شعر و ادب

غزل

یہ فخر تو حاصل ہے، بُرے ہیں کہ بھلے ہیں
دوچار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
نازک تھے کہیں رنگِ گل و بُوئے سمن سے
جذبات کہ آداب کے سانچے میں ڈھلے ہیں
تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے
ہنگامِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھائوں میں وہ لوگ جلے ہیں
جب تیرے تصور نے جلائی نہیں شمعیں
لمحات وہی اپنے دل و جاں پہ کھلے ہیں
خوشبو سے تو اندازۂ شبنم نہیں ہوتا
وہ کونسے نغمے تھے کہ پھولوں میں ڈھلے ہیں
اِک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
    (ادا جعفری کی ''شہرِ دَرد'' سے)    
 

یہ تحریر 305مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP