سقوط ڈھاکہ

ایک جنت جو ہم کھو بیٹھے

جس محلے میں ہم رہتے تھے وہاں غیر بنگالیوں کے گھر برائے نام تھے۔ لے دے کے ایک ہمارا گھر تھا اور دو تین گھروں کے بعد جناب الودود کا مکان۔ باقی تمام گھر بنگالیوں کے تھے۔ اس کے باوجود ہمیں کبھی اجنبیت کا احساس تک نہیں ہوا۔ ہمارے پڑوس میں ایک  ابو البشر رہتے تھے۔ جنہیں بنگالی بھائی اپنے مخصوص لہجے میں ابوالباشار کہتے تھے۔ ہم اس لحاظ سے انہیں باشار چچا کہہ کر پکارتے تھے۔ سارا محلہ ان کی عزت کرتا۔ جس سے ملتے نہایت شفقت و محبت سے ملتے۔ ہمارے گھر ان کا روز آنا ہوتا۔ گھنٹوں بیٹھے ابا جان سے ادھر ادھر کی باتیں کیا کرتے۔
1971کا پر آشوب سال شروع ہوچکا تھا۔ غنڈے پورے ملک میں دندناتے پھر رہے تھے۔ غیر بنگالیوں کی جان، مال، عزت و آبرو ان کا کھلونا بنی ہوئی تھی، جب چاہتے کھیلتے، جب چاہتے توڑ کر پھینک دیتے۔ ابا جان کو ہمارے رشتے داروں نے مشورہ دیا کہ بنگالیوں کے محلے میں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔ مگر ابا جان اس محلے میں رہنے پر مصر تھے۔ انہیں خدا کے بعد اپنے دوستوں اور پڑوسیوں پر بھروسہ تھا۔ اور باشار چاچا نے تو سینہ ٹھونک کر ابا کو یقین دلایا تھا۔
(زامان بھائی ) زمان بھائی) آپ بالکل پھکر(فکر) مت کریے باشار جب تک جندہ(زندہ) ہے کوئی شالا۔ آپ کا کس(کچھ  نہیں کرسکتا۔
وہ بنگالی تھے۔ مگر سچے پاکستانی۔ ہمیں وہ اکثر تقسیم ہند سے پہلے کے قصے سنایا کرتے۔
یہ ایک افسانے باشار چاچا کا آغاز ہے۔ جلا وطن کہانیاں مصنف جمیل عثمان۔
ہے تو یہ افسانے کے جملے۔ لیکن 1947 کے بعد کا مشر قی پاکستان ایسا ہی منظر پیش کرتا تھا۔ جب بنگالی، غیر بنگالی، پنجابی، ویسٹ پاکستانی اور بہاری، سب شیر و شکر تھے۔ پھر 24سال میں کیا کیا گزری ۔1971آتے آتے کتنی قیامتیں ٹوٹیں۔ زبان جس سے پھول جھڑتے تھے۔ وہ شعلے کیوں اگلنے لگی۔ کلمہ گو ایک دوسرے کے دشمن کیوں ہوگئے۔ یہ خطہ جہاں سے تحریکِ پاکستان شروع ہوئی، جہاں کے خواص، نواب اور عوام بر صغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے محرک تھے۔ جو یہ پیغام لے کر پورے ہندوستان میں قائد اعظم کی قیادت میں گھومتے رہے وہاں سبز ہلالی پرچم ناپسندیدہ کیوں ہوگیا۔ اسے گھروں سے کیوں اتارا گیا۔ اور پھر 16دسمبر کا سیاہ دن کیوں طلوع ہوا۔ ہمیں وہ مناظر کیوں دیکھنے پڑے۔ جن کے مشاہدے سے نوجوان بے ہوش ہوگئے۔ بزرگوں کے دلوں کی دھڑکنیں معدوم ہونے لگیں۔ مائیں بین کرنے لگیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کی زندگی کے لیے مصروف دعا ہونے لگیں۔ اور ایک لمحہ ایسابھی آیا کہ ہم سے یہ جنت چھن گئی۔
بابائے قوم 21مارچ 1948 کو ڈھاکہ میںجلسہ عام سے خطاب میں فرمارہے ہیں:
صرف ایک بات اور ۔ خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے یہ بات کی ہے کہ مشرقی بنگال خود کو باقی ماندہ پاکستان سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے۔ بلا شبہ طویل فاصلہ ہے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان، بلا شبہ بہت سی مشکلات ہیں، لیکن میں آپ کو بتادوں کہ ہمیں ڈھاکہ اور مشرقی بنگال کی اہمیت کا پورا ادراک اور احساس ہے۔ اس مرتبہ تو میں صرف ہفتے عشرے کے لیے یہاں آیا ہوں لیکن سربراہِ مملکت کی حیثیت سے اپنے فرضِ منصبی کو بطریقِ احسن سر انجام دینے کے لیے یہاں آنا ہوگا۔ یہاں دنوں اور ہفتوں کا قیام ہوگا۔ اور اسی طرح پاکستان کے وزرا کو گہرا رابطہ قائم کرنا چاہیے۔ ان کو یہاں آنا چاہیے۔ اور آپ کے رہنمائوں کو اور آپ کی حکومت کے اراکین کو کراچی جانا چاہیے۔ جو پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ لیکن آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا۔ ہم آپ کی اعانت اور حمایت سے پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنادیں گے۔
20مارچ 1948سے 28مارچ 1948تک مشرقی بنگال کے صوبے میں قیام کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کی ایک ایک تقریر ان کی مستقبل کی بصیرت کی تصویر پیش کررہی ہے۔ انہیں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلوں کا بھی احساس ہے۔ زبان کے مسئلے کا ادراک بھی ہے، اور خاص طور پر یہ کہ بھارتی حکومت، اخبارات اور تخریبی عناصر مشرقی بنگال کے عوام اور بالخصوص بنگالیوں کو جس طرح ان کی بے بسی اور بے کسی کا احساس دلاکر جذبہ پاکستان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ہر تقریر میں ان خطرات سے مشرقی پاکستان کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو خبردار کررہے ہیں۔ انہیں یہ بھی تدبر ہے کہ اگر اس وقت پاکستان کی مادر جماعت  مسلم لیگ نے اپنے ملی فرائض ذمہ داری سے انجام نہ دیے، عام لوگوں سے رابطہ نہ رکھا، پارٹی کو منظم نہ کیا تو بھارتی نئی نئی جماعتیں کھڑی کرکے مسلم لیگ کو کمزور کردے گا۔
بھارت مغربی پاکستان میں بھی اپنے گماشتوں کے ذریعے یہ تخریبی کارروائیاں کررہا تھا۔ شمالی مغربی سرحدی صوبے، سندھ اور بلوچستان میں ایسی سرگرمیاں منظم طریقے سے جاری تھیں۔ اپنی ہر تقریر میں قائد اعظم بھارت کی ان عیارانہ سرگرمیوں کو ببانگِ دہل بے نقاب کرتے ہیں۔ قربان جائیے ان کی پیش بینی پر۔ اور وہ مشرقی بنگال کے عوام کی بے چینی کی اصل وجہ کی بار بار نشاندہی بھی کرتے ہیں۔28مارچ 1948کو مشرقی پاکستان کے دورے سے واپسی سے پہلے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے نشری تقریر میں ان کے یہ الفاظ ملاحظہ کیجیے:
 اگر ہم خود کو بنگالی، پنجابی، سندھی وغیرہ پہلے سمجھیں گے اور مسلمان اور پاکستانی محض اتفاقاََ تو پاکستان کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ یہ نہ سمجھیے کہ اس میں دیر لگے گی۔ ہمارے دشمن اب بھی ان امکانات کے لیے مستعد ہیں، بلکہ میں آپ کو خبردار کردوں کہ وہ پہلے ہی سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ میں آپ سے صاف طور سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ محض مکاری نہیں کہ وہ سیاسی ادارے اور بھارتی اخبارات جنہوں نے قیامِ پاکستان کو روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا، اب اچانک مسلمانانِ مشرقی بنگال کے بقول ان کے جائز مطالبات کے لیے ہمدردی جتانے لگے ہیں۔ کیا یہ بات بالکل واضح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حصولِ پاکستان سے باز رکھنے میںناکام ہوجانے کے بعد یہ ادارے اب گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے مسلمان کو مسلمان بھائی کے خلاف بھڑکا کر پاکستان کو اندر سے توڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
 غور کیجیے۔ بابائے قوم فرمارہے ہیں کہ یہ نہ سمجھیے اس میں دیر لگے گی۔ دیر نہیں لگی۔ 24سال بعد ہی دشمن کامیاب ہوگیا۔
پاکستان تو مسلم لیگ نے حاصل کرلیا تھا۔ یہ ایک چیلنج تھا، جسے بر صغیر کے مسلمانوں نے قبول کیا۔ اسے وہ قائد اعظم کی قیادت میں اور قومی سیاسی پارٹی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ایک مستحکم فلاحی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ یہی ایک منطقی، تاریخی اور اصولی راستہ تھا کہ  مسلم لیگ کو ملک گیر سطح پر ایک منظم اور جمہوری بنیادوں پر مضبوط سیاسی پارٹی ہونا چاہیے تھا جیسے بھارت میں آل انڈیا کانگریس نے ایک مستحکم اور طاقت ور سیاسی جماعت کی طرح کردار ادا کرکے دکھایا۔
مسلم لیگ نے اپنی ذمہ داری پوری کی یا نہیں۔
اسے سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ سارے مسائل اور پیچیدگیوں نے مسلم لیگ کی غفلت، عدم تنظیم اور اسکے غیر جمہوری انداز سے ہی جنم لیا۔
قائد اعظم کو اس کا ادراک بھی تھا اور شدید احساس بھی۔ اس لیے وہ 21مارچ کو ڈھاکہ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران واضح طور پر کہہ رہے ہیں:
 اب یہ آپ کے ہاتھ میں ایک مقدس امانت ہے یعنی مسلم لیگ ۔ کیا ہم اپنے ملک اور قوم کی فلاح و بہبود کی حقیقی نگران، اس مقدس امانت کی حفاظت کریں گے یا نہیں۔ کیا گھاس پھوس کی طرح خودرو جماعتیں جن کی قیادت مشکوک ماضی کے رہنمائوں کے ہاتھ میں ہے، قائم کردی جائیں تاکہ وہ سب کچھ تباہ ہوجائے، جو ہم نے حاصل کیا  یا جو کچھ ہم نے پایا ہے اس پر قبضہ کرلیا جائے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ آپ کو پاکستان پر یقین ہے۔
آوازیں ۔ جی ہاں ۔ جی ہاں۔
کیا آپ پاکستان کو حاصل کرنے پر خوش ہیں۔
آوازیں ۔ جی ہاں ۔ جی ہاں۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ مشرقی بنگال یا پاکستان کا کوئی اور حصہ بھارتی یونین میں شامل ہوجائے۔
نہیں نہیں۔
اگر آپ پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر آپ پاکستان کو بنانا چاہتے ہیں، اگر پاکستان کی تعمیر نو چاہتے ہیں ۔ تب میں یہ کہوں گا کہ دیانتداری کا جو راستہ ہر مسلمان کے سامنے کھلا ہے وہ یہ ہے کہ مسلم لیگ میں شامل ہوجائے اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق پاکستان کی خدمت کرے۔ اس وقت جو لاتعداد پارٹیاں قائم کی جارہی ہیں وہ ان کے ماضی کی وجہ سے شک و شبہ کی نظر سے دیکھی جائیں گی۔ اس لیے نہیں کہ ہمارے دل میں کوئی کینہ، عداوت یا انتقام کا جذبہ کارفرما ہے۔ دیانتداری کے ساتھ تبدیلی کا خیر مقدم ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت کے ہنگامی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان مسلم لیگ کے پرچم تلے آجائے۔ جو صحیح معنوں میں پاکستان کی محافظ ہے۔ پہلے اس کی تعمیر کیجیے۔ اور اسے ایک عظیم مملکت بنادیجیے۔ یہ سب کچھ اس سے پہلے کہ ہم اپنے درمیان جماعتیں قائم کرنے کا خیال دل میں لائیں۔ پارٹیاں تو بعد میں بھی تندرست اور صحت مند خطوط پر بنائی جاسکتی ہیں۔
دیکھیے۔ بانی پاکستان کے خیالات پاکستان کے استحکام، یکجہتی اور ایک مضبوط مملکت کے حوالے سے کتنے واضح ہیں۔ وہ مسلم لیگ کی بطور سیاسی جماعت وابستگی ، پختگی، بلوغت اور اتحاد کو پاکستان کے روشن محفوظ مستقبل کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ وہ عوام کو یہی دعوت دے رہے ہیں کہ پاکستان حاصل کرنے والی جماعت کو متحد، منظم اور مضبوط بناکر پاکستان کو عظیم مملکت بنالیں۔ اس کے بعد پارٹیاں بنائی جاسکتی ہیں، تندرست اور صحت مند خطوط پر، صرف شخصی بنیادوں پر نہیں۔ یا ایک جماعت سے ناراض ہوکر دوسری جماعت کی بنیاد ڈال دی جائے۔ کاش قائد اعظم کے ان فرمودات اور ہدایات پر عمل کیا جاتا۔ مسلم لیگ کے مشرقی پاکستانی قائدین، عہدیداران اور کارکنان ان نکات کو مشعل راہ بناتے۔ مگر ہوا کیا؟
مرکز میں قائد اعظم کی وفات اور تین سال بعد قائدِ ملت کی شہادت کے بعد اگرچہ قیادت، وزارتِ عظمی مشرقی پاکستان کے بنگالی قائدین نیک دل، نرم خو خواجہ ناظم الدین اور پھر بعد میں بالکل مختلف خواص والے محمد علی بوگرہ کے ہاتھوں میں رہی۔ وہ یکے بعد دیگرے پاکستان کے وزرائے اعظم رہے۔ مغربی پاکستان والے بھی مشرقی پاکستان کی قیادت کو مرکزی سطح پر بخوشی قبول کررہے تھے، اگرچہ محلاتی سازشیں جاری تھیں۔ مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کے بجائے اس میں اکھاڑ پچھاڑ ہورہی تھی۔ صوبائیت بھی اس میں کارفرما تھی۔
قیامِ پاکستان کے 7سال بعد اور بابائے قوم کی کھلی ہدایات کے چھ سال بعد ہی مسلم لیگ کو 1954 میں دوسری جماعتوں کے مقابلے میں شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔
قائد اعظم کی بر وقت واضح ہدایات نہیں مانی گئیں، تدبر اور ادراک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
یہاں ہم پاکستان کے ایک نامور مورخ ڈاکٹر صفدر محمود کی مقبول ترین تصنیف مسلم لیگ کا دِور حکومت(1954-1947) سے طویل اقتباس پیش کرنا چاہیں گے، جس سے قطعی طور پر اندازہ ہوسکتا ہے کہ قائد اعظم کی ہدایات نظر انداز کرنے کا کیا نتیجہ ہوا۔ پھر مشرقی بنگال میں بیزاری، بیگانگی کی بنیاد میں اینٹیں رکھی جانے لگیں:
خواجہ ناظم الدین کی برطرفی تک نوبت پہنچانے کی ایک بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ ملک کے لیے آئین مرتب کرنے میں ناکام رہے تھے۔ چنانچہ محمد علی بوگرہ نے اس مسئلے کی طرف پوری توجہ کی۔ ان کی وزارتِ عظمی کے زمانے میں ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا اور آئین کے بنیادی اصولوں کو بھی منظور کرلیا گیا۔ اس کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ آئین کی ترتیب و تدوین کا کام بہت جلد مکمل ہوجائے گا اور محمد علی بوگرہ نے خود بھی یہ اعلان کیا کہ نئے آئین کا نفاذ بابائے قوم کے یوم ولادت 25دسمبر 1954کو عمل میں لایا جائے گا لیکن اس اعلان پر عملدرآمد نہ ہوسکا کیونکہ گورنر جنرل نے اس تاریخ سے پہلے ہی دستور ساز اسمبلی کو توڑ دیا۔
مسلم لیگی لیڈر اپنے روشن مستقبل کے بارے میں اگر چہ ایک نئے اعتماد سے سرشار ہورہے تھے کہ عوام میں اس جماعت کے غیر مقبول ہوجانے کا ٹھوس ثبوت اوائل 1954میں مشرقی پاکستان کے صوبائی انتخابات کے نتائج کی صورت میں سامنے آگیا جن میں مسلم لیگ کو شکستِ فاش سے دوچار ہونا پڑا۔
اس شکست کے بنیادی اسباب ڈاکٹر صفدر محمود بتاتے ہیں:
 قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سے مشرقی پاکستان کی باگ ڈور نور الامین کے ہاتھ میں چلی آئی تھی۔ ان کی قیادت میں مسلم لیگ سراسر غیر مئوثر تنظیم بن کر رہ گئی تھی۔ اس کے پاس کوئی مثبت پروگرام نہیں رہا تھا۔ مشرقی پاکستان میں عام تاثر یہ تھا کہ مسلم لیگ اب کوئی مفید کام نہیں کرسکتی اور اب یہ اپنی افادیت کھوچکی ہے۔
خیال رہے کہ بانی پاکستان نے اس تاثر کے ذہن نشین ہونے سے قوم کو بہت پہلے خبردار کیا تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں:
 نور الامین اور ان کے ساتھیوں نے نہ صرف مسلم لیگ کو سازشوں کی آماجگاہ بنادیا تھا بلکہ انہوں نے جمہوری تقاضوں کو بھی بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ تھا کہ ان کے پانچ سالہ دور اقتدار میں صوبائی اسمبلی کی 30سے زائد نشستیں خالی ہوئی تھیں لیکن انہوں نے کسی ایک حلقے میں بھی ضمنی انتخاب نہ ہونے دیا تھا۔
دوسری طرف مسلم لیگ کے خلاف صف آرا متحدہ محاذ کے لیڈروں کا نہ صرف عام لوگوں سے وسیع رابطہ تھا بلکہ انہوں نے عوام کے سامنے جو پروگرام پیش کیا اس میں مغربی پاکستان کے استحصال اور مشرقی پاکستان کی محرومیوں کے متعلق ہر قسم کی جھوٹی سچی باتوں کے علاوہ مکمل صوبائی خود مختاری کا نعرہ بھی شامل تھا۔
آپ دیکھ لیں کہ 1954میں ہی صوبائی خود مختاری کے قالب میں مشرقی پاکستان کی   خود مختاری کی ضرورت محسوس کی جانے لگی تھی۔
آخر میں یہ پیراگراف بھی بہت غور طلب ہے۔ اس کے بعد ہم پھر 1956کے آئین کا ذکر کرتے ہوئے 60کی دہائی میں داخل ہوں گے ۔
 مسلم لیگ کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے بابائے قوم کی بہن مس فاطمہ جناح سے بھی مشرقی پاکستان کا انتخابی دورہ کروایا گیا۔ صوبے میں ہر جگہ عام لوگوں نے بڑے احترام کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا۔ لیکن مسلم لیگ کے بارے میں عام لوگوں کے دلوں میں جو شکوک و شبہات پیدا ہوچکے تھے وہ محترمہ فاطمہ جناح کے دورے سے بھی دور نہ ہوسکے۔ ان کے انتخابی جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور وہ اس توقع کے ساتھ رخصت ہوئیں کہ عوام ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے۔ لیکن جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو ہر شخص یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ 309میں سے مسلم لیگ نے صرف 9نشستیں حاصل کی تھیں۔
1970کے انتخابات میں جو صورت حال ہوئی تھی۔ وہ 16سال پہلے 1954میں بھی رونما ہوچکی تھی۔ مگر مسلم لیگ کے قائدین اور دوسرے اداروں نے ان خطرناک نتائج پر وہ   غور و فکر نہیں کیا، جس کا تقاضا وقت کررہا تھا۔ ایک تو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ، بیچ میں پاکستان کا ازلی دشمن بھارت جو کسی لمحے بھی پاکستان میں سازشوں کے بیج بونے سے باز نہیں آیا۔ ان دنوں میں دانشوراور اساتذہ بھی خطرے کی ان گھنٹیوں پر چونک نہیں رہے تھے۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ سے بیزاری اس علاقے میں ہورہی تھی جہاں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جہاں تحریکِ پاکستان بہت جوش و خروش سے چلی۔ بنگال اور بہار میں مسلمانوں پر انگریزوں اور ہندوئوں نے بہت مظالم ڈھائے۔ مشرقی پاکستان میں مغربی بنگال بہار اور آسام سے لٹ پٹ کر آنے والے مہاجرین بڑی تعداد میں آئے۔ پہلے پہلے ان کی آپس میں بہت یگانگت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو لازم وملزوم خیال کرتے تھے۔ اقتصادی طور پر ایک دوسرے کی ضرورت تھے، بہار سے آنے والوں نے بنگلہ زبان بھی بہت محنت اور محبت سے سیکھ لی تھی۔ بہت روانی سے بولتے تھے۔1956میں پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا۔ جو وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی قیادت میں منظور ہوا تھا۔ Parity(برابری) کا تجربہ کیا گیا۔ مغربی پاکستان میں تمام صوبے ضم کرکے ون یونٹ قائم کردیا گیا۔اس کو مغربی پاکستان اور مشرقی بنگال کو پہلی بار مشرقی پاکستان کا نام دیا گیا۔مشرقی پاکستان پہلے ہی ایک وحدت تھا۔ آبادی مشرقی پاکستان کی زیادہ تھی۔ اس لیے برابری کا تصور منفی تھا مشرقی پاکستان میں پسند ہی نہیں کیا گیا۔ ادھر مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں بھی ون یونٹ کے خلاف تحریکیں شروع ہوگئیں۔ پیرٹی کے قانون نے بھی مشرقی پاکستان میں محرومی کے احساس کو دو چند کیا۔ اسے زیادہ آبادی والے صوبے کے ساتھ ناانصافی سمجھا گیا۔ مغربی پاکستان کی آبادی قریبا 3کروڑ اور مشرقی پاکستان کی قریبا 4کروڑ تھی۔ اس میں ہندو اقلیت 12فیصد تھی۔ اس ہندواقلیت کا بھی مشرقی پاکستان میں محرومی کا احساس بڑھانے میں نمایاں کردار رہا ہے۔ اوائل سے ہی بعض ہندو تاجر خاندان۔ مغربی بنگال منتقل ہوتے رہتے تھے۔ بھارت کو موقع ملتا تھا کہ وہ عالمی سطح پر پراپیگنڈہ کرے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہورہا ہے، حالانکہ مشرقی پاکستان میں ہندوئوں کے ساتھ کبھی کوئی غیر منصفانہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
1958میں ایوب خان کے مارشل لا کا مغربی پاکستان کی طرح مشرقی پاکستان میں بھی خیر مقدم کیا گیا تھا۔ صدر ایوب خان نے مشرقی پاکستان میں بھی صنعتیں قائم کیں۔ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی شاخ وہاں بھی متحرک تھی۔ لیکن مارشل لا، مارشل لا ہوتا ہے۔ اس کے  قواعد و ضوابط آزادی اظہار میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلی بار پاکستان میں ایک اقتصادی اور سماجی استحکام ہورہا تھا۔ بھارت کو اس عرصے میں مارشل لا کے حوالے سے پروپیگنڈے کا موقع ملا۔ ایوب خان کی امریکہ نواز پالیسیوں کے باعث مشرقی پاکستان میں زیر زمین کمیونسٹ گروہ بھی سرگرم ہوئے جنہیں بھارت اور روس کی کمیونسٹ پارٹیوں کا تعاون حاصل تھا۔
ایوبی دور کے آخر میں اگرتلہ سازش کیس بھی ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ مقدمہ ریاستِ پاکستان بنام مجیب الرحمن اور دیگر تھا۔ اسے ڈھاکہ چھائونی میں ایک ٹریبونل سن رہا تھا جس کے جج جسٹس ایس اے رحمن اور مقسوم الحکیم تھے۔ 1967 کے آخر میں 1500افراد اس سازش کے حوالے سے قید ہوئے۔ جنوری 1968میں اس کی سماعت شروع ہوئی۔ اسی اثنا میں ایوب خان کے خلاف دونوں بازوئوں میں تحریک شروع ہوگئی تھی۔ ایوب خان نے اس سلسلے میں گول میز کانفرنس منعقد کی۔ سیاستدانوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر تلہ سازش کیس واپس لیا جائے۔ شیخ مجیب الرحمن کو رہا کیا جائے۔ اس سے پہلے ڈھاکہ میں مظاہرین نے بھی احتجاج کیا تھا۔ مقدمے کی دستاویزات بھی نذرِ آتش کی گئیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس مقدمے کو اگر منطقی انجام تک پہنچایا جاتا تو شاید بنگلہ دیش نہ بنتا۔ سیاسی دبائو میں آکر فروری 1969 میں اس مقدمے کو واپس لیا گیا۔ شیخ مجیب الرحمن اس نتیجے میں مشرقی پاکستان کے عوام بالخصوص بنگالیوں کے مقبول ترین لیڈر بن گئے۔ گول میز کانفرنس سے بھی انہوں نے واک آئوٹ کیا۔ اور اپنے چھ نکات کا پرچار شروع کردیا۔
22فروری 2011میں اس مقدمے کی واپسی کی یاد مناتے ہوئے اس سازش کے ایک زندہ رکن اور بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر سخاوت علی نے پارلیمنٹ میں ایک نقطہ اعتراض پر اعتراف کیا کہ اگر تلہ کیس میں فردِ جرم عائد کرتے وقت پڑھے گئے نکات درست تھے کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے شیخ مجیب کی سربراہی میں شنگرام پریشاد(ایکشن کمیٹی) قائم کی تھی۔ اسی پارلیمنٹ میں شیخ مجیب الرحمن کے نوجوان ساتھی طفیل احمد نے مزید کہا کہ اگر یہ مقدمہ قائم نہ ہوتا تو اس سازش کا منطقی اختتام ہوتا اور مشرقی پاکستان بغیر خون بہائے علیحدہ ہوجاتا۔
اگر تلہ سازش کیس کی واپسی سے شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان کے سب سے مقبول اور طاقت ور رہنما بن جاتے ہیں۔ پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے ہیں۔ چھ نکات انکا پرچم بن جاتے ہیں۔۔
عوامی لیگ کے چھ نکات:
1۔  ایک فرد۔ ایک ووٹ، براہِ راست انتخابات
2۔  وفاق کے پاس صرف دفاع اور خارجہ پالیسی، باقی معاملات صوبوں کے پاس۔
3۔  صوبوں کی الگ الگ مالی پالیسیاں، الگ الگ کرنسی، مگر قابل تبادلہ
4۔  صوبے ٹیکس لگائیں اور وفاقی حکومت کو اسکا حصہ دیں، وفاقی حکومت کوئی ٹیکس نہ لگائے۔
5۔  ہر صوبہ دوسرے ملکوں کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کرے۔ رقوم کے تبادلوں پر بھی اس کا کنٹرول ہو۔
6۔ہر صوبے کے اپنے نیم فوجی دستے بھی ہوں۔
1970کے الیکشن پاکستان کے لیے ہر طرح سے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ انہیں منصفانہ، آزادانہ قرار دیا گیا۔ لیکن الیکشن کمیشن اور دیگر کسی ادارے نے جنوری 1970سے دسمبر 1970کے پہلے ہفتے میں انتخابات کے انعقاد تک اپنی آئینی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کیا ملکی سلامتی۔ ہم آہنگی اور یکجہتی کی مانیٹرنگ جن اداروں اور ایجنسیوں کی ذمہ داری تھی انہوں نے حالات کی نبض پر ہاتھ نہیں رکھا۔ ملک کے دونوں بازو جن ہنگامہ خیز حالات سے گزر چکے تھے۔ مشرقی پاکستان میں محرومیوں پر احتجاج شدید تر ہوتا جارہا تھا۔ ایک اضطراب تھا۔ جو پورے صوبے میں ہر ضلع اور ہر شہر میں پھیلا ہوا تھا۔ ایوب خان کے طویل دورِ حکومت کے اقدامات پر بہت سے افراد اور حلقوں کو تحفظات تھے۔ بہت سی تحریکیں ان کی جبر کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھیں۔ آخر میں جب اگر تلہ سازش کیس کو مجبوراََواپس لینا پڑا تو علیحدگی پسندوں کے حوصلے بھی بڑھ گئے تھے اور عوام میں ان کے مقبولیت بھی۔ اتنی طویل انتخابی مہم کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ملک لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت چل رہا تھا ۔ کوئی آئین نہیں تھا۔ صرف مارشل لا کے ضابطے تھے۔ اس لیے سیاسی مہم کے لیے پورے ایک سال کی مہلت خطرناک تھی۔ 
امیدواروں کے کاغذات جب دائر کیے گئے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دیکھنا چاہیے تھا کہ بڑی پارٹیاں دونوں بازوئوں میں امیدوار نامزد کررہی ہیں یا نہیں۔ دونوں بازوئوں کے بڑے لیڈر سال بھر صرف اپنے اپنے بازو میں مسلسل انتخابی مہم چلاتے رہے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی پارٹی نے دونوں حصوں میں امیدوار نامزد کرنے اور انتخابی جلسے کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔عملاََ سیاسی طورپر دونوں بازو الگ الگ سمت میں آگے بڑھ رہے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کی مقبولیت اگر تلہ سازش کیس خاتمے کے بعد اوج پر تھی۔ پورے مشرقی پاکستان میں انہیں سیاسی طور پر کوئی چیلنج نہیں تھا۔ وہ ایک ایک شہر اور قصبے میں جاکر چھ نکات کے حق میں رائے ہموار کررہے تھے۔   (جاری ہے) ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 133مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP