قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چین دو طرفہ تجارتی واقتصادی روابط

پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات پوری دنیا کے لئے مثالی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات بلندیوں کی نئی سطح پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ تعلقات اب سٹرٹیجک شراکت داری میں بدل گئے ہیں اور اس کا فائدہ بلاشبہ دونوں دوست ممالک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کوبھی ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چین کے حالیہ دورے کے دوران چین کی طرف سے ایک بات کھل کر سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ چین وزیر اعظم کے وژن ''نیا پاکستان'' کا معترف ہے۔ ''پاکستان سے خریدو، پاکستان کو بیچو'' چین کی پالیسی ہے۔ وزیراعظم کے اس دورے کے بہت سے مثبت پہلو ہیں تاہم یہاں پر چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک )کا ذکر خصوصی طور پر ضروری ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے چین کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں سی پیک کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر شی جن پنگ کے ایک سڑک،  ایک خطے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقائی اور بین الاقوامی رابطے کے فروغ کے مقصد کے حصول میں مدد ملے گی۔ فریقین نے ایک سڑک،  ایک خطے

(Belt and Road Initiative)



  کے تحت بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور تمام ممالک میں مساوی ترقی اور خوشحالی کے مواقع کی فراہمی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔  سی پیک ، بی آر آئی کے نظرئیے کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ پاکستان اور چین نے سی پیک کی جلد تکمیل اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ فریقین نے مستقبل میں سی پیک کے حوالے سے مشترکہ سوچ ، اس کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ، سماجی و اقتصادی ترقی کے حوالے سے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے، روز گار کے مواقع پیداکرنے ، لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لانے، صنعتی ترقی کے لئے دوطرفہ تعاون کے فروغ ، صنعتی پارک کے قیام اور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے مشترکہ اقدامات کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ دونوں ممالک نے سی پیک کے تحت مشترکہ تعاون کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ۔ اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ

Glodbal China Connection

کا آٹھواں اجلاس رواں سال کے اختتام سے پہلے بیجنگ میں منعقد ہوگا۔ سی پیک کے تحت تعاون میں مزید اضافے کے لئے دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ پاکستان میں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لائی جائے گی اور اقتصادی و معاشرتی ترقی کے لئے ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک سی پیک کی جلد تکمیل کے لئے پرعزم ہیں اور اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ پورے خطے کی ترقی و خوشحالی میں مدد گار ثابت ہوگا اور اس سے رابطوں میں اضافے کے ذریعے خطے کی ترقی اور خوشحالی میں مدد ملے گی۔ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سی پیک کے حوالے سے مسائل، پاکستان اور چین سٹرٹیجک مذاکرات ، سیاسی مشاورت اور جی سی سی میں گفتگو کے ذریعے حل کریںگے۔گوادر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے بین الاقوامی رابطوں اور تجارت میں اضافہ ہوگا اور یہ سی پیک منصوبے کا ایک اہم عنصر ہے ۔ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ گوادر میں بندرگاہ سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو مزید بڑھایا جائے ۔ دونوں ممالک نے سی پیک کے حوالے سے بڑھتے ہوئے منفی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا اور اس خواہش کااظہار کیا کہ سی پیک کے منصوبوں کو ہر قسم کے خطرات سے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ پاکستان نے ملک میں جاری مختلف معاشی منصوبوں پر کام کرنے والے چینیوںکے کردار کو سراہا جبکہ چین کی جانب سے پاکستان میں جاری منصوبوں اور وہاں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کے تحفظ اور سلامتی کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا گیا۔تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کے حوالے سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے باہمی اقتصادی رابطوں کو مزید وسعت دینا اور مستحکم کرنا ہے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔دونوں ممالک نے پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران وزیراعظم پاکستان او ر چینی صدر کی موجودگی میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کرنے کے15معاہدوں اور ایم او یوز پر بھی دستخط کئے گئے۔

پاکستان کی نئی حکومت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سے ایک چیلنج پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ترقی کے اہم منصوبوں کو روبہ عمل لانا اور ان کی تکمیل ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے حوالے سے اس لئے بھی زیادہ پر عزم ہیں کہ وہ بیرونی دنیا سے سرمایہ کاری کرواکر پاکستان میں ترقی و روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پر کام گزشتہ  حکومتوں سے جاری ہے لیکن ان کاموں کو ابتدائی تیاریوں کے ضمن میں شمار کیا جا سکتا ہے جن پر ٹھوس بنیادوں پر اب کام کرکے ان کو ثمر آور بنا کر حقیقت کے روپ میں عوام کے سامنے لانا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے بعد دوسرا غیر ملکی دورہ چین کا کیا۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین میں سماجی اور زرعی شعبے کے لئے نئے ورکنگ گروپ بنانے پر بات چیت ہو ئی ۔ رشکئی

(Rashakai)

اکنامک زون معاہدے پر بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔چین کی 1800 ارب ڈالر کی درآمدات پوری کرنے کے لئے پاکستان میں مصنوعات تیار کی جائیں گی اس کے لئے حکومت نے کئی اقدامات کئے ہیں۔ پاک چین دوستی کاروباری شراکت داری میں بدلنے لگی ہے، دونوں دوست ملک انسانی وسائل اور صنعتی ترقی کے لئے کوشاںہیں، اس سلسلے میں وزیراعظم کے دورہ چین میں اہم معاہدے ہوئے ہیں۔ چین 400 ارب ڈالر کی انڈسٹری اپنے ملک سے باہر لگانا چاہتا ہے، پاکستان اس موقع سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 اس میں دو رائے نہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے یہ خاص طور پر اہمیت کا حامل ہوگا۔ وزیراعظم کے دورۂ چین کے دوران رشکئی اور دیگر اقتصادی زونز کے حوالے سے بڑا بریک تھرو  ہواہے۔ اس کے تحت رشکئی اکنامک زون پرجلد کام شروع ہو جائے گا، فیز ون میں ایک ہزار جبکہ فیز ٹو میں 2 ہزار ایکڑ اراضی حاصل کر لی گئی ہے۔ منصوبے سے پاکستان میں روزگارکے مواقع میں اضافہ ہوا ہے ، چین کی ایک پٹی ایک شاہراہ 6راہداریوں میں سے ایک اہم اقتصادی راہداری ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت چین پاکستان میں 56 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کررہاہے ۔اس میں سے 34 ارب ڈالرز صرف توانائی کے حوالے سے شروع کئے گئے بیشتر منصوبوں پرخرچ ہو رہے ہیں اوران منصوبوں میں اکثرتکمیل کے مراحل کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ سی پیک کے تحت 22 ارب ڈالرکی رقم بنیادی ڈھانچے اوردیگرمنصوبوں کے لئے مختص کی گئی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ملک بھرمیں 9 اقتصادی زونز قائم کئے جائیں گے۔ سی پیک کی وجہ سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع میں اضافہ ہورہا ہے۔صنعتی بستی کے قیام کے لئے اقدامات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اقتصادی زون میں پھلوں اوراشیائے خوراک کی پیکیجنگ، ٹیکسٹائل سٹچنگ و  نیٹنگ اوردیگر متعلقہ صنعتوں کے قیام اوران کے لئے سہولیات پر توجہ دی جائے گی۔ اس صنعتی بستی سے ائیرپورٹ کا فاصلہ 65کلومیٹر، ڈرائی پورٹ 65 کلومیٹر، ریلوے سٹیشن 25کلومیٹر، سٹی سینٹر15 کلومیٹر، ہائی وے 5کلومیٹر اورموٹروے بالکل متصل ہے۔ علاقے میں صنعتی بستی کے قیام کی تجویز صوبائی حکومت کی طرف سے آئی تھی اور اس میں وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔

پاک چین اقتصادی راہداری اقتصادی و صنعتی تعاون کا کلیدی حصہ اور حکومت کے نئے پاکستان کا کلیدی وژن ہے، حکومتِ پاکستان معاشی، سماجی اور خارجہ پالیسی کی ترقی چاہتی ہے۔ چین کے لئے معاشی طور پر مضبوط پاکستان، پاکستانی عوام اور خطے کے لئے اہم ہے۔. ماحولیاتی تحفظ، غربت کے خاتمے اور علاقائی و عالمی استحکام کے لئے پاکستان کی ترجیحات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ پاکستان کی حکومت علاقائی امن و استحکام کے لئے پہلے سے کہیں


زیادہ مثبت اور متحرک ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔

مضمون نگار ایک فوجی ایجنسی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 193مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP