شعر و ادب

قوم بیدار ہے

رات گمبھیر اور تیرہ و تار ہے
دامن مادر گیتی صد تار ہے
چاند ہے نور زرد اور بیمار ہے
اس گھڑی قوم بیدار و ہشیار ہے
قوم بیدار ہے
عزم شبیر لے کر جواں آگئے
ان کی ہیبت سے افلاک تھرا گئے
ہر طرف بڑھ گئے ہر طرف چھا گئے
لب پہ تکبیر ہاتھوں میں تلوار ہے
قوم بیدار ہے
چاند تارے کا پرچم اڑاتے ہوئے
پاک افواجکو دیکھو جاتے ہوئے
خاک میں دشمنوں کو ملاتے ہوئے
ایک سیلِ رواں ان کی یلغار ہے
قوم بیدار ہے
زندگی موت سے بڑھ کے ٹکرا گئی
تِیرگی کی گھٹا ہر طرف چھا گئی
فیصلے کی بالآخر گھڑی آ گئی
دستِ ملت مگر شعلہ بردار ہے
قوم بیدار ہے
دل نثار وطن  جاں نثار وطن
آنچ آئے نہ تجھ پر نگارِ وطن
خون اہلِ وطن سے بہار وطن
تجھ پہ کٹ مرنے سے کس کو انکار ہے
قوم بیدار ہے
 اکرم طاہر
 

یہ تحریر 283مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP