گوشہ عساکر

'نشانِ حیدر'

آج جو کتاب میرے ہاتھ میں ہے اس کا نام ہے 'نشانِ حیدر' جس کے مصنف کا نام حسن علی آگریا ہے۔ کتاب کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ ایک بہترین کتاب ہے جس میں مصنف نے شہید کی زندگی اور شہادت کو بہت خوبصورت انداز میں تحریر کیا ہے۔بلاشبہ کتاب کے ذریعے تمام ایسے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیاگیا ہے جنہوں نے دفاعِ وطن کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اُنہیں اس بہادری کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے 'نشانِ حیدر' کے اعزازات سے نوازا ۔



 موجودہ حالات میں یہ کتاب 'نشانِ حیدر' وقت کی اہم ضرورت تھی۔ جس حب الوطنی کے جذبے اور محنت سے یہ کتاب لکھی گئی ہے بحیثیت قوم ہم مصنف کے احسان مند رہیں گے۔ مصنف کا پاک افواج کے لیے یہ نذرانہ ٔ عقیدت  یقینا شہداء پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قابلِ ستائش کاوش ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو شہداء و غازیوں کی قربانیوں سے آگاہی دینے کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ جس کا ایک ایک لفظ ملک و قوم کے لیے جان و مال کی قربانی پر اُبھارتا ہے۔ اس کتاب میں شہداء  وطن کی حقیقی زندگی کے حالات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں پاک افواج کے ڈسپلن اور جذبہ جہاد کے بارے میں، جو کہ دنیا کی اور کسی افواج میں نہیں پایا جاتا، کو اس خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے  کہ کتاب کے مطالعہ کا شوق مزید بڑھ جاتا ہے۔ کتاب میں شہید کی زندگی اور شہادت کو بہت ہی خوبصورت انداز میں تحریر کیا گیاہے۔ 
 آج ہمارے پیارے وطن کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں، ہمیں جانے انجانے میں ان کا حصہ بننے کے بجائے شعور کا مظاہرہ کرنا ہے اور بطورِ قوم مل کر ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے آج ملک و قوم کو جس ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں افواجِ پاکستان کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور نئی نسل کو جو کہ سکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہے ، ان کی آگاہی کے لیے یہ ارضِ وطن، جو قربانیاں دے کر حاصل کیا اور اس کی حفاظت کے لیے افواجِ پاکستان جو قربانیاں اور سب سے بڑھ کر شہادتیں پیش کررہی ہیں، اس کتاب کو مطالعہ کے لیے معاشرے کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اس کتاب کے مطالعہ سے ملک کے دفاع کے لیے افواجِ پاکستان کی خدمات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
 مصنف حسن علی آگریا بھی قابلِ صد ستائش ہیں جنہوں نے اخلاص کے ساتھ یہ کتاب تحریر کی ہے اور دعا کرتی ہوں کہ وہ مزید حقائق پر مبنی کتابیں جن سے ملک و قوم کی خدمت ہوتی ہے، اپنے قلم سے تحریر میں لاتے رہیں۔ ||


 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP