ہمارے غازی وشہداء

چلا جاؤں گا

جنوبی وزیرستان میں وادی شکئی کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ’وزی سر‘ کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑانے والی پلاٹون کے ہیرو اور آپریشن راہ نجات میں 9 پنجاب کے پہلے شہید لانس حوالدار ظہیرشہید تمغہ بسالت کی زندگی اور شہادت کی داستان

تیری مشکل نہ بناؤں گا، چلا جاؤں گا۔

اشک آنکھوں میں چھپاؤں گا، چلا جاؤں گا۔

مدتوں بعد میں آیا ہوں پرانے گھر میں۔

خود کو جی بھر کے رلاؤں گا، چلا جاؤں گا۔

خطہء پوٹھوہار کے جواں سال شہید لانس حوالدار محمد ظہیر تمغہء بسالت کی آواز تحت الفظ اورپوٹھوہاری لہجے میں میری سماعتوں سے ٹکراتے ہوئے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتی اور دماغ کے نہاں خانوں میں اُلجھتی چلی جا رہی تھی۔

چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں۔

ان کو سینے سے لگاؤں گا ،چلا جاؤں گا۔

ان حالات سے کچھ نہیں لینا مجھ کو۔

بس تمھیں دیکھنے آؤں گا، چلا جاؤں گا

میں گھٹنے جوڑے، کندھے سکیڑے،نظریں جھکائے ہمہ تن گوش، شہید کی آواز میں مستورو آشکار پیغامات کی گتھیاں سلجھا رہا تھا۔عبداللہ بن ظہیر ایک 8 سالہ بچہ میرے پہلو میں کھڑا اپنے شہید باپ کی آخری ریکارڈنگ گہری خامشی سے سن رہا تھا۔میرے سامنے بیٹھی غم و الم کی دو دیویاں شہید کی اہلیہ نازیہ ظہیر اور خوشدامن یہ ریکارڈنگ لا تعداد مرتبہ سن چکی تھیں۔عبداللہ کی عمر صرف ساڑھے تین برس تھی جب سے اس نے یہ آواز صرف ریکارڈنگ میں سننا شروع کی تھی۔پہلے ایسی ہی آواز اسے اکثر موبائل فون پہ سنائی جاتی تھی، تب وہ اس آواز کوپاپا ،پاپا کہہ کر مخاطب بھی کر سکتا تھا۔پاپا کی آواز اس سے بار بار فرمائش پوچھا کرتی تھی۔وہ اپنی توتلی زبان میں’’پاپا، کاپی،پنسل،گیند اور بلا۔۔۔‘‘ جیسے الفاظ بھی ادا کر لیتا تھا۔لیکن اب یہ آواز اسے صرف یک طرفہ طور پر موبائل کے سپیکر پر سنائی جاتی اور کوئی اس سے کرید کرید کر فرمائشیں نہ پوچھتا تھا۔ اب تو اس کی فرمائشیں بھی دم توڑ چکی تھیں۔ میرے متعدد بار پوچھنے پر بھی اس نے کوئی چیز نہ مانگی تھی۔ بس پاپا کی آواز غور سے سنتا رہا۔ اسے پاپا کی آواز بہت اچھی لگتی تھی، لیکن حیرانی اس بات پہ ہوتی کہ ماما کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی برسنے لگتی اور نانو پاس بلا کر بلائیں لینے لگتی تھیں۔اسے پاپا سے اپنی کوئی ملاقات یاد نہیں تھی۔بس سبز ہلالی پرچم میں لپٹا تابوت یاد تھا، جب گھر میں فوجی ہی فوجی تھے۔ہزاروں لوگ جمع ہو گئے تھے۔فوجیوں نے پریڈ کرتے ہوئے سلامی پیش کی تھی۔تب فوجی انکل نے عبداللہ کے سر پر پاپا کی وردی والی ٹوپی پہنا کر بہت سا پیار بھی کیا تھا۔موبائل فون کے سپیکر سے ابھرتی ظہیر شہید کی آواز اب بھی میری سماعت میں گونج رہی تھی۔

بات نہ کرنا دل کو دکھانے والی، قسم نہ ٹوٹ جائے ساتھ نبھانے والی۔ زندگی تو تم سے بچھڑ کر بھی گزر جائے گی ،پر بات مشکل ہے تم کو بتانے والی۔۔۔‘‘ شرمیلے، لجیلے چھیلے،بانکے اور سجیلے محمد ظہیر شہید کے نجی محفل میں فوجی ساتھیوں کے جلو میں سنائے گئے اشعار کی آواز میری روح میں سرایت کر رہی تھی۔

ہر بات مشکل ہے تم کو بتانے والی۔۔۔‘‘ ، وہ اپنی سادہ لوح اہلیہ کا باوفا شوہر،خوشدامن کا حیادار داماد اور باپ جیسے بڑے بھائیوں کا تابع فرمان بھائی اور معصوم عبداللہ بن ظہیر کا آئیڈئیل پاپا تھا ۔ اس نے جہاں اپنے پیاروں سے وفا کے پیمان باندھ رکھے تھے اور انھیں داغ مفارقت کا رنج کسی ناگہانی خبر کی صورت میں دینے سے ڈرتا تھا وہیں اسے یہ حوصلہ بھی نہ تھا کہ صاف الفاظ میں اعلان کر دے کہ ’اے میری جان وفا رفیقہء حیات!اے میرے لخت جگر پسر! اور قابل صد احترام برادران گرامی! میں تو اپنے وطن عزیز سے باندھے ہوئے پیمان کی لاج نبھانے جا رہا ہوں۔مجھے تو میری ملت کی کروڑوں ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں سے وفا کا خراج لینا ہے!‘ ظہیر شہید نے در اصل اپنا پیغام اسی وقت اپنی اہلیہ کودے دیا تھا جب شہادت سے چنددن قبل ان کا آخری فون آیا تھا۔تب انھوں نے اپنی رفیقہء حیات نازیہ ظہیر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا،’’میری ریٹائرمنٹ مؤخر ہو گئی ہے اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیاہے،مجھے ترقی دے کر لانس حوالدار بنا دیا گیا ہے اور اب میں ایسے مقام پر فرائض کی انجام دہی کے لئے جا رہا ہوں جہاں سے فون پر رابطہ ممکن نہیں ہو گا، البتہ میرا ایک سپاہی آپ کو میری خیریت سے مطلع کرتا رہے گا۔‘‘

نازیہ ظہیر کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلا گیا تھا۔اس نے تو اپنے گھر کی تعمیر کے لئے اینٹیں بھی منگوا رکھی تھیں اور جب بھی چھٹی کی بات کرو تو کہا کرتا تھا کہ بہت جلد ریٹائرمنٹ ہونے والی ہے،ایک ہی بار آ کر گھر بنا لوں گا، آج جب میں ظہیر کا شعروں میں ڈھلا واضح پیغام اپنے کانوں سے سن رہا تھا تو مجھے کچھ شک نہیں رہا تھا کہ لانس حوالدار محمد ظہیر کو اپنی شہادت کا ادراک بہت پہلے سے ہو چکا تھا۔ ’’ان حالات سے کچھ نہیں لینا مجھ کو۔۔۔ بس تمھیں دیکھنے آؤں گا ، چلا جاؤں گا!‘‘

تبھی تواپنی یونٹ میں ڈرائیور ہونے کے باوجود کیمپ میں گاڑیوں کے ساتھ رکنے سے انکار کر دیا تھا اور خود کو پیدل سپاہ کے ہمراہ رضاکارانہ طور پر جانے کے لئے پیش کر دیا تھا۔ظہیر (شہید) کی پلٹن ۹ پنجاب رجمنٹ اس وقت جنوبی وزیرستان میں شکئی بریگیڈ کا حصہ تھی۔ تب یونٹ کی کمان لیفٹیننٹ کرنل نیر نصیر کر رہے تھے۔ 17 اکتوبر 2009 کو جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کا باقاعدہ آغاز ہوا تو یونٹ کو یہاں پرایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ 9 پنجاب رجمنٹ کو اب ایک بڑے آپریشن کے لئے ایک ایسا اہم راستہ کھولنا تھا جو تروام پل کی طرف سے گزشتہ چار پانچ سال سے بند تھا کیونکہ پاک فوج کے مسلسل مصالحانہ طرز عمل اور صلح جو رویے کو دہشت گردوں نے کمزوری سمجھ لیا تھا اور بلااشتعال زیادتیوں اور ہٹ دھرمی کی روش چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ انھوں نے کھلے عام دھمکیاں دینے اور چیلنج کرنے کا وتیرہ اپنا لیا تھا۔ شکئی وادی میں سب سے اونچے فیچر’ وزی سر‘ پر دہشت گردوں کا مضبوط گڑھ تھا۔ شواہد سے ثابت ہو ا کہ وہاں پر بڑی تعداد میں ازبک اور دیگر بدیشی دہشت گرد کنکریٹ اور فولاد کے بنے مضبوط بنکروں میں جدید ترین خودکار ہتھیاروں،14.5 اور12.7 کیلیبر کی سنائیپراور اینٹی ائیر کرافٹ گنوں، راکٹ لانچروں اور دستی بموں سے لیس پوری تیاری سے مورچہ زن تھے۔شکئی بریگیڈ کی ایک اور بٹالین 10 این ایل آئی رجمنٹ کو آپریشن کے دوسرے مرحلے میں تین بڑی چوٹیوں ٹاپ ون، ٹاپ ٹو اور ٹاپ تھری کے بعد ’ وزی سر‘ کی سرکوبی کا مشن سونپا گیا تو کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل کاشف نے بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیئر احسان(اب میجر جنرل) سے ایک اضافی کمپنی کی درخواست کی۔ چنانچہ 9 پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی کیپٹن محمد عاصم قریشی(جو اب بطور میجر ایک پنجاب لائیٹ کمانڈو بٹالین کا حصہ بن چکے ہیں) کی قیادت میں 10 این ایل آئی بٹالین کے ساتھ آپریشن کے لئے بھیج دی گئی۔کیپٹن عاصم قریشی نے ایک پلاٹون کو لیفٹیننٹ مبشرسہیل خان(اب کیپٹن) کی قیا دت میں کسی بھی ہنگامی صورت میں کارروائی کے لئے ’غٹ غنڈائے‘، ٹاپ ٹو کی ذیلی پہاڑی ’رب ٹو‘ کے مقام پر ذخیرہ کے طور پر چھوڑا اور دو پلاٹونوں کے ساتھ شام ہوتے ہی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ کیپٹن عاصم ہر قسم کی مزاحمتوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ وزی سر چوٹی اور اس سے پہلے کی چوٹیوں سے آنے والی مزاحمت غیر معمولی تھی اور اب تک کیپٹن عاصم کے چار جوان زخمی ہو چکے تھے۔ دہشت گردوں کی ایک تیکنیک یہ تھی کہ وہ انسانی شکل کا ایک مصنوعی ہدف بنا کر کسی بھی بڑے پتھر، چٹان یا درخت کے پیچھے سے نمودار کرتے جس پر ایمونیشن بھی ضائع ہوتا اور اپنی پوزیشن بھی آشکار ہو جاتی، کیپٹن عاصم نے ان کی یہی تکنیک ان کے خلاف کمال مہارت سے استعمال کرائی اوردہشت گردوں کو خوب زچ کیا۔کچھ جوان شدید سردی، گھنے جنگل اورچومکھی مزاحمت کا مقابلہ کرتے کرتے

تتر بتر بھی ہو گئے تھے ۔ کیپٹن عاصم نے فیصلہ کیا کہ و زی سر پر آخری اور بھر پور ہلہ بولنے کے لئے لیفٹیننٹ مبشر کی پلاٹون کو حرکت میں لایا جائے۔ یہ پلاٹون 17 اکتوبر2009 کی صبح 5 بجے سے دشوار گذار پہاڑیوں اور چوٹیوں سے ہوتی ہوئی گزشتہ رات ’ٹاپ ٹو‘ کے عین نیچے ’ رِ ب ٹو‘ کے مقام تک پہنچی تھی اور اگلے حکم کی منتظر تھی۔علاقے کی دشوار گزاری و پرخاری کو مد نظر رکھتے ہوئے لیفٹیننٹ مبشر کے نائب لانس حوالدار ظہیر کے مشورے سے پوری پلاٹون نے سلیپنگ بیگ کا بوجھ ساتھ نہ لیا تھا کیونکہ آسمان کو چھوتی چوٹیاں، اچانک ڈھلوانیں، شیطان کی آنت جیسے لمبے پتھریلے فاصلے او ر پہلے ہی جسم پہ لدا اسلحہ و بارود اور ضرب و حرب کا بنیادی سامان مزید وزن کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ البتہ ایک ایک چادر سب نے ساتھ رکھ لی تھی۔ ہر سولجر کے پاس اپنے جنگی تھیلے کے علاوہ خودکار ہتھیار، بھری ہوئی پانچ پانچ میگزینیں اور دو دو دستی بم بھی تھے۔ دن بھر کے سفر کے بعد پلاٹون 17 اور18اکتوبر کی درمیانی شب ٹاپ ٹو کے نیچے ’رب ٹو‘ کے مقام پر آگئی تھی جہاں اگلے حکم تک انتظار کرنا تھا۔ چنانچہ ایک ڈھلوان کا انتخاب کیا گیا تاکہ جوانوں کو چند گھنٹے سونے کا موقع دیا جائے۔ لانس حوالدار ظہیر اور اس کے ساتھیوں نے یہاں درختوں کی ٹہنیوں اور پتوں کی مدد سے ایک کمرہ نما آڑ تیار کی اور اپنے پلاٹون کمانڈر سے درخواست کی کہ وہ بھی اس یخ بستہ موسم کی چیرہ دستیوں سے کچھ دیر کے پناہ لے کر سو جائیں۔ پلاٹون کمانڈر لیفٹیننٹ مبشرسہیل خان بھلا کیونکر اس خوابگاہ میں اکیلے اپنی قبا تان کر سو جانے کا تعیش قبول کر تے، انھوں نے فیصلہ سنایا کہ سب لوگ اکٹھے برگ وبر کی اس پناہ گاہ میں سوئیں گے، یوں اپنے تمام سولجرز کو اس عجلہء حربی کے مزے لٹائے۔

18 اکتوبر کی شام لیفٹیننٹ مبشرسہیل خان کو مزید پیش قدمی کے احکامات موصول ہوئے۔ انھیں نہ صرف اگلی پلاٹونوں کے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد پہنچانا تھی بلکہ ان کے تتر بتر سولجرز کو دشوار گزار پہاڑیوں اور خوفناک جنگل سے تلاش کر کے منظم کرنا اوران کا آپس میں رابطہ بحال کرنا تھا، جبکہ دہشت گرد ابھی تک چوٹی پر مورچہ زن تھے اور نیچے ہونے والی نقل و حرکت کھلی خود کشی کے مترادف تھی۔لیفٹیننٹ مبشر کی پلاٹون کے مشن کا صحیح ادراک ان کے کمپنی کمانڈر کیپٹن عاصم اور بٹالین کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل کاشف کو ہی تھا۔لیفٹیننٹ مبشر نے رات کی تاریکی چھانے کا انتظار کیا اور عشا ء کے بعد چاندنی رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپاس کی مدد سے سمت کا تعین کرتے ہوئے جوڑیوں کی شکل میں آگے بڑھنا شروع کیا۔ تھوڑی دور جانے پر لیفٹیننٹ مبشر نے کچھ فاصلے پر مشکوک سرگرمی محسوس کی اور اپنے نائب ظہیر سے ذکر کیا تو ظہیر نے فوری طور پر جائزہ لے کر بتایا کہ یہ دہشت گردوں کا ایک جتھہ تھا جو ٹاپ ون پر عقب سے حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ چنانچہ پلاٹون کے ہراول دستے نے جس میں لیفٹیننٹ مبشر کے ساتھ ان کے نائب ظہیر کے علاوہ فرہاد بھی تھا۔ دہشت گردوں کے اس جتھے پراچانک حملہ کر دیا،وہ بوکھلا گئے اورجدھر منہ اٹھا بھاگ گئے ۔پلاٹون کمانڈر کے لئے مشن زیا دہ اہم تھا چنانچہ ان کا مزید پیچھا کرنے کی بجائے پیش قدمی جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ ہر قدم پہ پتھر اور کھائیاں اور ہر آہٹ پر سنسناتی ہوئی گولی کا خطرہ تو تھا ہی اوپر سے سردی کا یہ عالم کہ رگوں میں خون منجمد ہوا جاتا تھا ۔ خیر ایک ایک کر کے سبھی سولجرز اکٹھے کر لئے گئے تھے۔ اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ چاروں زخمی بھی تلاش کر لئے گئے تھے۔ رات کا پچھلا پہر ہونے کو تھا، یہ زخمی کئی گھنٹوں سے اس جان لیوا سردی کا

مقابلہ اپنی قوت ارادی سے کر رہے تھے۔ جب ایک آفیسر کے ہمراہ اپنے لوگوں کو دیکھا تو جان میں جان آئی، انھوں نے سوچا کہ ان کے لئے کھانا اور پانی پہنچ گیا ہے۔ لانس حوالدار ظہیر نے اس موقع پر غزوہ خندق کی یاد تازہ کرتے ہوئے کمال ایثار کا مظاہرہ کیا اور اپنے ساتھیوں کی پانی کی بوتلوں سے بچا کھچا پانی جمع کر کے انھیں پیش کر دیا اور انھیں ابتدائی طبی امداد دے کر اور اپنی چادریں بھی ان پر ڈال دیں۔ اس کے بعد انھیں قدرے محفوظ مقام پر چھوڑ ا اور باقی سولجرز کو تلاش کر کے شمار اورمنظم کرنے میں لگ گئے ۔ اب پھر پیش قدمی شروع ہوئی۔ فوجی پٹھو اور ہتھیار کے بوجھ سمیت پہاڑوں کے نشیب و فراز پر کئی گھنٹوں سے مسلسل پیدل چلنے اورہنگامی راشن کے سوکھے بسکٹوں سے حلق بری طرح خشک ہوا جا رہا تھا۔یہ پیش قدمی اس لئے بھی جان جوکھوں کا کام بنتا جا رہا تھاکہ 30 گھنٹے پہلے بھری گئی پانی کی بوتلیں کب کی خالی ہو چکی تھیں اور بس قوت ارادی تھی جس پر سبھی بڑھے چلے جا رہے تھے ورنہ انسانی توانائی کی حد تو تقریباََ پار ہو چکی تھی ۔ لیفٹیننٹ مبشرنے ٹاپ ون پر پہنچ کر کمپنی کمانڈر سے ملاقات کی اور اگلی صبح وزی سر پر آخری اور بھر پور حملے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ رات بھر سب نے چوکنا رہ کر گزاری اور 19 اکتوبر کی صبح وزی سر پر چڑھائی کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ کمانڈنگ آفیسر نے اس مشن کی تکمیل کے لئے کیپٹن عاصم کو43 پنجاب کی ایک پلاٹون بھی دے دی تھی۔ اس پلاٹون کی کمان لیفٹیننٹ بلال کر رہے تھے۔ انھیں صبح سویرے ہی دائیں جانب سے گھوم کر وزی سر پر میمنہ سے حملہ کرنے کے لئے روانہ کر دیا گیا تھا،جبکہ لیفٹیننٹ مبشر کی پلاٹون کو سامنے کی سمت سے پہاڑ پر حملہ آور ہونا تھا۔بلال کا راستہ کافی طویل تھا لیکن انھیں کسی حد تک دہشت گردوں کی براہ راست توجہ کا سامنا نہ تھا۔ جبکہ مبشر کے دستے نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربا لکل ناک کے نیچے سے پیش قدمی کرنا تھی۔ صبح ہوتے ہی ہدف پر بھر پور فضائی اور زمینی بھاری ہتھیاروں سے بمباری کی گئی اور دہشت گردوں پر واضح کر دیا گیا کہ انھیں اس چوٹی پر مزید قابض نہیں رہنے دیا جائے گا۔حملے کے آغاز سے کچھ دیر قبل اپنے ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 سے کھاناڈراپ کیا گیا ، البتہ جب پانی کے ڈبے گرائے جاتے تو وہ پتھروں پہ گرتے ہی پھٹ جاتے۔ ایسے میں لانس حوالدار ظہیر نے پلاٹون کمانڈر سے نظریں بچا کر پانی بچانے کی خاطر ہیلی کے عین نیچے جانے کا خطرہ مول لیا اور اپنے سولجرز کے لئے چند ڈبے ہاتھوں سے کیچ کر کے محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ہیلی نے کھانا گرانے کے بعد فولادی پکٹس اور کانٹے دار تار بھی گرانی تھی جس کی وجہ سے پلاٹون کمانڈر کبھی ہیلی کے نیچے جانے کی اجازت نہ دیتے۔ راشن پھینکنے والے ہیلی کی حفاظت دو کوبرا ہیلی کاپٹر مسلسل ہدف پر گولیاں برسا کر کر رہے تھے۔ دہشت

گردوں کے راکٹ ایم آئی 17 کے دائیں بائیں سے گزر رہے تھے، پاکستان ایوی ایشن کے پائلٹ کمال فن، ا ور بہادری سے جھپٹ پلٹ کر ہدف پر فائرنگ کرتے رہے۔ ایم آئی 17کو خطرے میں محسوس کر کے پلاٹون کمانڈر نے اشارے سے ہیلی کو روانہ ہو جانے کا مشورہ دیا تو پائلٹ نے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے لہرا کر’تھمز اپ‘ سے جواب دیا۔ چکن چنا پلاؤ،آب حیات اور تھمز اپ کے بعد لانس حوالدار ظہیر کی یاد دہانی پر پلاٹون کمانڈر نے دعائے خیر کے بعدپیش قدمی کا آغاز کیا۔یہ بظاہر پانچ چھ سو گزسے زائد فاصلہ نہ تھا، لیکن اس کا زیادہ تر حصہ ایک پگڈنڈی کی طرح سطح سے انتہائی مختصر اور کنارے پرگہری کھائی والی کھڑی چٹان پر مشتمل تھا۔پل پل موت کے منہ میں 9 پنجاب رجمنٹ کے شیر دل جان نثاروں کی پیش قدمی جاری تھی۔لانس حوالدار محمد ظہیر اپنے پلاٹون کمانڈر کے دست راست کی طرح ہر لحظہ ان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنی پوری پلاٹون کو بطور نائب پلاٹون کمانڈر بہت مہارت اور چابک دستی سے ہدف کے بالکل قریب لانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔وہ ایک بہترین نشانہ باز تھا اورباوجود ایک ڈرائیور ہونے کے پلٹن کی فائرنگ ٹیم کا حصہ تھا۔ گزشتہ رات بھی اس نے محدود ایمونیشن کو کمال مہارت سے استعمال کیا تھا۔ وہ پوری پوری رات مشین گن پر ذاتی طور پر فرائض انجام دیا کرتا اور آپریشن کے لئے روانہ ہونے سے پہلے سب کو کہتا کہ ’’وضو کر لو‘‘۔ جب ہدف کا فاصلہ 50 گز سے بھی کم رہ گیا تو لیفٹیننٹ مبشر اور لانس حوالدار محمد ظہیر نے نعرہء تکبیر بلند کرتے ہوئے ہدف کی طرف دوڑ لگا تے ہوئے ہلہ بول دیا۔ عین اسی وقت منصوبے اور ارتباط کے مطابق دوسری طرف سے لیفٹیننٹ بلال بھی نعرہ مار چکے تھے۔وزی سر پر بھر پور یلغار ہو چکی تھی، دہشت گرد 25 سے زائد لوگوں کا پکا ہوا کھانا ، قیمتی مارکوں کی بدیشی قمیضیں، جدید ترین آلات میں استعمال ہونے والی بیٹریاں اور ایسی ہی متعدد چیزیں چھوڑ کر بدحواسی کے عالم میں بھاگے تھے۔ان چیزوں کو دیکھتے دیکھتے لیفٹیننٹ مبشر نے دیکھا کہ لانس حوالدار ظہیر ان کے ہمراہ نہیں تھا، چند ہی لمحے قبل وہ ذرا سا لڑکھڑا کر گرا تھا اور لیفٹیننٹ مبشر نے اسے ’’ شاباش ظہیر اٹھ جاؤ‘‘ کہہ کر حملہ جاری رکھا تھا۔ آفیسر واپس بھاگااور ظہیر کے پاس پہنچا۔۔۔ لیکن اب تک ظہیر کا چہرہ پرسکون ہو چکا تھا، اس نے عین سینے پر گولی کھائی تھی، آفیسر نے دیکھا کے گولی لانس حوالدار محمد ظہیر کی چھاتی پر سجی نیم پلیٹ پر ZHEER کے حرف Eکو چیرتی ہوئی سینے میں اتر گئی تھی۔ گوجرخان کے مارشل علاقے کا ایک اور سپوت اور آپریشن راہ نجات کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا ہیرو ، شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو کر اس آپریشن میں 9 پنجاب کے پہلے شہید کا اعزازحاصل کر چکا تھا۔ اپنے برادرتنویر طاہر سے کیا ہوا وعدہ وفا ہو گیا تھا، ’’ بھائی جان میں ایسی نوکری کروں گا کہ آپ کو دنیا بتائے گی کہ آپ کے بھائی نے کیسی نوکری کی ہے!‘‘ اپنی قبا دوسروں کو پیش کرنے والا آج جب سبز ہلالی پرچم کی قبا اپنے تابوت پہ لپیٹے موضع ہفیال میں داخل ہوا تو پورے خطہء پوٹھوہار کا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا۔

12جنوری 1973کو ایک فوجی کے گھر میں آنکھ کھولی اورابھی نویں جماعت کے طالب علم تھے کہ ماں چل بسی،جوانی میں بیمار اور ضعیف العمر والد کی خدمت کو شعار بنایا لیکن وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے، غربت نے پہلے ہی گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے، یوں بلا کی سنجیدگی اورخامشی ان کی طبیعت میں رچ بس گئی تھی، اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو وہی خامشی اور درد اپنے لخت جگر عبداللہ بن ظہیر کو عطا کر گئے۔ ’’اپنی دہلیز پہ کچھ دن پڑا رہنے دو مجھ کو۔۔۔ جیسے ہی ہوش میں آؤں گا، چلا جاؤں گا۔۔۔‘‘ لانس حوالدار ظہیر شہید تمغہء بسالت کی ریکارڈ شدہ آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔ ’’چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں، ان کو سینے لگاؤں گا، چلا جاؤں گا۔‘‘

یہ تحریر 261مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP