متفرقات

'کشمیر فائلز'  :  مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرپور فلم

تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی پروپیگنڈے کو کامیاب بنانے میں آرٹ خاص طور پر فلموں نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ 1935میں ایک فلم "Truimph of the Will" نازی پروپیگنڈے پر بنائی گئی جو اس وقت کے لوگوں میں بہت مقبول ہوئی اور ان کی ذہن سازی میں کافی اہم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے رائٹر کا کہنا تھا کہ یہ فلم تاریخ کے عین مطابق بنائی گئی ہے اوراس میں کچھ بھی جھوٹ نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح حال ہی میں ریلیز ہونے والی انڈین فلم ''کشمیر فائلز'' کے رائٹر و ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ اس فلم کا ہر ایک سین سچائی پر مبنی ہے اگر چہ دونوں رائٹرز مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کا فلم کو بطورپروپیگنڈا استعمال کرنے کا خیال ایک ہی ہے یعنی ہوشیاری کے ساتھ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میںلپیٹ کر پیش کرنا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ فلم  "Truimph of the Will" کے کچھ حصوں کو ہٹلر نے خود کہا کہ انہیں دوبارہ فلمایا جائے کیونکہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔


دراب فاروقی اور سماتی نے اپنے مضامین میں اس فلم کو ایک پروپیگنڈا ہی کہا ہے۔ رعنا ایوب اپنے مضمون جو کہ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوا، میں لکھتی ہیں کہ سینما ہال میں جے شری رام کے نعرے لگائے جاتے اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کی جاتی، انہوں نے لکھا کہ میں نے یہ فلم دیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے اس کو چھوڑ کر آنا پڑا کیونکہ وہاں لوگ چیخ رہے تھے کہ پاکستان چلی جائو ، وہ لکھتی ہیں کہ انڈیا میں نفرت اب عدالتوں اور تھیٹرز تک پہنچ گئی ہے۔


اسی طرح ''کشمیر فائلز'' بھی ایک پروپیگنڈا فلم ہے جس کا مقصد ہندو قوم پرستوں میں بھارت اور کشمیرمیں موجود  مسلمانوں کے خلاف نفرت کو مزید ابھارنا ہے تاکہ وہ  ان کی نسلوں تک کو مٹادیں۔یہ فلم اس مرکزی خیال کے گرد گھومتی ہے کہ تمام مسلمانوں کو اجتماعی طور پر کشمیری پنڈتوں کو جلاوطن کیے جانے پر سزا دینی چاہیے اور ان مسلمانوں پر ہر طرح کا تشدد جائز ہونا چاہیے جو کہ اسلامو فوبیا کو بھی ہوا دیتا ہے۔ 
ایک تحقیق کے مطابق بالی وڈ کی زیادہ تر فلموں میں ایک مسلمان کو ہی ایک ولن اور دہشت گرد دکھایا جاتا ہے جس کے سرپر ٹوپی ، ہاتھ میں تسبیح اور گلے میں تعویذ ہوتا ہے۔ شومئی قسمت سے اس فلم کو بھارتی عوام کی جانب سے بہت پذیرائی ملی ہے، یہاں تک کہ ایک سلجھے ہوئے پڑھے لکھے طبقے نے بھی اس فلم کی تعریف کی۔
فلم کا لکھاری نہ صرف اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس وقت4000 لوگ مارے گئے بلکہ وہ اس پر بھی اصرار کرتا ہے کہ یہ صرف نسل کشی تھی جلاوطنی نہیں۔جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر سری نگر کے مطابق1989 کے سانحے میں 89 پنڈت مرے جبکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی1635 تھے، جبکہ فلم میں اس کے بالکل برعکس دکھایاگیا ہے۔ حقیقت دیکھی جائے تو1989 سے کشمیر میں 219 ہندو مارے گئے جبکہ96 ہزار سے زائد مسلمان اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔ بھارت میں موجود ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق1990 میں 157لوگ مارے گئے جن میں سے37 ہندو اور باقی120 مسلمان تھے۔
'انڈیا ٹو ڈے ' کے ایک آرٹیکل میں جس کا عنوان تھا کہ '' سترہ سالوں میں کشمیری پنڈتوں سے زیادہ مسلمان مارے گئے'' یہ کانگریس نے ٹویٹ کی تھی جسے بعد میں ہٹا دیاگیا تھا۔ اس میں لکھا گیا تھا کہ وہ دہشت گرد تھے جنہوںنے پنڈتوں کو مارا تھا۔ ستر سال میں399(1990- 2007) پنڈت دہشت گردوں کے حملو ں میں مارے گئے جبکہ اسی دوران تقریباً15000 مسلمان بھی دہشت گردی کا شکارہوئے۔
1948 میں فرقہ ورانہ فسادات میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو قتل کیاگیا لیکن کسی پنڈت کو نہیں مارا گیا۔ پنڈت بھی کشمیری مسلمانوں کی طرح بی جے پی کا نشانہ بنے۔


بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے ہر انڈین کویہ فلم دیکھنے کا کہا ہے۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ ہندوئوں میں مسلمانوں کے خلاف جذبات مزید بھڑکیں۔ بھارتی حکومت نے بھی اس فلم کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا اور اس کے ٹکٹ بھی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس فلم دیکھنے والوں کی ویڈیوز سے بھری پڑی ہیں جن میں وہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے اور ان کے کاروبار کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ رہے ہیں اور نعرے لگارہے ہیں کہ ''دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو'' 


اس آرٹیکل میں یہ بھی بتایاگیا کہ کشمیری پنڈتوں کو آر ایس ایس اور بی جے پی نے کشمیر سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔ اس کے علاوہ ملک میں ہندوئوں اور مسلمانوں میں تفریق بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیدا کی۔
 انڈیا ٹو ڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے فاروق عبداﷲ نے کہا تھا کہ 1990 کے سانحے کی تحقیق کروائی جائے جس میں نہ صرف یہ سامنے آئے گا کہ پنڈتوں کے ساتھ کیا ہوا بلکہ سکھوں اور مسلمانوں کے بارے میں بھی حقیقت سامنے آجائے گی۔
 اس فلم میں تاریخ کو تباہ کُن انداز سے پیش کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت میں ہندوتوا کو مزید ابھارا جائے۔ ایک ماہرِ بشریات (اینتھرو پالوجسٹ) اطہر ضیاء کا کہنا ہے کہ آپ کسی زخم کو مختلف وجوہات کی بناپر کھولتے ہیں یا تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے یا پھر زخم کو مزید بڑا کرنے کے لیے اور اس فلم کامقصد زخم کو مزید بڑا کرنا ہے نہ کہ اسے ٹھیک کرنا۔
دراب فاروقی اور سماتی نے اپنے مضامین میں اس فلم کو ایک پروپیگنڈا ہی کہا ہے۔ رعنا ایوب اپنے مضمون جو کہ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوا، میں لکھتی ہیں کہ سینما ہال میں جے شری رام کے نعرے لگائے جاتے اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کی جاتی، انہوں نے لکھا کہ میں نے یہ فلم دیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے اس کو چھوڑ کر آنا پڑا کیونکہ وہاں لوگ چیخ رہے تھے کہ پاکستان چلی جائو ، وہ لکھتی ہیں کہ انڈیا میں نفرت اب عدالتوں اور تھیٹرز تک پہنچ گئی ہے۔
بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے ہر انڈین کویہ فلم دیکھنے کا کہا ہے۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ ہندوئوں میں مسلمانوں کے خلاف جذبات مزید بھڑکیں۔ بھارتی حکومت نے بھی اس فلم کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا اور اس کے ٹکٹ بھی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس فلم دیکھنے والوں کی ویڈیوز سے بھری پڑی ہیں جن میں وہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے اور ان کے کاروبار کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ رہے ہیں اور نعرے لگارہے ہیں کہ ''دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو'' 
مسلمانوں کا قتل، ان کی نسل کشی اور ان کا سماجی بائیکاٹ تو بھارت میں پہلے سے ہی جاری تھا لیکن اس فلم کے بعد اس سب میں تیزی آگئی ہے۔ ہندو جگہ جگہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ ||



 

یہ تحریر 162مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP