قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک بھارت دفاعی بجٹ اور خطے کا امن

پاک بھارت تعلقات خطے میں قیام امن کے لئے ہمیشہ سے زیربحث رہے ہیں۔ 1947ء سے لے کر آج تک ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ایک چھوٹا سا خطہ (کشمیر) متنازعہ رہ گیا اور دونوں ممالک اسے اپنے ملک کا حصہ کہتے ہیں۔ اس زور آزمائی میں تین جنگیں ہوچکی ہیں مگر کشمیر کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ اکیسویں صدی میں جنگ کا تصور بہت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک میں، خاص طور پر ایٹمی قوت بننے کے بعد، جنگ ہولناک ثابت ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے متعدد بار دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے باوجود تعلقات بہتر نہ ہو سکے۔ بھارت میں انتہا پسندی اور جنونیت عروج پر ہونے کے باعث مودی سرکار کے لئے پاکستان سے پر امن روابط ان کی سیاست کے لئے خطرہ ہیں۔ خود نریندر مودی ایک انتہا پسند سوچ رکھتے ہیں۔ ان کا ماضی اس حوالے سے کئی واقعات سے بھرپور ہے۔ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد سے اب تک وہ پاکستان کے بارڈرز پر کشیدگی کی فضا قائم کئے ہوئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں بھارت کی جانب سے تقریباً 350 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ مودی سرکار کی فوج کے سپاہی ''ڈی موریلائز'' ہو چکے ہیں اور یہاں تک وہ اپنی ہی سرکار کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج بھی ہیں۔ بھارت کی جانب سے جھوٹے سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا گیا اور میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ بھارتی فوج پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کا مقصد فوجیوں کے جذبے اور مورال کو بلند کرنا تھا مگر انہی کے میڈیا اور فوج کے افسران کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہ کرنے کی تصدیق کی گئی جو کہ پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی کا سبب بنی۔ بھارتی فوج کے سپاہیوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے لوک سبھا میں دفاعی بجٹ میں اضافے کی منظوری دی گئی۔ رواں مالی سال 2018-19ء کا دفاعی بجٹ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پیش کیا۔ گزشتہ برس کی نسبت رواں سال تقریباً 7.81 فیصد اضافے کے ساتھ دو لاکھ پچانوے ہزار پانچ سو گیارہ کروڑ روپے اس مقصد کے لئے مختص کئے گئے۔ گزشتہ برس یہ بجٹ 274,000 کروڑ رپے تھا۔ یہ بجٹ GDP کا 1.85 فیصد اور کل بجٹ کا 12.10 فیصد ہے۔ بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں نے اس بجٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی فوج کے سابق کمانڈر بریگیڈئر (ر) ایس کے چیٹر جی نے دفاعی بجٹ پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی شمال مغربی سرحدوں پر کشیدگی کے مطابق یہ بجٹ ناکافی ہے اور اس سے جنگی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہے جبکہ ان سرحدوں پر بھارتی فوج کو نمٹنے کے لئے جو ہتھیار مہیا کئے گئے ہیں وہ غیر معیاری اور زائد المعیاد ہیں۔ موجودہ دفاعی بجٹ میں7.81فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور یہ رقم نئے ہتھیار مثلاً ائیرکرافٹس، سب میرین، ہیلی کاپٹرز اور دیگر ملٹری آلات کی خریداری کے لئے مختص کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بجٹ تقریر کے دوران ایوان کو بتایا کہ مسلح افواج نے اندرونی اور بیرونی خدشات سے نمٹنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ جموں کشمیر اور شمال مشرقی سرحدوں سمیت تمام اندرونی خدشات پر قابو پانے کے لئے حکومت بہت جلد دو رویہ دفاعی انڈسٹریل پروڈکشن کو ریڈورز (گزرگاہیں) قائم کرے گی جس کا مقصد مسلح افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں جدت لانا ہے۔ روہتانگ (Rohtang) سرنگ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جو کہ لداخ ریجن کو جوڑتی ہے۔ 14کلومیٹر طویل زوجیلا پاس ٹنل کی تعمیر کے لئے معاہدے پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے اروناچل پردیش میں سیلا پاس (Sela Pass) کے نیچے بھی ایک سرنگ کی تعمیر کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ دفاعی پیداوار پالیسی 2018 متعارف کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت پرائیویٹ سیکٹرز کے ذریعے دفاعی پیداوار بڑھا کر پرائیویٹ انڈسٹری کو فروغ دیں گے۔

تصور کا سحر

تصور کے معنی ہیں کسی شخصیت یا چیز کا خیالی مجسمہ اس طرح اپنی آنکھوںکے سامنے لے آنا کہ عامل کے دل سے اصل ونقل کا امتیاز بالکل محو ہو جائے۔ بس یہ معلوم ہونے لگے کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں بعینہ وہی ہے۔۔۔ اس میں سرِمُو فرق نہیں اگر یہ حالات پیدا کرسکو پھر اور کیا چاہئے، گوہرِ مقصود خود بخود ہاتھ آجائے گا۔ ہر تصور کی پختگی حاصل ہوگی۔ دُنیا کی ہر چیز اور شخصیت آپ کے ہاتھ میں ہوگی۔ یہ ایک تصور ہی تھا جس کے ذریعے خدا نے کروڑوں جہانوں کو پیدا کیا۔ اس لامحدود کائنات کی تخلیق کا راز اسی ایک تصور میں مضمر ہے۔۔۔ آج کی سائنس کا دارو مدار  اسی تصور پرہے۔۔۔ تصور ہی سے تمام ایجادات معرضِ وجود میں آتی ہیں۔۔۔ لہٰذا ہر سبق کی بنیاد تصور پر ہے۔۔۔

(آئینہ مسمریزم۔ سراج دین قادری)

 

پاکستان کو بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرونی دہشت گردی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ دہشت گردی نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جو کہ قیام امن کے لئے ایک چیلنج ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قابل تحسین اقدامات کئے جو کہ آگے چل کر دنیا کے لئے ''Thesis'' کے طور پر کام آئے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس ناسور پر قابو پانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ پاک روس مشترکہ جنگی مشقوں کے ذریعے دفاعی معاملات میں کافی حد تک جدت آئی ہے۔ چین کے تعاون سے دفاعی ضروریات پوری ہونے میں مدد ملی ہے۔ پاکستان نے انڈیا کے مقابلے میں اب تک محدود وسائل سے اندرونی دہشت گردی پر قابو پاکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ روس اور چین کی جانب سے عالمی سطح پر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف حوصلہ مند ہے۔ پاکستان، روس اور چین بلاک دفاعی اعتبار سے ناقابل تسخیر ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ جوہری معاہدوں اور جدید ہتھیاروں کی خریداری کے ذریعے تعلقات میں قدرے بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور چین روس کا پاکستان میں سرمایہ کاری سے معاشی استحکام بھی ممکن ہو سکے گا۔ حالیہ چند مہینوں میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر اور وزیراعظم کے سکیورٹی ایڈوائنرز جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے روس کا دورہ کیا۔ انہی دوروں کے تسلسل میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی روس کا دورہ کیا۔ یہ دورہ دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اپنے عہد میں جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی روس کا دورہ کر کے مثبت تعلقات کی راہ ہموار کی تھی۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے روس اور چین نے افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے جو کہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی مشرقی وسطیٰ کے ساتھ روابط معاشی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت ہے۔ اس بلاک کے قیام سے پاکستان دفاعی اعتبار سے بھارت سے تین گنا زیادہ مضبوط ہوچکا ہے۔ اگر بھارت پاکستان میں ''کولڈ وار'' یا ''ہاٹ وار'' چاہتا ہے تو پاکستان کی مسلح افواج ہر ناگہانی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی دفاعی تجزیہ نگار اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کے لئے بہترین تربیت اور جنگی آلات کی اپ گریڈیشن کو وقت کی اہم ضرورت سمجھ رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ جی ڈی پی کا تقریباً 3 فیصد دفاع کے لئے مختص کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ بظاہر تو بھارتی اقدامات اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافہ خطے کے امن کے لئے ایک خطرہ ہے۔ بھارتی جارحانہ پالیسی، مذہبی جنون اور خطے میں اپنی برتری تسلیم کرانے کے خواب دراصل اس دفاعی بجٹ میں اضافے کی اصل وجہ ہیں۔ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً سات سے آٹھ فی صد کم ہے۔ کسی بھی جنگی صورتحال میں یہ Disparity پاکستان کی دفاعی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور ہمیں ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کو مدنظر رکھ کر ہی اپنی دفاعی پالیسی کو ازسرِ نو مرتب کرنا ہو گا۔ یہ خطے کے مجموعی امن کے لئے بہت ضروری ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 286مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP