قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چین اقتصادی راہداری اور علاقائی سطح پر انقلابی تبدیلیوں کے امکانات

قدیم دُنیا میں جنوبی وسطی اور مغربی ایشیائی خطوں کو وہی حیثیت حاصل تھی جو آج کل یورپ، شمالی امریکہ یا دُنیا کے دیگر دولت مند اور خوشحال ملکوں کو حاصل ہے۔ دولت کی ریل پیل تھی، آبادی کا ایک بڑا حصہ آسودگی کی زندگی بسر کررہا تھا جس سے علم وفن،ہنر، فلسفہ،ادب، فنِ تعمیر اور تہذیب و ثقافت رُو بہ ترقی تھی۔ آج کل کے علوم یعنی فلکیات، ریاضی، جیومیٹری، کیمسٹری ،بیالوجی، سیاسیات، ڈپلومیسی اور فنونِ  حرب کو بنیادی تصورات فراہم کرنے والے عظیم ذہن ان علاقوں میں اسی دَور میں پیدا ہوئے۔اسکی وجہ یہ تھی کہ مشرق (چین) اور مغرب



(یورپ) کے درمیان تجارت کے راستے نہ صرف ان ہی ممالک سے گزرتے تھے بلکہ ان تجارتی راستوں جنہیں شاہراہِ  ریشم کامجموعی نام دیاگیا تھا،کے ذریعے مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے، مختلف ثقافتوں کے حامل، مختلف زبانیں بولنے والے رہنما اور مختلف سماجی، اقتصادی اور سیاسی نظاموں کے تحت زندگی بسر کرنے والے لوگوں کا آپس میں میل جول ہوتا تھا۔ شاہراہِ  ریشم صرف تجارتی اشیاء سے لدے پھندے اونٹوں اور گھوڑوں پر مشتمل کارواں ہی استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ علم، ایجادات، روحانی تسکین کی پیاس بجھانے اورنئے تصورات اور نئی حقیقتوں کی متلاشی ہستیوں کے  پُرخطر سفر کے لئے بھی استعمال ہوتی تھی۔ اسی طرح مختلف شاخوں پر مشتمل قدیم شاہراہِ ریشم( ایک اندازے کے مطابق  تقریباً 4000 میل طویل سڑکوں پرمشتمل تھی) نہ صرف ایشیا اور افریقہ کے کچھ حصوں کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا موجب تھی بلکہ ایک کمپوزٹ ثقافت، نئے تصورات، خیالات اور مذاہب کے پھیلائو اور فنِ تعمیر ، زندگی کے رہن سہن ،خوراک ، لباس کے ترقی یافتہ رجحان کا بھی باعث تھی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہاجب تک کہ تحریکِ احیائے علوم اور اس کے بعد دریافتوں اور ایجادات کے زمانے کے نتیجے میں   سمندر کے راستے تجارت نے خشکی کے راستے تجارت پر فوقیت حاصل کرلی ۔ بحری آمد و رفت کی ترقی اور اس  کے نتیجے میں سمندر ی تجارت میں اضافے نے پندرھویں صدی کے آخر  اور سولہویں صدی کے آغاز میں یورپی نوآبادیاتی نظام  کی بنیاد رکھی  جو ایشیا اور افریقہ کے بیشتر علاقوں پر یورپی ممالک کے قبضے کی صورت میں انیسویں صدی کے آخر میں اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں انہی نوآبادیاتی اور سامراجی نظام کے زوال کا عمل شروع ہوا جسے دو عالمگیر جنگوں 1914 اور1939-45 نے مزید آگے بڑھایا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں  کے اختتام پر یورپی نوآبادیاتی نظام کا سورج غروب ہوچکا تھاتو اس کی جگہ سو سے زائد نئے آزاد ایشیائی اور افریقی ممالک عالمی سیاسی نظام کا حصہ بن چکے تھے لیکن یہ نوآزاد ممالک سیاسی طور پر آزاد ہونے کے باوجود معاشی طور پر بدستور اپنے پرانے آقائوں کے غلام تھے کیونکہ 500 سال سے زائد نوآبادیاتی غلامی نے ان کی معیشت اور تجارت کو اپنے اپنے یا ملحقہ خطوں کے ممالک کے ساتھ منسلک رکھنے کے بجائے لین دین کے بعد انتہائی غیر منصفانہ استحصالی اور ظالمانہ نظام میں یورپی معیشتوں اور منڈیوں سے جوڑدیا تھا۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں ان زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کی گئی مگر ناکام رہے۔ 21 ویں صدی میں اقتصادی غلامی کے ان بندھنوں کو توڑنے کے لئے چین کی طرف سے شروع کیا جانے والا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(Belt and Road Initiative) تازہ ترین اور سب سے کامیاب کوشش ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈانیشی ایٹو(BRI)  چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کی سوچ کا نتیجہ ہے ۔ اس انیشی ایٹو جسے صدر شی جن پنگ نے سب سے پہلے2013 میں قازقستان کے دورے کے دوران تجویز کیاتھا۔ دراصل عالمی سطح پر سڑک ، ریلوے لائنوں ، تیل و گیس کی پائپ لائنوں پر مشتمل قوموں کے درمیان روابط کو فروغ دینے کے لئے ایک ایسا نیٹ ورک ہے جس کا ایک سرا چین سے شروع ہو کر وسطی ایشیا کے پہاڑی علاقوں سے گزرتا ہوا ایک طرف مغرب میں یورپ اور دوسری طرف مشرق میں جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کو ملاتا ہے۔ اس کا مقصد ان خطوں کے ممالک کے درمیان نہ صرف تجارت کو فروغ اور خطے کے لئے ضروری انفرا سٹرکچرتعمیر کرنا ہے بلکہ معیشت ، زراعت ، توانائی کو ترقی دینے کے علاوہ قوموں کے دمیان علمی ، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں عمومی سطح پر روابط کو بڑھانا بھی ہے۔ اس لئے بیلٹ اینڈ روڈ کے عالمگیر منصوبے کا مقصد اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہی نہیں بلکہ علم ، ثقافت، سپورٹس، سیاحت ، صحافت کے شعبوں میں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر بین الاقوامی  مفاہمت اور امن کے ماحول کو استحکام بخشنا بھی ہے۔ ایشین ترقیاتی ممالک کے اندازے کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈانیشی ایٹو دنیا کو اس وقت معاشی ترقی میں سُست روی پر قابو پانے کے لئے 800بلین ڈالر مالیت کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے رقم فراہم کرے گا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابقBRIمنصوبے پر عمل درآمد سے2040 تک دنیا کی مجموعی پیداوار 7.1ٹریلین ڈالر سالانہ ہو جائے گی۔ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری کا منصوبہ CPEC اسی عالمگیر منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ کا ایک مگر سب سے اہم حصہ ہے کیونکہ اسی کے تحت چین کے مغربی حصے اور بعد میں پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کو سڑکوں، ریلوے لائنوں، شاہراہوں ، تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کے ذریعے آپس میں ملانے اور پاکستان میں توانائی کے منصوبے تعمیر کرنے، گوادر کی بندر گاہ کو مزیدگہرا اور وسیع کرنے اور سپیشل اکنامک زونز(SEZ)قائم کرنے کے لئے دونوں ملکوں کے اشتراک سے تقریباً 62 بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ سرمایہ کے لئے یہ رقم چین فراہم کرے گا جو تین کیٹیگریز پر مشتمل ہوگی۔ گرانٹ بہت کم شرح سُود پر حکومتی قرضے اور پاکستان اور چینی سرمایہ کاروں کے اشتراک کے لئے چینی بنکوں سے عام شرح سُود پر قرضے شامل ہیں۔ سی پیک کے منصوبے پر پاکستان اور چین نے 2015 میں 10 سال کی مدت کے لئے دستخط کئے تھے۔ اس کا پہلا فیز(2015-20) مکمل ہو چکا ہے جس کے تحت پاکستان میں توانائی کے منصوبوں کی تعمیر پر سب سے زیادہ توجہ دی گئیہے۔ اگلے دوبرس کے بعد اس سیکٹر میں سی پیک منصوبے کے تحت سرمایہ کاری کی کل رقم 33 بلین ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی اور پاکستان میں توانائی کی موجودہ 28GW پیدا وار میں مزید17GW کا اضافہ ہو جائے گا۔اس طرح پاکستان توانائی خصوصاً بجلی کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہوجائے گا بلکہ اضافی پیداوار کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد بجلی برآمد کرنے کے بھی قابل ہو جائے گا۔ سی پیک میں پورا پاکستان شامل ہے اور اس کے تحت کشادہ شاہراہوں ، ہائی سپیڈ ریلوے سروسز اور گوادر کی بندر گاہ کو بحری راستوں کے ذریعے کاشغر کے علاوہ چین کے مغربی حصے میں واقع دیگر شہروں اور مشرقی چین کے ساحلی علاقے سے بھی ملایا جائے گا۔ پاکستان کے جن بڑے  بڑے  شہروں کو سی پیک آپس میں ریلوے لائنوں اور شاہراہوں کے ذریعے چین کے مغربی صوبے کے دارالحکومت کا شغر سے ملایا جائے گا اُن میں گلگت ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، لاہور، ملتان، کوئٹہ ، سیالکوٹ، حیدر آباد، کراچی اور گوادر شامل ہیں۔ سی پیک کے تحت پاکستان اور چین مشترکہ طور پر مختلف منصوبوں کی تیاری، سرمایہ کاری اور تعمیر میں حصہ لیں گے۔ چین کو انفراسٹرکچر کی تعمیرمیں مہارت اور تجربہ حاصل ہے۔ اعلیٰ کوالٹی کا سامان تیار کرنے کی اس کے پاس صلاحیت موجود ہے۔ اس نے گزشتہ چاردہائیوں میں لوہے، فولاد اور کوئلے کی صنعتوں میں زبردست ترقی حاصل کی ہے اور سب سے بڑھ کر دُنیا کی دوسری بڑی معیشت  ہونے کی بنا پر  بیلٹ اینڈ روڈ انیشی اٹیو کے تحت دُنیا بھر میں بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔ (ایک اندازے کے مطابق چین اب تکBRI کے تحت دُنیا کے مختلف ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، 200 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے) سی پیک کے ذریعے پاکستان کو چین کی ان صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان کو قدرت نے وسیع قدرتی اور معدنی وسائل سے نوازا ہے، اس کی آدھی آبادی نوجوان طبقے پر مشتمل ہے جو ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اس22 کروڑ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ کنزیومر مارکیٹ پر مشتمل ہے اور سب سے بڑھ کر اسے اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کی بنا پر جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت، توانائی کی ترسیل اور انسانی رابطوں کے لئے ایک پل کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع چین کی اس کے مغربی حصے میں ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی پر عمل درآمد اور کامیابی کے لئے بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلے (2015-2020) میں توانائی کے منصوبے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بعد اب ساری توجہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان پاکستان کی مخصوص اور اہم جغرافیائی لوکیشن کو معاشی ترقی اور خوشحالی کے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنے پر مرکوزہوگی۔ دونوں خطوں کے درمیان مواصلاتی رابطوںکو  فروغ دے کر نہ صرف انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کیا جائے گا بلکہ اس کی بنیاد پر معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جائے گی تاکہ ان دونوں علاقوں میں غربت کم ہو، بے روزگاری ختم ہو، لوگوں کا معیارِ زندگی  بلند ہو اور سب سے بڑھ کر دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں سے امن ، مفاہمت اور تعاون کا ماحول پیدا ہو۔ وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں  ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ تک پہلے زارِروس(1817سے1868)اور پھر سابقہ سوویت یونین1917)سے(1991 کا حصہ رہیں۔اس طویل عرصہ کے دوران وسطی ایشیا کے مسلمان ملکوں کے درمیان تجارت اور اقتصادی شعبے میں یکجہتی کے بجائے ایک دوسرے سے دوری(Isolation) کا عمل فروغ پایا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی وسطی ایشیا کے ممالک کے درمیان انٹر ریجنل ٹریڈ کی سطح 6.2 فیصد سے زیادہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سابقہ سوویت یونین سے الگ ہونے اور آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ان ملکوں کا ماسکو پر بھاری انحصار موجود ہے۔ جنوبی ایشیاکا بھی تقریباً یہی حال ہے۔74سال سے آزادی کی زندگی بسر کرنے اور گزشتہ 36 سال سے علاقائی تعاون برائے ترقی اور تعاون تنظیم ''سارک'' کے زیرِسایہ ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا کے ممالک میں باہمی تجارت کا حجم تنظیم کے آٹھ رُکن ممالک  کی مجموعی درآمدی اور برآمدی تجارت کے حجم کا 5اور6 فیصد سے زائد نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں اور بیشتر ترقی پذیر ملکوں کی طرح جنوبی ایشیا کے ممالک کا تجارت اور اقتصادی  ترقی کے لئے انحصار ترقی یافتہ اور مغرب کے امیر ممالک پر ہے۔  چین کے عالمی پروگرام ''بیلٹ اینڈ روڈانیشیی اٹیو (BRI)سے وسطی ایشیا کے ممالک کی ایک دوسرے سے آئیسولیشن ختم ہوگی۔ تجارت، معیشت، ترقی کے شعبوں میں تعاون فروغ پائے گا اور خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ بیرونی ممالک پر انحصار ختم ہوگا اور اسی طرح سی پیک سے جنوبی ایشیا کے ممالک میں باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا۔ معاشی ترقی کا عمل تیز ہوگا۔ مہنگائی بے روزگاری اور غربت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اگر چہ سی پیک کی بنیاد پاکستان اور چین کے درمیان ایک دو طرفہ معاہدہ پر رکھی گئی ہے تاہم سی پیک اتھارٹی کے چیئر مین خالدمنصور کے ایک حالیہ بیان کے مطابق  پاکستان اور چین کے علاوہ جنوبی وسطی اور مغربی  ایشیا، بلکہ افریقہ اور یورپ سے بھی تعلق رکھنے والے70 کے قریب ممالک اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح تجارت، معاشی ترقی، ثقافتی میل جول اور سیاحت کے شعبوں میں سی پیک کا مثبت اور خوشگوار اثر دونوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ثمر سے دُنیا کے دیگر خطے بھی مستفید ہوں گے۔ پاکستان کے لئے یہ کوریڈور ایک گیم چینجر سے کم حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ ملک کی پوری تاریخ میں اس انفراسٹرکچر کی تعمیر ، توانائی کے شعبے اورصنعتی ترقی  اور نہ صرف تجارت بلکہ لوگوں کے آنے جانے کو سہل بنانے کے لئے سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھانے پر اس قدر رقم کی کبھی سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور سرمایہ کاری ایک ایسے ملک (چین) کی طرف سے کی جارہی ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم اور مخلص دوست ثابت ہوا ہے۔سی پیک سے پاکستان میں بجلی کی دیرینہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ بڑے بڑے شہروں کو موٹرویز کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کردیاگیا ہے۔ گوادر کی بندر گاہ کو مزید گہرا کرکے اور وسعت دے کر بھاری کارگو ہینڈل کرنے کے قابل بنایاگیا ہے۔ پاکستان میں ہزاروں مزدوروں، کاریگروں اور انجینئر ز کو ملازمت  ملی ہے۔ سی پیک سے قبل اور اس کے  پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد کی قومی معاشی صورت حال کا اگر موازنہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ پاکستان ایک معاشی انقلاب کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ کوریڈور کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد پاکستان کی معیشت نہ صرف اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے گی بلکہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، روز گار کے مواقع میں اضافہ، برآمدات میں فروغ اور معیشت کی ترقی سے لوگوں کی زندگیاں بدل جائیں گی۔ یہ عمل مستحکم ہوا اور جاری رہا تو اس کا خوشگواراثر ہمسایہ خصوصاً افغانستان اور وسطی ایشیا ئی ممالک پر بھی پڑے گا کیونکہ جیسا کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا ہے کہ دوسرے تیسرے مرحلے میں سی پیک کا فوکس افغانستان کے راستے پاکستان اور وسطی ایشیائی راستوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے تاکہ ان دونوں خطوں کے درمیان تجارت اور معاشی ترقی کا عمل تیز کیا جاسکے۔ ||


مضمون نگار معروف تجزیہ نگار ا ور کالم نویس ہیں۔
  [email protected]
 

یہ تحریر 562مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP