سانحہ مشرقی پاکستان

دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے

 قیام پاکستان کی بنیاد ' د وقومی نظریہ' ایک حقیقت ہے، جو آج بھی زندہ ہے۔برصغیر میں رہنے والے مسلمان اورہندو ہراعتبارسے ایک دوسرے سے جداتھے۔ ان کی زبان،رسم ورواج ،کھاناپینا ،ان کے مذہبی تہوار ،خوشی ،غمی سب ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔یہاں تک کہ ہندو مسلمانوں کے ساتھ ایک جگہ پانی بھی نہیں پیتے تھے ۔اہم جگہوں مثلاًریلوے اسٹیشنز وغیرہ پرہندوؤں اورمسلمانوں کے لئے پانی کاعلیحدہ علیحدہ انتظام ہوتاتھا ۔قیام پاکستان کے بعد بھارت میں ایک نہیں درجنوں مسلم کش فسادات ہوئے ۔ اب بھارت کی انتہاپسند فاشسٹ مودی حکومت نے ایک بار پھرا س بات کی تصدیق کردی ہے کہ ہندو اورمسلمان دوعلیحدہ علیحدہ قومیں ہیں ۔بھارت میں ایک اورپاکستان کی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔   
فاشسٹ بھارتی حکومت صدیوں سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کوبھارتی شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ان کی شہریت کومشکوک قراردے دیاگیاہے۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان اس پررنجیدہ اورغم زدہ ہیں۔ گاو ٔ ماتا کی رکھشا کے نام پرمسلمانوں کوقتل کیاجارہاہے۔ کسی مسلمان کے پاس سے گوشت برآمد ہوجائے توبغیرکسی تصدیق یالیبارٹری ٹیسٹ کے اس گوشت کوگائے کاگوشت قراردے کرتشدد کانشانہ بنایا جاتاہے۔بھارت کی اعلیٰ عدالتیں بھی اس بات کوتسلیم کرچکی ہیں کہ گائے کے گوشت کے نام پربے گناہ مسلمانوں کونشانہ بنایاجارہاہے۔ایک نہیں درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں۔مودی سرکار اوروشواہندوپریشد اوربی جے پی کے غنڈے دندناتے پھرتے ہیں،مسلمانوں کی عزت آبرومحفوظ نہیں رہی۔بھارتی نیوزچینلز دیکھیں تودل خون کے آنسو روتاہے،بھارتی خفیہ ایجنسی 'را 'کے فنڈ پرچلنے والے انڈین نیوزچینلز دن رات مسلمانوں اورپاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ مجھے اپنے کانوں پریقین نہ آیا جب میں نے ایک انڈین نیوزاینکر کو یہ کہتے سنا کہ مسلمان گائے کاپیشاب نہیں پی سکتے توپاکستان چلے جائیں۔دنیا بھرکے مسلمانوں کی طرح بھارت میں بسنے والے مسلمانوں نے گستاخانہ خاکوں پراحتجاج کیااورپرامن ریلیاں نکالیں توانھیں کہاگیاکہ واقعہ فرانس میں ہوا ہے مسلمان کیوں احتجاج کررہے ہیں ،جوگستاخانہ خاکوں پراحتجاج کررہاہے اسے پاکستان بھیج دیناچاہیے۔مسلمان بے چارہ خوشی منائے یاغم ، طعنہ اسے یہ سننے کوملتاہے کہ پاکستان چلے جاؤ ۔سچی بات یہ کہ بھارت میں فاشسٹ مودی سرکارنے اپنی اسلام دشمن پالیسیوںکے باعث بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کوایک نئے انداز سے سوچنے پرمجبورکردیاہے،اکثر بھارتی مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ کاش وہ آزادی کے وقت بھارت میں رہنے کے بجائے پاکستان چلے جاتے ۔


فاشسٹ بھارتی حکومت صدیوں سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کوبھارتی شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ان کی شہریت کومشکوک قراردے دیاگیاہے۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان اس پررنجیدہ اورغم زدہ ہیں۔ گاو ٔ ماتا کی رکھشا کے نام پرمسلمانوں کوقتل کیاجارہاہے۔ کسی مسلمان کے پاس سے گوشت برآمد ہوجائے توبغیرکسی تصدیق یالیبارٹری ٹیسٹ کے اس گوشت کوگائے کاگوشت قراردے کرتشدد کانشانہ بنایا جاتاہے۔


بھارت کے متنازع قوانین نے خود دوقومی نظریے کی تصدیق کردی ہے۔بھارت میں ہندو اورمسلم دوعلیحدہ علیحدہ قوموں کے نظریے کے تحت ہی دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ قوانین بن رہے ہیں۔ان متعصبانہ قوانین نے دوقومی نظریے کے سچاہونے پرمہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔بہت سے دوسرے عالمی نشریاتی اداروں کی طرح بی بی سی نے بھی اپنی ایک رپورٹ''انڈیا میں مسلمان این آرسی سے خوفزدہ کیوں ہیں''میںواضح لفظوں میں لکھا ہے کہ انڈیاکی حکومت کے اعلان پر کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کی نشاندہی کے لئے نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنزکاعمل پورے ملک میں شروع کرے، مسلمانوں میں عدم تحفظ کااحساس پیداہوگیاہے''۔بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں کی آبادی 35فیصد سے زیادہ ہے،صدیوں سے رہنے والے مسلمانوں کوغیرقانونی قراردے دیاگیاہے،آسام میں مسلمانوں کی نسل کشی بھی معمول بن چکی ہے۔ اب مودی سرکاربھارت کے مسلمان شہریوں کوغیرملکی قراردے رہی ہے۔اس کے لئے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وہ ہندو نہیں مسلمان ہیں اس لئے وہ انڈیا کے شہری نہیں بن سکتے ۔دوسری طرف وہ ہندو جو دوسرے ملکوں یاعلاقوں سے بھارت آئے انھیں بھارتی شہری تسلیم کیاجارہاہے۔بھارتی مسلمانوں سے ان کی شہریت چھینی جارہی ہے جبکہ مذہبی بنیادوں پردوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کوبھارتی شہریت دی جارہی ہے۔یہ دوقومی نظریے کی تصدیق ہی ہے۔آج بھارتی حکومت مسلمانوں کواپناشہری ہی تسلیم نہیں کررہی اورانھیں پاکستان بھیجنے کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔آسام میں ریاستی حکومت نے جوسروے کرایاہے اس سے یہ معلوم ہواہے کہ مسلمان نہیں بلکہ زیادہ ترہندوہیں جوبنگلہ دیش سے بھارت آکر آباد ہوئے ہیں،لیکن حکومت بھارت سے مسلمانوں کونکال رہی ہے۔بھارتی حکومت کے اس فیصلے پربنگلہ دیش کے عوام بھی غصے میں ہیں ،بی جے پی کے وزرا ء نے اپنے بیانات میں بنگلہ دیش کے شہریوں کی تذلیل کی اوران کاتمسخر اڑایا۔بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیاتھا کہ مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ پورے بھارت میں این آرسی شروع کیاجائے گا۔ان کامنصوبہ ہے کہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کوپاکستان اوربنگلہ دیش کی جانب دھکیل دیاجائے اس طرح بھارت میں رہ جانے والے مسلمان بھی دباؤ میں آجائیں گے۔بی جے پی کامنصوبہ بہت خطرناک اورہٹلر کے ہولوکاسٹ سے ملتاجلتاہے جس کامقصد بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔جہاں تک سٹیزن شپ ایکٹ (سی اے اے ) کاتعلق ہے ،یہ قانون بظاہرپاکستان اوربنگلہ دیش سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف بنایاگیاہے۔یہ قانون 11دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کیاگیا۔بھارت کے متنازع ترین قانون این آر سی کوسادہ لفظوں میں بیان کریں تووہ یہ ہے کہ ہربھارتی شہری خاص کرمسلمانوں کو یہ ثابت کرناپڑے گاکہ وہ اوران کے والدین 1951ء سے پہلے بھارت کے شہری ہیں۔ایسا انھیں زبانی کلامی نہیں بلکہ دستاویزات کے ساتھ ثابت کرناپڑے گا کہ انھیں بھارت میں رہنے کاحق حاصل ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ اگرکسی مسلمان کے پاس بھارت کانیشنل کارڈ یاجمع کرائے گئے ٹیکسوں ،سرکاری یوٹیلیٹی بلوں وغیرہ کی تفصیلات ہیں توانھیں بھی ناکافی قراردیاگیاہے ۔اب غریب مسلمانوں کے لئے یہ بہت مشکل ہوگیاہے کہ وہ اپنے آباء واجداد کی بھارتی شہریت ثابت کریں۔ایسے مسلمانوں کوکہاجارہاہے کہ وہ پاکستان یابنگلہ دیش چلے جائیں ۔جبکہ غیرمسلموں کوخاص کربنگلہ دیش سے آنیوالے ہندوئوں کو دستاویزات نہ رکھنے کے باوجود بھارتی شہریت دی جارہی ہے تاکہ وہ بی جے پی کے ووٹرزبنیں ۔بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے اس بات کوتسلیم کیاہے کہ اس بل کامقصد مسلمانوں کونشانہ بناناہے۔بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیاہے کہ 2024  تک اُن تمام مسلمانوں کوبھارت سے نکال دیاجائے گاجن کے پاس اپنے آباء واجداد کی شہری دستاویزات نہیں ہوں گی ۔ 
اترپردیش جہاں کاوزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ایک فاشسٹ ہندوہے، نومبر کے شروع میں اس نے اعلان کیاکہ اترپردیش میں جہاں اب بھی کروڑوں مسلمان آباد ہیں، لفظ' جہاد' کوغیرقانونی قراردینے کے لئے قانون سازی کی جائے گی ،ممکن ہے جب آپ یہ تحریرپڑھ رہے ہوں یہ قانون سازی کردی گئی ہو۔بھارت میں رہنے والے مسلمان رہنماؤں نے فاشسٹ بھارتی حکومت کے ان اسلام دشمن اقدامات کے خلاف سرنہ جھکانے کااعلان کیاہے۔یوگی آدتیہ ناتھ اس سے پہلے گاؤ کشی کاقانون بھی منظورکراچکے ہیں ۔
اگرمسلم دشمن متعصبابہ قوانین کاجائز ہ لیاجائے توسی اے اے سے مسلمان سب سے زیادہ متاثرہورہے ہیں،وہ اس کے خلاف آوازبلند کررہے ہیں لیکن فاشسٹ حکومت ان کی کوئی بات سننے کوتیارنہیں۔سی اے اے کے ذریعے انڈیا کے شہری قانون 1955ء میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ ترامیم انڈیا کے آئین کے آرٹیکل چودہ،پندرہ اوراکیس کی خلاف ورزی ہیں۔دوسری طرف این آرسی جو نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز کامخفف ہے،سب سے زیادہ زیربحث ہے ،اس قانون کااستعمال کرتے ہوئے آسام میں لاکھوں مسلمانوں کوشہریت سے محروم کردیاگیاہے۔اسی طرح نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر)ہے،اس قانون کے تحت مسلمانوں کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔این پی آرکے خلاف ہی ایک نعرہ '' ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے '' بھارت کے مسلمانوں کا مقبول ترین نعرہ بن گیاہے۔ان متنازع قوانین کے باعث نہ صرف مسلمانوں کے سروں پربھارتی شہریت سے محروم ہونے کی تلوار لٹک گئی ہے بلکہ انھیں مذہبی انتہاپسندی کے الزام میں جیل یاکسی  کیمپ میں بھی بھیجاجاسکتاہے ۔
   بھارت کے ان ظالمانہ اورمتعصبانہ قوانین کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کے دھرنے میں لگنے والے نعرے پوری دنیامیں سنے گئے ہیں۔میری آنکھوں کے سامنے دھرنے میں بیٹھی اس بوڑھی دادی ماں کاچہرہ گھوم جاتاہے، جسے دیکھ اورسن کر آنکھوں سے بے اختیارآنسو چھلک پڑتے ہیں ۔دھرنے میں بیٹھی بوڑھی ماں کی آنکھوں سے آنسوٹپ ٹپ گررہے تھے ۔۔۔جواپنی بھرائی ہوئی آوازمیں کہہ رہی تھی ،میں اپنے بچوںکو لے کر کہاں جاؤں۔۔۔کوئی ماں کہہ رہی تھی پاکستان نہ جاکرغلطی کی ،جناح نے پاکستان صحیح بنایا۔۔۔۔،کسی ماں کی زبان پرتھا مودی مسلمانوں کاقاتل ہے ۔۔۔دہلی کے شاہین باغ میں بیٹھی خواتین ببانگ دہل کہہ رہی تھیں پاکستان کاقیام درست فیصلہ تھا،اوران سے گفتگو کرنے والے بعض نیوزچینلز کے اینکرز جواب میں طعنے دے رہے تھے پاکستان چلے جاؤ۔۔۔۔بھارت میں رہنے والے مسلمان پریشان ہیں ، وہ اب اپنی شہری دستاویزات کہاں سے لائیں گے ؟ کیسے ثابت کریں گے کہ وہ بھارت کے شہری ہیں۔۔ایسی ایک نہیں لاکھوں کہانیاں ہیں۔بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان خون کے آنسو رو رہے ہیں۔مسلمان حسرت ویاس کی تصویر بن چکے ہیں۔انھیں اپناکوئی مستقبل نظرنہیں آرہا۔کوئی بعید نہیں کشمیر کے نوجوانوں کی طرح یہ نوجوان بھی بندوق اٹھالیں۔
    اب سوال یہ ہے کہ بھارت میں متنازع قوانین سمیت مسلمانوں کے خلاف جوکچھ ہورہاہے کیا یہ سب محض اتفاق ہے یاکسی سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ ۔میرا جواب یہ ہے کہ یہ اتفاق نہیں۔یہ بی جے پی کاایجنڈا اورسوچاسمجھامنصوبہ ہے جس کے تحت وہ سیکولربھارت کوایک ہندو ریاست میں بدل رہے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں بھارت کاسیکولر طبقہ اوراِن قوانین کی مخالف سیاسی جماعتیں بے بس نظرآتی ہیں۔بی جے پی کامنصوبہ صرف پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ وہ خطے کے تمام مسلم ممالک اوربھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف بھی ہے۔بی جے پی کے ایجنڈے سے جتناخطرہ پاکستان کوہے اتناہی بنگلہ دیش اور مالدیپ ،یہاں تک کہ غیرمسلم ممالک نیپال اورسری لنکا کوبھی ہے۔فاشسٹ بھارتیہ جنتاپارٹی ہٹلر کی طرح اپنانظریہ پورے جنوبی ایشیاپرمسلط کرناچاہتی ہے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے انتہاپسند ہندورہنماؤں کے رویے سے اندازہ لگالیاتھاکہ مسلمان ،ہندوؤں کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے ،اس لئے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان ضروری ہے۔
  قائداعظم محمد علی جناح نے آخری حد تک ہندومسلم اتحاد کی بات کی لیکن انتہاپسندوںنے آپ کی طرف سے دوستی کے ہاتھ کومسلمانوں کی کمزوری سمجھا۔گاندھی جی کی قیادت کے باوجود کانگریس میں انتہا پسند ہندوؤں کابہت اثرروسوخ تھا۔انتہاپسند ہندو تنظیم آرایس ایس نے گاندھی کوقتل کیا۔آرایس ایس کے بطن سے ہی بھارتیہ جنتاپارٹی پیدا ہوئی ۔ سردار پٹیل کے مسلمان دشمن نظریات سے کون واقف نہیں۔سردار پٹیل نے مسلمانوں کے لئے بھارت کی زمین تنگ کردی تھی۔مسلمانوں کومرعوب کرنے کے لئے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اسی سردار پٹیل کاایک بڑا مجسمہ بنوایا۔،آرایس ایس اورہندومہاسبھا جیسی دہشت گرد تنظیمیں بی جے پی کی اتحادی ہیں ۔
     قوموں کے عروج وزوال اورقوموں کی تشکیل کی تحقیق کریں توبہت سی باتیں سامنے آتی ہیں،یقینی طورقوموں کی تشکیل میں بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ قوموں کی زبان ،رہن سہن ،خوشی غمی کے اپنے اپنے طریقے اوررسم ورواج ہوتے ہیں۔مسلمان اورہندوصدیوں سے ایک جگہ رہ رہے تھے لیکن ان کی زبان ،رسم ورواج کلچر علیحدہ علیحدہ تھا۔مسلمان جسے اپناہیروکہتے تھے ،ہندو اپنادشمن سمجھتے تھے ۔جہاں تک زبان کاتعلق ہے،ہندوؤں کی اکثریت اُردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھتی تھی ۔شاعرمشرق علامہ اقبال نے پاکستان کاخواب دیکھا۔ان سے پہلے سرسید احمد خان ،میرتقی میر ،مرزا غالب، مولانامحمد حسین آزاد سمیت اردو کے جتنے بھی بڑے ادیب ،شاعرگزرے وہ مسلمان تھے۔ اُردو مسلمانوں کی زبان بن گئی تھی۔یہاں تک کہ آج بھی بھارت میں مسلمانوں کی زبان اُردو اورہندوؤں کی زبان ہندی سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 1867ء میں بنارس میں ہندوؤں نے اُردوکے خلاف تحریک چلائی۔یہ ہندو اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری اورعدالتی زبان بنواناچاہتے تھے،کیونکہ جیسے میں نے پہلے بتایا،وہ اردوکومسلمانوں کی زبان سمجھتے تھے۔ ہندومسلم فسادات بھی ہوئے۔ان فسادات نے سرسید احمد خان سمیت بہت سے مسلمان رہنماؤں کی سوچ بدل دی ۔اس ہندی اردو لڑائی کے بعد ہی سرسید احمدخان نے دوقومی نظریہ پیش کیاتھاکہ مسلمان اورہندو ہرلحاظ سے دوعلیحدہ قومیں ہیں۔یہ دوقومی نظریہ قیام پاکستان کی بنیادبنا ۔برصغیر کے مسلمان اور ہندودونوں اپنے آپ کوایک دوسرے سے علیحدہ سمجھتے تھے ،ایک دوسرے میں شادیاں بھی نہیں کرتے تھے ،کھاناپینا بھی علیحدہ تھا ۔جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا اہم جگہوںپرمسلمانوں اورہندووں کے لئے علیحدہ علیحدہ پانی کاانتظام ہوتاتھا،وہ پانی بھی ایک جگہ سے نہیں پیتے تھے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندو سمجھتے تھے کہ اگرمسلمانوں کے ساتھ پانی پیا تووہ بھرشٹ ہوجائے گا۔یہاں تک کہ شہراوردیہات بھی مسلمانوں اورہندوؤں میں تقسیم تھے۔کہیں مسلمانوں کی اکثریت تھی توکہیں ہندوؤں کی ۔میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا،مضمون طویل ہوجائے گا۔انتہاپسندہندو رہنما کھلے عام یہ کہتے تھے کہ بھارت صرف ہندوؤں کاہے۔یہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھارت کوایک انتہاپسندہندوریاست بناناچاہتے تھے جس کی کوششیں آج مودی حکومت کررہی ہے۔کہنے کامقصد یہ ہے کہ مسلمان خود کوہرلحاظ سے ہندوؤں سے علیحدہ سمجھتے تھے،اسی طرح ہندو خود کومسلمانوں سے علیحدہ قوم تصور کرتے تھے۔ میں1997 ء میں لاہورکے ایک بڑے قومی اخبارمیں بحیثیت رپورٹر کام کررہاتھا۔قیام پاکستان کے پچاس سال کے حوالے سے کئی انٹرویوز کئے۔ تحریک پاکستان کے کارکنوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔مشرقی پنجاب اوردہلی، لکھنؤ سے آنے والے مہاجرین کے بھی انٹرویوزکئے۔ہرشخص مطمئن اورخوش تھا کہ پاکستان بن گیااوروہ پاکستان آگئے ۔ان سب کایہی کہناتھا اگرپاکستان نہ بنتا توان کی حالت وہی ہوتی جوآج بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی ہے،اب تو مسلمانوں کودرجہ دوم کاشہری بھی نہیں سمجھاجارہاان کی شہریت پرہی سوالات کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ میں نے تحریک پاکستان کے ان کارکنوں سے جتنی ملاقاتیں کیں ان بزرگوں سے جتنی گفتگو ہوئی ان سب کودوقومی نظریے پریقین کامل تھا۔ مجھے یاد ہے تحریک پاکستان کے ایک بزرگ کارکن نے میرے کندھے پرہاتھ رکھ کرکہا بیٹا پاکستان آتے ہوئے میرے تین معصوم بیٹے شہید ہوگئے تھے ، لیکن میں خوش ہوں ،پاکستان میں ہوں ،آزاد ہوں کسی کی غلامی نہیں کرنی پڑرہی ۔ یہی دوقومی نظریہ ہے جوآج بھی زندہ ہے۔بھارت میں رہنے والے مسلمانوںکودوقومی نظریے کے باعث ہی تعصب کانشانہ بنایاجارہاہے اورانھیں شہریت سے محروم کرنے کے لئے متنازع ،ظالمانہ قوانین بنائے گئے ہیں۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

[email protected]
 

یہ تحریر 472مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP