اداریہ

ضرب عضب کے دو سال - اداریہ

جون2014 میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تو قوم نے اطمینان کا سانس لیا کہ وہ آئے روز کے خودکش دھماکوں اور پھر اے پی ایس پشاور جیسے قومی سانحات کے باعث غم و غصے میں مبتلا تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز ہوا تو وہاں سے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے شہریوں کو جہاں اپنے گھر چھوڑنے کا غم تھا وہاں وہ اس امر پر خوش بھی تھے کہ ان کے علاقے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو جائے گی اور وہ بہت جلد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔ الحمدﷲ افواج پاکستان نے صرف 2برس کے عرصے میں ہی شمالی وزیرستان سمیت دیگر ایجنسیوں کے علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کروا کر وہاں حکومتی عملداری کو بحال کر دیا ہے۔ پاک فوج نے تازہ ترین کامیابی وادی شوال کے علاقے کو دہشت گردی سے پاک کر کے حاصل کی ہے اور قوم کو باور کرایا ہے کہ جب تک ملک میں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے افواج پاکستان چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

 

بلاشبہ افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے دہشت گردوں کا عمومی طور پر صفایا کر کے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہترین بنا دیا ہے جس سے نہ صرف یہ کہ خلفشار والے علاقوں سے بے گھر ہونے والے افرد کے اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے۔ بلکہ اب عوام کھلے عام اپنے اپنے کاروبار کر کے اپنا معاشی بوجھ اٹھانے کے قابل بھی ہو رہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب میں افواج پاکستان نے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے پیش قدمی کی۔ اس آپریشن میں 5سو سے زائد افسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں جبکہ دوہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ضرب عضب صرف ایک فاٹا تک محدود و مخصوص فوجی آپریشن نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک نظریے کا نام ہے۔ اس نظریے کا مطمع نظر سرزمین پاک کو ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نجات دلانا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن آئی بی اوز کا آغاز بھی کیا گیا۔

 

جیسے جیسے عسکری اداروں نے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف مختلف آئی بی اوزکئے اور اُن کے نیٹ ورک توڑنے میں اپنا کردار ادا کیا، یہ حقائق بھی سامنے آتے گئے کہ دہشت گرد ان قبیح سرگرمیوں میں اکیلے نہیں بلکہ انہیں بعض پڑوسی ممالک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کلبھوشن یادیو اور بعض دیگر غیرملکی عناصر کی گرفتاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وطن عزیز کو کس کس طرح سے نشانہ بنائے جانے کی سعی کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ مُسَلّم ہے کہ اب قوم کو اپنے اچھے بُرے کی پہچان ہو چکی ہے اور اب وہ بھرپور قوت اور عزم کے ساتھ افواج پاکستان کی پشت پر موجود ہے۔ کہتے ہیں جنگیں صرف افواج نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔ اگر قومیں اپنی افواج کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوں تو افواج کی کاکردگی بالکل اسی طرح ابھر کر سامنے آتی ہیں جس کا مظاہرہ افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بالعموم اور آپریشن ضرب عضب میں بالخصوص کیا ہے۔ افواج پاکستان آج بھی پوری تندہی اور چابکدستی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں طے کردہ اہداف کے مکمل حصول کی جانب بڑھ رہی ہیں جو ایک خوش آئند عمل ہے اور اس امر کی علامت بھی کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ‘نہایت روشن اور تابناک ہے۔

 

یہ تحریر 457مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP