سقوط ڈھاکہ

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

جنگِ اکہتر میں چٹی ٹاہلی میں دشمن کے دفاع پر اپنے جوانوں کے ہمراہ حملہ کرنے والے
 کیپٹن نصیر بعد میں کرنل (ریٹائرڈ) کی کہانی لیفٹیننٹ کرنل امجد حُسین (ر) کے قلم سے

دسمبر کے آتے ہی 1971 کی تلخ یادیں تازہ اور زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ جب قائد اعظم کے  پاکستان کا ایک حصہ  بیرونی سازشوں اور اندرونی خلفشار کے باعث الگ ہو گیا۔اور ہزاروں کی تعداد میں ہمارے فوجی جنگی قیدی بنا  لیے گئے۔ ایسے میں مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں پر ہماری یونٹس  نے  بہادری اور جان نثاری کی بے شمار داستانیں رقم کیں۔ بدقسمتی سے اقتدار کی راہداریوں میں سازشوں اور سیاسی ریشہ دوانیوں نے میدان جنگ میں اپنی پوری جانفشانی سے لڑنے والے جوانوں کی قربانیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اگرچہ زمین پر ان کی بہادرانہ کارکردگی ملک کو ٹوٹنے سے نہیں بچا سکی لیکن اس سے ان کی قربانیوں کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے بہادر سپاہیوں کو ان کی بہادرانہ قربانیوں کے لیے عزت دینا ضروری ہے اور ایسا کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ واقعات کو ضبط تحریر میں لایا جائے تاکہ سب پڑھ سکیں اور ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں سے آشنا ہو سکے۔



دسمبر 1971 کو نوجوان کیپٹن کو چٹی ٹاہلی کے مقام پر  بھارتی دفاع پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ دسمبر کی ایک سرد رات تھی، نوجوان کیپٹن اور اس کے جوانوں نے دریائے توی کے منجمد پانی کے نالے عبور کیے اوربھارتی پوزیشنوں پر  پر جوش حملہ کیا۔ پاکستانی فوجیوں کو اتنی بہادری سے چارج کرتے دیکھ کر،  دشمن تمام دستیاب صلاحیتوں کے ہتھیاروں کے ساتھ کھل کر سامنے آ گیا۔ میدان جنگ فائر  کی آوازوں ، دشمن کے توپ خانے اور مشین گن کی گولیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والی آوازوں سے گونج رہا تھا۔


نومبر 1971 تک محلاتی سازشوں اور سیاسی مصلحتوں نے متحدہ پاکستان پر سیاہ بادلوں کی شکل میں اپنا نتیجہ دکھانا شروع کر دیا۔ ڈھاکہ کی سڑکیں جو کبھی امن کا گہوارہ تھیں اب احتجاج اور فسادات کا مرکز بن چکی ہیں۔ مکتی باہنی کی وجہ سے  فوج کی جیپوں اور ٹرکوں کا دیسی ساختہ رکاوٹوں کو عبور کرنا اورگھیرئوا،جلا ئوکا مقابلہ کرنا ایک معمول کی بات تھی۔ فوج جو پہلے مختلف چھائونیوں میں تعینات تھی اب  شہروں میں امن و امان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے بلائی گئی تھی اور ایک ہی وقت میں سرحدوں پر  بھی حالات بہتر نہیں ہو رہے تھے، آزمائش کے اوقات یقینی طور پر قریب آرہے تھے۔
 چھمب کے سیکٹر میں جہاں 1965 میں لیفٹیننٹ شبیر شریف نے اپنے زخمیوں کو واپس لا کر بہادری کا ثبوت دیا تو وہیں کیپٹن نصیر محمود نے 1971 میں اپنے زخمی سپاہی کی مرہم پٹی کی۔مجاہد رجمنٹ کے ایجوٹینٹ کی حیثیت سے میں نے تقریباً دوسال چھمب سیکٹر میں گزارے، اس دوران 42 پنجاب رجمنٹ سے میرا کورس میٹ بھی وہاں تعینات تھا۔
میں اکثر ہلال  میگزین کا اردو ایڈیشن پڑھتا ہوں لیکن پچھلے مہینے  انگلش میگزین میں "دی لیٹر" کے نام سے آرٹیکل پڑھا تو 42 پنجاب کے اپنے اسی کورس میٹ سے رابطہ کیا جو بیس سال پہلے میرے ساتھ چھمب میں موجود تھا۔ ان سے اس مضمون کی تیاری میں مدد لی۔ اسی طرح میجر بلال نصیر سے میری ملاقات بلوچستان میں چند ماہ پہلے ہوئی تھی لیکن میرے علم میں یہ نہیں تھا کہ وہ کیپٹن نصیر محمود( بعد ازاں لیفٹیننٹ کرنل  ریٹائرڈ)کے بیٹے ہیں۔ سو شل میڈیا کی وساطت سے جب میں نے  اس خط کے بارے میں لکھا تو  میجر بلال نصیر نے بتایا کہ وہ  کیپٹن نصیر محمود کے بیٹے ہیں اور انہوں نے مجھے ضروری معلومات فراہم کیں۔
 کہتے ہیں کہ دل سے نکلی ہوئی دعا اثر رکھتی ہے اور خاص کر جب ایک بہن اپنے بھائیوں سے دور ،ان کیلیے خلوص دل سے دعا کرتی ہے تو قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے۔بہنوں کی سب سے بڑی خواہش اپنے بھائیوں کو سہرا باندھے دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن 1971 میں ایک بہن میدان جنگ میں موجود اپنے دو بھائیوں کو یا دکر رہی تھی۔ ریڈیو پاکستان سے مشرقی پاکستان کے بارے میں افسوسناک خبریں مسلسل آرہی تھیں۔ اسی دوران وہ اپنے شوہر( پاکستان نیوی کے آفیسر)کے لیٹر پیڈ پر اپنے بھائی کیپٹن نصیر کو خط لکھتی ہے جو چھمب سیکٹر میں تعینات تھا۔ کیپٹن نصیر کے دوسرے بھائی انجینئر کور میں سیالکوٹ سیکٹر میں تعینات تھے۔ ملکی حالات کے پیش نظر اور ممکنہ جنگ کی وجہ سے بہن اپنے بھائیوں کے لیے بہت اداس تھی  اور دل سے ان کے لیے دعائیں لکھ کر بھیج رہی تھی۔
خط کا پہلا حصہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے لیے ایک پیار کرنے والی بڑی بہن کے جذبات کا واضح عکاس تھا، جو کہ آنے والی جنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار تھے۔ بہن کی محبت اور دعائوں کے بعد خط کے دوسرے حصے میں اپنے نوجوان بھائی نصیر کو وطن عزیز کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہنے کی تلقین اسے یہ کہتے ہوئے کی گئی کہ وہ خاندان کی فکر نہ کرے، مادر وطن کے دفاع کے مقدس مقصد کو فوقیت دے کر باقی تمام خدشات کو ختم کر دینا چاہیے۔ اس نے اسے لکھا کہ ملک کا دفاع کرنا اس کا فرض ہے اور اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
خط کے مندرجات یہ ہیں۔
پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر
منوڑا ، کراچی،24 نومبر 1971
میرے پیارے شہزادے بھائی

اسلام علیکم ! پیارے نصیر آج تم بہت یاد آ رہے ہو۔آج میرا دل بہت پریشان ہے۔آج  میں اپنے دونوں بھائیوں کو یاد کر کے بہت روئی ہوں۔ اور میں تم دونوں کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگ رہی ہوں، ملکی حالات خراب ہو چکے ہیں۔ مغربی پاکستان میں بھی اب جنگ چھڑنے والی ہے۔ آج تم دونوں بھائی بہت شدت سے یاد آ رہے ہو---
تم کو تمہارا فرض پکار رہا ہے ، اپنے فرض کی ادائیگی میں ---------- (خون کے دھبوں کی وجہ سے الفاظ واضح نہیں)
باقی یہاں پر سب خیریت ہے، میں اپنے بھائیوں کی سلامتی کے لیے ہر دم دعائیں مانگتی رہوں گی-

خدا حافظ
تمہاری باجی
نگہت

کیپٹن نصیر نے یہ خط لکھنوال ( ضلع گجرات)میں موصول کیا تھا۔ اپنے کمانڈنگ آفیسر کے احکامات سننے کے بعد نوجوان افسر نے اپنی کمپنی کے جوانوں کو اکٹھا کیا اور کہا" اگر اللہ تعالی نے کل کا سورج دیکھنا  ہمارے مقدر  میں نہیں لکھا تو زمین کی کوئی طاقت اس بات کو ٹال نہیں سکتی تو پھر خوف کیوں، آئیے اپنے مادر وطن کے لیے بہادری سے لڑیں ،ہمارے فرض کی ادائیگی ہر دوسرے معاملے پر افضل ہے۔ چاہے اس میں ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے"۔ بہن سے ملنے والے  خط نے بھائی کا حوصلہ بڑھا دیا تھا اور اس کا خون گرما دیا تھا۔
کیپٹن نصیر نے حملے کی تیاری کے دوران احکامات کے مطابق باقی تما م چیزیں سامان سے نکال دیں جن سے دشمن کو شناخت میں مدد مل سکتی تھی لیکن بڑی بہن کا شفقت بھرا خط وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ اگر کسی صورت میں یہ دشمن کے ہاتھ بھی لگے تو اسے پتہ چلے کہ ہماری ماں اور بہنوں کے حوصلے بلند ہیں۔کیپٹن نصیر محمود کی کپمنی کا ہدف چٹی ٹالی کے پاس تھا اور وہ جذبہ ایمانی ساتھ لیے بلا خوف و خطر آگے بڑھ رہے تھے۔اس دوران وہ اپنے سپاہیوں کا مورال بھی اونچا رکھ رہے تھے۔
8 دسمبر 1971 کو نوجوان کیپٹن کو چٹی ٹاہلی کے مقام پر  بھارتی دفاع پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ دسمبر کی ایک سرد رات تھی، نوجوان کیپٹن اور اس کے جوانوں نے دریائے توی کے منجمد پانی کے نالے عبور کیے اوربھارتی پوزیشنوں پر  پر جوش حملہ کیا۔ پاکستانی فوجیوں کو اتنی بہادری سے چارج کرتے دیکھ کر،  دشمن تمام دستیاب صلاحیتوں کے ہتھیاروں کے ساتھ کھل کر سامنے آ گیا۔ میدان جنگ فائر  کی آوازوں ، دشمن کے توپ خانے اور مشین گن کی گولیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ اسی آگ کے باوجود  چارلی کمپنی دشمن کی پوزیشنوں پر چارج کر رہی تھی، جس کا دفاع 5 ،آسام رجمنٹ کے اتنے ہی حوصلہ مند سپاہی کر رہے  تھے۔ دشمن کی سخت مزاحمت کے باوجود، نوجوان کیپٹن اور اس کے جوان دشمن  کی لوکیشن  کے قریب پہنچے اور دشمن کے بنکروں سے بمشکل 100 میٹر دور تھے جب دشمن کے توپ خانے نے فائرشروع کر دیا ۔ توپ خانے میں سے ایک رائونڈ کیپٹن کے قریب سے اڑا اور زمین سے ٹکرانے سے چند سیکنڈ پہلے پھٹ گیا۔ یہ دھماکا ایک تیز گرج کی طرح تھا جو نیچے کی زمین کو ہلا رہا تھا اور اوپر دھول کا حصار بنا رہا تھا۔
حملے کے دوران دشمن کی آرٹلری کا ایک گولہ کیپٹن نصیر کے  قریب آ کر گرا تھاجس کے سپلنٹران کے  چہرے پر لگے تھے۔


ماضی کے واقعات میر ے ذہن کی سکرین پر چلنا شروع ہو گئے۔اسی دوران میں " کپتان صاحب" ، " کپتان صاحب" کی آوازیں سنیں۔میں نے اپنی آنکھیں کھولی تو  اپنے قریب شدید   زخمی سپاہی کو  موجود پایا، میں  اپنے آ پ کو گھسیٹ کر  اس کے پاس گیا اور اس کی  مرہم پٹی کی کوشش کی  لیکن اسی دوران وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے۔ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گیا۔اس سپاہی نے میرے پہلو میں جان دی تھی۔


اس کے بعد ہونے والے واقعات نے یہ ظاہر کیا کہ خدا کا ہاتھ کس قدر باریک بینی سے کام میں آ سکتا ہے۔ اور جب تک موت کا وقت نہیں آ جاتا  دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی- خط کی وہ سطریں، جو نوجوان کیپٹن کو اس کے فرض کی یاد دلاتی تھیں "تم کو تمھارا فرض  پکار رہا ہے، اپنے فرض کی ادائیگی میں" اب اس کے خون سے ڈھکی ہوئی تھی۔ کال آف ڈیوٹی سے وابستگی کا اس سے بہتر مظہر اور کیا ہو سکتا ہے جیسا کہ بڑی بہن نے کہا؟ کیپٹن نصیر کے مطابق"
میں نہیں جانتا تھا کہ مجھے بالکل کیا چیز لگی  تھی ۔ مجھے صرف یاد ہے کہ شدت کا  دھچکا تھا اور اس سے پہلے کی عجیب آواز جس سے  میرے کان کے پردے تقریباً پھٹ گئے۔ گویا ایک بہت بڑے ہتھوڑے کی چوٹ  نے مجھے زمین پر گرا دیا۔ اگرچہ مجھے گرنے کا صحیح وقت یا د نہیں-مجھے پھر یاد آیا کہ میں آنکھیں بند کیے زمین پر لیٹا تھا، یہ سوچ کر کہ میرے سرکا آدھا حصہ کاٹ دیا گیا ہے۔اگرچہ میں نے اپنے سر یا چہرہ کو چھوا نہیں تھا۔ میں جانتا تھا کہ میں زندہ نہیں رہوں گا۔
تو یہ  وہ زندگی تھی؛ مختصر اور اچانک ختم ہونے والی،میری پچیسویں سالگرہ آنے والی تھی۔لیکن مجھے کوئی خوف نہیں تھاموت کا، اور نہ ہی مجھے کسی قسم کا پچھتاوا تھا۔میرے ذہن میں قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کا خیال بھی نہیں آ رہا تھا۔لیکن تھوڑی دیر بعد میرے ذہن میں کچھ خاکے بننے شروع ہوگئے۔ وہ دیکھ سکتا تھا کہ سورج طلوع ہو چکا ہے اور اس کی روشن کرنیں دسمبر کی سرد صبح کو کچھ گرم جوشی فراہم کر رہی ہیں۔ سورج کو اپنے سر کے اوپر دیکھ کر، وہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس کی کمپنی کے حملے کو ختم ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔ میرے والدین، دوستوں اور سکول کے دنوں کی یادیں واپس آنا شروع ہو گئیں۔جب مجھے آہستہ آہستہ ہوش آنا شروع ہوا تو مجھے فوراً اپنی کمپنی کا خیال آیا کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے یا کہ نہیں۔ میں دل میں دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں۔پھر میرا ذہن اس خط کی طرف گیا جو آپریشن شروع ہونے کے وقت میں نے اپنی جیب میں ڈالا تھا۔ جیسے ہی میں نے اس کی موجودگی کو محسوس کیاتو  کامیابی اور اطمینان کے احساس نے میرے دل کو خوشگوار  جوش سے بھر دیا"۔ماضی کے واقعات میر ے ذہن کی سکرین پر چلنا شروع ہو گئے۔اسی دوران میں " کپتان صاحب" ، " کپتان صاحب" کی آوازیں سنیں۔میں نے اپنی آنکھیں کھولی تو  اپنے قریب شدید   زخمی سپاہی کو  موجود پایا، میں  اپنے آ پ کو گھسیٹ کر  اس کے پاس گیا اور اس کی  مرہم پٹی کی کوشش کی  لیکن اسی دوران وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے۔ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گیا۔اس سپاہی نے میرے پہلو میں جان دی تھی۔ یہ لمحہ جب بھی یا د کرتا ہوں میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میں اسی میدان جنگ کی کیفیت میں پہنچ جاتا ہوں۔میرے قریب ہی تین اور شہید سپاہی بھی موجود تھے۔ ان پانچ لوگوں میں سے صرف میں زندہ بچا تھا۔ میرے زخموں سے خون جاری تھا لیکن میں آہستہ آہستہ پیدل چل رہا تھا۔میں نے اپنے خون آلود ہاتھوں سے جب بائیں جیب کو ٹٹولا تو اس میں میر ی بہن کا لکھا ہوا خط موجود تھا۔شاید قدرت نے مجھے اس خط میں لکھی گئی دعائوں کی وجہ سے بچا لیا تھا۔ کیپٹن نصیر نے نا مساعد حالات میں بھی  اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا عہد وفا کیا تھا۔ انہوں نے شدید سردی کے موسم میں دریائے توی کے کنارے حملے میں پیش قدمی کی تھی، لیکن بعد میں پلان میں تبدیلی کی وجہ سے کمپنی کو واپس آنا پڑا، واپس آتے ہوئے بھی دشمن کے ٹینکوں کی  گھن گھرج  ان کو صاف سنائی دے رہی تھی اور انہوں نے لائن آف فائر سے بچتے ہوئے اپنی واپسی مکمل کی۔بعد میں مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے  کیپٹن نصیر سی ایم ایچ پہنچے جہاں کافی عرصے تک ان کا علاج جاری رہا اور انہیں مختلف آپریشنز کے تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑا۔ اللہ تعالی ان کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔جہاں تک خط کا تعلق ہے، یہ گھر والوں کے پاس، فریم شدہ اور گھر میں محفوظ ہے۔ سوکھا ہوا خون مادر وطن سے وفاداری کا ثبوت دیتا ہے اور 'بہن کی محبت' اور 'مشکلات کے درمیان مضبوط اور ثابت قدم رہنے' کی اس کی نصیحت کی یاد دلاتا ہے۔ 9 دسمبر 1971 کو میجر جنرل افتخار جنجوعہ بھی اسی سیکٹر میں شہید ہوئے تھے اور چھمب سیکٹر کا نام "افتخار آباد" رکھا گیا تھا۔پاکستان کی مسلح افواج قیام پاکستان کے وقت سے مشکل کی ہر گھڑی میں دشمن کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوتی  ہیں ۔دشمن کا کوئی بھی حربہ اور پراپیگنڈہ ایسی بہادر قوم کے جذبے کو مات نہیں دے سکتا۔پاکستان زندہ باد ||


[email protected]
 

یہ تحریر 348مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP