نقطۂ نظر

پاک فوج کا طرہ امتیاز

مملکت ِخداداد پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ جس طرح اس کا معرضِ وجود میں آنا ایک معجزہ ہے، اسی طرح اس کی حفاظت میں بھی اللہ تعا لیٰ کا فضل و کرم شامل ہے۔وطنِ عزیز کے دشمنوں نے متعدد بارعلانیہ اور اکثر خفیہ طور پر 'را' کے ایجنٹوں کی مدد سے اس مُلک کی سا لمیت پر حملے کئے لیکن انھیں ہر بارمنہ کی کھانا پڑی۔ اس وقت بھی این ڈی ایس ایجنٹ اور را کے کلبھوشن یادیو جیسے جاسوس بھیس بدل بدل کر پاک سر زمین میں دراڑیںڈالنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ لیکن وطن ِعزیز کے شہری اس بات کواچھی طرح جانتے ہیں کہ دشمن مُلکوں کے ایجنٹ اور ان کے کرائے کے آلہ کار اس مُلک کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے کیو نکہ پوری قوم اس مُلک کے تحفظ کے لئے پاک فوج کے شانہ بشانہ موجود ہے۔یہ ایجنٹ اور ان کے آلہ کار دشمن سے پیسہ لے کر زبان اور رنگ ونسل یاعلاقائی بنیادوں پر پاکستانی شہریوں کو باہم لڑانے اور نفرتوں کو ہوا دینے کے لئے ایسے مکروہ پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں جس کو پاکستانی عوام خواہ وہ پشتون ہوں یا پنجابی، بلوچی ہوں یا سندھی، سراسر مسترد کرتے ہیں۔ جبکہ شہریوں کی جان ومال کی فکر، سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہی نہیں ان کا مقصد حیات بھی ہے۔

 

آج پشتون بھائی دہشت گردوں اور پاکستان دشمن ریاستوں کے ان مہروں سے سوال کرتے ہیں کہ جب پاک فوج کے پنجابی، پٹھان، سندھی اور بلوچی آفیسرزاور جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرسوات اور فاٹا میںاپنے پشتون بھائیوں کی حفاظت کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے تو یہ انسانی حقوق کے علمبردار یا ان کے گماشتے اور ہمنوا کہاںتھے؟جب پاکستانی عوام اور فوج دہشت گردوں کے خلاف ایک فولادی دیوار بن کرکھڑے تھے تو یہ نام نہاد پشتونوں کے ہمدرد اپنے بِلوں میں چُھپے بیٹھے تھے۔غیر ملکی دہشت گرد اور ملا فضل اللہ جیسے زر خریدپا کستانی غدار معصوم نوجوانوں کو اسلام کے نام پر اپنے ہی پشتون بھائیوں کے خلاف لڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دراصل انھیں اُن کے اپنے جنگجوئوں سے بھی کوئی ہمدردی نہیں تھی کیونکہ وہ تو انہیں مختلف خاندانوں سے بلیک میل کرکے لائے ہوتے تھے اور جنت کا جھانسہ دے کر لڑائی میں جھونک دیتے تھے۔ 13سے 20سال کے نوجوانوں کو حُوروں سے شادی کا شارٹ کٹ راستہ بتاتے اور زندگی کے بکھیڑوں اور جھنجھٹوں میں پڑے بغیر کم سنی میں براہِ راست جنت پہنچنے کی بشارت دیتے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے چپے چپے پر اپنی مائوں اور بہنوں کی عزت کے تحفظ کے لئے چیک پوسٹوں پر،چوراہوں پر، گنجان گلیوں، سنسان راہوں پر، جنگلوں اور پہاڑوں پر خون کس نے بہایا؟ کیا وہ پاکستانی فوج کے خوب روجوان اور پاکستان کے سبھی صوبوں کے بیٹے نہیں تھے؟ کیا یہ حقیقت پوری قوم نہیں جانتی کہ پاکستان کی فوج میں ہر صوبے، ہر زبان اور ہر مذہب کے لوگ صرف اور صرف پاکستانی ہیں جو پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لئے ہر لمحہ تن من دھن کی قُربانی کے لئے تیار رہتے ہیں۔ پاکستان فوج میں خدمات انجام دینے والے آفیسرز اور سولجرز میں ایک بڑی تعداد پشتون آفیسرز اور سولجرز کی بھی ہے جو نہ صرف جسمانی طور پر تندومند، خوبرو،قدوقامت میں نمایاں اور قوی الجثہ ہوتے ہیںبلکہ اپنے ڈسپلن، وفاداری،جفاکشی، نشانہ بازی، بہادری اور فرائض منصبی کی عمدہ ترین ادائیگی میں بھی ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک فوج کے تقریباً سبھی اہم عہدوں پراور جنرل کے رینک تک پشتون آفیسرز نظر آتے ہیں جن میں متعدد کور کمانڈر بھی ہیں۔ان پشتون آفیسرز میں سے چار فور سٹار جنرلز فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل گل حسن خان اور جنرل وحید کاکڑ کو پاکستان کی اس قومی فوج کے سب سے بڑے عہدے پر بطور چیف آف آرمی سٹاف سربراہی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ جنرل ایوب خان نے تو بطور چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر اور صدر پاکستان پاک فوج کو ملک کے ایک عظیم ادارے کے طور پر پروان چڑھایا۔ پاکستان کی حفاظت میں محب وطن پشتونوں کا کردار اس وقت سے نمایاں ہے جب یہ خطہ پاک ابھی نومولود تھا،ہمارا کوئی بھی ادارہ اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہوا تھا۔ایسے میں یہ قبائلی علاقوں کے پشتون ہی تھے جو کشمیر کی آزادی کے لئے لڑتے لڑتے سری نگر کے قریب بارہ مولا تک پہنچ گئے تھے۔ پاکستان کی حفاظت کے لئے سر بکف رہنے والے پشتونوں میں سے چند بزرگ آج بھی موجود ہیںجن سے کبھی کبھار ہماری ملاقات بھی ہو جاتی ہے اور وہ بڑے فخر سے ان دنوں کی یا د تازہ کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی اندرونی حفاظت کی ذمہ دار فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری میں بھی سو فی صد پشتون سپاہ بھرتی کی جاتی ہے۔ پاک فوج ایک قومی فوج ہے اور اس کا یہ طرئہ امتیاز ہے کہ اس میں لسانی اور مذہبی لحاظ سے پاکستان کے ہر صوبے اور مذہب یا فرقے کی نمائندگی موجود ہے،اس فوج میں بلوچی، سندھی، گلگتی،، بلتستانی، پٹھان، پنجابی، کشمیری،چترالی حتیٰ کہ عقائد کے لحاظ سے سنی وشیعہ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی، ہندو اور سکھ مذہب کے افراد بھی شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جویونٹیں پاکستان کے دوسرے حصوں سے بھیجی جاتی ہیں ان کا انتخاب کرتے ہوئے اکثر اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ ان میں پشتونوں کی اکثریت ہو تاکہ وہ علاقے کے رسم و رواج اور زبان سے واقفیت رکھتے ہوں اور برے بھلے کی تمیز کرنے میں دقت محسوس نہ کریں۔کیونکہ جب اندرونی حفاظت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے سول آبادی میں فرائض انجام دینے پڑتے ہیں تو پر امن شہریوںکے جذبات و احساسات کاخاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر محلے اور بستی میں سے کوئی نہ کوئی سولجر اور آفیسر پاک فوج کا حصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنی مائوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کی حفاظت کے لئے انہیں کچھ زیادہ سمجھانا نہیں پڑتا۔

 

ملک دشمن طاقتیں اور ایجنسیاںپاک فوج کے اندراور شہریوں کے دلوں میں منافرت پھیلانے کے لئے بے شمار اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ کچھ معصوم اور سادہ لو ح شہری ان کے اس پروپیگنڈے کا شکا ر ہو بھی جاتے ہیں لیکن ایسے بے شمار عملی محرکات ہیں جو دشمن کی ہر ایسی کوشش کے خلاف استدلالی کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلاً پشتونوں اور پنجابیوںکے مابین اسلام اور پاکستانیت کے رشتے کے علاوہ ایک دوسرے کے خاندانوں میں رشتہء ازدواج میں منسلک ہو کر بھی پٹھان اور پنجابی کا فرق مٹ جاتا ہے۔اسی طرح جب محاذ جنگ پر اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میںنعرہ تکبیر بلند کر کے ایک محب وطن پٹھان بھائی پنجابی کے لئے اور پنجابی، سندھی یا بلوچی بھائی پٹھان کے لئے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دیتا ہے تو جھوٹا پروپیگنڈہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ ابھی چند ہی برس پہلے مئی 2009 میں جب حکومت نے پاک فوج سے مدد چاہی تو فوج کے لئے کافی نازک صورتِ حال تھی۔ دہشت گرد مقامی آبادی کے معصوم شہریوں کو اور گنجان آبادی والے محلوں کو انسانی شیلڈ بنا کر استعمال کررہے تھے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ بپا کر نے والے ان دہشت گردوں نے تو گوانتا ناموبے اور بھارتی درندوں کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اِن کی عدالتوں میں مقدمات کچھ ےُوں ہوتے۔ بچیوں کو سکول کیوں بھیجا؟ بالوں کی تراش انگریزی طریقے سے کیوں کرائی؟ داڑھی کیوں منڈوائی ؟ غیر شرعی باربر شاپ کیوں کھول رکھی ہے؟ کالروالی قمیض اور ٹخنوں سے نیچے شلوار کیوں پہنی؟سرکاری نوکری کیوں کرتے ہو؟ موسیقی بجانے کا سامان کیوں بیچتے ہو؟خبروں کی نشرواشاعت ہماری مرضی کے مطابق کیوں نہیں کرتے ؟ ہماری جنگ کے لئے منہ مانگی رقم، ہتھیار اور نوجوان بچے حوالے کرنے سے پس وپیش کیوں کی؟ وغیرہ وغیرہ۔ اور اِن جرائم کی پاداش میں جو سزائیں دی جاتیں اُن میں سرِ بازار کوڑے مارنا، بزرگوں اور جوانوں کو    اہلِ خانہ کے سامنے ذبح کر کے سر اور دھڑ الگ الگ چوراہوں میں لٹکا دینا اور بچیوں کے سکولوں، تھانوں، پُلوں اور دیگر سرکاری املاک کو گولہ وبارود سے اڑا دینا شامل تھا۔ سِول انتظامیہ اور پولیس کو تو یہ پہلے ہی ناکام کر چکے تھے۔ ایسے میںپاک فوج نے کمال حکمتِ عملی سے مختلف اعلانات کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو الگ کرنا شروع کیا، اس میں اکثرلوگوں کو شدید زحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، بعض اوقات تودہشت گرد بھی اِن اعلانات اور شہریوں کو دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے، وہ اکثر معصوم شہریوں کو یرغمال بھی بنا لیتے، لیکن پاک فوج 'حکومت کے حکم پر' پورے سوات کو شر پسندوں سے پاک کرنے کے لئے تاریخ کا مشکل ترین فیصلہ کر چکی تھی۔ اگرچہ تیس لاکھ شہریوں کو ملک کے دیگر علاقوں میں پناہ لینا پڑی، لیکن دہشت گردوں کی سرکوبی صرف تین ماہ کے دورانیے میں کر دی گئی جِس میں سکیورٹی فورسز نے جانوں کی قربانیاں بھی دیں اور اپنی حکمت ِ عملی اور کمال صبر سے سوات کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کاہدف حاصل کیا۔جو دہشت گردجانیں بچانے کے لئے پہاڑوں، جنگلوں اور غاروں میں جا چھپے تھے اُن کا پیچھا پاک فوج نے پہاڑوںاور جنگلوں میں جاری رکھا۔ بالآخر دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد یا تو ماردی گئی یا پھر حراست میں لے لی گئی اور کچھ شرپسند افغانستان کے صوبے کنٹر کی طرف بھاگ گئے۔دریں اثناء کہیں کہیں آٹے کے ساتھ گُھن پِسنے کی شکایات بھی سننے میں آئیںلیکن سوات کے عوام کی اکثریت اپنی فوج کی نیک نیتی اور قربانیوں کو دل سے تسلیم کرتی ہے۔اسی طرح فاٹا اور ملک کے دیگر علاقوںمیں سے بھی آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے شر کی صفائی کا یہ عمل آج تک جاری ہے، بہت سے دہشت گردمقابلوں میں مارے جا چکے ہیںیا قیدی بنا لئے گئے ہیں۔ان قیدیوں میں سے ایسے افراد جو مجبوراً    دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے تھے اور معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث تھے ' انہیں پاک فوج نے خصوصی تربیت کے ذریعے معاشرے کے کارآمد شہری بنا کر واپس معاشرے میں شامل کر دیا ہے۔ پاک فوج نے سوات سے       دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے جو سب سے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ بلاشبہ یہاں کے غیور لوگوں کی عزتِ نفس کی بحالی ہے۔آج اس خطے کے لوگ نہ صرف سر اٹھا کر جیتے ہیں بلکہ اپنے حق کے لئے ڈٹ جاتے ہیں اور یہاں کی مائوں، بہنوں اور بہو، بیٹیوں کی عزت و عصمت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی  جرأ ت تک نہیں کر سکتا۔

 

آج پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ سوات میں امن کا سہرا پاک فوج کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے سر بھی ہے جنہوں نے دہشت گردوں کے نام نہاد اسلام کی حقیقت پہچانتے ہی دل وجان سے اسے مستر د کردیا۔یہ چیک پوسٹوں پر لوگوں کی پریشانی کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جبکہ فاٹا کے لوگوں کو تو جانی ومالی تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کے رکھوالے بھی مل گئے ہیں۔یوں دہشت گردوں کے لئے خواتین تک رسائی ناممکن بن گئی ہے اس دسترس کے ختم ہونے کے بعد شرپسندوں نے مستورات کے تقدّس کو پامال کرنے کا نیا طریقہ بھی اختیار کیا تھا۔ سوات میں اکثر یہ ہوتا تھاکہ چیک پوسٹوں پر خواتین کو دیکھتے ہی فوجی جوان نظریں جھکا لیتے اور ایسی گاڑیوں کو بغیر چیک کئے گزرنے دیتے۔ دہشت گردوں نے اس چیز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک چیک پوسٹ پر ایک برقعہ پوش لڑکے کے ذریعے خود کش حملہ کرادیا، اسی طرح خواتین کو خودکُش جیکٹیں پہنا کر پُر امن علاقے میں جمع کرنی شروع کر دیں۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اب پورے ملک کے لوگ بیدار ہوچکے ہیں، وہ نہ صرف بُرے اور بھلے میں تمیز کر سکتے ہیں بلکہ کسی بھی ایسی تخریب کاری کی اطلاع خود سکیورٹی فورسز کو پہنچا دیتے ہیں۔ چنانچہ خفیہ اطلاع پر پاک فوج نے بروقت ایسا تمام مواد پکڑ لیا جو خواتین کی مدد سے سوات میں لایا گیاتھا۔

 

الحمدللہ آج ہماری مائیں اور بہنیں جانتی ہیں کہ چیک پوسٹوں پر تعینات اُن کے اپنے ہی بھائی اور بیٹے ہیں جو اُنہی کی عزتوں اور جان ومال کی حفاظت کے لئے انہیں چیکنگ کی زحمت دیتے ہیں۔ ذمّہ دار اور باشعور شہری اِس چیکنگ پر ناک بُھوں چڑھانے کے بجائے خوش ہوتے ہیں کہ آج کوئی اُن کی مستورات کی چادر اور چاردیواری کا تقّد س پامال کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ دشمن کے ایجنٹ اب اپنے پروپیگنڈہ کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ابھی تک اُن کی شر پسندانہ تحریک میں دم موجود ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ باطل کا وجود قِصئہ پارینہ بنتاجارہاہے کیونکہ اب سب پر یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ دہشت گرد محض دشمن کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے اُن کا نہ تو کوئی مذہب تھا اور نہ پاکستان کے لوگوں سے کوئی رشتہ! وہ کسی کے بھی نہ تھے۔


[email protected]

 

یہ تحریر 344مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP