ہمارے غازی وشہداء

پاک فوج کے معمر ترین وارویٹرن  لیفٹیننٹ کرنل سلطان مینگل(ر) چل بسے

لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمد خان 14 نومبر 1918 کو میر حبیب خان مینگل کے گھر نوشکی میں پیدا ہوئے۔ آپ بلوچستان کے ایک مضبوط قبائلی اور معتبر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے دادا میر قادر بخش مینگل بلوچستان کی اہم قبائلی شخصیت تھے۔ تمام بھائیوں میں آپ چھوٹے تھے۔ آپ کے بڑے بھائی میر گل خان نصیر مشہور بلوچی شاعر اور مصنف تھے جنہوں نے تاریخ بلوچستان کے علاوہ کئی دیگر کتابیں لکھیں۔ میر گل خان نصیر بلوچستان صوبائی کابینہ کے پہلے وزیر خزانہ بھی رہے ۔ آپ  نوشکی سے ابتدا ئی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے لورالائی اپنے چچا کے پاس  چلے گئے ۔
لورالائی سے میٹرک کرنے کے بعدصوبہ پنجاب کی طرف رخت سفرباندھا جہاں اسلامیہ کالج بہاولپور سے آپ نے انٹر تک تعلیم حاصل کی اور مزید تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے ۔اسلامیہ کالج لاہور  سے گریجویشن کی۔
اپنے دور کے بہترین فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔ آپ کالج  ٹیم کے کپتان تھے جہاں آپ نے آل انڈیا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ بہاولپور میں ایک بار کشتی رانی کرتے ہوئے آپ کی کشتی الٹ گئی۔ تیرا کی نہ جا ننے کی وجہ سے ڈوبتے ڈوبتے بچے، اس واقعہ نے انہیں تیراکی سیکھنے کے لیے متحرک کیا اسی دریا میں تیراکی سیکھی اور ایک بہترین تیراک بنے۔ گریجو یشن کرنے کے بعد آپ ریاست قلات میں ملازمت کے تلاش میں گئے۔ خان آف قلات میر احمد یار خان نے آپ کو 20 روپیہ ماہوار تنخواہ کی پیشکش کی لیکن آپ نے یہ پیشکش ٹھکرادی۔ 
1941 میں شملہ جا کر فوج میں کمیشن کے لیے انٹرویو دیا اور منتخب ہو گئے۔ مائو میں عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد 1942 میں پاس آؤٹ ہو کر5 بلوچ رجمنٹ(جیکب ریفلز)میں کمیشن حاصل کیا۔ 1948میں آپ فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں شامل ہوئے بطور چیف انسٹرکٹر انفنٹری سکول کوئٹہ میں  خدمات انجام دیں جہاں آپ نے جوانوں اور افسروں کی بہترین عسکری تربیت کی۔آپ خیبر ریفلز ، 2 ایف ایف ، ستلج رینجر اور ناردرن سکائو ٹس کے کمانڈنگ آفیسر بھی رہے۔ ملکہ الزبتھ دوئم، مصر کے صدر جمال عبدالناصر اور ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے دورہ پاکستان کے موقع پر تمام انتظامات آپ نے کئے۔ بہترین انتظامات پر آپ کے سینئرز سے آپ کو شاباش ملی۔
1967 میں آپ بطور لیفٹیننٹ کرنل ریٹائر ہوئے۔ پاکستان فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی آپ نے ایک متحر ک زندگی گزاری۔ مختلف سرکاری اور عوامی عہدوں پر رہ کر اپنے وطن اور عوام کی خدمت کی ۔
ریٹائرمنٹ کے بعد آپ گنداواہ میں بطور ڈائریکٹر ایگریکلچر فارم تعینات ہوئے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کے اولین رجسٹرار بنے۔ بعد ازاں آپ کو مری بگٹی ایجنسی (ضلع کوہلو ایجنسی  ، ضلع ڈیرہ بگٹی )میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ تعینات کیا گیا۔ ان قبائلی علاقوں میں آپ نے انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور علاقے میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔اس طرح قبائلی ایجنسی میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔آپ نے پرائمری اور ہائی سکول، نئی سڑکوں کی تعمیراور زراعت کے شعبہ میں پہلی بار ٹیوب ویلوں کی سکیموں پر کام کیا۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے عوام اب بھی آپ کے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں ۔
آپ نے ڈائریکٹر جنرل کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔
1993 کی نگران حکومت میں آپ کے وسیع تجربہ کے بنیاد پر آپ کو صوبائی وزیر کھیل و ثقافت ، بلدیات و دیہی ترقی اور زراعت کے قلمدان سونپے گئے۔ بطور وزیر خدمات انجام دینے کے بعد مزید آپ نے کسی بھی عوامی عہدے کو قبول نہ کیا ۔
103 سال کی طویل عمر میں بھی آپ باقاعدگی کے ساتھ گھر میں چہل قدمی کرتے اور پانچ وقت کی نماز مکمل رکوع وسجود کے ساتھ کھڑے ہو کر ادا کرتے۔ نومبر 2020 میں گرنے کے باعث ایک پیرزخمی ہوگیا جس کے بعد آپ مزید چلنے پھرنے سے قاصر ہوگئے 25 ستمبر 2021 کو آپ کوئٹہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 
لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمد خان کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ آپ پاکستان آرمی کے اب تک سب سے معمر  ترین  وار و یٹرن تھے۔ ||


 [email protected]


 

یہ تحریر 203مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP