شعر و ادب

میں شاہین ہوں

میں شاہین ہوں
مری وسعتوں کا کنارہ
یہ آکاش سارا
میں شاہین ہوں

مری گھن گرج بادلوں کا ترانہ
مرے چار اطراف ہے یہ زمانہ
میں دھرتی پہ رہ کر فلک کا ستارہ
میں شاہین ہوں

مرے دیس پر جب کڑا وقت آیا
میں چھتری بنا اور کیا سب پہ سایہ
مجھے دیکھ کر خود یہ دشمن پکارا 
میں شاہین ہوں

جو سیلاب آ ئے تو میں سامنے ہوں
زمیں تھر تھرائے تو میں سامنے ہوں 
مصیبت میں رکنا مجھے کب گوارا 
میں شاہین ہوں

مری داستانیں زمانہ کہے گا 
مرا تذکرہ رہتی دنیا رہے گا
میں جرأت کا،  ہمت کا، ہوں استعارہ 
میں شاہین ہوں


 

یہ تحریر 107مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP