یوم آزادی

ہم سب کا پاکستان

میرا  نام پاکستان  میرا کام پاکستان
میرا  نام پاکستان  میرا کام پاکستان
تو آغاز میرا   تو انجام میرا
اک رہنا    یہی کہنا پاکستان
ہم سب کا   ہم سب کا 
ہم سب کا پاکستان  ہم سب کا پاکستان
 واہگہ بارڈر کی فضاؤں میں اِس ملی نغمے کی گونج کی حرارت ہر اُس شخص کے خون کو گرما دیتی ہے جو پاکستان کی سر زمین سے پیار کرتا ہے۔ اِس نغمے کے بول اور الفاظ کی ادائیگی ہی اتنی پُرجوش ہے کہ سننے والے کے اندر کی کیفیت کا ولولہ آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں سے بہہ نکلتاہے۔ اِس نغمے کے بعد     پاکستان  زندہ  باد  کے نعروں کی گونج وہاں اندرونِ  اور بیرونِ ممالک سے آئے پاکستانیوں کی  پاکستان سے محبت اور خلوص کا مظاہرہ قابلِ دید ہوتا ہے۔  پاکستان سے محبت کے اِس عملی مظاہرے پر واہگہ بارڈر کی حدودمیں کوئی بھی پنجابی ، سندھی، پٹھان، بلوچی ، کشمیری یا بلتی نہیں ہوتا بلکہ وہاں صرف پاکستان ہوتا ہے جس کو غیر ملکی دیکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ جو جوش و خروش ہم پاکستانیوں میں دیکھتے  ہیںوہ جوش دنیا بھر کیا بھارتیوں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یومِ آزادی ہو یا یومِ دفاع ِ پاکستان، ہر قومی دن پر پاکستانیوںکا جذبہ حبِ الوطنی کا جنون سب کے دلِ و دماغ پر حاوی ہوتا ہے۔14اگست پر کراچی سے لے کر خیبر تک سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آتی ہے۔
 پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان ہماری پہچان پاکستان پر جان بھی قربان     
 یہ وہ الفاظ ہیں جو ہر پاکستانی کی زبان پر عام ہیں۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کا وہ تحفہ ہے جس کا اگر جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں اِس جیسی نعمت کسی قوم کے حصے میں نہیں آئی ہو گی جو برصغیر کے مسلمانوں کو 14اگست 1947 ، 27رمضان المبارک 1366 ہجری میں شب ِقدرکو نصیب ہوئی۔ پاکستان ہمیں پلیٹ میں سجا کر نہیںدیا گیا تھا بلکہ طویل جدوجہد کے بعد ہمیںیہ ملک ملاہے ۔ پاکستان ایک ملک کی سرزمین کا نام ہی نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے جس میں اسلامی تشخص کی بنیاد اور اُس بنیاد پر اسلام کے قلعے کی عمارت کی تعمیر ہوئی۔ جس کے پیچھے بہت سی دعائیں، جذبے، خلوص اور محبتیں چھپی ہوئی ہیں۔شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو گا جس کے لئے دن کی ہر نمازکے بعد کی دعا اورہر عبادت کے بعد کی دعا میں اِس کی سلامتی کی دعا نہ مانگی جاتی ہو۔ بہت سی ماؤں کے بیٹے، بہنوںکے بھائی ، عورتوں کے سہاگ اور بہت سے بچوں کے سر کے سایے اِس سر زمین پر قربان ہوئے جن کے خون سے اِس سر زمین کی آبیاری ہوئی ہے۔
پاکستان کی جعفرافیائی حیثیت کا جائزہ لیاجائے تو وہ بھی حیران کن ہے اِس کے طول و عرض میں دنیا کے ایسے ممالک آباد ہیں جن کی اہمیت سے انکار  ناممکن ہے۔شمال میں دنیا کی دوسُپر پاورزچین اور روس، شمال مغرب میں افغانستان ، افغانستان دنیا کی دوسپر پا ورز(امریکہ اور روس) کے لئے وہ  مقام ہے جس کی سر زمین پر دنیا کی یہ دو سپر پاورز ایک دوسرے سے ٹکرا چکی ہیں۔  جنوب مغرب میں ایران ،مشرق میں بھارت اور جنوب میں بحیرہ عرب کا اہم سمندر ہے۔پاکستان کی بلند و بالا برف سے ڈھکی چوٹیوں( جس میںدنیا کے سات بڑے پہاڑی سلسلوں میں سے تین بڑے پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں) سے لے کر چولستان و تھر کے صحراؤںتک ، برفانی گلیشیئرز سے لے کر بحیرہ عرب کے پانیوں تک اِسی سر زمین پرہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کون سی ایسی  نعمت ہے جو پاکستان کی سر زمین پر نہیں ہے ۔کسی نے پاکستان کی شان میںکیا خوب کہا ہے کہ ''پاکستان قرآنِ پاک کی عروسُ القرآن سورہ سورہ الرحمن کی تفسیر ہے '' اِس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔
بظاہر ہم صوبائیت کی ٹکڑیوں میںبٹے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن جہاں پاکستان کی سا  لمیت کی بات ہو وہاں یکجہتی اور اتحاد کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ہمارے دشمن بھی حیران وششدررہ جاتے ہیں ۔ ہر محاذ پر ہر کوئی اپنا اپنا مورچہ سنبھالے اپنا فرض پورا کرنے کے لئے تیارہو جاتا ہے ۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔قیام پاکستان کے بعدسب سے پہلا یکجہتی کا عملی مظاہرہ تاریخ کی اُس بڑی خون ریز ہجرت اور اُس ہجرت کے سلسلے میںلٹے پُٹے مہاجرین کی آمد پر مقامی افراد کی خدمت اور دل جوئی سے لے کر اُن کی آباد کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے تک پاکستانیت اور انسانیت کی بڑی مثالوں میں سے ایک ہے ۔ جنگ ہو یا امن پاکستانی اپنے ملک کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے  تیار رہتے ہیں اُس وقت کوئی مسلک، کوئی قوم،کوئی برادری  پیش نظر نہیں ہوتی ہر سُو پاکستان ہوتا ہے۔ 
پاکستان کا قیام اِن تین اُصولوں   اتحاد، ایمان اور تنظیم  پر ہواتھا بظاہر یہ تین الفاظ ہیں مگر اِن تینوں کی گہرائی ملک و قوم کی حیات کا احاطہ کرتے ہوئے زندگی گزارنے کا اُصول ہے ۔  ہم سب کا پاکستان کا  تصور اِنہی اصولوں کو اپنا کر مکمل ہو سکتا ہے ۔
  اتحاد:  ہمارے ملک میں  سانپ اور اُس کے سپولئے ہمیں مختلف ٹکڑیوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اپنے  نظریئے کی دوکانیں سجائے ہمیں ایک دوسرے سے لڑوانے کی کوششوںکی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ اُن کے عزائم کو ناکام کرنے کے لئے اپنے اندر اتحاد قائم رکھنا ہے۔
  ایمان:  ایک مسلمان کا ایمان ایک اللہ، ایک کلمہ، ایک نبیۖ، ایک قرآن پر ہے اور پاکستان کے قیام کا مقصد بھی اسلام کی بنیاد پرہے، لہٰذا اِن سب کو ایک مانتے ہوئے ہمیں بھی پاکستان کی سا  لمیت کو ایک رکھنا ہے ۔ 
  تنظیم:  تنظیم کی بنیادپر ہمیں اپنی صفوں میںیکجا ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے ملک کی تعمیرو ترقی کو ایمانداری اور خلوصِ دل سے کرنے کا عزم کرنا ہے۔
  1965ء کی جنگ ہو یا 1971 ء کی، اِن جنگوں میںپاکستانی قوم کا افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا۔ 65ء کی جنگ میں جنرل ایوب خان کی تاریخ ساز تقریر کے بعد قوم کا حوصلہ بلند ہونا، عطیات کے ڈھیر لگا دینا یہاں تک کہ خواتین نے اپنے طلائی زیورات تک عطیہ کر دیئے تھے۔ اس جنگ میں دشمن کا ہدف پاکستان کادل لاہور شہر تھا اور جشن بھی لاہور کے جم خانہ کلب میں منایا جانا تھا۔ رات کے اندھیرے میں دشمن کے لاہور پر بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ہر پاکستانی اپنے اپنے محاذ پر ڈٹ گیا۔ کیا بوڑھا، کیا جوان ، کیا عورت کیا بچہ سب دشمن کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ دشمن جسے سوئی ہوئی قوم سمجھ رہا تھا وہ اپنی افواج کے ساتھ جاگ رہی تھی ۔ شاعروں ، فنکاروں ، صحافیوں ، دانشواروں نے اپنے مورچے سنبھالے اور کیا کچھ تحلیق نہ کیا اِس کی تاریخ گواہ ہے جو آج کے اِس جدید دور میں بھی پاکستانی قوم کے لئے مشعل راہ ہے۔ 
''بہت جتن کئے مگر ناکام رہے ہم '' کے مصداق، دشمن نے ہر طرح سے پاکستان کوکمزور کرنے کی اور پاکستانی قوم کو اُن کی اسلامی اور پاکستانی اقدار سے منحرف کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں مگر دشمن اپنے مکر و ہ عزائم میں ناکام رہا ہے۔سرحدوں پر کشیدگی ہو یا ثقافتی یلغار دشمن نے ہر طرح سے اپنی چالیں آزما لیں لیکن مایوسی  کے سوااُس کو کچھ ہاتھ نہیں آیا تو پاکستان کے اندر سے ہی اپنے ہمنوا غداروں کو ملا کر کبھی نظریہ پاکستان پر سوال ، کبھی حق تلفیوں پر بین ، کبھی فرقہ واریت اور لسانیت کے نام پر قتل و غارت، کبھی صوبائیت کے نام پر نفرت پھیلانے کا مشن اِن سب  مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مقامی افراد پر پیسوں کی بارش کے باوجود پاکستانی قوم کے دلوں سے پاکستانیت نہیں نکال سکے۔
قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان مسائل کا مقابلہ کرتا چلا آرہا ہے۔ غیر مستحکم حکومتوں کی وجہ سے یہاں نہ جمہوریت مضبوط ہوئی نہ کوئی حکومت مضبوط رہی اور نہ ہی یہاں کوئی واضح اور پائیدار پالیسیاں مرتب  ہوئیں جس بنا پر یہ کہا جائے کہ پاکستانی عوام کوکوئی فوائد یا آسودگی میسرآئی ہو۔اِ ن سب سے قطع نظر پاکستانی قوم پاکستان سے بے لوث محبت کرتی ہے اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار قوم اپنے وطن پر جان قربان کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتی کچھ کر گزرنے کی دُھن ہم پاکستانیوں کے دلوں میں رہتی ہے۔پاکستان لفظ ہی وہ  جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔دشمن اور غداروں کو یہ نام اگر ہضم نہیں ہوتا تو اِس سے پیار کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ۔ گو کہ ہماری قومی تربیت ویسی نہیں ہوئی جس طرح قوموں کی ہوتی ہے لیکن جذبہ حُب الوطنی سے کسی کو انکار نہیں ۔
پاکستانیوں کے جذبہ حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی قومی منصوبہ ہو یا کسی ہسپتال کی تعمیر کے لئے عطیات ہوں یا ڈیم کے لئے فنڈز، ایدھی صاحب کی خدمتِ خلق کی اپیل ، قرض اتاروملک سنوارو کا نعرہ ہو، پاکستانی پیسوں کی برسات کر دیتے ہیںصرف پاکستان میںرہنے والے شہری ہی نہیں بلکہ بیرونِ ممالک میں مقیم پاکستانی بھی اِن عطیا ت کوجمع کروانے والوںمیں سرگرم ہوتے ہیں ۔2005 ء کے زلزلے میں زلزلہ زدگان کی مدد ہو یا آبادکاری ، سیلاب کی تباہ کاریوں میں سیلاب زدگان کی مدد ہویا دوسرے کسی حادثے میں نقصانات، متاثرین کی مدد کرنے میں ہر کوئی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔16  دسمبر 2014 کا APS پشاور کا  سانحہ اجتماعی غم تھا پاکستان کی ہر آنکھ اشکبار تھی بلکہ کئی روز تک فضا اور دل غم سے بوجھل رہے ۔ہر خوشی غمی کو ہم پاکستانی اجتماعی طور پر مناتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانیوں کاجوش و جنون دیکھنا ہو تو کھیل کے میدانو ں میں اور ٹی وی سکرین کے آگے بیٹھے پاکستانیوں کی محبت کا جنون عروج پر ہوتا ہے ۔پاکستان جیتے یا ہارے ہر بار ہماری دعائیں اور ایک نیا ولولہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ موجود ہ ہوتا ہے۔ 
الغرض ہم بحیثیتِ پاکستانی  بین الاقوامی سطح پر اپنی مثبت پہچان کروانے کی اہلیت و صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ وطن سے محبت ہمارا خاصہ ہے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب اس کے رکھوالے ہیں۔  پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں اور مختلف قومی اخبارات کے لئے لکھتی ہیں۔

یہ تحریر 142مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP