوی فوجوں کے مابین خونریز معرکے کے بعد سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا تھا ۔ سال 2006  کے ابتدائی دو مہینے ، میں اقوام متحدہ کی امن فوج  میں شامل اسی شہر میں خدمات سرانجام دیتا رہا۔آج ہماری مسلسل ڈیوٹی کی چھٹی رات تھی ۔ہمارا ڈیوٹی پوائنٹ سرحدی چوکی سے ایک آدھ کلومیٹر آگے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ سڑک کے ابتدائی کنارے پر واقع تھا۔شدید برف باری نے اس گھاٹی نما شہر کو سفید چادر اوڑھا رکھی تھی۔ سڑک کے اس ابتدائی کنارے  کے  نیچے، گھاٹی کے بیچوں بیچ  بل کھاتے شور مچاتے ایک چھوٹے سے دریا  Lepenac کے کنارے واقع عثمانی وزیر اعظم  سنان پاشا کی 1594میں تعمیر کی گئی مسجد کا ایک مینارمجھے اپنے  ڈیوٹی کے مقام سے  صاف دکھائی دیتا تھا۔رات کی ڈیوٹی  نسبتاً مشکل سمجھی جاتی تھی کہ ان اوقات میں سکوپیا سے نہ ہونے کے برابر گاڑیاں کوسوو میں داخل ہوا کرتی تھیں اور مصروفیت نہ ہونے کی وجہ سے صبح چھ بجے تک گاڑی میں بیٹھے رہنا انتہائی کٹھن محسوس ہوا کرتا تھا۔ رات2بجے تک یا توسڑک کے دوسرے کنارے پر موجود بار پر قاچانق کے نوجوان لڑکے لڑکیاں البانوی موسیقی پر رقص کرتے دکھائی دیتے یا اسی سے ملحقہ ایک کافی شاپ پر کچھ ٹولیاں سگریٹ اور کافی کے مزے لیتے ترکش ٹی وی ڈراموں کو دیکھا کرتے۔ لیکن رات دو بجے کے بعد بار اور کافی شاپ کی رونق بالکل ہی ختم ہو جاتی ۔ گاڑی کے مسلسل چلتے ہیٹر میں بیٹھنا دشوارہو جاتا تو تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے شدید سردی میں گاڑی سے باہر نکلنا پڑتا۔  پاس ہی گاڑیوں میں موجود کوسوو پولیس کے افسران  ہمیں باہر نکلتا دیکھ کرخود بھی باہر نکل آتے اور گپ شپ شروع ہوجاتی۔ کبھی کبھی لسانی ترجمان ((Interpreterکی عدم دستیابی کی بنا پر ہماری ان البانوی افسران سے گفتگو بڑی مضحکہ خیز ہوتی کہ انہیں انگریزی زبان کی کوئی خا ص شد بد نہ تھی اور ہم زبانِ یار سے نابلد۔ زیادہ تر اشاروں کی زبان میں ہنستے قہقہے لگاتے خاصا وقت گزر جاتا۔


 کیا میں دیکھ سکتی ہوں۔۔جرمن پولیس آفیسر بولی
جی یقینا 
یہ کہہ کر ایک افسر نے دستانہ اتار کر جرمن آفیسر کو دے دیا۔۔ جسے پہنتے ہی وہ پھرسے ان کی تعریف کے پل باندھنے لگی۔۔ یار کیا نرم اور بہترین چمڑا استعمال کیا گیا ہے اور سلائی بھی کس نفاست سے کی گئی ہے۔ جرمن آفیسر کی تعریفیں سن کرمجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے آفیسر سے دستانے کا دوسرا ہاتھ اتار کر مجھے دکھانے کا اشارہ کیا۔دستانے اتارتے وقت اس کے اندرسے ایک سفید ٹیگ باہر نکل آیا جس پر ''میڈ۔ ان۔ پاکستان ''کے الفاظ دیکھ کرمجھے حیرت اور ایک انجانی خوشی کا احساس ہونے لگا ۔ ایسی وارفتگی چھائی کہ فخرو انبساط سے دیر تلک اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔


آج بھی ہمارے ساتھ لسانی ترجمان موجود نہ تھا ۔ آج کی گفتگو میں جرمن کولیگ کی توجہ کا مرکز و محور کوسوو پولیس افسران کے نئے دستانے تھے جنہیں دیکھتے ہی وہ بے اختیار پکار اٹھی تھی کہ واہ کیا کمال کے دستانے تم لوگوں نے پہن رکھے ہیں۔ کہاں سے لیے ہیں ۔کتنے کے ہوں گے۔۔یار ایسے اعلیٰ دستانے اول تو جرمنی میں ملیں گے ہی نہیں اور کہیں مل بھی گئے تو بہت مہنگے ہوں گے۔ کوسوو پولیس کے افسران ان دستانوں کے بارے میں صرف یہی بتا پائے کہ یہ انہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دیے گئے ہیں جو انہوں نے یونیفارم کے دیگر آرٹیکلز کی طرح پوری دنیا کی بہتر ین اشیا ء میں سے منتخب کر کے دیے گئے ہیں۔                                                                            کیا میں دیکھ سکتی ہوں۔۔جرمن پولیس آفیسر بولی
جی یقینا 
یہ کہہ کر ایک افسر نے دستانہ اتار کر جرمن آفیسر کو دے دیا۔۔ جسے پہنتے ہی وہ پھرسے ان کی تعریف کے پل باندھنے لگی۔۔ یار کیا نرم اور بہترین چمڑا استعمال کیا گیا ہے اور سلائی بھی کس نفاست سے کی گئی ہے۔ جرمن آفیسر کی تعریفیں سن کرمجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے آفیسر سے دستانے کا دوسرا ہاتھ اتار کر مجھے دکھانے کا اشارہ کیا۔دستانے اتارتے وقت اس کے اندرسے ایک سفید ٹیگ باہر نکل آیا جس پر ''میڈ۔ ان۔ پاکستان ''کے الفاظ دیکھ کرمجھے حیرت اور ایک انجانی خوشی کا احساس ہونے لگا ۔ ایسی وارفتگی چھائی کہ فخرو انبساط سے دیر تلک اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔پھربے خودی اور سرشاری کے عالم میں سرزمین پاک کی چمڑے ، کھیلوں اور طبی آلات کی صنعتوں کے کمال فن پر بولنا شروع کیا اور مسلسل بولتا ہی چلا گیا۔  میرے چشم تصور میں چند لمحوں کے لیے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے غریب ہنرمندوں کی مہارت اورایماندار ہاتھ تھے جو اپنے خون جگر سے معجزہ ہائے فن کی تخلیق میں مصروف تھے۔  آدھی رات بیت چکی تھی ۔ کافی شاپ میں محض اس کا مالک ہی بیٹھا تھا جسے معلوم تھا کہ ہم  اسی وقت اس کے پاس کافی پینے آیا کرتے تھے جب اس کے  زیادہ ترمقامی گاہک جا چکے ہوتے ۔ سردی اور نیند کا توڑ ترکش کافی سے بہتر تو تھا ہی نہیں ۔ہم چاروں برف سے ڈھکی سڑک  پر چلتے کافی شاپ میں داخل ہوئے۔ کافی شاپ  کے  مالک نے ایک مسکراہٹ سے ہمارا استقبال کیا اورگرم ریت میں رکھی تانبے کی چھوٹی چھوٹی کیف نما کیتلیوں میں کافی تیار کرنے لگا۔ہم چاروں نرم وگداز صوفوں پر آمنے سامنے بیٹھے گپ شپ میں مصروف ہوگئے ۔میری پشت کی جانب لگے ٹی وی پر البانوی زبان میں نیوز بلیٹن چل رہا تھا جسے کوسوو پولیس افسران بڑے انہماک سے سن رہے تھے کہ اچانک ایک افسر نے میری توجہ ٹی وی پر چلنے والی ایک خبر کی طرف  مبذول کروائی جو اسی سرحد کے قریب مارے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے بارے میں تھی۔ A1 TV News  کے البانوی نیوز بلیٹن میں مجھے صرف لفظ پاکستان ہی کی سمجھ آرہی تھی۔ نیوز کے دوران چلنے والی فوٹیج میں جدید ہتھیار، ہینڈگرینیڈز پاکستانی نوجوانوں کی تصاویر، آیت الکرسی اور ناد علی ، انتہاپسندانہ مواد کے طور پر دکھایا جا رہا تھا۔گجرات کے یہ سات نوجوان دراصل بے گناہ معصوم پاکستانی تھے جو  2002  میں خوبصورت مستقبل کے خواب دیکھتے  بلغاریہ کی سرحد سے گرفتار ہوئے تھے اور جنہیں وہیں سے مقدونیہ لایا گیا تھا اور کچھ عرصہ دارالحکومت اسکوپیا میں ایک فلیٹ میں قید رکھا گیا۔
1991 میں یوگوسلاویہ سے علیحدگی کے بعد سے مقدونیہ مغربی کیمپ میں قبولیت اور امریکی سیاسی اور اقتصادی پشت پناہی کے لیے بے چین  تھا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں حصہ دار بننے کے خواہشمند اس ملک نے ان ساتوںبدنصیب  نوجوانوں کو  امریکی سفارت خانے پر حملے کے منصوبہ ساز قرار دے کر ،  دارالحکومت اسکوپیا کے شمال میں لیوبوٹن (Ljuboten) کے قریب صبح چار بجے گولیوں سے بھون دیاتھا۔''رستانسکی لوزیا'' (Rastanski Lozja)  میں رچائے گئے اس جعلی مقابلے کے ذمہ داران جنرل گوران اسٹوئیکوف (Goran Stojkov) ،بوبن اتکووسکی (Boban Utkovski)  اور سینیئر پولیس آفیسر الیگزنڈر کیوٹکووسکی  (Aleksandar Cvetkovski)کو آج سکوپیا کی  عدالت نے بے گناہ قراردے  دیا تھا(2012  میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں اس مقابلے کو جعلی قرار دیا )۔عدالت میں جمع ہونے والے لوگوں کا جوش و خروش اور نعرے بازی  کے باعث جج اپنا فیصلہ پڑھ نہیں پا رہا تھا جبکہ مطمئن اور بے فکر دکھائی دیتا متکبر جنرل گوران  اسٹوئیکوف تماشائیوں کو ہاتھ کے اشارے سے پرسکون رہنے کا حکم  دیتے ہوئے واضح نظر آ رہا تھا ۔۔۔ چند لمحے پہلے کی وہ انجانی خوشی ، وارفتگی،  فخرو انبساط،  بے خودی اور سرشاری کا عالم سب ہوا ہو چکا تھا۔ اپنے سامنے بیٹھے غیر ملکی پولیس افسران کے چہروںکی طنزیہ مسکراہٹ گویا مجھے کاٹ کھائے جا رہی تھی۔کافی شاپ کے درودیوار مجھ پر قہقہے لگا رہے تھے۔  تاریک راہوں کے ان حرماں نصیبوں کو موت کے اس سفر پر دھکیلنے والے کون تھے۔یقینا وہ انسانی سمگلر جنہیں اس ملک کی عزت  اور ناموس سے زیادہ ڈالرز اور یورو عزیز تھے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ جوغربت و افلاس کی بے رحم چکی میں پستے، اپنے گھر،زمینیں،بہنوں کے جہیز اور ماؤں کے زیور بیچ کر خوبصورت مستقبل کے سہانے خواب  دیکھتے ،  جان، مال ،آن، آبرو کو داؤ پر لگاتے، آنسوؤں اور خون کی لکیریں کھینچنے کشور حسین شاد باد کے بجائے کشورحسین خیرآباد پکارتے نامعلوم اور اجنبی سرزمینوں کا رخ کرتے  ا یسے پڑھے لکھے نوجوانوں کا اصل مجرم کون ہے، وہ خانہ برباد نظام  یا اپاہج سماج کہ جس کی کھوکھ میں کوئی بیج پھلتا ہے نہ کوئی پھول کھلتا ہے  ۔ ہم  سب گناہ گار تھے
ہم گناہ گار ہیں
اے زمینِ وطن 
ہم گناہ گار ہیں                             
ہم تیرے دکھ سمندر سے غافل رہے                                                                                                                                                                
تیری عزت زمانے کے بازار میں 
دل جلاتی ہوئی بولیوں پہ بکی
 ہم نے کانوں میں سیسہ اتارا نہیں
حشر آور دنوں میں جو سوئے رہے
ہم وہ بیدار ہیں
 اے زمینِ وطن 
 ہم گناہ گار ہیں


 [email protected]                    

یہ تحریر 110مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP