ہلال نیوز

او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن  کے وفد کا پاکستان اور آزاد کشمیر کا دورہ

گزشتہ دنوں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن ( آئی پی ایچ آر سی) نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کا پانچ روزہ دورہ کیا ۔ 12رکنی آئی پی ایچ آر سی وفد کی قیادت اس کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الغفلی نے کی۔ وفد میں سعودی عرب ،یو اے ای، ملائیشیا، ترکی، تیونس، آذربائیجان، مراکش، نائیجیریا، یو گنڈا اور گبون کے اعلیٰ سفارتکار وں نے شرکت کی۔ یہ دورہ بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ(سی ایف ایم)کے مینڈیٹ کی تعمیل میں کیا گیا ۔ 



آزاد جموں وکشمیر میں آئی پی ایچ آر سی کے وفد نے صدرآزاد جموں وکشمیرجناب سردار مسعود خان سے تفصیلی ملاقات کی اور مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین ، آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت، کشمیری سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ وفد نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین ((UNMOGIP سے بھی ملاقات کی۔
آزاد کشمیر میں دورے کے دوران وفد کو حکومت پاکستان نے بلا امتیاز ہر جگہ رسائی فراہم کی تاکہ وہ اپنا فریضہ بطور احسن ادا کر سکیں۔ اس سلسلے میں وفد نے کنٹرول لائن کے چڑی کوٹ سیکٹر کا بھی دورہ کیا جہاں اعلیٰ فوجی حکام نے ان کو مجموعی سکیورٹی صورتحال اور بھارتی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں مقامی لوگوں کے جان و مال کے نقصانات پر بریفینگ دی۔ آئی پی ایچ آر سی کے وفد نے کنٹرول لائن پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اندھا دھند گولہ باری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معائنہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔ اس دورے کا مقصد بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لینا اور مقبوضہ علاقے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرناتھا۔ آئی پی ایچ آر سی کا وفد مقبوضہ کشمیر پر ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا اور ٹھوس سفارشات کے ساتھ او آئی سی کی وزارئے خارجہ کونسل کے48  ویں سیشن میں بھارت کے خلاف پیش کرے گا۔
اس سے قبل مارچ 2017 میں آئی پی ایچ آر سی کے ایک وفد نے پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کا دورہ کیا تھا اور ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیاتھا۔ آئی پی ایچ آر سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن کی اجازت کے لیے گزشتہ چند سالوںمیں بھارت سے بار ہا درخواستیں کی گئیں۔ تاہم مقبوضہ وادی میں سب نارمل ہونے کے جھوٹے دعوؤں کے باوجود بھارت نے آئی پی ایچ آر سی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں کو بھی زیر قبضہ علاقہ میں رسائی دینے سے انکارکیا۔ 
پاکستان، آئی پی ایچ آر سی کی جانب سے بھارت کے غیرقانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر میں سنگین،منظم اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
 

یہ تحریر 84مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP