اداریہ

پُر عزم پاکستان

بانیٰ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 23مارچ1940ء کو مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ ''اپنی تنظیم اس طور پر کیجئے کہ کسی پر انحصار کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہی آپ کا واحد اور بہترین تحفظ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کے خلاف بدخواہی یا عناد رکھیں۔ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کے لیے وہ طاقت پیدا کر لیجئے کہ آپ اپنی مدافعت کرسکیں۔''تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے یکجا ہو کر پاکستان کے حصول کے لیے جدوجہدکی اور صرف سات برس کی قلیل مدت میں برصغیر کے مسلمان پاکستان کی صورت میں ایک بے مثال سرزمین پر آزادی کے پرچم لہرا رہے تھے۔
 شاعر مشرق علامہ اقبال نے قوم کو ایک خواب دیا تو قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی پر عزم قیادت کے ذریعے اِس خواب کو تعبیر میں بدلنے کے لیے کردار ادا کیا۔ الغرض برصغیرکے مسلمان سخت ترین حالات میں جانی و مالی قربانیاں پیش کر کے  ا پنے لیے وطن کے حصول میں سرخرو ٹھہرے۔ پاکستان اُن کے دِلوں میں دھڑکتا تھا۔ پاکستان آج بھی کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہر چیلنج اور کٹھن گھڑی میں اپنا رنگ دکھاتا ہے اور قوم وطن کی بقاء کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔ ریاستِ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہوا تو کروڑوں نفوس پر مشتمل یہ عوام اپنی افواج کی پشت پر کھڑے ہو گئے اورافواج کے شانہ بشانہ شدت پسندی کو مات دی۔ الحمدللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کی کارکردگی دنیا کے کسی بھی ملک کی فوج سے بہتر رہی ہے جس کوعالمی سطح پرسراہا گیا ہے۔
آج مارچ 2022ء میں جب قوم یومِ پاکستان منا رہی ہے تو جہاں متعدد میدانوں میں پاکستان باوقار مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے وہیں اسے بہت سے چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ مختلف جگہوں پر دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات کے ذریعے حالات کو پراگندہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے لیکن افواجِ پاکستان اور پیرا ملٹری فورسز ان کی سرکوبی کے لئے وہاں موجود ہیں۔ صوبہ بلوچستان ہمیشہ سے پاکستان دشمن عناصر کی سازشوں کی زد میں رہا ہے جن پر پاکستانی اداروں کی گہری نظر ہے بلکہ بہت سے پاکستان دشمن نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سربراہی میں جاسوس نیٹ ورک اُس کی ایک مثال ہے۔ صوبہ بلوچستان سمیت مغربی سرحدوں کی جانب سے دہشت گردی کے جب کچھ واقعات ہوئے توافواجِ پاکستان نے مئوثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ اب پاک افغان بارڈرمینجمنٹ کے ذریعے مغربی سرحد کو کافی حد تک محفوظ بنایا جاچکا ہے۔ دہشت گردی کے اِکا دکا واقعات کا ہونا ریاست پاکستان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ۔ ہماری افواج ان سے نمٹنا بخوبی جانتی ہیں اور الحمد للہ نمٹ رہی ہیں۔
قوم اور افواج وطنِ عزیز کے حوالے سے بہت حساس ہیں اور اس کی سا  لمیت اور بقاء کو یقینی بنانے کے لیے کوئی بھی آ ہنی قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ پاکستان الحمدللہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اس کی ترقی، خوشحالی اور پروقار مستقبل قوم کی باہمی یکجہتی، یگانگت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ ہم ہیں تو پاکستان ہے، شاد رہے پاکستان۔

یہ تحریر 225مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP