متفرقات

گُل زبانہ

شمالی وزیرستان کی ایک معصوم لڑکی کی سچی روئیداد۔ جس کا جسم ایک بم دھماکے میں بری طرح جھلس گیا تھا۔ پاک فوج کے ہسپتال میں علاج معالجے کے بعد وہ زندگی کی جانب لوٹ آئی۔

دو ہفتے ہو چُکے تھے۔ گل زبانہ نہ تو کُچھ کھا پی سکتی تھی نہ کسی پَل چین نصیب ہوتا تھا۔ اور پھر ایک دن یوں ہُوا کہ گُل زبانہ کی سوئی ہوئی قسمت جاگ اُٹھی۔ کسی صحافی نے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ تک گل زبانہ کی حالتِ زار کی خبر پہنچا دی۔ چند ہی لمحوں میں پاک فوج حرکت میں آچُکی تھی۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے فوری طور پر پشاور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی سے درخواست کی کہ متاثرہ خاتون کو برن سنٹر کھاریاں پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔ کور کمانڈر کی خصوصی ہدایت پر پشاور کور کے ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ایس پی آر کرنل ندیم مقامی فوجی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ خصوصی ایمبولینس کے ذریعے گل زبانہ کو لے کر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کھاریاں پہنچے۔ ان کے ہمراہ گل زبانہ کی ماں طوران بی بی اور چھوٹے بھائی کبیر خان اور شاہین اللہ بھی تھے۔اُدھر سی ایم ایچ کھاریاں کو پہلے ہی منگلا کور کی طرف سے ہدایات موصول ہو چُکی تھی اور برن سنٹر کے ماہرین کی ٹیم پہلے سے تیار کھڑی تھی۔

گل زبانہ کا گلنار اورمعصوم چہرہ دیکھ کر قطعاً اندازہ نہ ہوتا تھا کہ شمالی وزیرستان کی اس دوشیزہ کا 44فی صد جسم بارود اور آگ کے شعلوں میں جل چکا تھا۔ ا گر چہ آنکھوں میں خوف ،دہشت اور درد کے سائے نمایاں تھے مگر پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جانے کی اُمید ایک چمک کی صورت میں ابھی تک موجو د تھی۔ گل زبانہ کی ماں طوران بی بی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی جواں ہمت عورت تھی جِس کا خاوند عبدالرحمان اسے بھری جوانی میں آدھ درجن بچوں کا تحفہ دے کر بے یارو مدد گار چھوڑگیا تھا۔ طوران بی بی کی کل کائنات اب چار بیٹیاں اور دو ننھے مُنے معصوم بیٹے تھے۔ کوئی ذریعہ آمدنی نہیں تھا۔ کم سن بچوں کا نان نفقہ اور پہاڑ جیسی زندگی ! طوران بی بی نے زندگی کے فلک بوس کوہسار کو سر کرنے کے لئے شمالی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور گھنے جنگلوں کا رُخ کیا۔ دن بھر لکڑیاں اکٹھی کرتی اور رات بھر بستی والوں کے کپڑے سلائی کرتی۔زندگی بیتنے لگی تھی۔ بچوں کا پیٹ بھر جاتا تو طوران بی بی کی بھوک بھی مٹ جاتی۔ گل زبانہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔جلد ہی وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹانے لگی۔ تعلیم کا تو تصور ہی نہ تھا۔ شمالی وزیرستان کے لوگ خواتین کو سکول یا مدرسے بھیجنا خلافِ غیرت سمجھتے تھے۔ جہاں تک چھوٹے بیٹوں کبیر خان اور شاہین اللہ کی بات تھی تو طوران بی بی کے پاس اتنے پیسے ہی نہ بچتے تھے کہ انہیں سکول بھیج سکتی۔ زندگی اپنی ڈگر پہ چل نکلی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے گل زبانہ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چُکی تھی۔ ماں کی کسمپرسی کو دیکھتے ہوئے لگتا نہیں تھا کہ کبھی اس کے ہاتھ پیلے ہوں گے۔ وہ کسی راجہ کی بارات یا شہنائی کے خواب سجانے سے قاصر تھی۔ دن بھر ماں کی محنت مزدوری سے بمشکل پیٹ کا دوزخ بھرتا تھا۔ بس دن ہوتا تھا اور شام ہوتی تھی، زندگی یوں ہی تمام ہوتی تھی۔

ایک دن اچانک طوران بی بی کا ایک عم زاد بھائی کہیں سے ایک شخص کا پتہ لایا جو عمر میں تو گل زبانہ سے دوگنا بڑا تھا مگر بھلا مانس شخص تھا۔ وہ ٹریکٹر ، ٹرالی والوں کے ساتھ لوڈنگ کی مزدوری کرتا تھا‘ اوروہ گل زبانہ کو بغیر مالی بو جھ ڈ الے بیاہنے کے لئے تیار تھا۔ اس کے آگے پیچھے بھی کوئی نہ تھا۔ بس اکیلی ذات ، جِسے دو وقت کی روٹی پکانے کے لئے ایک جورو کی ضرورت تھی۔ طوران بی بی کو اپنے دُور کے بھائی کی بات پسند آ گئی‘ یوں گل زبانہ اپنے گھر کی ہو گئی۔ گل زبانہ کو راجہ مل گیا تھا۔ اس کا مزدور میاں اگرچہ معمر شخص تھا، لیکن اس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ دن بھر مزدوری کر کے جو کچھ کماتا ، شام کو سیدھا گھر آتا اور گل زبانہ کی ہتھیلی پہ رکھ دیتا۔ گل زبانہ بھی اس کا خوب خیال رکھتی تھی۔ جی بھر کے خدمت کرتی اور میکے کی طرف پلٹ کے نہ دیکھتی تھی۔ برمینگول(گل زبانہ کا خاوند، جس کا اصل نام محمد خان تھا) نے خلاف رواج گل زبانہ کو کبھی مارا پیٹا بھی نہ تھا۔ اس طرح اس کی زندگی میں اب تک صرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ شادی کو اب دس ماہ ہو چلے تھے اور پچھلے دو تین ماہ سے اُسے متلی بھی ہونے لگی تھی۔ گھر میں نئی زندگی کے آنے کی امید نے گل زبانہ کو جینے کا ایک خوبصورت مقصد عطا کر دیا تھا۔ اب وہ دن بھر خواب بنتی اور آنے والے مہمان کے لئے تخیلات کے محل سجاتی رہتی،’ میں اپنے لال کو ضرور پڑھاؤں گی‘’ میں اُسے زمانے کی گرم ہوا تک لگنے نہیں دوں گی‘’ میں اپنے لختِ جِگر کو غیر مُلکی دہشت گردوں کی پہنچ سے بہت دُور لے جاؤں گی‘’ ہم کِسی کے استحصال میں نہیں آئیں گے‘! اور نجانے کیا کیا۔ گل زبانہ نے دیکھا تھا کہ غیر ملکی دہشت گرد جِن میں اکثر ازبک اور تاجک ہوتے، کسی بھی وقت، کسی بھی شخص کے گھر پر قبضہ کر لیتے اور کہتے کہ یہ خُدا کی زمین ہے اور ہمیں پورا پورا حق حاصل ہے کہ کسی بھی جگہ اپنی مرضی سے جا کر رہیں۔ گل زبانہ اس بات سے بھی نا بلد نہ تھی کہ پاک فوج نے ایسے دہشت گردوں کی سرکوبی اور علاقے کی ترقی کے لئے اقدامات کا آغاز کر دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ جب پاک فوج علاقے میں آ جائے گی تو دہشت گردوں کی بیخ کنی یقینی ہو گی۔

برمینگول حسبِ معمول آج بھی کسی ٹرالی کے ساتھ لوڈنگ کے لئے گیا ہوا تھا۔ گل زبانہ گھر میں اکیلی تھی۔ یکا یک اُسے اپنے پیچھے ایک خوفناک دھماکہ سنائی دیا۔دھماکہ اِتنا شدیدتھا کہ گُل زبانہ اپنے گھر کے صحن سے کئی فٹ دُور جا گِری۔ وہ اس بات کو بیان نہیں کر پا رہی کہ وہ کیسے سامنے کی طرف سر پٹ دوڑی۔ دھماکہ شاید عین اس جگہ ہوا تھا جہاں وہ کھڑی تھی اور شاید دھماکے کی آواز اور شدت نے ہی اسے آگے کی طرف پھینکا تھا لیکن بارود اور آگ کے شعلو ں نے اُسے جا لیا تھا۔ شعلوں، دھوئیں اور بارود کی جلن اتنی شدید تھی کہ چند ہی لمحوں میں گل زبانہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ اہلِ محلہ میں سے کسی رحم دل انسان نے ترس کھا کر بے ہوش دوشیزہ کو اس کی ماں طوران بی بی کے گھر پہنچا دیا۔ طوران بی بی نے اپنی لختِ جِگر کی حالت دیکھی تو کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ نجانے کیسے گاڑی کا انتظام کیا اور گل زبانہ کو لے کر ایک نجی کلینک میں پہنچی۔ کلینک میں عام مرہم پٹی تو ہو سکتی تھی لیکن جلے ہوئے کا کوئی علاج نہ تھا۔ گل زبانہ کی دلدوز چیخیں اجنبیوں کے دلوں کو بھی دہلا رہی تھیں۔ طوران بی بی کے پاس نہ تو علاج کے پیسے تھے اور نہ کوئی پُر سانِ حال تھا۔ گل زبانہ کا خاوند برمینگول تو لا پتہ ہو چُکا تھا۔ دن گُزرتے جا رہے تھے اور گُل زبانہ کے زخموں اور چھالوں سے چُور جسم کی حالت ابتر ہوتی جا رہی تھی۔ دریں اثناء ایک خدا ترس انسان انعام اللہ خان نے طوران بی بی کو بتا یا کہ وہ اس کی بیٹی کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور تک پہنچانے میں مدد کرے گا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مرہم پٹی کی سہولت تو دستیاب تھی لیکن بد قسمتی سے جلے مریضوں کے علاج کا یہاں بھی کوئی اہتمام نہ تھا۔ پورے مُلک میں صرف دو ہی جگہوں پر ’’ برن سنٹر ‘‘ بنائے گئے ہیں۔ ایک پاکستان آرڈنینس فیکٹریز واہ کینٹ میں اور دوسرا کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کھاریاں چھاؤنی میں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اپنی بساط کے مطابق زخموں کی مرہم پٹی کا اہتمام کرتا رہا لیکن مریضہ کی حالت مزید خراب ہوتی گئی۔دو ہفتے ہو چُکے تھے۔ گل زبانہ نہ تو کُچھ کھا پی سکتی تھی نہ کسی پَل چین نصیب ہوتا تھا۔ اور پھر ایک دن یوں ہُوا کہ گُل زبانہ کی سوئی ہوئی قسمت جاگ اُٹھی۔ کسی صحافی نے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ تک گل زبانہ کی حالتِ زار کی خبر پہنچا دی۔ چند ہی لمحوں میں پاک فوج حرکت میں آچُکی تھی۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے فوری طور پر پشاور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی سے درخواست کی کہ متاثرہ خاتون کو برن سنٹر کھاریاں پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔ کور کمانڈر کی خصوصی ہدایت پر پشاور کور کے ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ایس پی آر کرنل ندیم مقامی فوجی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ خصوصی ایمبولینس کے ذریعے گل زبانہ کو لے کر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کھاریاں پہنچے۔ ان کے ہمراہ گل زبانہ کی ماں طوران بی بی اور چھوٹے بھائی کبیر خان اور شاہین اللہ بھی تھے۔اُدھر سی ایم ایچ کھاریاں کو پہلے ہی منگلا کور کی طرف سے ہدایات موصول ہو چُکی تھی اور برن سنٹر کے ماہرین کی ٹیم پہلے سے تیار کھڑی تھی۔

یہ تین جولائی2014کی بات ہے۔ گل زبانہ جب برن سنٹر کھاریاں پہنچی تو اس کا 44فی صد جِسم جلا ہوا تھا۔ تکلیف کا عالم یہ تھا کہ زخموں کو چُھونے سے مریضہ کی چیخیں دل دہلا دیتی تھیں، زبان اجنبی تھی‘ جو پشتو سے زیادہ مشکل تھی اور تعلیمی سطح صفر ہونے کی وجہ سے بھی مریض اور طبیب کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنا جُوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ کرنل ڈاکٹر محمد عرفان الٰہی نے دو ماہ کے علاج کے بعد بتا یا کہ عموماً ہمارا مریض کے ساتھ ایک دوستی اور باہمی تعاون کا رشتہ استوار ہو جاتا ہے‘ جس کی مدد سے زخموں کے جلد مندمل ہونے میں مدد ملتی ہے‘ لیکن گل زبانہ کے ساتھ نہ صرف باہمی رابطے کا فقدان تھا بلکہ تکلیف کی شدت نے اس کی نفسیات کو بھی متاثر کیا تھا۔گل زبانہ کو بہتر ماحول مہیا کرنے کے لئے اس کے اہلِ خانہ کو بھی اس کے ہمراہ ہسپتال میں ہی رہائش اور کھانے کی سہولت پاک فوج کی طرف سے دی گئی تھی۔ برن سنٹر کے ڈاکٹر اور عملہ دو ماہ تک گل زبانہ کے زخموں کو کُھرچ کُھرچ کر صاف کرتا اور ہسپتال میں میسر جدید ترین سہولیات کی مدد سے علاج معالجہ کرتا رہا۔ اس دوران جلد کی پیوند کاری کے پانچ مراحل کئے گئے۔ جب جسم پر موجود صحت مند جِلد میں سے مزید مدد لینے کی گنجائش نہ رہی تو پیوند کاری کا سلسلہ روکنا پڑا۔ دراصل انسانی جسم کے وہ اعضاء جو جلے ہوئے جِسم کی پیوند کاری میں مدد دینے کے لئے جلد کے بنک کاکام کرتے ہیں وہ بذاتِ خود جل چُکے تھے اور جِسم کے کسی بھی حصّے میں مزید پیوند کاری کے لئے جِلد میسر نہ تھی۔

تب برن سنٹر نے فیصلہ کیا کہ ابھی صرف گل زبانہ کی مرہم پٹی اور بحالی کی طرف توجہ دی جائے اور مزید پلاسٹک سرجری کے سلسلے کو روک دیا جائے۔گل زمانہ مسلسل دو ماہ سے بیٹھنے اور کھڑے ہونے کے قابل نہ تھی بلکہ لیٹنا بھی مُنہ کے بل پڑتا تھا۔ بالآخر برن سنٹر کھاریاں کی محنت رنگ لائی اور زخم ٹھیک ہونے لگے اور پِھر وہ دِن بھی آیا کہ گُل زبانہ خود اپنے بِستر سے نیچے اُتر کر کھڑی ہو گئی۔ گل زبانہ کی ماں طوران بی بی نے جب اپنی بیٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسُو بھر آئے، اس کا کہنا تھا کہ اللہ کے بعد پاک فوج نے اُن کے لئے مسیحا کا کردار ادا کیا تھا، وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹی کے علاج پر اب تک سات لاکھ سے زائد خرچ ہو چُکا تھا اور وہ تو سات سو روپے کا بندوبست بھی نہ کر سکتی تھی۔ وہ پاک فوج کی شکر گزار تھی کہ جس نے اس کی بیٹی کو نئی زندگی دی تھی اور آج گل زبانہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کر رہی ہے۔


ضرب عضب
ایک عزم مسلسل تھا

وہ عزمِ کیا پُورا

جو ضرب لگانی تھی

وہ ضرب لگائی ہے

دشمن کو بتانا تھا

مٹی یہ ہماری ہے

ہم اس کے تقدس کا

سودا نہیں کرتے ہیں

سر رکھ کے ہتھیلی پر

اس کے لئے شعلوں کے

دریا سے گزرتے ہیں

تلوارِ عضب پھر سے

اس بار اٹھائی ہے

جو ضرب لگانی تھی

وہ ضرب لگائی ہے

طوفان کے رستے میں

دیوار کے مانند ہے

یہ قوم ہماری سب

تلوار کی مانند ہے

دشمن کے کلیجے میں

اک آگ لگائی ہے

جو ضرب لگانی تھی

وہ ضرب لگائی ہے

اسلام کے غازی ہیں

یہ ملک ہمارا ہے

دشمن کو بتا دیں گے

دھرتی کے لئے ہم کو

مرنا بھی گوارا ہے

ہر دور میں ہم واصف

اک ضرب لگائیں گے

وہ ضربِ عضب ہو گی

دشمن کے شبستاں پر

وہ کہر غضب ہو گی

وہ ضربِ عضب ہو گی

لیفٹیننٹ واصف سجاد

یہ تحریر 202مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP