متفرقات

رہے سربلند پرچم وطن کا

صدارتی ایوارڈ یافتہ ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ آنریری کیپٹن اولمپیئن غلام رازق کی خدمات کے حوالے سے طارق محمود کی تحریر

صدارتی ایوارڈ یافتہ ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ آنریری کیپٹن اولمپیئن غلام رازق کا شمار وطن عزیز کے چند ایسے مایہ ناز کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد سبز ہلالی پرچم کو کھیل کے میدان میں سالہا سال دنیا بھر میں سر بلند رکھا۔ ان کے دور کو پاکستان اتھلیٹکس کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بلا شرکت غیرے ہرڈلز دوڑکے ایونٹ پر حکمرانی کی ۔پاکستان کی تاریخ میں اتھلیٹکس کے میدان میں سب سے زیادہ میڈل جیتنے والوں میں غلام رازق کا نام سر فہرست ہے ۔ انہیں  1956ء ، 1960ء اور 1964ء کے اولمپک گیمزمیں کھیلنے کا اعزاز حا صل ہے۔غلام رازق نے مجموعی طورپر تین ایشین گیمزمیں حصہ لیتے ہوئے دو میں گولڈ میڈل اور ایک میں سلو رمیڈل حا صل کیا۔ انہو ںنے ورلڈ ملٹری اتھلیٹکس مقابلوں میں بھی گولڈمیڈل جیت کر وطن عزیز کے نام کو عالمی سطح پر روشن کیا۔
آنریری کیپٹن غلام رازق 5مئی1930ء کو ضلع جہلم کے گائوں نتھوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی مدارس سے حاصل کی۔ ان کے والد کا اسم گرامی پہلوان خان اعوان تھا ۔وُہ کھیتی باڑی کے پیشہ سے وابستہ تھے۔ غلام راز ق نے ملازمت کا آغاز یکم مئی 1947ء کو آرمی سگنل کور سنٹر کوہاٹ سے کیا ۔ انہوں نے اتھلیٹکس کا باقاعدہ آغاز ابتدائی ریکروٹ کی تربیت کے دوران کیا ۔ وہ جلد ہی پاکستان آرمی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ آرمی کے تربیتی کیمپ میں انہوں نے پاکستان آرمی سپورٹس کے انچارج بریگیڈئیر رودھم کے زیر نگرانی تربیت حاصل کی ۔غلام رازق انتھک محنت کی بدولت تیزی سے ترقی کی منازل طے کر تے ہوئے قومی ٹیم کا حصہ بنے۔
غلام رازق ایک غیر معمولی کھلاڑی تھے جنہوں نے اپنے سپورٹس کیریئر کے دوران نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر متعدد مرتبہ میڈلز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا جن میں زیادہ تعداد گولڈ میڈل کی تھی۔ ان کی آسمان کو چھو لینے والی  فتوحات میں سے بیشتر کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔ 1956ء میں اولمپک گیمز کا انعقاد آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ہوا جس میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں حصہ لیتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حا صل کی اور چوتھے نمبر پر رہے ۔1957ء میں انٹرنیشنل مقابلے ایران کے شہر تہران میں منعقد ہوئے جن میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل حا صل کیا ۔1957ء میں ہی ورلڈ ملٹری اتھلیٹکس مقابلے یونان کے شہر ایتھنز میں منعقد ہوئے جن میں غلام رازق  110میٹر ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل پاکستان کو دلوانے میں کامیاب رہے ۔ان مقابلوں میں غلام رازق نے  110میٹر ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ اور آنریری کیپٹن محمد اقبال نے ہیمر تھرو کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیت کر نئی تاریخ رقم کی ۔ 1957ء میں ہی ڈبلن (U.K) میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلے منعقد ہوئے جن میں غلام رازق نے  120گز ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ اسی سال گلیکسو (U.K)میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہوا جن میں غلام راز ق نے کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 120گز ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1958ء میں 3rdایشین گیمز جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہوئیں جن میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ اسی سال کامن ویلتھ گیمز کا انعقاد کارڈف (U.K)میں ہواجس میں غلام رازق نے  110میٹر ہرڈلزدوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل حاصل کیا۔1958ء میں ہی انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلے ایڈن برگ (U.K) میں منعقد ہوئے جن میں غلام رازق 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔اسی سال اوپن اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد جاپان کے شہر ٹوکیو میں ہوا جن میں غلام رازق نے گولڈ میڈ ل حا صل کیا۔اسی سال ہانگ کانگ میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہو ا اس مرتبہ بھی غلام رازق  110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔1959ء میں (U.K) لندن ، ڈبلن اور کارڈیف میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہوا جن میں غلام رازق نے 120گز ہرڈلز دوڑ کے ایونٹس میں تین گولڈ میڈل جیتے ۔اسی دوران برطانیہ کے مختلف شہروں میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں میں غلام رازق 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں 5گولڈ میڈل اور 120گز ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں بھی گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔1959ء میں ہی سیزم اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد روم کے شہر اٹلی میں ہوا جن میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1960ء میں انٹر نیشنل ٹرائی اینگل اتھلیٹکس مقابلے لاہور میں منعقد ہوئے جن میں پاکستان ، ایران اور بھارت کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ غلام رازق 110میٹر ہرڈلز دوڑ اور 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں دو گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔ 1960ء میں ہی انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد لندن کے شہر وائٹ سٹی میں ہوا جس میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1961ء میں سیزم اتھلیٹکس مقابلے بیلجیئم کے شہر برسلز میں منعقد ہوئے جن میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل کا اعزاز حاصل کیا۔ 1962ء میں کامن ویلتھ گیمز آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں منعقد ہوئیں جن میں غلام رازق 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل پاکستان کو دلوانے میں کامیاب رہے۔ اسی سال انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ملائشیا ء کے شہر ایپھو میں ہوا جس میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔1962ء میں ہی 4thایشین گیمز انڈونیشیا ء کے شہر جکارتہ میں منعقد ہوئیں۔ جن میں غلام رازق 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔ 1966ء میں کامن ویلتھ اتھلیٹکس گیمز کا انعقاد کنگسٹن میں ہوا جن میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل حاصل کیا۔ 1966ء میں ہی 5th ایشین گیمز تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقد ہوئیں جن میں غلام رازق نے 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیت کر اپنا لوہا منوایا۔ 1968ء میں 11thنیشنل گیمز ڈھاکہ میں منعقد ہوئیں جن میں غلام رازق 110میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔یہ ان کے سپورٹس کیریئر کا آخری گولڈ میڈل تھا۔



پاکستان کے مایہ ناز اتھلیٹ غلام راز ق نے دوران کھیل پاکستان کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں اتھلیٹکس کوچنگ کورسز میں تربیت حاصل کی۔انہوںنے 1950ء میں پی ٹی سکول کاکول میں آرمی کے کھلاڑیوں کے ساتھ 12 ہفتوں کا کوچنگ کورس Mr.Sgt Havard کے زیر نگرانی مکمل کیا۔ 1952ء میں غلام رازق نے راولپنڈی میں قومی اتھلیٹکس ٹیم کے ساتھ 12ہفتوں کے کوچنگ کورس میں MR. Marchomic سے تربیت حاصل کی۔ 1957ء میں انہوں نے یونان کے شہر ایتھنز میں انٹرنیشنل اتھلیٹس کے ساتھ 4ہفتوں کے کوچنگ کورس میں سیزم ممالک کے کوچز کی زیر نگرانی کورس مکمل کیا۔ 1958ء میں بیلجیئم کے شہر برسلز میں انہیں سیزم ممالک کے کوچز سے 4ہفتوں کے کورس میں جدید تیکنیکس سیکھنے کا موقع ملا۔ 1959ء میں غلام رازق نے اٹلی کے شہر روم میں 4 ہفتوں کے کوچنگ کورس میں ایک مرتبہ پھر سیزم ممالک کے کوچز کی زیر نگرانی ٹریننگ حاصل کی۔ اسی سال انہوں نے انگلینڈ میں 6ہفتوں کے تربیتی کورس میں برٹش Lough Broughفزیکل کالج کے آرگنائزر کی زیر نگرانی کوچنگ کورس مکمل کیا۔ 1962ء میں ہالینڈ کے شہر بوراس میں انٹرنیشنل اتھلیٹس کے ساتھ 2 ہفتوں کے تربیتی کورس میں ٹریننگ حاصل کی۔ یہ کورس سیزم ممالک کے کوچنگ کی زیر نگرانی تشکیل دیاگیا تھا۔ 1966ء میں جرمنی کے شہرColongne میں انٹر نیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ Colongne فزیکل کالج میں بارہ ہفتوں کا کوچنگ کورس مکمل کیا۔ 1967ء میں امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں 4ہفتوں کے کوچنگ کورس میں تربیت حاصل کی۔ یہ کورس امریکہ کوچنگ سکیم آف سائوتھ ایسٹ ایشیاء آل برٹش ایمپائر کامن ویلتھ اتھلیٹس کے لیے آرگنائیز کیا گیا تھا ۔
 قارئین یہ وہ دور تھا جب ہمارے قومی کھلاڑیوں کو اس قدر کوچنگ کے مواقع فراہم کیے گئے جن کی بدولت انہیں جدید تکنیکس سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اس تربیت کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں کامیابیاں حاصل کیں ۔ آج بھی اگر قومی کھلاڑیوں کو تربیت حا صل کر نے کے ایسے مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان کھیل کے میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حا صل کر سکتا ہے۔
 غلام رازق نے کوچنگ کے شعبہ میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔غلام رازق پاکستان آرمی کے علا وہ پاکستان سپورٹس بورڈ اسلام آباد میں بھی کئی سال تک قومی اتھلیٹکس ٹیم کے کوچ رہے۔ انہیں دنیا کے کئی ممالک میں قومی ٹیم کے ساتھ بطور ٹیم منیجر،کوچ اور ٹیکنیکل آفیشل جانے کا موقع ملا ۔غلام رازق نے سپورٹس ٹریننگ اینڈ کوچنگ سینٹر کراچی میں بطور ڈائریکٹر بھی خدمات انجام دیں۔1970ء میں انہیں صوبیدار میجر کے عہدہ پر ترقی دی گئی اور ساتھ ہی ان کی پوسٹنگ 19سگنل بٹالین ڈھاکہ میں کر دی گئی۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ان کی پوسٹنگ مشرقی پاکستان میں تھی یوں  انہوں نے اس جنگ میں مشرقی پاکستان میںملکی دفاع کے لیے فوج کے شانہ بشانہ عسکری خدمات انجام دیں۔ فوج کے جوان ہر محاذ پر جنگ جاری رکھے ہوئے تھے ۔فوج کی اعلیٰ قیادت کے سامنے دور دراز علاقوں میں گھرے غیر بنگالی سولین اور پاکستانی دستوں کو مکتی باہنی کے انسانیت سوز مظالم سے نجات دلانا پہلی ترجیح تھا۔ غلام رازق کو فوجی سپاہیوں کے ساتھ جنگی قیدی بنا کر کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ۔چند دنوں کے بعد کیمپ کے تمام اسیروں کو بھارت کی مختلف ریاستوں میں پہنچا دیا گیا ۔اس دوران ان کے کئی ساتھی ان سے بچھڑ گئے ۔دوران قید ان پر طر ح طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔ آخرکار1974ء میںپاک بھارت شملہ معاہدہ طے پا گیا اور غلام رازق دیگر فوجیوں کے ساتھ وطن واپس لوٹ آئے ۔حکومت پاکستان نے غلام رازق کی قومی خدمات کے پیش نظر انہیں آنریری کیپٹن کے عہدے پر ترقی دی۔ پاکستان آرمی کی طر ف سے انہیں صوبہ سند ھ میں 48ایکڑ زمین بطور انعام پیش کی گئی۔1963 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے غلام رازق کو قومی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوا ز ا گیاجو کہ انہوںنے فیلڈ مارشل جنرل محمدایوب خان سے وصول کیا۔پاکستان سپورٹس بورڈ نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جناح سپورٹس اسٹیڈیم اسلام آباد کے ایک نمبر انٹری گیٹ کا نام غلام رازق گیٹ رکھا ۔غلا م رازق کی یونٹ 39سگنل نے لال کڑتی راولپنڈی کے آرمی گرائونڈ کا نام ان کے نام سے منسوب کیا۔ تمام تر قومی خدمات انجام دینے کے بعد غلام رازق پاکستان آرمی سے 18ستمبر 1976ء کو ریٹائرڈ ہوگئے ۔انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد سکونت راولپنڈی (چوہڑ) میں اختیار کی۔ 1986ء میں ان کی صحت خراب رہنے لگی میڈیکل رپورٹ کے مطابق  Pancreas Cancer کا مرض تشخیص ہوا۔ غلام رازق تین سال بیمار رہنے کے بعد 24جون 1989ء کو انتقال کر گئے۔ اس طرح وطن عزیز ایک قومی ہیرو سے محروم ہو گیا۔انہیں آرمی قبرستان ویسٹریج راولپنڈی میں سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ان کی نماز جنازہ میں عسکری، سول سو سائٹی اور کھیل سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین ) 



قارئین آرمی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے غلام رازق کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے کارہائے نمایاں کو یاد رکھنے کے لیے 2 فروری 2022ء کو راولپنڈی کے ''ہوم آف چیمپئن میس'' کا نام غلام رازق میس رکھ دیا ہے۔اس سلسلے میں راولپنڈی میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی صدارتی ایوارڈ یافتہ ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ آنریری کیپٹن اولمپیئن ملک محمدیونس تھے ۔میس آمد پر بریگیڈیئر احمدسعید ڈائریکٹر آرمی سپورٹس، کرنل صدف اکرم ڈپٹی ڈائریکٹر آرمی سپورٹس ،پاکستان آرمی کے کوچز اور کھلاڑیوں نے ان کا پر تپاک انداز میں استقبال کیا ۔میس کی خوبصورت انداز میں تزئین و آرائش کی گئی ہے جس میں جدید تقاضو ں کے مطابق سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ آنریری کیپٹن (ر)محمد یونس نے فیتہ کاٹ کر میس کا با قاعدہ افتتا ح کیا اس موقع پر غلام رازق کی مغفرت اور ان کی بلندی درجات کے لیے خصوصی طور پر دعا کی گئی ۔غلام رازق بلاشبہ ملک و قوم کا عظیم سرمایہ تھے۔ان کی قومی خدمات کو تادیر یادرکھا جا ئے گا۔

یہ تحریر 188مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP