شعر و ادب

فقر

خودی کے استحکام کے لیے اہم اخلاقی قدر، جس کو اپنانا اقبال کے نزدیک ضروری ہے، وہ فقر واستغنا ہے۔ فقر سے مراد مادی آسائشوں اور سہولتوں سے لاتعلقی اور بے نیازی ہے۔ اقبال کا فقیر وہ فقیر نہیں جو سوال کرتا ہے یا بھیک مانگتا ہے۔ اس کا فقیر تو اپنی خودی کی بیداری کے سبب اپنے آپ کو نہایت ہی بیش قیمت شخصیت سمجھتا ہے۔ فقر کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اقبال شاہین کی تشبیہہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس پرندے میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ خود دار اور غیر ت مندہے،' کسی اور کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا' بے تعلق ہے، آشیانہ نہیں بناتا، بلند پرواز ہے، خلوت پسند ہے اور تیز نگاہ ہے۔
فقر کی تعریف کے سلسلے میں اقبال غنی کشمیری کی حکایت بھی بیان کرتے ہیں۔ یہ کشمیرکے ایک معروف شاعر گزرے ہیں۔ ان کے متعلق یہ مشہور تھا کہ جب گھر کے اندر موجود ہوں تو قفل لگاکر رکھتے تھے ، لیکن جب باہر جاتے تو گھر کو کھلا چھوڑ جاتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر کے اندر ہوں تو دروازے کو تالالگا لیتے ہیں، لیکن گھر سے باہر ہوں تو سب کچھ کھلا کیوں چھوڑ جاتے ہیں؟ جواب دیا کہ گھر میں سب سے قیمتی شے میں خود ہوں۔ اس لئے جب اندر ہوتا ہوں تو اس کی حفاظت کرتا ہوں، جب میں نہ ہوں تو گھر میں کیا رکھا ہے کہ اسے تالا لگایا جائے۔
 (جاوید اقبال کی ''افکارِ اقبال'' سے
 

یہ تحریر 183مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP