نقطۂ نظر

گھر کی حفاظت

پٹٹری سے اترے ہوئے معاشروں، قوموں اور کھونٹے سے اکھڑے ہوئے چوپایوں کو پوری طرح سنبھلنے اور ایک بار پھر پوری قوت اور ہمت سے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہونے کے لئے عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں اور قوموں کی کیفیت تلاطم خیز موجوں سے نبردآزما ہوئی کشتی کی سی ہوتی ہے جسے ساحل تک پہنچنے کے لئے نہ جانے کتنے غوطے کھانے پڑتے ہیں اگر اس کشتی کے مسافر افراتفری اور ہڑبونگ سے کام لینے والے نہ ہوں اور اس کے ملاح ہنر مند ہوں تو وہ اسے گرداب سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اگر وہ اس کشتی میں خود ہی سوراخ کرنے لگیں اور ملاح بھی کام چوری‘ اکتاہٹ اور تھکاوٹ کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کشتی میں سوراخ کرنے والوں کے ہمدرد بننے لگیں تو پھر کوئی بہت بڑا طوفان نہیں ایک معمولی سی شوخ لہر بھی کشتی اور اس کے مسافروں کونگلنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔


بابا جی نے برسوں کی محنت سے ایک بڑا اور خوبصورت سا گھر بنایا لیکن انہیں اس میں زیا دہ عرصہ رہنا نصیب نہ ہوا اور وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی اولادیں ان میں رہنے لگیں۔ وقت گزرتا رہا گھر کا رنگ و روغن اترنا شروع ہو گیا۔ کچھ دیواروں سے پلستر بھی اترنے لگا لیکن گھر والوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، ان کے اخراجات تھے کہ دن بدن بڑھتے گئے، کام کی جانب توجہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی، جب جمع پونجی ختم ہونے لگی تو گھر کو بینک میں گروی رکھ کر قرضہ لے لیا لیکن بجائے اسے اپنے کاروبار میں لگانے کے اسے بھی اللّوں تللّوں میں ضائع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ با با جی کی برسوں کی محنت نیلامی کے اشتہاروں میں سب کے سامنے آ گئی۔ وہ گھر جس کی بنیادیں اور دیواریں تو مضبوط تھیں لیکن گھر والوں کی عدم توجہ اور فضول قسم کی عیاشیوں سے اس قدر کمزور ہو گئیں کہ آئے دن اس کی خرید میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیاں دندنانے لگیں۔


عرصہ گزراچینی شہنشاہ نے آئے روز کی بیرونی یلغار سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے فیصلہ کیا کہ چین کے گرد ایک اونچی اور مضبوط دیوار بنا ئی جائے۔ شہنشاہی فیصلہ ہوتے ہی پوری قوم اس کی تعمیر میں جت گئی۔ برسوں کی کٹھن محنت اور بھاری سرمائے سے تعمیر کی جانے والی یہ عظیم اور مشہور زمانہ دیوارِ چین اس قدر مضبوط اور بلند تھی کہ کوئی بھی اس کی تسخیر کا تصوّر بھی نہیں کرتا تھا۔ چاروں جانب مشہور ہو گیا کہ اسے پار کرنا کسی بھی بیرونی دشمن کے لئے نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ چین کی اس وقت کی شہنشاہیت بھی اپنے اس عجوبے پر مطمئن ہو گئی لیکن اس کے با وجود مختلف وقتوں میں تین سے زائد مرتبہ بیرونی حملہ آور چین کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو ئے۔ یہ بیرونی حملہ آور دیوار چین پھلانگ کر یا اسے گرا کر اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ ہر دفعہ حملہ آور ہونے والی فوجوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس دیوار کے مختلف حصوں پر تعینات چینی پہریداروں کو بھاری رشوت دیتے ہوئے اپنے ساتھ ملایا، جنہوں نے ان کے لئے چپکے سے دروازے کھول دیئے... چین کی اس وقت کی اشرافیہ نے اپنے اردگرد حصار قائم کرنے کے لئے عظیم دیوار تو بنا دی لیکن بدقسمتی سے قوم کے کچھ افراد کا وہ کردار تعمیر نہ کر سکی جو انہیں باور کراتا کہ وطن کی محبت اور عزت کی کبھی بھی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔

 

اپنے گرد حفاظتی حصار اور اسلحے کے ڈھیروں سے کسی ملک کی حفاظت نہیں ہو تی بلکہ غیرت و حمیت اور مضبوط کردار سے ہوتی ہے۔ چین کی اس وقت کی اشرافیہ کے لوگ بھول گئے کہ ملک کے دفاع کے لئے دیوار چین کی تعمیر کے ساتھ اپنے ملک کے شہریوں کا کردار بھی مضبوط اور بہتر بنانا ضروری تھا۔ وہ حکومتیں تومدت ہوئی کب کی گزر گئیں لیکن چین میں ایک عظیم انقلاب کے ذریعے ماؤزے تنگ اور چو این لائی جیسی قیا دت سامنے آئی تو انہوں نے اپنا کردار سب کے سامنے رکھتے ہوئے چین کے ہر ایک فرد کو پیغام دے دیا کہ اس ملک میں جینے اور رہنے کا ایک ہی رستہ ہے کہ اپنے وطن سے، وطن کے اسباب سے، وطن کے دفاع سے اور وطن کے وقار سے دل کی گہرائیوں تک وفاداری نبھانا ضروری ہے۔


روزمرہ کے اپنے کردار اور گفتار کو بہترین معاشرے کا حصہ بنا دو کیو نکہ اس کے بغیر اس ملک میں رہنے اور جینے کا کوئی فائدہ نہیں اور ایسے لوگ جو ملک قوم اور اس کے وقار کا سودا کرتے ہیں انہیں ’ننگِ دین‘ ’ننگِ وطن‘ کے نام سے صدیوں پکارا جاتا ہے ۔ 1850 میں امریکہ کے صدر ہنری کلے نے کہا تھا کہ مجھے امریکہ کی صدارت نہیں بلکہ صداقت چاہئے یہ امریکی صدر صدارت سے دستبرداری کے لئے تو تیار تھا لیکن سچائی کا دامن چھوڑنا اسے قطعی گوارہ نہیں تھا... اور یہی آج کے پاکستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔


آج خوش قسمتی سے اﷲ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے ہمارے گرد ایک زبردست قسم کی ایٹمی دیوار قائم کی ہوئی ہے جس نے ہم کو اس خوف سے بے فکر کیا ہوا ہے کہ دشمن ہماری جانب قدم بڑھا سکتا ہے لیکن اس ایٹمی دیوار کے ساتھ اگر ہم اپنے اردگرد اپنے معاشرے اور ملک کے مجموعی ماحول اور ذرائع ابلاغ کو سامنے رکھیں تو ہر چیز مصنوعی، کھوکھلی اور بنا وٹی سے لگتی ہے۔ اگر کسی قوم کے نظریے اور اس کی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنا ہو تو اس کے لئے تین طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس قوم کے خاندانی نظام کو تباہ کر دو ، اس قوم کے تعلیمی نظام کا حشر نشر کر دو اور اس قوم کے رول ماڈل اور ان کی تعلیمات کو دفنا دو۔ مؤرخ کی کہی ہوئی یہ باتیں سامنے رکھیں اور پھر غور کریں ...کہ آج ہم کتنے فرقوں میں بٹ چکے ہیں اور اس کے لئے ہم اور ہمارے اب تک کے تمام حکمران سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ وقت گواہ ہے کہ ہر حکومت اور سیا سی جماعت نے اپنی مخصوص طرزِ سیاست کو سہارا دینے کے لئے اپنے اپنے ملاؤں کو پالا ہوا ہے اور یہ وہ ملا ہیں جنہوں نے اپنی مربی حکومت کے ذریعے اپنے اپنے اداروں میں داخل ہونے والوں کو تعصب اور مقابل سے نفرت کی آگ میں جلاکر کوئلہ بنا دیا ہے یہ ہلکے سے اشارے پر کسی کو بھی بھسم کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور جن کا استعمال ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔


افسوس کہ کسی نے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہمارے مدرسوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبأ و طالبات کو کس قسم کا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے اساتذہ انہیں اجتماعی اور انفرادی محفلوں میں کس قسم کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے پروفیسر کس قسم کا رجحان لئے ہوئے ہیں۔ ان کے زیر مطالعہ کس قسم کی کتابیں رہتی ہیں۔ نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی صورت حال کے بارے میں ان کا نقطہ نظر کس قسم کا ہے۔ سب نے اس سب سے اہم مسئلے سے آنکھیں ہٹائے رکھیں، جن کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔


ہمارے ملک کے سکالر، مذہبی رہنما، سائنسدان، وہ سیا سی اور قومی رہنما جو بلا کسی شک و شبہ کے اس ملک کا سرمایہ تھے جن کی صداقت اور دیا نت کی مثالیں دی جا تی تھیں، انہیں اس طرح نظر انداز کر دیا گیا کہ وہ معاشرے میں اپنا مقام ڈھونڈنے کے بجائے وہ معاشرہ ہی ڈھونڈتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے جس کا انہوں نے خواب دیکھ رہا تھا، جس کی ترتیب درست کرنے کے لئے وہ ا س کی تراش خراش میں مصروف رہے۔ ہم جنہیں مفتی بنانے کا سو چ رہے تھے وہ مفتے بن کر کسی نہ کسی چوکھٹ پر بکھر گئے۔ہمارا کوئی رہنما ہی نہ رہا، کوئی آئیڈیل اگر تھا بھی تو اس کے بارے میں جو کچھ منہ میں آیا زور شور سے کہنا شروع کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو گہنا کر رکھ دیا گیااور یہ تو کوئی گورکھ دھندے والی بات ہی نہیں ہے کہ جب خاندان کا تصور مٹ جائے، جب استاد کا مقام اور مرتبہ ایک بھیک منگے اور سوالی کا سا ہو جائے، اور جب اس ملک کی فکری اور نظریاتی بنیادوں کے لیڈران اپنی عزت بچانے کے لئے پناہ گاہوں کی تلاش میں مصروف ہو جائیں تو پھر نئی نسل کیا سیکھے گی؟ اور کس سے سیکھے گی؟ اور پھر جن سے وہ نیا سبق لے گی وہ سبق صداقت کا نہیں ہو گا، شجاعت کا نہیں ہو گا اور نہ ہی عدالت کا ہو گا۔ وہ منافقت کا ہو گا صرف منا فقت کا ... آج ہماری قوم جس طرح ایک نئی کروٹ لے رہی ہے اور چھ ستمبر کی رات جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں بھارتی آرمی چیف اور نریندر مودی کی دھمکیوں کا جس طریقے سے جواب دیا ہے اس سے ملک اور قوم میں ایک حوصلہ پیدا ہوا ہے اور یہی حوصلہ قوموں کی آبیاری کرتا ہے ۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 134مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP