شعر و ادب

غزل

دماغوں سے ابھی تک سوچ تاتاری نہیں نکلی
مہذب ہو کے بھی اندر کی خونخواری نہیں نکلی
بدل ڈالے سبھی قانون اِک اِک کرکے جنگل کے
شفا تو مل گئی پر جڑ سے بیماری نہیں نکلی
شہنشاہتیں تو ہو گئیں دربار سے باہر
مگر درباریوں کی خُوئے درباری نہیں نکلی
جتن کرکے نکالا ہر ہوائے خبث باطن کو
ہوس نکلی پہ آنکھوں سے ہوس کاری نہیں نکلی
شعوری طور پر انسانیت تو آگئی لیکن
عقوبت خانۂ دل سے دل  آزاری نہیں نکلی
گدھے کو باپ تک بھی کہہ دیا اہلِ تصرف نے
مگر اندر سے انسانوں کے خرکاری نہیں نکلی
بہت ضربیں لگائیں ہر بت نفرت کو نفرت کی
مگر ان میں کوئی اِک ضرب بھی کاری نہیں نکلی
نکالا تو بہت کچھ ہم نے پچھلی ساٹھ صدیوں میں
نہیں نکلی تو عیاری و مکاری نہیں نکلی
اگرچہ مانتے ہیں سب گلوبل گائوں دنیا کو
مگر نقشے سے اب بھی چار دیواری نہیں نکلی
دیارِ غرب والو! لاٹری امن و محبت کی
تمہاری بھی نہیں نکلی ہماری بھی نہیں نکلی

 

یہ تحریر 102مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP