متفرقات

اے جذبہء دل گر میں چاہوں

وزیرستان میں فرائض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا رتبہ پانے والے مبشرحسین شاہ (شہید) کے حالات زندگی کے بارے میں ایک تحریر

 

مبشر حسین شاہ 13مارچ 1990کو شب قدر کے موقع پر تحصیل مری کے ایک غریب سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نزاکت علی شاہ پرائمری سکول کے استاد ہیں۔ دینی تعلیم گھر میں والدہ

سے حاصل کی اور قرآن مجید پڑھنا سیکھا۔ اپریل 1995 کو گورنمنٹ پرائمری سکول لارنس کالج گھوڑا گلی مری میں داخل ہوئے جہاں سے مارچ2004 کو پرائمری پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول مری میں داخلہ لیا اور میٹرک کا امتحان 2007میں اسی سکول سے پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج مری میں داخل ہو گئے۔


سچ بولنا‘ انسانی ہمدردی‘ محنت‘ دیانتداری‘ ملکی و ملی اخوت اور بے باکی جیسے اوصاف مبشر حسین شاہ کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ ابتدائی عمر ہی سے فرمانبرداری اور فرض شناسی کو اپنا شعار بنا لیا۔ تعلیمی زندگی میں گھریلو کام کاج میں خوب حصہ لیتے اور ہمیشہ ماں باپ کا خیال رکھتے تھے۔ گھر میں بہن بھائیوں سے چھوٹا ہونے کے سبب اکثر والدین اور بہن بھائی گھریلو کاموں کے لئے مبشر کو کہہ دیتے تھے مگر زندگی بھر کبھی کسی کام سے ان کی زبان سے انکار نہ سنا۔


اپنے گھر میں گزاری ہوئی مبشر حسین شاہ کی کوئی رات ایسی نہ تھی جس میں رات سونے سے قبل اور صبح اٹھنے کے بعد اپنے ماں باپ کی خوشنودی نہ حاصل کی ہو۔ رات اپنی چارپائی پر جانے سے پہلے ماں باپ کے پاؤں، ٹانگیں، بازو، کندھے دبا کر سوتے اور صبح جاگتے ہی اس عمل کو دہرانے کے بعد وضو کے لئے پانی لوٹے میں رکھ کر دیتے۔کبھی ماں باپ کو رنجیدہ پاتے تو اُن کے پاؤں پر سر رکھ دیتے اور انہیں خوش کرنے تک سر، پاؤں سے نہ اٹھاتے تھے۔

 

قومی شناختی کارڈ ملتے ہی کالج میں ابھی سال دوم کے طالب علم تھے کہ جون 2008 میں اپنے بابا سے اجازت لے کر پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان بھرتی ہونے چلے گئے۔ مگر اپنے شوق کو ساتھ لئے ناکام واپس ہو کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ پاک آرمی جوائن کرنے کا شوق پورا کرنے کے لئے دسمبر 2008 کو دوبارہ مردان سنٹر پہنچے اور پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہو گئے۔جولائی 2009 میں اپنی تربیت مکمل کر کے 33پنجاب رجمنٹ میں سپاہی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے لگے۔ 33پنجاب رجمنٹ اس وقت گوادر میں تھی جہاں دوران خدمات ان کا دایاں پاؤں ٹوٹ گیا اور طویل عرصہ تک الشفاء ٹرسٹ کراچی ‘ سی ایم ایچ مری اور سی ایم ایچ اوکاڑہ میں زیرعلاج رہے۔ طویل علاج کے بعد رو بصحت ہوئے اور یونٹ گوادر سے اوکاڑہ چھاؤنی منتقل ہوئی تو 18 پنجاب رجمنٹ کو شمالی وزیرستان جانے اور دشمنان ملک و ملت کے خلاف آپریشنل کارروائی کا حکم ملا۔ اسی عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئے 18پنجاب رجمنٹ کو مزید نفری کی ضرورت تھی جو دیگر پنجاب رجمنٹس سے ڈیمانڈ کی گئی۔ ایسی صورت حال میں سپاہی مبشر حسین شاہ نے رضاکارانہ طور پر 18پنجاب رجمنٹ میں شامل ہو کر اس جہاد میں حصہ لینے کا اظہار کیا سینئر افسران نے اسے کم عمری کے باعث اس شوق سے روکا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے یہ ضد پوری کی اور 18پنجاب رجمنٹ میں شامل ہو کر شمالی وزیرستان چلے گئے۔ اس کارروائی کا حصہ بنے تقریباً پانچ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ جنوری 2013 کو نصف شب مبشر نے اپنے والد کو زندگی کا آخری فون کیا۔’’جس میں اپنے لئے شہادت کی دعا کرنے کو کہا۔‘‘


پاک آرمی کے سیکڑوں جوان معمول کے مطابق فوجی گاڑیوں میں سوار قافلے کی صورت میں 13جنوری 2013 بروز اتوار وزیرستان سے بنوں جا رہے تھے کہ دن تقریباً دیڑھ بجے اس قافلے کی ایک فوجی گاڑی کو میران شاہ کے مقام پر بم دھماکہ سے اڑا دیا گیا جس میں سپاہی مبشرحسین شاہ کے علاوہ دیگر جوان بھی سوار تھے۔


اس بم دھماکے کے نتیجے میں کئی فوجی جوان موقع پر شہید ہو گئے اور مبشر حسین شاہ سمیت چند جوان شدید زخمی ہوئے۔ شدید زخمیوں کو میران شاہ سے بنوں اور وہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اسی شام سی ایم ایچ پشاور لایا گیا جہاں زخمیوں کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی گئی مگر سر پر لگے ہوئے گہرے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 23جنوری2013ء بمطابق 10ربیع الاول 1434ہجری بدھ کی دوپہر سپاہی مبشرحسین شاہ جام شہادت نوش کر تے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔


اسی شام پشاور سی ایم ایچ سے جسد خاکی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقہ روانہ کر دی گئی۔ 24جنوری بروز جمعرات بوقت دس بجے بوائز سکاؤٹس گراؤنڈ میں فوجی اور سول افسران سمیت ہزاروں کی تعداد نے شہید کی نماز جنازہ ادا کی اور فوجی اعزازات کے ساتھ شہید کو گھر کے قریب دفن کر دیا گیا۔
شہید کے جذبہ حب الوطنی اور بہادری کے اعتراف کے صلہ میں پاک فوج اور حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ بسالت کا اعزاز عطا کیا۔

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP