قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایک ادھورا خواب

محلے میں سب سے بڑے دروازے والا گھر سید سردار احمد شاہ کا تھا‘ اس گھر کا صحن بہت کشادہ اور پختہ تھا۔ البتہ کچھ حصہ درختوں ‘ پھولوں اور گلاب کی بیلوں کے لئے مخصوص تھا۔ بائیس مرلوں پہ پھیلا ہوا یہ گھر دومنزلوں پر مشتمل تھا مگر سب لوگ نیچے والی منزل کو ہی استعمال کرتے تھے۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا‘ اس گھر کے بارے میں میری معلومات ہلکی ہوتی گئیں۔ سید سردار احمد شاہ کے چار بیٹے تھے۔ ضیا نثار احمد (پی ٹی وی گئے) صادق۔ حامد مختار احمد اور لیاقت اسرار احمد۔


یہ گھر بچپن میں ہی میرے لئے نہایت خوش کن تھا کہ ’’ماں جی‘‘ اس گھر کا مرکز تھیں۔ سب لوگ‘ اپنے پرائے اور ہم بچے سب ان کو ’’ماں جی‘‘ ہی پکارتے تھے۔ وہ ہر ایک سے شفقت بھرا سلوک کیا کرتیں۔ یوں بھی یہ گھرانا باقی تمام گھرانوں سے مہذب اور کلچرڈ تھا۔ سیدسردار احمد شاہ نے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ اُنہیں مکمل توکیا ہی تھا ان کی تربیت بھی کی تھی۔ سب بچے باپ کے فیصلوں پر عمل کرتے کہ یہ گھرانااتحاد اور یگانگت کا مکمل نمونہ تھا۔ اس گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا جو مجھ سے تھوڑا سینئر تھا‘ جب آرمی کے لئے منتخب ہوگیااور ٹریننگ کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کی یونیفارم پہن کر پہلی مرتبہ گھرلوٹا تو سب کو شہزادہ سالگا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اس کا نام لاکی نہیں (سید سردار احمد شاہ اسے پیار سے ’’لاکی‘‘ بلاتے تھے اور مجھے یونس کے بجائے یونی‘ بعد میں اس کا پورا نام لیاقت اسرار بخاری سامنے آیا۔)


آج کل بریگیڈیر(ر) لیاقت اسرار بخاری (ستارۂ جرأت)ہیں۔ یونیفارم میں لیاقت اسرار بخاری کو دیکھا تو جی مچل کر رہ گیا۔ جی چاہتا ابھی مجھے یونیفارم مل جائے اور میں آرمی جوائن کرلوں۔ اس وقت لیاقت اسرار ہی میرا آئیڈیل تھا۔ میں دن رات آرمی کے خواب دیکھنے لگا۔ تڑپنے لگا۔نماز کے بعد سجدوں میں دعائیں مانگنے لگا۔ یہ سب ممکن تھا مگر میرے ابا جی نے مجھے قرآن پاک حفظ کرانے والے مدرسے میں داخل کروا کے میرے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے۔ میرا کیریئر ہی تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ میرے اندر دن رات ابال اٹھتے تھے۔ مگر یہ نہ ہو سکتا تھا۔ بس اتنا ہوا کہ قومی رضاکاروں کی بھرتی شروع ہوگئی ۔ اُنہی قومی رضا کاروں میں جب والد صاحب بھی شامل ہوگئے اور انہوں نے یونیفارم پہن کر پریڈ کرنا شروع کی تو میری ضد بھی کام کر گئی۔ انہوں نے میرے سائز کی چھوٹی یونیفارم سلوا کر مجھے پہنا دی۔ اور پھر انسٹرکٹر تاجے خان کے پاس اچھرہ تھانہ لے گئے۔ تاجے خان انسٹرکٹر نے خوش آمدید کہا اور میرا شوق دیکھتے ہوئے مجھے پریڈ کرنے کی اجازت دے دی۔


ہماری پریڈ تھانہ اچھرہ کے سامنے والی گراؤنڈ میں ہوا کرتی تھی جسے آج کل شریف پارک کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ شریف پارک موجودہ وزیرِاعظم نواز شریف یا ان کے والد کے نام پر نہیں تھا۔ یہ برج السید کے مالک میاں سعیدکے والد میاں شریف کے نام پر بنا تھا جن کی بہت سماجی خدمات تھیں۔


انسٹرکٹر تاجے خان سخت مزاج کا آدمی تھا۔ کھرا کھرا بولتا تھا۔ غلطی کرنے پر سخت بے عزت کرتا مگر پھرمحبت سے برابر بھی کردیا کرتا۔ شام کو وہ انار کلی ہماری دکان پر آجاتا۔ والد صاحب اس کی تواضع کرتے‘ جس طرح وہ اپنے اساتذہ کی کرتے تھے۔ نگینہ بیکری کے مکھن میں بنے ہوئے کیک رس ایک ٹرے میں بھر کر لائے جاتے۔ چائے کی بڑی چائے دانی اور شامی کباب۔ تاجے خان چائے سے زیادہ اس عزت افزائی پر بہت خوش ہوا کرتا۔ جب والد صاحب اُسے بتاتے ’’تاج صاحب آپ میرے استاد ہیں۔ آپ کا ہم پر بہت حق ہے۔ آپ ہمیں ایسے ہنر سکھارہے ہیں جو ہمارے لئے‘ ہمارے وطن کے لئے اور اپنی پاک سرزمین کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔ لہٰذا آپ کا حق ہم سے ادا نہ ہوگا۔ یہ تو محبت کا اظہار ہے۔‘‘ تاجے خان بہت زور سے کہا کرتا’’ناں میاں صاحب آپ بہت زیادہ کرتے ہیں۔یہ نہ کیا کریں۔ زیادہ مٹھائی میں کیڑے ہوتے ہیں۔‘‘ ابا جی ہنس کر کر ٹال جاتے۔


میں نے دو مہینوں میں جس شوق‘ لگن اور محنت سے اپنی ٹریننگ مکمل کی اور اپنے اسباق یاد کئے وہ تمام دیگر پریڈ کرنے والوں کے لئے بھی حیران کن تھے۔ تاجے خان کبھی کبھی مثال دیتے ہوئے کہا کرتے ’’شوق پیدا کرو شوق۔ یونس کی طرح شوق۔ ورنہ ڈھیلا کام تو آرمی میں نہیں چلتا۔‘‘ چوتھے مہینے کے بعد ہمارا ٹیسٹ ہوا اور میں زیادہ نمبر لے کر پاس ہوگیا۔ سب سے زیادہ نمبر ہونے کی وجہ سے مجھے فی الحال عارضی طور پر پلاٹون کمانڈر بنادیا گیا۔ میں خوشی سے سرشار ہوگیا۔ اب کسی کسی دن 48 لوگوں کو میرے حوالے کرکے کہا جاتا انہیں کمانڈکرو۔ مثلاً ایک دن آرڈر دیا گیا کہ میں48 لوگوں کو تین منٹ سے ساڑھے چار منٹ کے اندر اندر مسلم ٹاؤن والی نہر کے پل پر لے جاؤں۔ اچھرہ تھانہ سے مسلم ٹاؤن والی نہر ایک میل کے فاصلے پرتھی مگر سمجھ گیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ میں نے سب کو ایکٹو کرکے کیوئیک مارچ کیا۔


’’لیفٹ رائیٹ‘ لیفٹ رائیٹ دو سو گز تو اسی رفتار سے سب کو چلاتا رہا جب جسمانی طور پر پوری پلٹن گرم ہوگئی تو میں نے ڈبل مارچ کا آرڈرکر دیا۔ ڈبل مارچ کی رفتار صاف ظاہر ہے دُگنی بلکہ جوگنگ کی رفتار سے کچھ زیادہ تھی‘ میں تو ہلکا پھلکا دوڑتا رہا مگرپلاٹون میں لگ بھگ تیس لوگ عمررسیدہ تھے‘ وہ ایک منٹ بعد ہی ہانپنے لگے مگر مجھے آرڈر تھا کہ ہر صورت مقرر وقت کے اندر نہر کے پل پر سب کے ساتھ پہنچنا ہے۔ دِس از آرڈر‘ یہی آرمی کی ٹریننگ ہے‘ یہی ڈسپلن ہے۔ یہی آرڈرماننے کی روح ہے۔ جس کی نقل میں قومی رضاکاروں سے کرانا چاہ رہا تھا۔ موسم معتدل ہونے کے باوجود سب پسینے میں نہانے لگے۔ وہ بابے آنکھوں آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے بھی کر رہے تھے کہ ’’ہالٹ‘‘ کروا کے سانس برابر کرایا جائے۔ مگر میں نے ڈسپلن کو پیشِ نظر رکھا۔ دوسرا یہ ہم سب کا امتحان بھی تھا۔ جس میں، میں ہی نہیں48 کے 48 لوگ کامیاب ہوئے۔ میں نے سب کو ساڑھے تین منٹ میں ہی نہر کے پل پر پہنچایا دیا تھا۔ سب لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ نہر لبالب نہ تھی۔ آدھی تھی۔ اتنے میں ایک بہت موٹے مگر صحت مند بابا جی نے دھڑام سے نہر میں چھلانگ لگا دی اور سب کو حیران کردیا۔


بعد میں اس نے بتایا کہ ’’مجھے گرمی زیادہ لگ رہی تھی مگر میرے ساتھی نے مجھ سے شرط بھی لگائی تھی کہ جو نہر میں چھلانگ لگائے گا اسے پانچ روپے دوں گا۔(پانچ روپے اس زمانے میں بڑی رقم تھی) لہٰذا ایک تو میں نے خود کو ٹھنڈا کر لیا ہے دوسرا انعام جیت لیا ہے۔‘‘


تاجے خان انسٹرکٹر جو دیر بعد ہمارے تعاقب میں چلا تھا‘ ڈبل مارچ کرتا ہوا آپہنچا۔ اس نے گھڑی دیکھ کر پہلے میرے لئے ’’ویل ڈن‘ ویل ڈن‘‘ پھر سب کو کھل کر داد دی۔ مگر بابوں نے میری سخت مخالفت کی۔ تاجے خان نے سب کو سمجھاتے ہوئے کہ ’’جوانو! اس کے ’’جوانو‘‘ کہنے سے بہت سے بابے خوش ہوگئے ۔ تاجے خان نے بات بڑھا کر انہیں اور بھی خوش کردیااور کہا’’میرے سپاہیو! پلاٹون کمانڈر نے آرڈر کی تعمیل کی ہے اور ملکی دفاع میں آرڈر ہی سب کچھ ہے۔ آرڈر از آرڈر ‘یہ نہ ہو تو ہمارا ڈسپلن‘ ہماری جنگی حکمتِ عملی‘ ملکی دفاع کسی کام کا نہیں اور اگر یہ سب ہو تو پھرکامیابی ہی کامیابی‘ فتح ہی فتح۔ سو یونس نے جو کیا ہے وہ سب درست ہے۔ آپ سب کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے سب کو ’’سٹینڈ ایزی‘‘ کے بعد دوبارہ بتایا ’’دیکھو میرے جوانو! ہر چند کہ تم آرمی کی نقل کررہے ہو تو یہ بات دل پہ نوٹ کر لو آرمی کا مطلب ہے ’’دو ٹوک آرڈر‘‘ یہ تو معمولی بات تھی جس میں آپ نے کامیابی حاصل کر لی۔ یہاں کے امتحان بڑے سخت ہوتے ہیں۔ کوئلوں میں لال انگارہ ہونے والے لوہے کے ٹکڑے کو پکڑنے کا آرڈر ہوسکتا ہے یا اژدھے کے جبڑوں میں ہا تھ ڈالنے کا۔ جو آرڈر ’اوبے‘ کر گیا وہ منزل پا گیا۔ جو ڈر گیا وہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔ یہی آرمی ڈسپلن ہے‘ ڈوآر ڈائی۔‘‘کوئی دلیل‘ کوئی جواز‘ کوئی جھجک کوئی اعتراض کوئی رکاوٹ برداشت ہوتی ہے، نہ کوئی متبادل فیصلہ۔ جب آرڈر ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے عمل۔یہی جنگ ہے۔ یہی جیت ہے۔ یہی فاتح کی پہچان ہے۔‘‘ اتنا کچھ سننے کے بعد بابے پھر بھی بڑبڑاتے رہے بلکہ بعض تو ابھی تک ہانپ رہے تھے۔


انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔
ایک روز ابا جی مجھے ایک بہت بڑے جلسے میں ساتھ لے گئے۔ چونکہ وہ جلسہ کرنے والوں کی انتظامیہ میں بھی تھے اس لئے انہوں نے بطورِ خاص دو ٹکٹ خریدے تھے جو دس دس روپے کے تھے۔ مگر سب کلاسوں سے مہنگے تھے کہ دریوں پر بیٹھ کر جلسہ سننے والوں کا ٹکٹ چار آنے تھا۔ پنڈال بہت بڑا تھا۔ روشنیاں تھیں اور ہجوم تاحدِ نگاہ۔ میں بچہ ہی تو تھا۔ بچے کی آنکھیں گاؤں کے راستوں کی طرح ہوتی ہیں۔ شام ہوئی اور بند۔ مجھے بہت نیند آرہی تھی‘ مگر مجھے جاگنا پڑ رہا تھا۔ تاہم نیند کا غلبہ شدید تھا۔ اسی اثنا میں شور مچ گیا۔ ’’شاہ جی آگئے‘ شاہ جی آگئے‘‘ پھر نعرے لگنے لگے۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ وہ شاہ جی جن کے لئے لوگ اہلِ جنوں کی طرح منتظر تھے‘ سید عطاء اﷲ شاہ بخاری تھے۔ بہر حال شاہ جی کی تقریر سے پہلے اعلان ہوا کہ فلاں فلاں اپنی نظم کشمیر پر پیش کرے گا۔ دیکھا تو سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی‘ کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔


جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا 
کشمیر میں جنت بکتی ہے
کشمیر میں جنت بکتی ہے
سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی
کشمیر میں جنت بکتی ہے
اور جان کے بدلے سستی ہے


تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔ اتنا ہنگامہ تھا کہ تقریر سے پہلے مجھ پر نیند نے غلبہ پا لیا اور ابا جی نے بھی ہجوم کی جل تھل دیکھتے ہوئے مجھے ملازم کے سپرد کر دیا جس نے مجھے پنڈال سے باہر لا کر ایک چھوٹے خیمے میں سلا دیا جو صرف بچوں کے لئے مخصوص تھا۔ معلوم ہوا کہ شاہ جی کی تقریر رات بھر جاری رہی اور صبح کی اذان ہوتے ہی تمام ہوگئی۔ مگر لوگوں کی پیاس کم نہ ہوئی۔ شاید اسی کا اثر تھا کہ دوسرے ہی دن ایک بہت بڑا جلوس مال روڈ پر آگیا اور ہمارا کاروبار چونکہ انار کلی میں تھا اور والد صاحب کو کشمیر سے خصوصی لگاؤ تھا‘ لہٰذا وہ کشمیر کے لئے ترتیب دیئے گئے اس جلوس کو دیکھنے اور مجھے دکھانے کے لئے مال روڈ پر آگئے۔


میں نے دیکھا جلوس رات والے ہجوم سے کچھ ہی کم تھا۔ ہر عمر اور ہر قبیلے کے لوگ اس میں شامل تھے اور سوائے ہمارے کہ ہمیں اس جلوس کی پہلے سے بالکل خبر نہ تھی‘ سب لوگوں نے سرپر سفید کپڑے لپیٹ رکھے تھے۔ اباجی نے مجھے بتایا کہ ہر شخص نے اپنے سر پر کفن باندھ رکھا ہے اور سب اونچی آواز میں ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے ’’کشمیر کی آزادی یا شہادت‘‘ جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا‘ میں دیر تک اور دُور تک اس جلوس کو جاتا ہوا دیکھتا رہا اور آج تک دیکھ رہا ہوں۔


ہم وہیں کھڑے ہیں۔ جلوس اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ نعرے بھی ہیں۔ کفن بھی ہیں۔ سبھی کچھ جوں کا توں ہے‘ آج بھی میرے تخیل اور تصور میں وہ جلوس تابندہ اور فروزاں ہے‘ جوش بھی ہے‘ حرارت بھی ہے مگر آدھی صدی گزر جانے کے باوجود ہم قدم نہیں اٹھاپائے۔
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ


میری ضد یہ تھی کہ مجھے بھی ایک اپنے سائز کا کفن لے کر دیا جائے جسے میں سر پر باندھ کر ایسے کسی جلوس میں شریک ہو سکوں مگر ابا جی نے مجھے قومی رضا کاروں والی ایک اور یونیفارم سلوا کر خوش کرنے کا جتن کرلیا اور مجھے ہر صبح شریف پارک میں تاجے خان کی شاگردی تک محدود کردیا۔اور میرے وہ خواب جولیاقت اسرار بخاری کو دیکھ کر پروان چڑھے تھے‘ ادھورے ہی رہے اور سسک سسک کر دم توڑ گئے کہ مجھے اس کٹھن راستے پر چلایا ہی نہ گیا جو میرا آئیڈیل تھا۔


میں آج بھی اس چھوٹی سی وردی کونکال کر دیکھتا ہوں اور آہ بھر کر اٹیچی میں کتابوں میں رکھے پھولوں کی طرح بند کر دیتا ہوں۔
اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ 
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

مضمون نگار ممتازدانشور‘ ادیب اور ’’اندھیرا اجالا‘‘ سمیت کئی معروف ڈارموں کے خالق بھی ہیں۔

یہ تحریر 111مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP