قومی و بین الاقوامی ایشوز

بی جے پی اور آر ایس ایس کا جارحانہ قومیت پسندی کا نظریہ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایک انتہاپسند ہندو سیاسی جماعت ہے جو آر ایس ایس (راشٹریہ سیوک سنگھ) یعنی بھارت کی بدنامِ زمانہ دہشت گرد ہندو تنظیم کی ذیلی شاخ ہے۔ چونکہ دونوں ایک ہی کھوٹے سکے کے دورخ ہیں اس لئے دونوں میں قدرِ مشترک ہی جارحانہ ہندو قومیت پسندی کا نظریہ ہے۔ نام نہاد بھارتی سیکولر چہرے پہ ان دونوں اور ان جیسی دوسری ہندو تنظیموں کے ہاتھوں آئے روز جو کالک ملی جاتی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ 

آر ایس ایس کا قیام قبل از آزادی،1925ء میں ناگپور ، مہاراشٹر ، انڈیا میں رکھا گیا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد اور منشور ہی ہندو قوم پرستی، ہندوتوا نظریہ اور تہذیب کا جارحانہ فروغ تھا۔ ابتداء ہی سے یہ تنظیم سخت متعصّبانہ اور فرقہ وارانہ سوچ پر شدت سے یقین رکھتی ہے۔ بھارت میں دنگے فسادات کرانے اور تشدد کو فروغ دینے میں یہ تنظیم سرفہرست ہے۔ اس متشدد تنظیم کے لوگوں سے اس کی اساسیات کا ادراک کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتاہے۔ لوگو(Logo) کے مطابق اس کی سوچ ہی آگ سے جنم لیتی ہے۔
"Mythoughtsbornfromfire.wordpress.com"
اسی ایک بات سے معاملات کے تانے بانے کو سمجھنے میں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ۔ یہ تنظیم بھارت کو صرف ہندوئوں کا ملک سمجھتی ہے اس لئے ہندوؤں کے علاوہ باقی ہر مذہب و ملت کے ماننے والوں پہ عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کے ہمیشہ درپے رہتی ہے۔ اگرچہ اس پر قبل از آزادی ، برطانوی حکومت کی طرف سے بھی1927ء میں ناگپور فسادات برپا کرانے کے الزامات کی وجہ سے پابندی لگائی گئی تھی اور آزادی کے بعدنہ صرف خود بھارت سرکار کی جانب سے تین بار اس پر پابندی لگائی گئی ہے بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی ہمیشہ اسے دہشت گردتنظیم کے طور پر گردانا گیا ہے۔  اور پورے بھارت میں جہاں کہیں بھی متشددانہ واقعات رونما ہوئے تو تحقیقات ہونے پر ان کے پیچھے خطرناک عزائم سے لیس اسی تنظیم کا نام سامنا آیا ہے۔ 
1948ء میں اسی تنظیم کے کارکن نتھو را م گوڑسے کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کا قتل ہوا۔ گاندھی کا قصور صرف اتنا ہی تھا کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے مرن برت رکھ کر حکومت پاکستان سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس جارحانہ عزائم رکھنے والی تنظیم سے اتنا بھی برداشت نہ ہوسکا کہ بھارتی حکومت اپنے ہی وعدے نبھا سکے۔1969ء  میں احمد آباد فسادات، 1971ء کے تلشیری فسادات اور 1979ء کے بہار کے جمشیدپور فرقہ وارانہ فسادات میں بھی اسی تنظیم کا ہاتھ تھا۔ عظیم تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے پیچھے بھی اسی تنظیم کے لوگ کارفرما تھے۔ اس تنظیم کا واحد مقصدِ حیات بھارت میں ہندوراشٹرا قائم کرنا ہے۔ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سماجی امور کے ماہر ڈاکٹر مہیپال سنگھ راٹھور کا بھی یہی خیال ہے کہ آر ایس ایس کا قیام ہندوتوا نظریات کو پروان چڑھا کر بھارت کے سیکولر تصور کو ختم کرنا اور اسے ایک ہندو ملک میں تبدیل کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس یہ دعوٰی کرتی ہے کہ وہ ایک ثقافتی تنظیم ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اس کی متشدد سیاسی شاخ ہے۔ آر ایس ایس کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ وہ ملک کی ہندو تہذیب و ثقافت کا تحفظ کررہی ہے جبکہ اس کے قیام سے لے کر تاحال اس کے نامۂ اعمال میں سیاہ کارناموں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ بھارتی  وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ اسی آر ایس ایس کا حصہ رہے ہیں اور حقیقت ِ احوال یہ ہے کہ اگرچہ وہ بی جے پی کے پرانے رکن ہیں لیکن چونکہ بی جے پی راشڑیہ سیوک سنگھ ہی کی ایک سیاسی شاخ ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت کے وزیرِ اعظم اور ان کی حکومت کے سارے وزراء فی الحقیقت آر ایس ایس ہی کے کارکن ہیں اور اسی کے نظریات کے فروغ پر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نریندر مودی آٹھ سال کی عمر سے اور امیت شاہ بھی بہت چھوٹی عمر سے اس تنظیم کے رکن بنے۔دونوں تنظیموں کے بیچ بہت مضبوط روابط موجود ہیں۔ سیاسیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ آر ایس ایس ہی کے سیوک بڑی تعداد میں بی جے پی کا حصہ بنتے ہیں۔ اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے جارحانہ قومیت پسندی کے نظریئے کے حوالے سے تاریخ کے اوراق سے کچھ حوالہ جات قارئین کے سامنے رکھ دئیے جائیں تاکہ بھارت سرکار کا مکروہ اور کالک زدہ چہرہ سب کے سامنے آجائے۔ لیکن اس سے پہلے یہ بھی بتادیناصحیح ہوگا کہ یہ بات ساری سوشل میڈیا اور تمام ریکارڈ پر موجود ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے باہمی تعلقات کے بارے میں کسی کے ذہن میں ذرہ بھر بھی کوئی شبہ تھا تو اسے خود وزیر اعظم نریندر مودی نے دور کردیا تھا جب انہوں نے اپنے کلیدی وزراء کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے سامنے پیش کیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنی اپنی وزارتوں کی کارکردگی کے بارے میں انہیں بریفنگ دیں۔بھارتی وزیر اعظم کو ایسا کرتے ہوئے ضمیر کی کوئی ہلکی سی خلش تک محسوس نہ ہوئی اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ کے سامنے دی گئی حکومتی وزراء کی بریفنگ بھارت کے کم وبیش سبھی میڈیا چینلز پر نشر کی گئی۔   
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مسلم کش پالیسیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس کی پاکستان  مخالفت بھی اظہر من الشمس ہے۔ پورا بھارت بھارتیہ جنتا پارٹی کی لگائی گئی آگ میں جل رہا ہے۔ یہ پاکستان کو اپنے سیکولر آئین کا طعنہ دیتے ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ خود پورے بھارت اور مقبوضہ وادی جموں وکشمیر میں مذہب کے نام پر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی ہیں۔ متعصبانہ قوانین کی بابت اس وقت پورا بھارت عدم برداشت اور ہندو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ 
بھارتیہ جنتا پارٹی نے برسراقتدار آتے ہی ہندو برہمنی نظریات کے دوبارہ احیاء کی خاطر پورے ہندوستان کو ہندومت میں بدلنے کی تحریک شروع کردی تھی۔ اور اس تناظر میں ہندوتوا نظریہ اور سخت گیریت کو فروغ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ریٹائرڈ فوجیوں سے ہندو انتہاپسندوں کو فوجی تربیت دلوا کر ان کی ذہن سازی کی گئی اور پورے بھارت میں منظم طور پر ہندو مسلم فسادات کروائے گئے۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد پورے بھارت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے جس میں 2000 سے زائد نہتے اورمعصوم مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ 1998 میں بی جے پی کے پہلے دور حکومت میں انتہا پسندانہ اور امتیازی پالیسیوں کے باعث ایٹمی جوہری دھماکے ، عیسائیوں پر ظلم و ستم، گجرات میں مسلمانوں کی خونریزیاں اور بھارت اسرائیل کے بڑھتے تعلقات نے جب خطروں کی گھنٹیاں بجائیں تو پاکستان کو دفاعی پالیسی اختیار کرنا پڑی۔ 
گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام آج تک تخریب کار نریندر مودی کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔2015ء میں نام نہاد جمہوری اور سیکولر ہونے کے دعویدار بھارت کے متعصب حکمرانوں کا اصلی مکروہ چہرہ اس وقت کھل کر سامنے آگیا جب ہندوستان کی 29 میں سے 24 ریاستوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ گائے ذبح کرنے پر5 سال قید50 ہزار جرمانے کی سزا بھی مقرر کردی گئی۔ حقیقت یہ تھی کہ گائے کے ذبح کرنے پر پابندی کی آڑ میں مسلمانوں کو تنگ کیا جانے لگا۔ گوشت کھانے اور فروخت کرنے کے الزام دھر کر انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بنایا جاتا۔ مسلمانوں کے لئے ہندوستان کی زمین تنگ کر دی گئی۔ معاملات کی سنگینی کا ادراک یہیں سے ہوجاتا ہے کہ امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نریندر مودی کی حکومت کے دوران بھارت میں مذہبی تقسیم میں شدت آئی ہے۔ 
دنیا اچھی طرح جان چکی ہے کہ اپنی فلموں کے ذریعے جس بھارت کے چہرے کو پورٹریٹ کیا جاتا ہے وہ جعلی ہے جبکہ اصلی چہرہ بہت بھیانک اور مکروہ ہے۔ پچھلی سات آٹھ دہائیوں سے بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و بربریت کے جو پہاڑ نہتے اور معصوم کشمیروں پر توڑے ہیں اس کا عشرِعشیر بھی نام نہاد مہذب دنیا کے کسی کونے میں ہوتا تو پوری دنیا میں تلاطم برپا ہوچکا ہوتا۔بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے ہندوتوا نظریاتی عزائم میں اس حد تک اندھے ہو چکے ہیں کہ وہ مسلمان دشمنی میں ہر قسم کی جارحیت پر ہمہ وقت تُلے رہتے ہیں۔ چاہے وہ مسلمان بھارت  کے اندر بستے ہوں یا مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میںیا چاہے وہ مسلمان ایک مملکت خداداد پاکستان کی صورت میں آباد ہوں، بھارت اور اس کی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کی حامل یہ بھارتی حکومت اور اس کی جنم بھومی رکھنے والی آر ایس ایس تنظیم، اپنی سفاکیت اور بربریت کا کوئی مظاہرہ کرنے سے قطعاً نہیں چُوکتیں۔ کیا اس امر کی جانب  زمین پر قائم عالمی طاقتوں کی توجہ مبذول کرانے کے لئے کسی سائنسی دریافت کی ضرورت ہے کہ اسی دنیا کے اندر موجود جنت نظیر مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں اس انتہا پسندانہ بھارتی حکومت نے کم وبیش ایک کروڑ زندہ انسانوں کو 5 اگست 2019ء سے مسلسل کرفیو لگا کرزندہ درگور کر دیا ہے اور ضمیرِ عالم مجال ہے کہ ٹس سے مس ہوا ہو۔ کاروبارِ حیات مکمل طور پر مفلوج ہے۔ مردو خواتین، بچے، بوڑھے، بیمار اور ضعیف غرض تمام کے تمام زندہ انسان پابندِ سلاسل ہیں۔ کوئی پرسان ِ حال نہیں۔ ان کے تمام انسانی حقوق غصب کر لئے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی ہے، انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ پوری مقبوضہ وادی میں نہ کوئی جا سکتا ہے نہ آ سکتا ہے۔ ستم زدگان کے دم تحریر کیا حالات و واقعات ہیں کوئی بھی درد مند دل اس کا بڑی آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتا ہے وگرنہ جارحیت کے عزائم سے لیس بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور ہندو انتہاپسندانہ تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ اور اس کی حامی تنظیمیں تو اپنے مکروہ منصوبوں کی کامیابی پر شیطانی جشن منا رہی ہوں گی۔ معلوم تاریخِ عالم کی کسی کتاب میں کہیں نہیں پڑھا گیا ہوگا کہ اس قدر سفاکی و درندگی کبھی بھی کسی پوری قوم کے ایک کروڑ زندہ  لوگوں پر کسی بھی ظالم سے ظالم طاقت نے کبھی روا رکھی ہو جیسے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے باہمی گٹھ جوڑ کے ہاتھوں مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کے بے گناہ کشمیری بھگت رہے ہیں۔ 
تاہم اقوام عالم کے پاس اب بھی وقت ہے کہ عالمی برادری اپنے ضمیر کو جگائے اور پورے بھارت میں بالعموم اور پوری مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں بالخصوص روا رکھے جانے والے انسانیت سوز سلوک پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس والے بھارت پر بھرپور دبائو ڈالے ۔ ان دونوں انتہا پسند تنظیموں پر عالمی پابندی لگائی جائے تاکہ جنوبی ایشیا میں انتہا پسندی کو لگام دی جا سکے۔ عالمی برادری اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں پربھارتی ہندوانتہا پسندوں کے حملے بندہوں۔ ذات پات کے نیچ ، گٹھیا اور بدبودار نظام کے اندر معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کے لئے جینے کا کچھ سامان کیا جائے۔ ہندوتوا نظریئے کے جارح پرچارکوں کے خلاف چارج شیٹ پیش کی جائے اور نسل و مذہب کی متعصبانہ تفریق ختم کرائی جائے۔ اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بے پناہ صعوبتیں سہنے والے مقبوضہ وادیٔ جموں و کشمیر کے بے گناہ نہتے اور معصوم کشمیری مسلمانوں کو ان ظالم ہندو درندوں سے نجات دلائی جائے۔ انہیں ان کا حق خود ارادیت دلانے کے لئے پوری سنجیدگی کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل در آمد کرایا جائے ورنہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کے ذات پات کے نیچ نظام پر یقین رکھنے والے تنگ دل و تنگ نظر ننگِ انسانیت جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کی بربادی ہو جائے گی اور پورا خطہ ایک ناقابل بیان ہولناکی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ اللہ کرے وہ دن کبھی نہ آئے اور سارے معاملات بحسن و خوبی طے پا سکیں، آمین۔||


مضمون نگارمختلف قومی وملی موضوعات پر لکھتے ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 391مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP