قومی و بین الاقوامی ایشوز

سچ کا قحط

بہت سال پہلے ایک کتاب پڑھتے ہوئے میں نے ایک فلاسفر کا قول پڑھا تھا کہ اگر سچ بولنے سے آسمان گرتا ہو ‘ اِسے گرنے دو مگر کسی حالت میں سچ بولنے سے گریز مت کرو۔ شاید آج کل ہمارے حالات میں یہ بات عجیب بلکہ احمقانہ لگے ۔ کیونکہ جہاں سچ کا قحط ہو اُس ملک اور قوم کانقشہ فیض نے کچھ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روزِ جزا گیا

جو طلب پہ عہدِ وفا کیا‘ تو وہ ابروئے وفا گئی

سرِعام جب ہوئے مدعی‘ تو ثواب صدق و صفا گیا

دراصل سچ کا قحط ایسے قومی مسئلوں کو پیدا کرتا اورپروان چڑھاتا ہے جن کے حل کی تلاش میں ہر موڑ پر مشکلات اور ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کیونکہ سچ کی عدم موجودگی میں قدرتی روشنی کی جگہ ایک ایسا عمیق اور منحوس اندھیرا لے لیتا ہے کہ حفاظتی راستے بھی نظرنہیں آتے اور پاکستان ایسے ہی حالات سے گزررہا ہے۔ قدرت نے پاکستان کو وہ وسائل دیئے ہیں کہ یہاں بجلی کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ مہنگی نہیں بلکہ سستی بجلی ملنی چاہئے۔ یہاں زراعت کے لئے پانی کی کمی نہیں ہونی چاہئے‘ یہاں پر کروڑوں لوگوں کا سیلاب میں اپنے گھروں سے انخلا اور معاشی اور معاشرتی تنصیبات کااربوں روپے کا نقصان اور ہزاروں انسانوں کی اموات نہیں ہونی چاہئیں۔ لیکن یہ سب کچھ ہے اور یہ اُن غلط بیانیوں کی قیمت ہے جو پاکستان میں پچھلے بیس تیس سال سے سیاسی حلقوں میں بولی جاتی رہی ہیں۔

پچھلے 25 سال میں کالاباغ ڈیم پر بڑے زور شور سے اعتراضات ہوتے رہے ہیں۔ میں ان دو اعتراضات سے بات آگے بڑھاتا ہوں جو سابق صوبائی حکومت کے دور میں میری نظر سے گزرے جہاں اخبار میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے ایک نمائندہ کی طرف سے کالاباغ ڈیم کے خلاف بیان میں کہا گیا تھا کہ اس ڈیم سے صوبہ خیبر پختونخوا ڈوب جائے گا۔ اور صوبہ سندھ بنجر ہو جائے گا۔ حقائق بالکل مختلف ہیں۔ نوشہرہ کے ڈوب جانے کا اندیشہ 29 اگست1929 کو دریائے سندھ اور دریائے کابل میں اکٹھے بہت بڑے سیلاب آئے تھے۔ نوشہرہ میں یہ سیلاب ریلوے پل کے Deck کو چُھو رہا تھا۔ نوشہرہ چھاؤنی اور شہر کے بہت سے حصے زیرِ آب آگئے تھے۔ اس کے علاوہ خیرآباد سے پبی تک جی ٹی روڈ کے کچھ حصے زیرِآب آگئے تھے اور دریائے کابل کے جنوبی کناروں کے ساتھ ساتھ بہت سے دیہات جیسے بانڈہ محب اور پشتون گڑھی بھی تقریباً مکمل طورپرزیرِ آب تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ کالاباغ ڈیم کا کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا اور یہ سب کچھ اس لئے ہوگیا تھا کہ نوشہرہ‘ پشاور کے علاقوں میں سیلاب کی وجہ کالاباغ ڈیم نہیں بلکہ اور وجوہات ہیں۔ میں بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ اگر وہ موسمی حالات جو اگست1929 میں تھے‘ وہ پھر آجائیں تو اس قسم کا سیلاب پھر آئے گا جو29 اگست1929کو آیا تھا۔ کالاباغ ڈیم ہو یانہ ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اگر اس بات میں کوئی شک تھا تو جولائی 2010 کے سیلاب نے اس شک کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ جب 1929 کے سیلاب سے10 فٹ اونچے بہت بڑے سیلاب نے نوشہرہ اور دریائے کابل سے ملحقہ دیہات میں تباہی مچا دی۔ اس کوطوفانِ نوح بھی کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ اگست1929 کے بہت بڑے سیلاب کی نوشہرہ میں مقدار ایک لاکھ پچھتر ہزار کیوسک تھی۔ اس کے مقابلے میں2010 میں نوشہرہ میں چار لاکھ پانچ ہزار کیوسک کا سیلاب آیا۔(ایک کیوسک 370 گیلن فی منٹ بہاؤ کے برابر ہوتا ہے) یعنی دُگنے سے بھی زیادہ بڑا اور خطرناک سیلاب۔ اور یہ سب کچھ کالاباغ ڈیم کے نہ ہونے کے باوجود ہوا۔ حقائق تو عیاں ہوگئے‘ جو میں کہتا تھا وہ سچ ثابت ہوا اور جو وہ کہتے تھے وہ جھوٹ۔ لیکن بدقسمتی سے اس کی قیمت غریب عوام نے دی جو اس بڑے سیلاب کی زد میں آگئے۔ لیکن جھوٹ پکڑا جائے تو اُس کے چھپانے کے لئے اُس سے بڑا جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور یہی ہوا جو میں نے سُنا ہے۔ مخالفیں کے ایک ’’بڑے‘‘ سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیوں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کررہے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ کالاباغ ڈیم کے بنانے سے پشاور کی سڑکوں پر سیلاب کا پانی آجائے گا۔ جب یہ بات میرے سامنے کہی گئی تو میں نے کہا کہ نوشہرہ کے ڈوبنے کا کالاباغ ڈیم سے تعلق کا جھوٹ افشا ہو گیا۔ لیکن اب پشاور کے ڈوبنے کا تعلق جوڑنا بڑا جھوٹ ہے۔ لیکن کالاباغ ڈیم کے مخالفین سے کچھ بھی بعید نہیں۔ یہ لوگ اس تعلق کو کوہ ہمالیہ تک لے جاسکتے ہیں۔ اﷲ نہ کرے کہ یہ ہو مگر ان مخالفین کے لئے جھوٹ کی کوئی حد نہیں۔ سندھ کے بنجر ہونے کا خدشہ

سندھ کے بنجر ہونے کا خدشہ بھی ایسا ہی غلط ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ منگلا اور تربیلا ڈیمز کے بننے سے پہلے سندھ کو سالانہ اوسطاً 3 کروڑ 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ملتا تھا۔ جو ان ڈیموں کے بننے کی وجہ سے بڑھ کر 4 کروڑ 30 لاکھ ایکڑ فٹ ہوگیا ہے یعنی70 لاکھ ایکڑ فٹ پانی زیادہ ملنا شروع ہوا۔ یہ اعداد و شمار صوبہ سندھ کے محکمہ آبپاشی کی دی ہوئی معلومات پر ارسا(IRSA)نے مرتب کئے ہیں۔ اگر منگلا اور تربیلا ڈیمز سے صوبہ سندھ کو پانی زیادہ ملنا شروع ہوا ہے تو اُس دریا پر کالاباغ ڈیم سے نقصان کیوں ہوگا؟ کالاباغ ڈیم دریائے سندھ کو تو جذب نہیں کرسکتا۔ اس سے تو پانی نے نکلنا ہی ہے اور کوئی چاہے یا نہ چاہے اس پانی نے تو صوبہ سندھ تک پہنچنا ہی ہے۔ بلکہ زیادہ ہی پانی پہنچے گا۔ اور ماہرین کے حساب کے مطابق تقریباً40 لاکھ ایکڑ فٹ سندھ کو زیادہ پہنچے گا جو پنجاب کے20 لاکھ ایکڑ فٹ سے بھی دگنا ہے۔ لیکن ان غلط بیانیوں کی رٹ پچھلے کئی سال سے انتہائی زور و شور سے لگائی گئی ہے۔ اب کالاباغ ڈیم کے بنانے سے’’نوشہرہ ڈوبنے ‘‘ اور ’’سندھ کے بنجر ہونے‘‘ کے جن خطرات کا عام طور پر ذکر کیا جاتا ہے اُن کی حقیقت معلوم ہونے کے بعد حیرانی ہوتی ہے کہ کالاباغ ڈیم کے مخالفین کی باتوں کو کیا نام دیں اور اس کا مقصد کیاہے۔ پورے حقائق تلخ ہوں گے۔ لیکن میں حقائق کا بیان تلخی سے ہٹ کر کرنے کی کوشش کروں گا۔ کالاباغ ڈیم کے خلاف جو کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے وہ حقائق کے اتنا خلاف ہے اور یہ جھوٹ اتنا کہا گیا ہے کہ سچ بتانے کی ضرورت ہے۔ مجھے حقائق کا علم اس لئے ہے کہ جب اس منصوبے کے تکنیکی خدوخال فیصلہ کن مراحل میں تھے تو میں اس منصوبے کا جنرل منیجر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر تھا۔ میں جانتا ہوں کہ کالاباغ ڈیم منصوبے میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے اور یہ علم مجھے ثانوی راستے سے نہیں ملا بلکہ براہِ راست حاصل ہوا۔

جنرل مینجر کالاباغ ڈیم کی حیثیت سے میں حکومت اور پاکستان کے عوام کا تنخواہ دار ملازم تھا۔ میرا فرض تھا کہ جو منصوبہ میری راہنمائی میں بنے وہ ملک کے ہر صوبے‘ ہر شہری کے لئے فائدہ مند ہو اور اگر اس بات میں کسی کو شک ہو تو اس کا ازالہ ضروری ہے۔ دو صوبے جو کالاباغ ڈیم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اُن میں صوبہ خیبر پختونخوا میری جائے پیدائش ہے جہاں میرا آبائی اور ذاتی گھر ہے‘ پدری جائیداد ہے‘ رشتے ہیں جن کو نبھاتا ہوں۔ دوسرا صوبہ سندھ ہے جس کے ساتھ قائداعظم کا خاندانی رشتہ ہے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہر صوبے کا مجھ پر حق ہے۔ لیکن ان دو صوبوں کا حق تو خاص ہے۔ میں کیوں ایسے منصوبے کی تکمیل کے لئے کام کروں گا جو کسی صوبے کے لئے اور خاص طوران دو صوبوں کے لئے نقصان دہ ہو۔ اگر یہ غلط فہمی ہو تو میرا فرض ہے کہ حقائق بیان کروں اور اگر دانستہ غلط بیانی یا جھوٹ ہے تو چونکہ جھوٹ کو اﷲنے صریحاً منع کیا ہے اس لئے اس کا حساب ایک دن اﷲ کے سامنے ضرور ہوگا۔ اور میں یہ تصفیہ اُس دن کے لئے چھوڑتا ہوں ۔ لیکن ان مخالفین کو صرف میرے اوپر بہتان تراشی کا جواب نہیں دینا پڑے گا بلکہ پچھلے سالوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات اور مسائل کی بھی جوابدہی کرنا پڑے گی اور شکایت کنندگان 18کروڑ عوام ہوں گے۔ جھوٹ بے ضرر کبھی نہیں ہوتا۔ مگر بعض جھوٹ ایسے ہو سکتے ہیں کہ اُن کے لئے ضرر کا لفظ اصلیت کا ناکافی اظہار ہوگا کیونکہ کالاباغ ڈیم کے نہ بنانے سے پاکستان کو تقریباً سالانہ 180 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو پاکستان کا ہر شہری ہر سال 1000روپے فی کس ادا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ پن بجلی کو تقریباً 6,400 میگا واٹ پر منجمد کرنے سے بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متبادل ذریعہ گیس کو چنا گیا اور بجلی بنانے کے لئے گیس کا بہت زیادہ استعمال ہوتا رہا ہے۔2009 میں تقریباً 48 فیصد گیس کا استعمال اس کام کے لئے ہوتا رہاہے۔ گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے۔ اور پاکستان کی اہم ضروریات کے لئے گیس کی کمی ہوگئی۔ اس کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ مہنگائی بے تحاشا بڑھ رہی ہے اور اکیسویں صدی جس کو ایشیا کی صدی کہا جاتا ہے‘ میں ایشیا کا تقریباً ہر ملک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کررہا ہے مگر پاکستان ایشیا کے اہم ممالک میں واحد ملک ہے جو اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام کے بدخواہوں کی تو مرادیں بر آئی ہیں اور وہ پاکستان کو زیادہ نقصان پہنچانے کے لئے زیادہ حوصلہ مند ہوگئے ہیں۔ اس لئے پاکستان کے عوام کو حالتِ زار سے نکالنے کے لئے اس جھوٹ کا طشتِ ازبام ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ پاکستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے صحیح راستے کا انتخاب کیا جاسکے۔

اس لمبی تاویل کے بعد اب میں باقی اعتراضات کی طرف آتا ہوں۔ یہ بتاتے ہوئے سچ ذراکڑوا ہو جائے گا۔ لیکن سچ کے بغیر ہم صحیح منزل پا نہیں سکتے۔ بات یہ کرنی ہے کہ ان اعتراضات کو ہم کیا نام دیں۔ اعتراض وہ ہوتا ہے کہ جو کوئی صدقِ دل سے ایک مسئلے پر حقائق سمجھنے کے لئے بیان کرتا ہے۔ لیکن اگر حقائق معلوم ہونے سے انکار کرے بلکہ حقائق پر بات کرنے کے ہر قدم کو روکے اور باقی لوگوں سے چھپائے‘ اس کے اعتراض کو کیا نام دیں؟ غلط فہمی‘ غلط بیانی‘ جھوٹ یا پھر بہتان‘ یہ فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد کریں۔ اگر جھوٹ ہو تو قرآن شریف میں اس کو بہت سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ایک آدمی سے بھی جھوٹ کہنا ایک گناہ عظیم ہے اور جب یہ جھوٹ 18 کروڑ انسانوں سے بولا جائے تو ایسے گناہ کس زمرے میں آتے ہیں‘ اس کا علم تو صرف اﷲ ہی کو ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے تحفظات

پہلا خدشہ : کالاباغ ڈیم کے بننے سے نوشہرہ سیلاب سے ڈوب جائے گا۔ حقائق : اس کا ذکر پہلے ہی کر دیاگیا ہے کہ تاریخ کے دو بدترین سیلابوں1929)اور(2010 کی تباہ کاریاں اس وقت ہوئی ہیں جب کالاباغ ڈیم کا وجود ہی نہیں ہے۔ کالا باغ بننے سے بارشوں کے پانی کو Regulate کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈیم کی وجہ سے ابتدائی ریلوں کو روکا جا سکتاہے اور لوگوں کو پیشگی وارننگ بھی دی جا سکتی ہے۔ دوسرا خدشہ : مردان‘ پبّی اورصوابی کے میدانوں میں کالاباغ ڈیم کی وجہ سے نکاسی آب پر بُرا اثر پڑے گا جس سے یہ میدان Saline اور Waterlogged ہو جائیں گے۔ حقائق : کالاباغ ڈیم مردان سے200 کلومیٹر ‘ پبّی سے230 کلومیٹر اور صوابی سے160 کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گا۔ کالاباغ جھیل کے پانی کا لیول ان میدانوں سے کم ازکم90فٹ نیچے ہوگا۔ اگر اس خدشے میں صداقت ہو۔ توپھر تو ان علاقوں کے لئے خطرہ کالاباغ ڈیم سے نہیں بلکہ تربیلا ڈیم سے ہوگا جو دُور بھی نہیں بلکہ صوابی کے میدانوں کے ایک سِرے پر واقع ہے اور مردان سے 50 کلو میٹر اور پبی سے90 کلومیٹر دُور ہے اور جس کا پانی ان میدانوں سے 400 فٹ اونچا ہے۔کیا زمین سے90 فٹ نیچے کا پانیWaterlogging کے لئے زیادہ خطرناک ہوگا یا میدانوں سے400 فٹ اونچا پانی(تربیلا جھیل کا لیول) سمجھنے والے اس کو سمجھ جائیں گے۔ ایسے خدشے کا جواز ہی نہیں ہے۔ بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ تیسرا خدشہ : مردان سکارپ چلانے میں مشکلات آئیں گی۔

حقائق : تاریخی طور پر1929 کا سیلاب نوشہرہ کے لئےMega Flood تھا اور2010 کا سیلابSuper Mega Flood تھا۔ اگر ان سیلابوں سے مردان سکارپ پر کوئی خراب اثر نہیں پڑا تو پھر ڈر کیا ہے؟ اور اگر کوئی اثر پڑا بھی ہے تو اس کا تعلق تو کالاباغ ڈیم سے نہیں ہے کیونکہ اُس کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ چوتھا خدشہ : قابلِ کاشت اور زرخیز زمین پانی میں ڈوب جائے گی۔ حقائق : وہ زیرِ کاشت زمین جہاں آبپاشی بھی ہو رہی ہے اور جو کالاباغ ڈیم منصوبے سے زیرِ آب آئے گی‘ وہ پورے منصوبے میں 3,000 ایکڑ ہے جس میں 2,900 ایکڑ صوبہ پنجاب کا ہے اور صرف 100 ایکڑ صوبہ پختون خوا کا ہے۔ نکاسی آب کے Drains بناتے وقت بھی چھوٹے چھوٹے منصوبوں میں اس سے زیادہ زمین استعمال میں آکر زراعت سے نکل جاتی ہے۔ یہ 100 ایکڑ تو قابلِ بیان بھی نہیں ہے۔ یہ بھی ایک مضحکہ خیز اعتراض ہے۔ صوبہ سندھ کے حوالے سے تحفظات پہلاخدشہ : صوبہ سندھ کا کالاباغ ڈیم کی وجہ سے بنجر ہونے کا خدشہ سب سے اہم ہے۔صوبہ سندھ کے اپنے اعداد و شمار سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بنجر ہونا تو درکنار کالاباغ ڈیم سے سندھ کو فائدہ پہنچے گا۔ دوسرا خدشہ : دریائے سندھ میں سالانہ پانی کی مقدار بدلتی رہتی ہے۔ کبھی زیادہ کبھی کم۔ یہ خدشہ ہے کہ اگر اربوں ڈالر کے ڈیم بنیں تو ان کا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے اُن کو پورا بھرنا ضروری ہوگا اور اگر دریا میں پانی کم ہوگا تو اس جھیل کو بھرنے کے لئے صوبہ سندھ کا پانی کم کیا جاسکتا ہے۔ حقائق : یہ صحیح ہے کہ دریائے سندھ کا پانی سال بہ سال بدلتا رہتا ہے لیکن دنیا کا ہر دریا اس طرح ہی ہوتا ہے کسی بھی دریا میں بہتے ہوئے پانی کی سالانہ مقدار ایک جیسی نہیں ہوتی۔ جتنا بھی پانی ہوگا‘ کم یا زیادہ‘ اُس کی تقسیم ایک متفقہ فارمولے کے مطابق ہوگی۔ اور یہ کامIRSA کے ذمے ہے۔ پانی کی کمی کوئی نئی بات نہیں ہے اور شواہد یہ بتاتے ہیں کہIRSA اپنا فرض مناسب طریقے سے ادا کرتا آرہا ہے۔ اس لئے اس خدشے کا کوئی مناسب جواز نہیں ہے اور لگتا ہے کہ یہ بات صرف زیبِ داستان کے لئے کی جارہی ہے۔ تیسرا خدشہ : کالاباغ ڈیم منصوبے میں دریائے سندھ سے نہریں نکالی جائیں گی۔ اور خدشہ ہے کہ اُن میں اپنے حصے سے زیادہ پانی لیا جائے گا جس سے صوبہ سندھ کے لئے پانی کم رہ جائے گا۔

حقائق : دریائے سندھ سے نہریں نکالنا کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ اس وقت7 نہریں دریائے سندھ سے پانی لے کر پنجاب اورخیبر پختونخوا صوبوں کی زمینوں کی سیرابی کر رہی ہیں۔اور وہ تقریباً65,000 کیوسک پانی دریائے سندھ سے لے سکتی ہیں۔ کالاباغ منصوبے کے نیچے جو دو نہریں بنیں گی اُن کی Capacity تو اس سے بہت کم ہوگی اور وہ تو صرف اپنے حصے کا پانی ہی لینے کے لئے بنائی جائیں گی۔ اگر ان بنی ہوئی نہروں کے باوجود صوبہ سندھ کو اپنے حصے کا پانی ملتا رہا ہے تو مقابلتاً دو چھوٹی نہروں سے کیا نقصان ہوسکتا ہے؟دریائے سندھ سے پانی لینے کی صلاحیت پنجاب اور پختون خوا کی اتنی ہے کہ وہ اگر اُن سب نہروں کوچلائیں تو دریائے سندھ موسم سرما میں خشک ہو جائے گا۔ کبھی ایسا ہوا نہیں۔ کیونکہ وفاقی حکومت ہے‘ اس کے ادارے ہیں جو اس تقسیم کو دیکھ رہے ہیں کہ صحیح ہو اور یہ صحیح ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس کے غلط ہونے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ یہاں پر یہ یاد کروانے کی ضرورت ہے کہ تربیلاجھیل صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے لیکن اس صوبے کو اس جھیل سے صرف 4فیصد پانی ملتا ہے اور سندھ کو 70فیصد۔ یہ بات کیوں نظر انداز کی جاتی ہے۔ یہ خدشہ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ نامناسب بھی۔ کیونکہ یہ کہنا کہ میرے پانی کا حصہ دینے کے لئے دوسرے صوبے کو اُس کا حق نہیں دیا جائے یہ تو Water Accord 1991 کی صریحاً خلاف ورزی ہی نہیں اُس پورےAccord کو توڑنے کے برابر ہے۔ وہAccord جس کے متعلق صوبہ سندھ ہمیشہ زور دے کر کہتا ہے کہ اُس Accord کو مکمل طور پر زیرِ عمل لایا جائے۔ چوتھا خدشہ : کالاباغ Reservior میں 61 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کے ذخیرہ ہونے کی وجہ سے بہت اعتراضات ہیں۔ جن میں سیلابہ زراعت‘ ڈیلٹا میں مینگر و جنگلات‘Biodiversity, Livestock,Fish and Shrimp پینے کا پانی‘Deterioration of river Channel,Sea intrusion غربت میں زیادتی اور میٹھے پانی کے ٹیوب ویل وغیرہ شامل ہیں۔

حقائق : بدقسمتی سے کالاباغ ڈیم مخالفین اپنے آپ کو حقائق سے دور رکھنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً اس اعتراض کے زمرے میں حقیقت یہ ہے کہ ان خدشات پر ایک مفصلStudy کے لئے ایک بین الاقوامی ماہرین کا پینل حکومت پاکستان نے بنایا۔ اس پینل نے Detailed Study کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو دیں جس کی دو اہم سفارشات یہ تھیں۔ پہلی یہ کہ 5 ہزار کیوسک پانی دن رات کوٹری بیراج سےEscape کیا جائے اور اس کے علاوہ سیلاب کے دنوں میں 50 لاکھ ایکڑ فٹ پانی بھی کوٹری بیراج سےEscape کیا جائے۔ یہ Accord 1991 کے پیرا نمبر7 کی جگہ لے لے گی۔ دوسری سفارش یہ تھی کہ ایک بڑا ڈیم جلد تعمیر کیا جائے تاکہ 5 ہزار کیوسک پانی کو دن رات متواتر کوٹری سے Escape کرنے کے لئے پانی سسٹم میں موجود ہو۔ اور یہ پانی نیچے علاقے کو دیا جاسکے۔ سفارشات پر عمل کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔لیکن خدشے کا ذکر متواتر کیا جاتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اپنی بیماری کا علاج کے مقابلے میں اس کے بیان سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ دریائے سندھ اور معاونین کے پانی کی تقسیم یہ مناسب ہوگا کہ اس جگہ صوبوں میں دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے طریقِ کار کو بیان کیا جائے۔ 1991 ء میں چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا۔ جس کو Water Apportionment Accord 1991 کہتے ہیں۔ جس میں ہر صوبے کا حصہ مقرر ہوا۔ اور ایک نیا محکمہ Indus River System Authority یعنی IRSA قائم کیا گیا جو دریائے سندھ کا پانی Accord 1991 میں دیئے گئے معاہدے کے مطابق مختلف صوبوں میں بانٹے۔ اور اس محکمے کے انتظامی‘ تیکنیکی اور مالی انتظام کے لئے ایک بورڈ بنایا گیا جوہر صوبے اوروفاق سے ایک ایک ممبر پر مشتمل تھا۔ ان 5 ممبروں کے بورڈ میں صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کے دو ممبر اس بورڈ میں ہیں۔ اگر IRSA کے کسی فیصلے سے کسی صوبے کو شکایت ہو تو وہCouncil of Common Interest (CCI) سے رجوع کرنے کا حقدار ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے 1991 میںIRSA کے بن جانے کے بعد ان 22 سالوں میںCCI کو کوئی شکایت نہیں ملی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ IRSA اپنا کام ٹھیک کررہا ہے۔ اور دریائے سندھ اور اس کے معاونین کے پانی کی تقسیم صحیح طریقے سے ہو رہی ہے۔ کالاباغ ڈیم کا پسِ منظر

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کالاباغ ڈیم حکومتِ پنجاب نے اپنے زور سے پاکستان کے ترقیاتی پروگرام میں ڈال دیا ہے اور اب واپڈا کے ذریعے سے اُس کو کسی طریقے سے بنانا چاہتا ہے۔ حقائق کچھ اور ہیں۔ ستمبر 1960 میںIndus Water Treaty پر دستخط کرکے دریائے سندھ کے پانی کا تنازعہ حل کرلیا گیا اور پاکستان کو مختلف منصوبے بنانے کے لئے وسائل فراہم کئے گئے۔ منگلا‘ تربیلا ڈیموں کے ساتھ اور منصوبوں پر کام مطمئن طریقے سے شروع ہوا۔ لیکن واپڈا مکمل طور پر تسلی بخش نہیں تھا۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے تربیلا ڈیم بھی اکیلا کافی نہیں تھا۔ صدرایوب خان کو اس معاملے پر پوریBriefing دی گئی اور جب وہ نومبر1963 میں واشنگٹن دورے پر گئے تو ورلڈ بنک کے صدر کے ساتھ ایک ملاقات میں صدر ایوب خان نے اُن کو پاکستان کے خدشات سے آگاہ کیا اور تجویز دی کہ ورلڈ بنک اس مسئلے کی مکمل طور پر تحقیق کرکے پاکستان کو ایک ترقیاتی منصوبہ (Development Plan) دے تربیلا ڈیم کے بعد پاکستان جس پرعمل کرے۔ ورلڈ بنک نے اس چیلنج پر بہت سنجیدگی سے کام شروع کرنے کا فیصلہ کیاIndus Special Study کے نام سے اس کام کا آغاز کیا۔ ایک ایسی ٹیم جمع کی جو مختلف شعبوں کے بین الاقوامی ماہرین میں گِنے چُنے خیال کئے جاتے تھے۔ تقریباً ساڑھے تین سال کے کام کے بعد انہوں نے ایک رپورٹ حکومت پاکستان کو پیش کی جس کا عنوان تھا:Development of Water & Power Resources of West Pakistan- A Sectoral Analysis ورلڈ بنک اس رپورٹ کا ہمیشہ فخر یہ انداز میں ذکر کرتا تھا۔ رپورٹ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ ’’یہ رپورٹ آئندہ کے لئے منصوبہ بندی‘ معاشیات اور انجینئرنگ کے ماہرین کے لئے ایک ماڈل ہوگا‘‘ اسی رپورٹ میں کالاباغ ڈیم کے بنانے کے لئے سفارش کی گئی تھی۔ اس تحقیقی رپورٹ کے چیدہ چیدہ Conclusions اور سفارشات یہ ہیں۔ پہلی : منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے بجلی‘ پانی اور سیلاب سے بچاؤ کے فائدے (Benefits Streams) بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتی ہوئی معاشی اور معاشرتی ضروریات کی وجہ سے مکمل طور پر 1990 کے لگ بھگ Committ ہو جائیں گی۔

دوسری : اگر پاکستان اپنی ترقی کی رفتار اپنی ضرورت کے مطابق رکھنا چاہتا ہے تو پھر1992 میں پاکستان کے پاس ایک تیسرا بڑا ڈیم ہونا چاہئے اور یہ بھی سفارش کی کہ اس ڈیم کے لئے ضروری انجینئرنگ تحقیقی کام کو1977 میں شروع کیا جائے۔ تیسری : یہ تیسرا منصوبہ کالاباغ ڈیم ہونا چاہئے۔ اس کے بعد بھاشا ڈیم۔ ان دونوں ڈیموں کو یکے بعد دیگرے بنانے سے پاکستان کو وہ وقت مل جائے گا کہ وہ دریائے سندھ اور اس کے معاونین(Tributaries) کے متعلق انجینئرنگ تحقیقی کام مکمل کرکے اپنے مستقبل کا پروگرام بنا سکے۔ یہ رپورٹ حکومت پاکستان کو 1967 کے وسط میں ورلڈ بنک نے پیش کی اور حکومت نے اس کو واپڈا کے پاس مناسب تعمیل کے لئے بھیج دیا۔ واپڈا نے 1977 میں کالاباغ ڈیم کے منصوبے کا تحقیقی کا شروع کیا۔ دو دفعہ اس کی فیزیبلٹی رپورٹ بنی۔1988 میں پورا کام مکمل ہوگیا اور منصوبہ اب تعمیرکے لئے اب تیار تھا۔ورلڈ بنک کا مشن لاہور آیا‘ مجھ سے ملاقات کی۔ اور تحقیقی کام کے مکمل ہونے پر اپنی پوری تسلی ظاہر کی اور ڈیم کی تعمیرکے لئے مجھ سے ہمارے پروگرام کاپوچھا۔ لیکن اُس مشن کے آنے سے پہلے ہی ڈیم کے مخالفین نے اپنی غلط بیانیوں سے جو فضا پیدا کی تھی اُس کی وجہ سے حکومتِ وقت مکمل طورپر شل ہوگئی تھی۔ جس کی وجہ سے ایک غلط راستے کا انتخاب ہوا اور جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ یہ غلط فہمی اب دُور ہونی چاہئے کہ واپڈا نے کالاباغ ڈیم کو پنجاب کے پریشرکی وجہ سے منتخب کیا اور اب وکالت کررہا ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو تربیلا کی بجائے کالاباغ ڈیم پہلے ہی بن جاتا۔ ورلڈ بنک نے1961-62 میں اس ڈیم کے بنانے کے لئے اصرار کیا لیکن واپڈا نے نہیں۔ لیکن جب ایک بڑے ڈیم کی ضرورت پڑی تو دنیا کے بہترین ماہرین کی ٹیم نے کالاباغ ڈیم کی پُرزور حمایت کی اور واپڈا نے اُن کی سفارشات مان لیں۔ نوٹ:۔ اس مضمون میں پیش کئے گئے خیالات اور آراء مضمون نگار کی ذاتی ہیں۔

یہ تحریر 131مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP