قومی و بین الاقوامی ایشوز

دو ہزار سولہ کے دوران افغانستان کا متوقع منظر نامہ

افغانستان کے حالات میں 2015 کے دوران جو ابتری واقع ہوئی وہ سال کے آخر تک جاری رہی ۔ اس صورت حال نے جہاں افغان ریاست کو اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پریشان کئے رکھا وہاں پڑوسی ممالک اور اہم اتحادی بھی تشویش کا شکار رہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ دسمبر کے مہینے میں ہارٹ آف ایشیا کے عنوان سے اسلام آباد میں جو کانفرنس منعقد ہوئی اس میں عالمی برادری اور پاکستان جیسے ممالک کی غیر معمولی دلچسپی اور سنجیدگی دیکھنے کو ملی اور ایک مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کیا جائے گا اور مفاہمتی عمل کے دوران ہر ممکن تعاون کا راستہ اپنایا جائے گا۔ سال 2015 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے جس کا تمام تر فائدہ حملہ آوروں کو ہوا جبکہ نقصان افغانستان کو اٹھانا پڑا اور اس صورتحال نے دوسروں کے علاوہ بعض عالمی طاقتوں کو بھی خطے کے بدلتے حالات کے تناظر میں مسلسل تشویش سے دوچار کئے رکھا۔

 

افغانستان میں استحکام کے بجائے بدامنی اور عدمِ استحکام میں 2015 کے دوران اضافہ کیوں ہوا۔ ماہرین اس کے مندرجہ ذیل عوامل بتاتے ہیں۔

 -1 افغان فورسز کی صلاحیت اور وسائل کے بارے میں جو دعوے کئے گئے تھے وہ درست نہیں تھے اور جب غیر ملکی فوجیں نکل گئیں تو افغان فورسزنے اس صلاحیت کا مظاہر نہیں کیا جس کی توقع تھی۔

 -2  افغان حکومت کے دو اہم سرابراہان یعنی ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کے درمیان مشترکہ حکومت کی تشکیل کے باوجود وہ ہم آہنگی اور اعتماد سازی پیدا نہ ہو سکی جس کی ریاست کوضرورت تھی اور ان کے باہمی اختلافات ریاستی اُمور اور وزارتوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے رہے جس نے نظامِ مملکت کی فعالیت کو بری طرح متاثر کیا۔

 -3 امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حسبِ توقع اس سطح کی مالی اور تیکنیکی معاونت فراہم نہیں کی جس کی افغان فورسز اور دوسرے اِداروں کو ضرورت تھی۔ اس عمل کی وجہ سے ریاست کو وسائل کے فقدان کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سوال سراٹھانے لگاکہ ریاستی معاملات مستقبل میں کیسے چلائے جائیں۔

 -4 رشید دوستم اور ایسے دیگر کمانڈروں اور اعلیٰ حکام نے اکثریتی آبادی یعنی پشتونوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پشتونوں کا ریاست پر اعتماد اٹھنے لگا اور وہ ردِ عمل کے طور پر طالبان وغیرہ کی غیرعلانیہ معاونت کرنے لگے۔ افغان صدر بوجوہ وہ مقبولیت برقرار نہ رکھ سکے جو کہ الیکشن سے قبل ان کو حاصل تھی اور معاملات پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ۔

 -5 افغان صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان اور بعض دیگر اتحادیوں کو الزامات اور مخالفانہ بیانات کا نشانہ بنا کر نہ صرف خود سے دُور کیا بلکہ کشیدگی کا راستہ بھی ہموار کیا جس کا ان قوتوں اور ممالک نے فائدہ اٹھانا شروع کیا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا چاہ رہے تھے۔

 -6 طالبان کے ساتھ مذاکرات کے جس سلسلے کا مری پراسس کے دوران آغاز کیا گیا تھا وہ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر لیک کرنے سے تعطل کا شکار ہوا اور نئے طالبان سربراہ نے اپنی موجودگی اور صلاحیت ثابت کرنے کے لئے حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ کیا جس نے ریاست کو ہلاکر رکھ دیا۔

 -7 سیاسی عدمِ استحکام اور انتہا پسندوں کے حملوں کے باعث ہزاروں تعلیم یافتہ لوگ افغانستان سے ایک بار پھر سے دوسرے ممالک میں جانا شروع ہوگئے۔ اس رجحان نے دیگر کو بھی  خوفزدہ کردیا جبکہ عام آدمی کی معاشی حالت بھی متاثر ہونا شروع ہوئی۔ اس صورتحال نے عدمِ اطمینان کا راستہ ہموار کیا اور ریاستی معاملات اور معاشی سرگرمیوں کو دھچکے لگنے لگے شروع ہوگئے۔

 

یہ وہ عوامل تھے (یا ہیں) جن کاسال 2015 کے دوران افغان ریاست‘ سیاست اور سوسائٹی کو سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں ریاست کی گرفت کمزور ہونے لگی اور حالات ابتر ہوتے گئے ۔

 

اب سوال یہ ہے کہ سال 2016 کیسا ہوگا اور اس جنگ زدہ افغانستان کو اس برس کے دوران کون سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واقعات و حالات کے تناظر میں مستقبل کے افغانستان کااگر جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ حالات کوئی بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں قندوزپر طالبان کے قبضے اور اس کے بعد کی صورت حال کی مثال دی جاسکتی ہے۔

 

افغان وزارتِ داخلہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق طالبان تقریباً 15 روز تک اس اہم شہر پر قابض رہے۔ انہوں نے اس دوران نہ صرف یہ کہ شہر کو یرغمال بنائے رکھا بلکہ سرکاری عمارات پر بھی قبضہ جمائے رکھا۔ ان رپورٹس کے مطابق ان دو ہفتوں کے دوران تقریباً 300 افراد جاں بحق جبکہ 600 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد کافی زیادہ اور پریشان کن ہے تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان اور اتحادی فورسز دو ہفتوں کے طویل عرصے تک اس محدود شہر کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے میں ناکام رہیں اور طالبان یہ پیغام دینے میں عملاً کامیاب ہوئے کہ وہ لمبے عرصے تک مضافات تو ایک طرف اہم شہروں پر قبضہ کرنے اور قابض رہنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

 

جس روز اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا اس سے ایک روز قبل طالبان وغیرہ نے دو صوبوں قندھار اور ہرات پر بیک وقت شدید حملے کئے۔ ان حملوں کے دوران پہلے روز تقریباً 150 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں کی تھی۔ حالت یہ تھی کہ طالبان دیگر عمارات کے علاوہ قندھار انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں بھی گھس گئے اور فورسز ان کا راستہ روکنے میں ناکام رہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ افغان ریاست یا اس کی فورسز نے قندوز کے حملے سے یا تو سبق نہیں سیکھا تھا یا اب کی بار بھی ان کی صف بندی درست نہیں تھی۔ جس روز افغان صدر اور ان کی ٹیم کا اسلام آباد میں شاندار استقبال کیا جارہاتھا‘ اُس وقت بھی ان دو صوبوں یا شہروں میں فریقین کے درمیان شدید لڑائی جا ری تھی اور قندھار ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

 

افسوسناک امر یہ تھا کہ اس دوران بھی افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نے اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اپنے علاوہ صدر کو بھی الزامات کی گرفت میں لیا اور اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ صدارتی حکم سے قبل خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں تو بہترہوگا۔ موصوف نے ایسا ہی کیا اور افغان صدر نے بھی جواب میں استعفےٰ منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انٹیلی جنس سربراہ کی جانب سے اپنے صدر کے خلاف جس قسم کا غیرمحتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ اس جانب اشارہ تھا کہ بعض حلقے یا حکام خود کو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں سمجھتے اور وہ قابو سے باہر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پاکستان پر الزامات لگانے کے علاوہ اپنے سربراہ مملکت کے دورہ پاکستان کے فیصلے کو بھی کھلی تنقید کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ مذکورہ کانفرنس ایک عالمی پراسس کا تسلسل تھا اور پاکستان نے صرف اس کی میزبانی کی ذمہ داری نبھانی تھی۔

 

اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے جس جذبے اور عزت کے ساتھ افغان صدر اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا اور ان کی باتوں کے علاوہ بعض شکایات کو جس طریقے سنا گیا اس نے دوسروں کے علاوہ افغان حکام کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ کانفرنس توقعات سے بھی بڑھ کر کامیاب اور متاثر کن رہی۔ افغان صدر نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ان خطرات کی کھل کر نشاندہی بھی کی جن کا افغانستان کو سامنا ہے یا مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔ ردِ عمل میں پاکستانی شخصیات نے ان کو جو یقین دہانیاں کرائیں وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں اور افغان صدر نے کابل پہنچنے کے بعد اس پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ادھر تاپی پراجیکٹ کے آغازنے بھی امن کے امکانات بڑھا دیئے۔

 

کانفرنس کے دوران افغان صدر کی، دوسروں کے علاوہ، پاکستان کے آرمی چیف سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی جو کہ حسبِ توقع کافی خوشگوار ثابت ہوئی اور پاکستانی قیادت نے ماضی قریب کے ان الزامات کو زیرِ بحث لانے سے بھی گریز کیا جو دوسروں کے علاوہ خود افغان صدر کی جانب سے بھی لگائے گئے تھے۔ یہ دراصل اس پیغام کا عملی اظہار تھا کہ پاکستانی قیادت ہر حال میں ایک مستحکم اور پُرامن افغانستان چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ یہ واضح موقف یا پیغام اس جانب اشارہ تھا کہ پاکستان اور اس کے بعض قریبی اتحادی مستقبل میں ایک اہم رول ادا کرنے جارہے ہیں اور اس رول کے نتیجے میں نہ صرف بداعتمادی میں کمی واقع ہوگی بلکہ خطے کے مجموعی حالات میں بہتری کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ دوسروں کے علاوہ امریکہ ‘ چین اور بھارت جیسے اہم ممالک نے بھی کانفرنس کے انعقاد اور پاکستانی کوششوں یا یقین دہانیوں کا کھل کر خیر مقدم کیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان‘ افغانستان اور امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے بعدجو اعلامیہ جاری کیا گیا وہ بہت جامع اور واضح تھا۔

 

اس کانفرنس کے دوران اشرف غنی نے جو نکات اٹھائے ان میں دو باتیں بہت اہم تھیں‘ ایک یہ کہ افغانستان کے دشمن اس ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور دوسری یہ کہ داعش کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ ان کی جرأت تھی کہ انہوں نے حسبِ سابق ایسے خطرات کی خود نشاندہی کی جن کا مستقبل میں اس جنگ زدہ ملک کو سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ دوسروں کے علاوہ افغان قیادت کو بھی حالات اور خطرات کا بخوبی ادراک اور خوف ہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ افغان صدرنے پاکستان سے اس کے رول کے تناظر میں متعدد مطالبات کئے جن کو غور سے سنا گیا اور ان کی، تسلی بخش اور عملی اقدامات پر مبنی، یقین دہانیوں کا جواب بھی دیا گیا۔

 

دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کانفرنس کے کافی مثبت نتائج اور اثرات مرتب ہوں گے اور اگر اس پراسس کو چین جیسے ممالک کا تعاون حاصل رہا تو بہت سے معاملات درست انداز میں آگے بڑھ پائیں گے۔ بہت سے ماہرین دونوں ممالک کو قریب لانے اور غلط فہمیاں دورکرنے میں ان قوم پرست لیڈروں کے کردار کو بھی قدر اور اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جنہوں نے کانفرنس سے قبل کابل کا دورہ کیا اور افغان حکمرانوں اور حامد کرزئی جیسے لیڈروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ کشیدگی کو مفاہمت میں تبدیل کیا جائے۔

 

  دفاعی تجزیہ کار میجر(ر) محمدعامر نے اس ضمن میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات در الزامات کے رویے کی بجائے اب حقیقت پسندی پر مبنی رویے اختیار کرنے  میں ہی افغان قیادت کا فائدہ ہے اور اس سے پورے خطے کے حالات کو بہتر بھی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق افغان قیادت کو اب بھارت اور ان چند قوتوں کے اثر سے نکلنا پڑے گا جو کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتی آئی ہیں اور غلط فہمیوں اور دوریوں کا راستہ ہموار کرتی رہیں۔ ان کے مطابق افغان قیادت کو عملاً یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر ایسا کیا گیا تو اس میں سب کا فائدہ ہوگا۔

 

ممتاز صحافی حسن خان نے کہا کہ افغان قیادت‘ میڈیا اور عوام کو اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا اور اس بات کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ ہر بات اور ہر کام کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا ان کا رویہ کتنا درست اور حقائق پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں افغانستان کی سول سوسائٹی نے ایک جائزہ ترتیب دیا ہے جس کے 10 میں سے آٹھ نکات میں موجودہ صورت حال کی ذمہ داری کسی اور کے بجائے افغانستان کے داخلی معاملات ‘ پالیسیوں اور کمزوریوں پر ڈال دی گئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے علاوہ اپنی کمزوریوں کا بھی ادراک کیا جائے تاکہ افغانستان کے علاوہ خطے کے امن‘ ترقی اور استحکام کو بھی یقینی بنایا جائے ورنہ 2016 ایک خطرناک سال بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

 

سینئر تجزیہ کار امتیاز گل کی رائے ہے کہ ریاستی رابطوں کی فعالیت کے علاوہ ٹریک ٹو کے ذریعے دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوششیں کافی سود مند ثابت ہو سکتی ہیں اور اس آپشن کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے تاکہ 2016 اور اس کے بعد کے ممکنہ خطرات کا راستہ روکا جاسکے اور مفاہمتی عمل کا آغاز بھی کیا جاسکے۔

 

بریگیڈ (ر) محمود شاہ نے اس ضمن میں کہا کہ افغان قیادت کو پڑوسیوں اور مخلص اتحادیوں کی معاونت کے علاوہ اندرونی سطح پر موجود قیادت کے اختلافات کو دُور کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگئی کیونکہ حکمرانوں اور اداروں کے تصادم اور کشیدگی کے منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور اس کا تمام تر فائدہ حملہ آور قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ دوسروں پر انحصارکرنے کے بجائے اب افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔

 

تقریباً سبھی تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے ہے کہ سال2016 افغانستان کے لئے کافی بھاری سال ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ میں اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر افغان ریاست کی اندرونی کمزوریوں پر قابو پایا جاسکے اور پاکستان‘ چین اور امریکہ جیسے ممالک کے رابطوں‘ معاونت اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو حالات بہتری کی جانب جاپائیں گے اور خطہ مزید بربادی سے دو چار ہونے کے بجائے ایک پُرامن اور اچھے مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے گا۔


مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 323مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP