گوشہ عساکر

جنگ 1971میں مسیحیوں کا کردار

 سقوط ڈھاکہ کا المیہ جہاں قوم کو ماضی سے سبق سیکھنے کا درس دیتا ہے وہیں شہداکہ لہو سے لکھی گئی ایمان افروز داستانیں اور محافظان وطن کی لازوال قربانیاں بھی قوم کو شہداکے لہو سے تجدید وفا کا سبق یاد دلاتی ہیں۔ 1971میں وطن پر جان قربان کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں نمایاں نام پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نشان حیدرہے جنہوں نے 1971کی باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی  جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد میجر اکرم شہید نشان حیدر، میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر، سوار محمد حسین شہید نشان حیدر، لانس نائیک محفوظ شہید نشان حیدرہیں۔ ان شہداء ِوطن کے علاوہ جنگ71میں ہمیں محافظانِ وطن میں پاکستان کے مسیحی سپوت بھی ہر محاذ پر ڈٹے نظر آتے ہیں جن میں لیفٹیننٹ ڈینئیل عطارد کی داستان ایسی ہے جو قوموں کو حیات نو کا درس دیتی ہے۔(اُن کی ایمان افراوز کہانی اس مضمون کے آخر میں بیان کی جائے گی)حوالدار نواب دین ، رفیق مسیح،بلا مسیح،   شہید خوشی مسیح، گلفام مسیح، خیراتی میسح،عنایت مسیح، صادق مسیح، لال مسیح اور برکت مسیح اپنی جانیں وطن پر نچھاور کرگئے۔ ان کے علاوہ 1971کی جنگ میں قصور لاہور سیکٹر کے دفاع میں جو یونٹ مصروف عمل تھی ان میں سے 9یونٹوں کے کمانڈنگ آفیسر مسیحی تھے جن میں محفوظ شہید نشان حیدر کے کمانڈر کرنل اینن بھی تھے۔ 15 پنجاب کے اس کمانڈنگ آفیسر نے یونٹ کی ایلفا اور ڈیلٹا کمپنیوں کو محاذ پر رخصت کرتے ہوئے جو تقریر کی تھی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ تقریر یہاں نقل کی جا رہی ہے۔
میرے ہر دل عزیز جو انو!  15پنجاب (33محمدی) کی تا ریخ انتہائی شاندار ہے اس یو نٹ نے ہر سطح پر چاہے کھیل ہو یا جنگ، پہلی جنگ ِ عظیم سے لے کر 1965کی جنگ تک بہا دری کے شاندار کا رنامے سر انجام دیئے ہیں ۔ کنگ اور کوئین نے بھی اس یونٹ کی بہا دری، فرض شنا سی اور قر بانیوں کی تعریف کی ہے۔ یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میں کرنل اینن ایک مسیحی ہوں اور کنگ اور کوئین کی تعریف کر رہا ہوں دراصل آپ ہیں ہی بہا در اور بہا در کی ہر کوئی تعر یف کر تا ہے حتیٰ کہ دشمن بھی۔ ایلفااور ڈیلٹا کمپنی کے بہادرو!  15پنجاب (33محمدی )کی آبرو اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ جو بھی حکم ملے، دل سے قبول کرنا ، دلیر ی سے لڑنا اور فتح پر یقین رکھنا۔ خدا آپ کا حامی و نا صر ہو۔
اس کے علاوہ ریٹائرڈ میجر جنرل جولین پیٹر، میجر محمد اکرم شہید کے ساتھ مغربی محاذ پر ان کے آخری معرکہ ہلی میں شامل تھے۔ 
پاکستان ایئر فورس میں پائلٹ آفیسرراشد منہاس شہید کے بیس کمانڈر ایئر کموڈور نذیر لطیف کی جنگ71میں کارکرگی ایک تاریخ ہے۔ 1971کی جنگ میں پاکستان ایئر فورس کے دو مسیحی افسر ایسے ہیں جن کی  داستانوں کے بغیر دفاع پاکستان اور خصوصاً پاکستان ایئر فورس کے دفاع پاکستان کی داستان مکمل ہی نہیں ہوتی جن میں پاکستان ایئر فورس کے ونگ کمانڈر مارون لیسلے مڈل کوٹ جو پاکستانی ایئر فورس میں دو بار ستارہ جرأ ت اور ستارہ بسالت حاصل کرنے والے واحدآنجہانی ہیں۔ 
جنگ1971میں ہی سکوارڈرن لیڈر پیٹر کرسٹینے اپنی جان وطن پر قربان کی دفاع پاکستان میں مسیحیوں کے کردار پر میری چھ کتب ہیں جن میں سے مواد جمع کرکے صرف1971کی جنگ میں مسیحیوں کے کردار پر مکمل کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے لیکن یہاں جگہ کی کمی کی وجہ سے لیفٹیننٹ ڈینیئل شہید کی کہانی پر اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔ 
لیفٹیننٹ ڈینئل عطارد 
1950میں لاہور سے تعلق رکھنے والے میجر آرتھر عمانویل عطارد کی تعیناتی مشرقی پاکستان ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش)میں ہوئی۔ بعد میں انھوں نے اپنی فیملی کو وہیں بلوا لیا۔ 16 فروری 1952کو ان کی بیگم نے ڈھاکہ کے ملٹری ہسپتال میں ایک خوبصورت صحت مند بیٹے کو جنم دیا جس کا نام انھوں نے ڈینئل عطارد رکھا۔ 
مشرقی پاکستان سے واپس لاہور تعیناتی پر ہونہار ڈینیل عطارد کو سینٹ انتھونی سکول لاہور میں داخل کرا دیا گیا جہاں سے انھوں نے جونیئر کیمبرج کیا اور بچپن سے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے فوجی زندگی کو اپنا کیریئر بنایا۔ ہوش سنبھالتے ہی انھوں نے اپنے والد میجرآرتھر عمانویل عطارد (ر) اور اپنے کزن لیفٹیننٹ کرنل فلپ عطارد(ر)جواس وقت کیپٹن تھے ،کی فوج سے محبت اور وطن کی خاطر ہر قربانی دینے کی باتیں سنی تھیں۔ لہٰذا یہی جذبہ دل میں لے کر جب یہ نوجوان پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول پہنچا تو اس نے 47th پی ایم اے کورس میں شمولیت اختیار کی اور 13 نومبر 1971کو بہترین نشانہ باز کی شیلڈ لے کر پاس آؤ ٹ ہوا۔ اس کی پہلی ترجیح پنجاب رجمنٹ تھی کیونکہ اسے انفنٹری سے عشق تھا۔ یہ کورس دورانِ جنگ ہی پاس آئوٹ ہوا تھا اور جنگ کی شدت مشرقی محاذ پر زیادہ تھی جہاں اس وقت اس کے چچا زاد بھائی کیپٹن فلپ عطارد بھی مادرِ وطن کے دفاع میں مصروف تھے اور اس کے والد ریٹائرمنٹ کے بعد مادرِ وطن کے دفاع کے لیے دی گئی کال پر کشمیر میں بھمبر کے محاذ پر دشمن سے نبردآزما تھے۔ 
وطن کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار اور دفاعِ وطن کے جذبے سے سرشار اس 19سالہ نوجوان نے مشکل محاذ یعنی مشرقی محاذ کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ اور یکم دسمبر 1971کو نوجوان سیکنڈلیفٹیننٹ ڈینیل عطارد کی پہلی تعیناتی 31 پنجاب میں ہوئی جو اس وقت سلہٹ مشرقی پاکستان میں تعینات تھی۔ وہاں دورانِ جنگ اور بعد میں محاذ جنگ سے واپس آنے والے افسران اور جوانوں کے مطابق اور خاص کر اس وقت کے31پنجاب کے کمانڈنگ آفیسر مرحوم لیفٹیننٹ کرنل ریاض جاوید کے مطابق دفاعِ وطن کے لیے ہر وقت تیار یہ نوجوان فائٹنگ پیٹرول (جنگی گشت) کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتا اور اکثر دشمن سے مڈبھیڑ کے بعد جوش سے دمکتے چہرے کے ساتھ واپس آتا اور جنگ کی ہولناکیوں سے کبھی پریشان نہ ہوتا۔ جلد ہی اس نے اپنی یونٹ میں اپنے کمانڈنگ آفیسر، ساتھی افسران، جے سی اوز اور جوانوں کی نظر میں ایک فرض شناس حوصلہ مند اور دفاعِ وطن کے لیے ہر وقت تیار افسر کی حیثیت سے اپنی پہچان اور عزت بنا لی۔
13 دسمبر کی صبح سیکنڈ لیفٹیننٹ ڈینیل عطارد کی کمپنی شب بھر کے تھکا دینے والے جنگی مشن سے لوٹی تھی اور نوجوان سیکنڈ لیفٹیننٹ اپنے ایک بچپن کے جانے پہچانے بیٹ مین کے ہاتھ کا ناشتہ کر رہاتھا (یہ بیٹ مین ان کے ایک چچا کرنل اولیور آئزک کے ساتھ 16 پنجاب میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا اس لیے یہ ان کو بچپن سے جانتا تھا) خبر آئی کہ دشمن نے 31 پنجاب کی ایک پلٹون پر حملہ کر دیا ہے اور یہ پلٹون کافی دبائو میں ہے اور وہاں کافی جانی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ 
وطن کے جذبے سے سرشار اس نوجوان افسر نے فوراً اپنے جوانوں کو تیار ہونے کا حکم دیا اور اپنے جوانوں کے ساتھ فوراً محاذ جنگ پر پہنچا۔ اس معرکے میں یہ جیالا افسر دشمن سے لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوا اور آپریشن ٹیبل پر جب اس کے سینے سے تین گولیاں نکالی گئیں تو اس نے سرجن کو کہا کہ یہ گولیاں میری ماں کو سوینیئر کے طور پر دینا اور بتانا کہ میں نے دفاعِ وطن کے لیے سینے پر گولی کھائی ہے۔ (یہ بات ان کے بھائی ڈیوڈ عطارد نے سرجن کی نوٹ بک میں سے دیکھی تھی جب وہ فوجی ڈاکٹر دشمن کی تین سالہ جنگی قیدی کی حیثیت سے قید گزار کر وطن پہنچا اور ڈیوڈ عطارد کو ملا تھا)
اس طرح مٹی سے پیار کرنے والے اس نوجوان نے 13 دسمبر 1971کو 19 سال 8 ماہ اور 27دن کی عمر میں وطن عزیز پر جان نچھاور کردی۔ 
سقوطِ ڈھاکہ کے ساتھ ہی وطن کے بہت سارے سرفروش نوجوانوں کا خون بھی ضائع ہوگیا لیکن 16 فروری 1952کو ڈھاکہ میں جنم لینے والے اس مٹی کے سپوت کو قائداعظم کے پاکستان میں ہی مٹی نصیب ہوئی اور وہ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں ہی کہیں دفن ہے۔ پنجاب رجمنٹ نے اپنے اس جری، بہادر، حوصلہ مند اور دفاع وطن کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بیٹے کا نام مردان میں پنجاب رجمنٹ کے رجمنٹل سینٹر میں شہداکی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ ||


مضمون نگار متعددکتب کے مصنف ہیں۔
 

یہ تحریر 183مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP