اداریہ

امن و استحکام کا راستہ - اداریہ

وطنِ عزیز پاکستان نے بطورِ ریاست ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر اپنے اقدامات کے ذریعے یہ باور کرایا ہے کہ وہ نہ صرف خطہئِ جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں وسیع تر امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی ہمیشہ یہ کاوش رہی ہے کہ خطے کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ درپیش معاملات و مسائل کو مذاکرات کے ذریعے پُرامن انداز سے حل کیا جائے۔ مسئلۂ کشمیر ان مسائل میں سرِفہرست ہے۔ پڑوسی ملک بھارت نے جارحیت اور ظلم و استبداد کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو زیر کرنے کی اب تک جتنی کوششیں بھی کیں اُسے اُن میں ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوان نہتے ہونے کے باوجود بھارتی فوج کے اسلحہ و بارود کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر نے سے بھی گریز نہیں کرتے یہ جذبہ اس امر کا غماز ہے کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر پر 27اکتوبر 1947 کو زبردستی کئے جانے والے بھارتی قبضے کو آج بھی تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے اصولی مؤقف کی حمایت کی ہے۔ حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا اور انہوں نے پاک فوج کے جوانوں کی آپریشنل تیاریوں اور اُن کے بلند عزم کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ''پاک فوج خطے کے امن و استحکام میں بھرپور حصہ ڈال رہی ہے۔ ہم اپنی سرزمین کے دفاع کی خاطر ہردم تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کشمیر ایک اہم غیرحل شدہ ایجنڈا ہے اور ہم کشمیریوں کے تاریخی مؤقف کے ساتھ ہیں۔''

 

الحمدﷲ پاکستان دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط ملک ہے۔ پاکستان اپنے دفاع کو جدید خطوط پر استوار کر کے اپنی سالمیت کو یقینی بنائے ہوئے ہے لیکن خطے کے امن کو پامال کرنے کی پالیسی پر کبھی گامزن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر واقع پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مثبت انداز میں فروغ دینے کا متمنی رہا ہے۔ مشرق کی جانب پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لئے کوشاں ہے تو مغربی سرحد کی جانب بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے باڑ لگا کر پاک افغان بارڈرز کو محفوظ بنانے کی جدوجہد کر رہا ہے تاکہ بارڈر پار سے مداخلت کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع ہو سکے۔پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جس کا خطے کے امن کی بحالی میں کلیدی کردار ہے۔ امن کے دیرپا قیام اور فروغ کے لئے خطے کے دیگر ممالک اور بین الاقوامی طاقتوں کو پاکستان کی معاونت کر کے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا تاکہ یہ خطہ جنگوں کے خطرات سے چھٹکارا حاصل کر کے اپنے عوام کی معاشی اور سماجی ترقی کے لئے بھرپور اقدام اُٹھا سکے۔

 

پاکستان بہر طور خطے کا وہ واحد ملک ہے جس نے امن کے قیام کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائدِاعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پراپنے پیغام میں کہا تھا۔ ''قدرت نے آپ کو ہر نعمت سے نوازا ہے۔ آپ کے پاس لامحدود وسائل موجود ہیں۔ آپ کی ریاست کی بنیادیں مضبوطی سے رکھ دی گئی ہیں۔ آپ کا کام ہے کہ نہ صرف اس کی تعمیر کریں بلکہ جلد از جلد اور عمدہ سے عمدہ تعمیر کریں۔ سو آگے بڑھتے اور بڑھتے جایئے۔'' قائد اعظم کے اس فرمان کی روشنی میں آج کا پاکستان اپنے ماضی کی کوتاہیوں سے سیکھتے ہوئے مثبت طرزِ فکر اور فولادی عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا خواہاں ہے جس کے لئے عوام اور ادارے باہم مل کر اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ہم باہمی یگانگت اور اتحاد کی بدولت وطن کو در پیش تمام چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یہ تحریر 571مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP