قومی و بین الاقوامی ایشوز

دو ہزار سولہ ء کا پاکستان

2016ء کا پاکستان کیسا ہو گا؟اس سوال کا جواب گزرے ماہ و سال میں ہے۔میرا احساس ہے کہ اس کی بنیاد 2015ء میں رکھ دی گئی ہے۔ ہماری قومی تاریخ میں یہ سال بہت اہم ہے۔16 دسمبر2014 ء کو، جب ہم اپنی تاریخ کے ایک المناک باب ’ سقوط ڈھاکہ‘ کو یاد کر رہے تھے، ایک اور سانحہ ہوا جس نے اگرایک طرف دلوں کو دہلا دیا تو دوسری طرف قوم کو فکری یکسوئی عطا کر دی۔ آنسوؤں میں بھیگی قوم نے یہ جان لیا کہ اس کے قومی وجود سے کون سا آسیب آلپٹا ہے۔ سیاسی قیادت اور پاک فوج نے مل کر ایک حکمت عملی بنائی۔ ضربِ عضب کی باگ پاک فوج کے جوانوں نے اپنے ہاتھ میں تھام لی اور یوں پاکستان کے وجود کو اس آسیب سے آزاد کرانے کے لئے فیصلہ کن معرکے کا آغاز ہوا۔ 2015 ء میں اس سمت میں جو پیش رفت ہوئی، اس نے ایک مدت کے بعد قوم کو امید کا پیغام دیا۔ لوگ خوف سے آزاد ہونے لگے۔ امید کی ایک کونپل پھوٹی اور پھر تھوڑی دیر میں ہر طرف گلستان کھل سا اٹھا۔

 

2016ء میں ہمیں بحیثیت قوم نہ صرف اس کام کو آگے بڑھانا ہے بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ مستقبل میں قومی وجود کو ایسے آسیبوں سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے‘ وہ کون سے خلا ہیں جہاں سے دہشت گردی کو گھسنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ فوج ہتھیار اٹھانے والوں کو نہتا کر سکتی ہے۔ وہ مزاحمت پر آمادہ ہاتھوں کو توڑ بھی سکتی ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ اگر مزید ایسے ہاتھ سامنے آتے رہیں جو بندوق بردار ہوں‘ ایسے ٹکسال قائم رہیں جہاں اس طرح کے مجرم ڈھلتے ہوں تو پھر دست شکنی کا کام بڑھ جائے گا۔ اب کوئی ملک اپنی فوج کو ہمیشہ داخلی تنازعات میں نہیں الجھا سکتا۔ فوج کا اصل کام تو خارجی اور بیرونی جارحیت سے ملک کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جہاں فوج لوگوں کے ہاتھوں سے ہتھیار چھینے، وہاں وہ لوگ بھی بروئے کار آئیں جو ان ٹکسالوں کو بند کرائیں جہاں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں۔

 

اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے نظام تعلیم کی اصلاح کرنی ہے۔ تعلیم اجتماعیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ پروان چڑھتی نسل میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وطن کی محبت فطری ہے اور انفرادی یا علاقائی شناخت کے ساتھ ایک قومی شناخت بھی ہوتی ہے جو دیگر شناختوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ اب ایک نوجوان اپنی شناخت میں پنجابی یا سندھی ہو سکتا ہے‘ تعلیمی اختصاص کے حوالے سے وہ عالم دین ہو سکتا ہے یا طبیعات کا عالم۔ اس فرق کے باوجود سب پر یہ واضح ہونا بھی ضروری ہے کہ وہ ایک جسد واحد کے اعضاء ہیں، جسے پاکستان کہتے ہیں۔ پاکستان کا تحفظ اور سلامتی ان کی انفرادی اور علاقائی سلامتی کی پہلی شرط ہے۔

 

اس باب میں ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تعلیم کے باب میں بہت سے ابہام ہیں۔ تقسیم در تقسیم کا ایک سلسلہ ہے جو نظریاتی اور سماجی سطح پر مختلف نظریاتی اور سماجی بنیادوں پر متصادم طبقات کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ طبقات قومی یکسوئی سے محروم ہیں اور طبقاتی مفادات کے تناظر میں سوچتے ہیں۔ دینی مدارس کے فارغ التحصیل یہ سمجھتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ انہیں مٹانے کے درپے ہے اور جدید پڑھا لکھا طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل سماج کی مادی ترقی میں حائل ہیں۔ اسی طرح جدید تعلیمی نظام میں ایک طرف مراعات یافتہ طبقہ ہے اور دوسری طرف سرکاری سکولوں میں پڑھنے والی اکثریت۔ دونوں کے مفادات بھی ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس تفاوت سے وہ خلا وجود میں آتا ہے، جہاں سے دہشت گردی جیسے آسیب کو گھسنے کی جگہ ملتی ہے۔ طبقاتی تقسیم جہاں محرومی کو جنم دیتی ہے وہاں دوسرے طبقات کے خلاف نفرت بھی پیدا کرتی ہے۔ ہر طبقہ دوسرے طبقے کو اپنے حقوق کا غاصب سمجھتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے فکری یکسوئی یا قومی یک جہتی پیدا نہیں ہو سکتی۔

 

نظام تعلیم کے ساتھ نظام سیاست کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ جمہوریت کی نتیجہ خیزی کا انحصار نظام سیاست پر ہے۔ نظام سیاست کی بنیاد سیاسی کلچر پر ہے اور سیاسی کلچر کی اکائی سیاسی جماعتیں ہیں۔ سیاسی جماعتیں اگر جمہوری روایات کے ساتھ مخلص ہوں گی تو اس سے جمہوریت ثمر بار ہو گی۔ اگر سیاسی جماعتوں کا نظم میرٹ اور صلاحیت پر استوار ہو گا تو سیاسی نظام میں بھی میرٹ اور صلاحیت فیصلہ کن سمجھے جائیں گے۔ ہماری سیاست ابھی تک برادری ازم، علاقائیت اور گروہی مفادات کی اسیر ہے۔مزید یہ کہ سرمایہ بھی اب فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب سیاسی جماعت کے عہدے یا کسی عوامی فورم کے لئے نامزدگی میں سرمائے کی اہمیت بنیادی ہو گئی ہے۔ اس سے جمہوریت کے اس بنیادی تصور کو نقصان پہنچا ہے جو دراصل ایک عام آدمی کو توانا بناتی ہے۔ اسے موقع دیتی ہے کہ وہ اجتماعی فیصلوں پر اثر انداز ہو۔ اگر سیاسی پارٹیوں کے عہدے اور نامزدگیاں پیسے، اقرباپروری اور مفاد کے تابع ہو جائیں گی تو عام آدمی فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں ہو سکے گا۔ یوں وہ ووٹ دینے کے باوجود خود کو بے بس سمجھے گا۔ اس سے مایوسی پھیلتی ہے جو جمہوری نظام پر عدم اعتماد کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ فضا ان لوگوں کے لئے ساز گار ہوتی ہے جو عوامی جذبات کو مشتعل کر کے، انہیں تشدد اور لاقانونیت پر اکساتے ہیں۔ سیاسی عمل کی ناکامی ان عناصر کو مضبوط کرتی ہے جو ریاستی نظام کو چیلنج کرتے اور یوں سماج کو فساد میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

 

تیسری اہم بات نظامِ مذہب کی اصلاح ہے۔ پاکستان میں ستانوے فی صد مسلمان بستے ہیں اور ان کی اکثریت ایک مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ عوام کو جو مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، وہ اس کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں بد قسمتی سے وہ لوگ بھی گھس آتے ہیں جو مذہب کی حقیقی تعلیم سے بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ عالم یا کسی مستند دینی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے۔ نیم ملا خطرہ ایمان، کے مصداق وہ سماج کی مذہبی تعلیم کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اپنی خواہشات اور مفاد کو وہ ’’مذہب‘‘ کے نام پر سماج پر مسلط کرنے لگتے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کا ایک بڑا سبب یہی طبقہ ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرے میں گھس آنے کا موقع اس طرح ملتا ہے کہ مسجد یا مدرسے کی تعمیر کے لئے کوئی قانونی یا سماجی قدغن نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو یہ بتائے کہ کہاں مدرسے کی ضرورت ہے اور کہاں مسجد کی۔ ایک محلے میں ایک مسجد ہوتی ہے جو مقامی آبادی کے لئے کفایت کرتی ہے۔ لیکن پھر ایک دوسرے مسلک کا فرد آتا اور اپنے مسلک کی مسجد بنانے لگتا ہے۔ یوں محلے میں مسلکی تقسیم کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ اس سے مذہب کے نام پر فرقہ واریت، تقسیم اور فساد پھیلنے لگتا ہے۔ یہ بھی ایک ایسا خلا ہے جو انتہا پسندی کو گھسنے کے لئے جگہ فراہم کرتا ہے۔ اس وقت اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ مذہبی تعلیم و تربیت کے نظام کو کسی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ مذہب کے نام پر فساد پھیلانے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

 

چوتھی اہم بات آئین اور قانون کی حکمرانی ہے۔ ریاستی اداروں میں اس سوچ کا پختہ ہونا ضروری ہے کہ ملک کا آئین سب کے لئے حدود کا تعین کرتا ہے۔ جب لوگ اس کا خیال نہیں کرتے تو پھر تصادم کی فضا جنم لیتی ہے۔ ہمارے آئین میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے حوالے سے ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض غیر رسمی ادارے جیسے میڈیا، بھی ریاستی ادارے ہی شمار ہونے لگے ہیں۔ قومی مفاد اور یک جہتی کے حوالے سے ان میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ جہاں ریاستی ستونوں میں ہم آہنگی نہیں ہوتی وہاں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ سرمایہ دار سے لے کر عامی تک، بے یقینی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس سے ایک طرف تومعاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف سماجی بد امنی۔ اس سے بھی وہ خلا جنم لیتا ہے جو سماج کو مضطرب کر دیتا ہے اور اہل فساد کو نظام میں گھسنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

 

2015ء میں ہم نے معاشرتی اصلاح کے لئے جس تاریخ ساز عمل کا آغاز کیا، اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ 2016ء میں ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے۔ نظام تعلیم، نظام سیاست، نظام مذہب اور احترام آئین کے دائرے میں ہمیں ایک مربوط پروگرام تشکیل دینا ہو گا تاکہ ہم اہل پاکستان کو ایک متحد قوم بنا سکیں۔ جذبہ یقیناً موجود ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اسے ایک تعمیری اور نتیجہ خیز قوت میں بدل ڈالیں۔ اگر ہم ان چار شعبوں میں اصلاحات لاتے ہوئے انہیں باہمی ربط دے سکیں تو ہمارے قومی وجود میں کوئی ایسا نمایاں خلا باقی نہیں رہے گا جہاں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عفریت کو گھسنے کی جگہ مل سکتی ہے۔پاک فوج، پولیس اور سلامتی کے دوسرے اداروں کے لہو سے اُمید کاایک چراغ روشن ہو چکا۔ اب ہم نے2016 ء میں اسے چراغوں کے قافلے میں بدلنا ہے۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 279مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP