شعر و ادب

غزل

اہلِ دل راہ میں ملا بھی نہیں
خواب دیکھوں یہ حوصلہ بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا خواب دیکھوں کیا
رسم و رہ کا وہ سلسلہ بھی نہیں
مل ہی جانا ہے گھر پرندوں کو
مجھ کو اِک گھر مگر ملا بھی نہیں
اب بھلا کیوں ہو تم ہمہ تن گوش
میرے ہونٹوں پہ جب گلہ بھی نہیں 
دوریوں کا نہیں کوئی مفہوم
دل میں جب کوئی فاصلہ بھی نہیں 
کون دے گا غزالہ اذنِ بہار
باغ میں گل کوئی کھلا بھی نہیں
 ڈاکٹر غزالہ خاکوانی
 

یہ تحریر 232مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP