قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک افغان سرحد سے

دیر بالا میں میجر جنرل ثنا اللہ نیازی شہید نے جس مقام پر جام شہادت نوش کیاعین اس کے نیچے شاہی کوٹ کے علاقے سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے پہلا گاؤ ں ’ شلتلو‘ پہاڑیوں کے دامن میں بکھرا پڑا ہے۔ دُور اُفق پر نظر آنے والا نصرت کنڈاؤ (درہ)پاکستان اور افغانستان کے درمیان آسمان کو چُھوتے پہاڑوں میں انگریزی حرف ’وی‘ کی شکل میں ایک بڑی گزر گاہ مہیا کرتا ہے۔اسی علاقے میں جون 2011میں دہشت گردوں نے18 سیکیورٹی اہلکاروں کو بے رحمی سے ذبح کیا تھا۔ دِیر لوئر ، دِیر بالا اور چترال کی اِس پاک افغان سرحد پر ایسے سات نمایاں درّے ہیں۔ سوات میں شورش سے پہلے اِن درّوں سے دونوں ممالک کے درمیان بِلا روک ٹوک آمدورفت اور سامان کی نقل و حمل ایک معمول تھا۔ دونوں اطراف میں بسنے والے لوگوں نے آپس میں شادیاں بھی کر رکھی تھیں اور سال ہا سال سے رشتوں کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے۔ کِسی کی نانی اِدھر تھی تو دادی اُس پار، ماموں پاکستان میں تھے تو چچا افغانستان میں ۔ رشتوں کی اِسی امر بیل کی وجہ سے دونوں اطراف کے لوگ ایک دُوسرے کے عزت و اِحترام اور باہمی اُنس و پیار میں پروئے ہوئے تھے۔ آپس کے لین دین میں آٹے دال کا افغانستان جانا یا پاکستان میں لکڑی کی معمولی سمگلنگ سے بھی صرف نظر ہوتا رہا، البتہ باقاعدہ سمگلنگ کی روک تھام کے لئے ایف سی اور پولیس چوکیاں موجود تھیں جو بوقت ضرورت ایسی کوششوں کو روکنے کے لئے اپنا کِردار ادا کرتی تھیں۔

2009ء میں جب حکومت نے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی خدمات حاصل کر لیں تو فضل اللہ اور اس کے حواریوں کے لئے عجیب نفسا نفسی کا عالم تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو موت کے منہ میں چھوڑ دِیر کے پہاڑی درّوں کے راستے افغانستان جا چھپے۔ دراصل دِیر کے لوگوں نے اِن دہشت گردوں کو یہاں بسنے نہیں دیاورنہ اُن کی پہلی کوشش یہی تھی کہ سوات کے بعد دِیر کو محاذ جنگ بنایا جائے۔ جب دِیر کے لوگوں نے دہشت گردوں کے گھناؤ نے کھیل کا حِصہ بننے سے اِنکار کر دیا توان کا خیال تھا کہ چند دنوں میں فوج واپس چلی جائے گی اور یہ واپس آ جائیں گے۔ ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونا تو درکنار پاکستان واپسی کی کوشش میں انہیں منہ کی کھانی پڑی اور متعدد دہشت گرد پاک فوج کے ہا تھوں ہلاک یا زخمی ہوتے رہے۔ اس پردہشت گرد سرغنہ فضل اللہ نے سرحد پار بیٹھ کر دِیر کے لوگوں کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا۔دہشت گردوں کے جتھے درّوں میں سے گزر کر دِیر اور چترال کے علاقے میں آتے اور نہتے لوگو ں کو اِنتقام کا نشانہ بناتے۔ کبھی وہ اِن کے مویشی چُرا کر لے جاتے تو کبھی اِن کے سکولوں اور ہسپتالوں کو جلا دیتے۔ صِرف شاہی کوٹ، پنہ کوٹ،برال اور نصرت کے علاقوں میں 40سے زائد سکولوں کو نذرِ آتش کر ڈالا۔ اِس علاقے میں دہشت گردی کی اِن کارروائیوں کی روک تھام کے لئے ابھی تک کوئی سپاہ تعینات نہیں تھی البتہ شلتلو میں ایف سی اور پولیس کی ایک مشترکہ چوکی پر 26لوگ تعینات تھے جِن کے فرائض میں پاک، افغان سرحد سے چھوٹی موٹی سمگلنگ کو روکنا تھا۔31مئی 2011 کی شام بظاہر معمول کی شام تھی۔ کوئی بھی غیر معمولی واقعہ یا نقل و حرکت دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ نالے کے اِرد گِرد اور پہاڑ کی ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں غریب کِسان اپنے بیوی بچوں سمیت کام کر کے گھروں کو لوٹ آئے تھے۔ مویشی اپنا پیٹ بھرنے اور نالے سے جی بھر کر پانی پینے کے بعد اپنے کھونٹوں پر پہنچ چُکے تھے۔ اخروٹ کے درختوں پرکِھلے چھوٹے چھوٹے پُھولوں کی پتیاں اب بند ہونے لگی تھیں ۔ نالے میں بہتے جھرنوں کا شور بدستور سنائی دے رہا تھا۔

شلتلو چوکی پر تعینات ایف سی کے جوانوں نے بھی حسبِ معمول شام کا کھانا تناول کِیا اور ڈیوٹی پر تعینات چند سنتریوں کے علاوہ باقی سب نے اپنا اسلحہ مقررہ جگہ پر جمع کرا دیا۔ اب تمام جوانوں نے ملحقہ مسجد میں مقامی اِمام تاج محمد کی اِقتداء میں نمازِ عِشاء ادا کی اور خوابِ استراحت میں کھو گئے۔ امام مسجد تاج محمد کا گھر بالکل پاس ہی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تاج محمد چوکی کے لوگوں سے گھر کے افراد کی طرح نہایت شفقت اور پیار سے پیش آتا تھا۔ تاج محمد کے اپنے چھوٹے چھوٹے پانچ بچے تھے۔ جِن میں سب سے بڑے زاہد اللہ کی عُمر 13سال تھی۔ اس روزنمازِ عشاکے بعد تاج محمد گھر آ کر جلدی سو گیاتھا، صبح بھی جلدی اُٹھنا ہوتا تھا کیونکہ تاج محمد امام مسجد ہو نے کے ناتے سب سے پہلے مسجد جا کر جھاڑ پُونچھ اور پانی کا بندوبست یقینی بناتا، تہجّد پڑھتا اور پھر اذان فجر کہتا۔ تاج محمد کو الارم کی ضرورت بھی نہ پڑتی تھی، خود بخو د رات کے پچھلے پہر آنکھ کُھل جاتی اور وہ اپنے موبائل سے وقت دیکھ کر جھٹ سے بِستر چھوڑ دیتا۔ یکم جون 2011ء کی سحر تاج محمد اور اُس کے اہلِ خانہ کے لئے قیامت کی گھڑی ثابت ہُوئی۔ 3بجے کے قریب یکایک تڑ تڑ کی آوازیں آنے لگیں، ایک ساتھ سینکڑوں گولیاں چل رہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اُن کے اپنے گھر پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہو۔ باہر جھانکنے کی گنجائش تک نہ تھی۔تاج محمد نے کلمۂ طیبہ پڑھتے ہوئے دُعائے خیر شروع کر دی۔ بچے سہم گئے اور بچوں کی ماں اُن کو حوصلہ دینے لگی۔جلد ہی اِنہیں گھر کے باہر سے شلتلو چوکی اور مسجد کی طرف سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دِکھائی دیئے۔ دوسرے ہی لمحے تاج محمد کے گھر کے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی اور کسی نے مدد کے لئے پُکارا ۔ ’’ ارے یہ تو سبز علی کی آواز ہے‘‘۔ تاج محمد نے لپک کر دروازہ کھول دیا۔ سبز علی خان پولیس کا ایک اُدھیڑ عُمر سپاہی تھا ۔ اُس نے بتایا کہ تین سو کے قریب دہشت گردوں نے چوکی پر حملہ کر دیا تھا۔ اُن لوگوں نے ڈیوٹی پر مامور جوانوں کو پہلے ہی گولی مار دی تھی اور اب سوئے ہوئے نہتے اہلکاروں کو بہت بُری طرح قتل کر رہے تھے۔ کچھ جوانوں نے بھاگ کر مسجد میں پناہ لینی چاہی تو پوری مسجد کو نذرآتش کردیا، ساتھ ہی مڈل سکول شلتلو کی عمارت تھی، دہشت گردوں نے شک کی بنیاد پر سکول کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔پولیس اہلکار سبز علی خان کے پاس ہتھیار تو تھا نہیں، کیونکہ تمام ہتھیار ایک جگہ سٹور میں جمع تھے اور اِس پر دہشت گر د وں نے قبضہ کر لیا تھا، وہ وہا ں سے جان بچا کر بھاگا اور سیدھا سامنے امام مسجد تاج محمد کے گھر میں پناہ لینے پہنچ گیا تھا۔ ابھی سبز علی خان کو امام مسجد کے گھر داخل ہُوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ دہشت گر د بھی پہنچ گئے اور اُسے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ تاج محمد نے دہشت گردوں کو نہایت عاجزانہ طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ پختون روایات کے خلاف ہے کہ میں اپنے گھر میں پناہ گزیں شخص کو آپ کے حوالے کر دوں۔ دہشت گردوں نے امام صاحب کو دھمکی دی کہ اگر وہ پولیس کے جوان کو اُن کے حوالے نہیں کریں گے تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ہاں البتہ اگر پولیس کانسٹیبل سبز علی خان کو حوالے کر دیں گے تواُنہیں کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔ امام شلتلو کے سامنے ایک طرف اُس کی بیوی اور پانچ بچوں کا واحد سہارا بچ جانے کی اُمید تھی اور دُوسری طرف اپنی روایات کا پاس کرتے ہُوئے جان کی قُربانی تھی۔ تاج محمد شلتلو کا امام تھا، اُسے معلوم تھا کہ اُس کا فیصلہ تاریخ میں صدیوں تک محفوظ ہونے والا فیصلہ ہو گا۔ آج اگر امام ڈگمگا گیا تو پیروکار صدیوں بھٹکتے رہیں گے۔

امام شلتلو نے فیصلہ کر نے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا اور دہشت گردوں کو صاف الفاظ میں جواب دے دیا ۔’’ میں اپنے گھر میں پناہ لینے والے کو کبھی تمہارے حوالے نہیں کروں گا، خواہ میری جان چلی جائے‘‘۔امام صاحب نے امامت کا حق ادا کر دیا تھا۔ تاریخ رقم ہو چُکی تھی۔ کئی گھنٹے کی قتل و غار ت کے بعدجب پاک فوج وہاں پہنچی اور علاقے کی تلاشی لی گئی تو تاج محمد کے گھر سے ملنے والی پہلی لاش امام شلتلو تاج محمد کی تھی اور پولیس کا نسٹیبل سبز علی خان بھی جام شہادت نوش کر چکے تھے! تاج محمد کے نوجوان بیٹے زاہد اللہ سے ہم نے ملاقات کی تو اس کی آنکھوں میں اپنے باپ کے کردار پر فخر کی چمک اور بے پناہ سکون تھا۔ اگست 2011ء میں ہی پاک فوج نے پورے افغان بارڈر کے ساتھ ساتھ چیک پوسٹوں پر ایک بڑی تعداد میں سپاہ تعینات کر دی اور سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔ فوج کے ساتھ ساتھِ دیر کے لوگوں نے بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر نفوذ کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ویلج ڈیفنس کمیٹیاں بنا لیں۔اِس صورتِ حال میں بُری طرح مایوس اور حواس باختہ ٹی ٹی ایس نے دِیر بالا کے علاقے سے پاکستان کے دفاعی حصار کو توڑنے کی متعدد کوششیں کیں۔ صرف2011ء اور 2012ء میں افغانستان کے صوبے کنٹر اور نورستان میں چھپے ہوئے ان دہشت گردوں نے پاک افغان سرحد سے پاکستان میں دراندازی کی کم وبیش 20 کوششیں کیں۔ان کوششوں میں ان لوگوں نے 120 افراد کو شہید کیا جن میں زیادہ تر سویلین تھے اور چند لیویز اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل تھے۔ دِیر کے لوگ پہلے ہی اِن ظالموں سے نالاں تھے۔دہشت گردوں کا شروع سے ہی یہ طریقہ تھا کہ اگر اُن کے ہتھے کوئی سرکاری اہلکاریا پاک فوج کا جوان چڑھ جاتا تو وہ اُس کا مثلہ کرتے جو زمانہ جاہلیت میں کچھ قبائل کیا کرتے تھے یا پھر جب عیسائیوں نے مسلمانوں کی بے خبری میں اچانک حملہ کر کے بیت المقدس چھینا تو اُس وقت بیت المقدس میں محو صلوۃ ستر ہزار نہتے نمازیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر ڈالا، بیت المقدس کے دروازوں سے خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔ لیکن مسلمانوں کا طریق کار یہ نہیں ہے۔ جب سلطان صلاح الدین نے عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ بحال کیا تو اُس وقت بھی کئی ہزار عیسائی اپنی عبادت میں مشغول تھے، مسلمانوں نے ایک عیسائی کی بھی بے حُرمتی نہیں کی اور انہیں عزت و احترام سے مسجدِ اقصٰی سے نکل جانے کا موقع دیا۔

(بحوالہ مسلمانوں کی تاریخ از جمیل یوسف)۔ ساری دنیا کے لوگ حیران ہیں کہ یہ کون سے مسلمان ہیں جو شہداء کے سرتن سے جُدا کر کے ساری دُنیا کو فخر سے دکھاتے ہیں اور اپنے اس گھناؤنے فعل کو اسلامی جہاد قرار دیتے ہیں۔دہشت گردوں کی تمام تر سفاکیوں کے باوجود پاک فوج خِطّے میں امن و سکون کی بحالی اور فلاح و بہود پر توجہ دیتی رہی۔ پاک فوج کے اہلکار پسماندہ علاقوں میں مفت طبی کیمپ لگاتے.مخمے، شاہی کوٹ اور جان بھٹائی میں مریضوں کو مفت علاج معالجہ اور ادویات مہیا کرتے، اکثر مریضوں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہوتی،جن کے لئے پاک فوج کی لیڈی ڈاکٹرز کی خدمات پیش کی گئیں۔دِیر بالا (شاہی کوٹ) میں ہماری ملاقات روزی خان سے ہوئی۔ روزی خان یوں گویا ہوئے، ’’ یہ لوگ ہمارے مویشی پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے کی لکڑی سمگل کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے سکولوں کو جلایا اور مسجدوں میں بھی ہمارے لوگوں کو شہید کیا‘‘۔ ان دِنوں اُس سیکٹر میں پاک فوج کے سیکٹر انچارج لیفٹیننٹ کرنل اشرف لاکھُو تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب فوج اس علاقے میں تعینات ہوئی تو اس وقت تک دِیر کے اس حصے کے 32میں سے 11سکول دہشت گردوں نے مکمل طور پر جلا کر خاکستر کر دئیے تھے۔ فوج نے اُن کی تعمیر نو کا کام 30نومبر 2011سے شروع کیا اور 10جنوری 2012تک مکمل کر لیا۔ دریں اثنا اساتذہ اور طلباء بھی خوفزدہ ہو کر تتر بتر ہو چکے تھے۔ چنانچہ 46 اساتذہ اور 1256طلباء کو دوبارہ ڈھونڈ کر اِن سکولوں میں تعلیم کا تسلسل باقاعدہ طور پر بحال کر دیا گیا۔ 300سے زائد طلباء کو پاک فوج نے سردیوں کی یونیفارم اور کُتب دے کر سلسلۂ در س و تدریس بحال کیا۔لوگوں کے سماجی ، ثقافتی اور معاشرتی معمولات میں بہتری کے لئے بھی متعدد اقدامات اُٹھائے گئے۔ جیسے مقامی بازاروں اور راستوں کو بہتر کیاگیا اور تفریح کے لئے کھیلوں کے مقابلے کرائے گئے ۔ سیکیورٹی کے حوالے سے سول حلقوں میں اطلاعات اور معلومات کے تباد لے کا بہترین نظام ترتیب دیا گیا اور علاقے کو غیر قانونی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے مقامی لوگوں سے اپیل کی گئی تو سینکڑوں کی تعداد میں کروڑوں روپے کے بھاری ہتھیار رضاکارانہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں دے دیئے گئے۔ پاک فوج کی حکمت عملی اور کارکردگی بلاشبہ قابل تحسین ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 490کلو میٹر سرحد کے پار سے در اندازی کرنے والے اِن دہشت گردوں کے پاس جدید ترین اسلحہ و بارُود کہاں سے آ رہا ہے؟جبکہ سوات اور دِیر سے تو وہ ایک کلاشنکوف کے ساتھ بھاگے تھے۔ اِن کو فنڈ ز کون دیتا ہے اور سرپرستی کون کر رہا ہے؟ اور یہ کہ ان کو لگام کون دے گا؟

یہ تحریر 203مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP