قومی و بین الاقوامی ایشوز

جے ایف۔ 17 تھنڈر اورعالمی ڈیفنس مارکیٹ 

پاکستانی مسلح افواج کے تمام شعبے اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق وطن عزیز کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔افواج پاکستان کے تینوں حصے یعنی بری، بحری اور فضائی افواج نے اپنے متعلقہ شعبوں میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے اور اپنی حربی صلاحیت کی بدولت عالمی طور پر بھی اپنی اہلیت کا لوہا  منوایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک دفاع  کے ہر شعبہ میں دشمن ملک پاکستان سے پیچھے رہا ہے۔جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ہمیشہ پاکستانی فوج کے جانبازوں نے عالمی ماہرین کے سامنے حیران کن صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے دیگر ممالک پر انحصار کم سے کم کر دیا ہے اور زیادہ تر دفاعی سامان پاکستان کے اندر ہی تیار ہو رہا ہے۔بری، بحری اور فضائی افواج کے تمام شعبے اپنی ضرورت کا زیادہ سے زیادہ سامان پاکستان  میں ہی تیار کررہے ہیں۔اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے دفاع کے شعبہ میں کافی حد تک خود کفالت حاصل کر لی ہے۔پاکستان کے اندر تیار کیے جانے والے دفاعی ہتھیاروں میں جے ایف 17تھنڈر سب سے نمایاں ہے اور اس کو عالمی شہرت تب ملی جب اس کے ذریعے شہرہ آفاق  آپریشن کر کے ابھی نندن کا جہاز گرایا گیا۔ اس وقت سے جے ایف 17تھنڈر نے دنیا کی توجہ حاصل کی ۔جے ایفـ17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے۔


پاکستان نے چین کی مدد سے ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے۔اس طیارے کی تیاری، ضروری مرمت اور 'اوورہالنگ' کی سہولت ملک کے اندر ہی دستیاب ہے۔اسکا  مطلب یہ ہے کہ اس طیارے کی تیاری کے دوران پاکستان نے اس کے تمام مراحل اپنے انجینئرز کی زیر نگرانی مکمل کیے اور کسی بھی مقام پر غیر ملکی امداد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
عسکری حکام کے مطابق یہ طیارہ دنیا بھر میں کئی اہم شوز میں بھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے شو میں جے ایف تھنڈر کی فرمائش ضرور کی جاتی ہے۔
جے ایف17 تھنڈر کی تاریخ
پاکستان نے دفاعی خودمختاری حاصل کرنے کے سفر میں 1995میں اس سنگ میل کو عبور کرنا شروع کیا جب پاکستان اور چین نے جے ایف تھنڈر کے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔پاکستانی انجینئرز نے اس طیارے پر کام شروع کیا اور قلیل عرصہ میں ہی یعنی 2003 میں اس کا پہلا آزمائشی ماڈل تیار کیا گیا۔پاکستانی فضائیہ نے 2010 میں اس کو باقاعدہ طور پر اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا اور جلد ہی اس طیارے کی خصوصیات عالمی دنیا پر واضح ہوتی گئیں۔جے ایف17 تھنڈر کو جس عالمی نمائش میں بھی  پیش کیا گیا وہاں کئی ممالک نے نہ صرف پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا بلکہ اسے دنیا کے بہترین طیاروں میں شمار کرتے ہوئے اپنے ممالک کے لئے خریداری کے آرڈرزبھی دیئے۔جے ایف17 تھنڈر کی تیاری کے پس منظر میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل میراج، ایف 7 اور اے 5 طیارے اپنی مدت پوری کر چکے تھے لہٰذا ان طیاروں کی جگہ لینے کے لیے بھی جے ایف17 تھنڈر کوہر اس خصوصیت سے آراستہ کیا گیا جو وقت کی ضرورت کے مطابق تھی۔دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف17 تھنڈر،ایف 16اور فالکن طیارے کی طرح ہلکے وزن کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے موسمی حالات میں زمین اور فضا میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ہمہ جہت طیارہ ہے اور یہ دور سے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے بھی لیس ہے۔جے ایفـ 17 تھنڈر طیاروں  کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رافیل کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔یاد رہے رافیل وہ طیارہ ہے جو بھارت نے حال ہی میں فرانس سے حاصل کیا ہے۔ جے ایف 17- تھنڈر طیارہ ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا  پیچھا کرتا ہے۔



جے ایفـ 17 تھنڈر زمین پر دشمن کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طیارے میں نصب ریڈار نظام کی بدولت جے ایف ـ17 تھنڈر بیک وقت 15 اہداف کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ چار اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر حملہ کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔پاکستان کے سابق ایئر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ جے ایف 17 طیاروں کی خاص بات ہی یہ ہے کہ یہ باہر کے ممالک میں نہیں بلکہ پاکستان کے اندر کامرہ کے مقام پر تیار کیے جا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اب انڈیا کو مشکل صورتحال میں فرانس کی طرف دیکھنا ہو گا۔

فضائی دفاع کے عالمی ماہرین کے مطابق، پاکستان اور چین کا مشترکہ تیار کردہ پاکستانی جے ایف۔ 17 تھنڈر فائٹر جیٹ طیارہ کئی لحاظ سے بھارت میں کئی ممالک کے پارٹس سے تیارکردہ تیجاس سے کہیں بہتر لڑاکا طیارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ڈیفنس مارکیٹ میں بھارتی تیجاس کے مقابلے میں جے ایف۔ 17 بہت کامیاب ہے اور مستقبل میں بھی اس کی فروخت کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
جے ایف۔ 17 دراصل کم بجٹ والے ترقی پذیر ممالک کیلئے کم قیمت میں زیادہ مؤثر سنگل انجن فائٹر جیٹ کی بہترین آپشن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اب جبکہ اس کا نیا ورژن بلاک 3 جدید ترین اے ای ایس اے ریڈار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے توعالمی منڈی میں اس کی ڈیمانڈ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔جے ایف۔ 17 تھنڈر پروگرام مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت  پاکستان کے پاس  120 سے زیادہ تھنڈر طیارے استعمال کی حالت میں ہیں جبکہ اس سے زیادہ تعداد کیلئے آرڈر ہیں۔ ان حقائق سے ان طیاروں کی لاجسٹک، سپیئر پارٹس، سروسنگ، ٹریننگ، اپ گریڈنگ، استعمال شدہ ہتھیاروں اور الیکٹرانکس کے انضمام کی کامیابی کا ایک ہموار عمل ثابت ہوتا ہے۔



جب سے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاکستان نے بھارتی طیارے تباہ کیے ہیں، جے ایف۔ 17 کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فرانس اور دیگر ڈیفنس ائر شوز میں پاکستانی پائیلٹوں نے جے ایف۔ 17 تھنڈر کی جو جادوئی مہارت اور کارکردگی دنیا کو دکھائی ہے، اس نے فضائی جنگ کے ماہرین کوبے حد متاثر کیا ہے۔
اس سے پاکستان کو ایک اچھا خاصا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ اور پاکستان کی ڈیفنس انڈسٹری کا پروگرام مزید ترقی اور جدت پذیری کی طرف بڑھتا رہے گا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق قوی امکان ہے کہ ملائشیا، آذربائیجان، عراق، اور ارجنٹائن جے ایف – 17 کے جدید ورژن بلاک۔ 3  کا آرڈر دیں گے۔
بہت سارے ممالک ایک کم قیمت ٹیگ، فروخت کے بعد سروس کی فراہمی،  فنانسنگ کی سہولت  اور دوسرے صارفین کے کامیاب استعمال کی وجہ سے جے ایف۔ 17 تھنڈر کو اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے خواہش مند ہیں۔
حرف اختتام
پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی بہترین صلاحیتوں کی بدولت پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ہتھیاروں کی  صنعت میں مسلح افواج نے عالمی دفاعی مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا ہے جو یقینا ایک قابل تحسین امر ہے۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 592مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP