اداریہ

پاک افغان بارڈر مینجمنٹ

ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا کسی بھی قوم اور اُس کی افواج کی اولین ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے اوائل ہی سے پاکستان کی مشرقی سرحد اس حوالے سے پُرخطر رہی کہ پاکستان کو پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے مختلف مواقع پر جارحیت کا سامنا رہا۔ جس کا پاکستانی افواج نے ہمیشہ بھرپور اور مؤثر انداز میں جواب دیا۔ بہرطور پاکستان کو مغربی سرحد کی جانب سے اُس طرح سے خطرات نہیں تھے کیونکہ مغربی سرحد پر برادر اسلامی ممالک افغانستان اور ایران واقع تھے۔ لیکن9/11کے بعد جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو امریکی اوردیگر اتحادی افواج نے افغانستان میں موجود القاعدہ کے دہشت گردوں پر حملہ کردیا، جبکہ دوسری جانب افواجِ پاکستان نے مغربی سرحدسے دراندازی کرکے آنے والے دہشت گردوںکے خاتمے کے لئے آپریشنز کا آغاز کردیا۔یوں پاکستان کی مغربی سرحد بھی غیرمحفوظ ہو گئی اور سرحد کے اُس پار سے پاکستان پر دہشتگردوں کے حملے معمول بن گئے جن سے پاکستان کو بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن پاکستان کا دہشتگردی کے خاتمے کے لئے عزم کمزور نہیں پڑا۔ پاکستان نے ملک بھر کے مختلف علاقوں میںپناہ لئے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے متعدد آپریشنز لانچ کئے۔ جن میں آپریشن راہِ راست، آپریشن راہِ نجات اور ضربِ عضب جیسے  بڑے آپریشن شامل ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے میںبڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ باقی ماندہ شدت پسندوں اور اُن کے سہولت کاروں کی سرکوبی کے لئے آپریشن ردالفساد تاحال جاری ہے۔
ان کامیاب آپریشنز  کے نتیجے میں پاکستان سے فرار ہونے والے دہشتگردوں نے پڑوسی ملک افغانستان میں نورستان،کنڑ اور دیگر علاقوں میں پناہ لے لی جہاںاُنہیں پاکستان دشمن عناصر کی معاونت حاصل ہوئی اور انہوںنے مزید تربیت اور تیاری کے بعدپاکستان کے علاقوں اور سکیورٹی پوسٹوں پر دہشتگردانہ حملوں کا آغاز کردیا جن سے پاکستان کو یقینا بھاری نقصانا اٹھانا پڑا لیکن پاکستان نے اُن حملوں کامؤثر اور بھرپور جواب دیا۔تاہم مکمل طور پر پاکستان نے مغربی سرحد کی جانب سے دہشتگردوں کے حملوں، تخریب کاری، سمگلنگ ، ڈرگ اور ہیومن ٹریفکنگ کے مستقل سدِباب کے لئے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ۔2003سے اِس منصوبے پر کسی نہ کسی طرح کام ہو رہا تھا تاہم2016 سے اس پر باقاعدہ کام جاری ہے۔ باڑ لگانے کے دوران بھی ہماری سکیورٹی فورسز پر سرحد پار سے حملے ہوتے رہتے ہیں جن میںپاکستان کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن پاکستان کے عزم میں کمی نہیں آئی اوربارڈر پر خاردار تار لگانے کاکام  دسمبر2019 تک پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔  
 بلاشبہ پاکستان اپنے بارڈرزکی باقاعدہ مینجمنٹ کا حق رکھتا ہے۔ اسی بنا پر حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان نے2611 کلومیٹر پاک افغان بارڈر پر خاردار تاریں لگانے، چوکیاں بنانے اور کراسنگ پوائنٹس کی تعمیرشروع کررکھی ہے نیز افغان و پاکستانی شہریوں کو باقاعدہ پاسپورٹ اور دستاویزی ثبوتوں  کے ساتھ سفر کرنے کی ہدایت کی جا چکی ہے اور اُس پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔ حیران کُن طور پر پاکستان کو پاک افغان بارڈر مینجمنٹ کے لئے حکومتِ افغانستان یا امریکی و اتحادی افواج کی جانب سے کوئی معاونت حاصل نہ ہوئی۔ اس کے باوجود پاکستان اس حوالے سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔اس میںدوآراء نہیں کہ پاک افغان باڑکی تکمیل سے نہ صرف افغانستان اور پاکستان دونوں محفوظ ہوجائیں گے بلکہ خطے کے امن کی بحالی میں بھی یہ باڑ اہم کردار ادا کرے گی۔
 

یہ تحریر 309مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP