خصوصی رپوٹ

یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی پریڈ

ہر سال کی طرح اس سال بھی قوم نے یومِ پاکستان ملی جو ش و جذبے کے ساتھ منایا۔ اس حوالے سے ملک بھر میں کئی تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ مرکزی تقریب راولپنڈی ، اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں گرائونڈ میں ہونے والی پاکستان ڈے پریڈ تھی جس میں وطنِ عزیز کی مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ترکی ، بحرین، فلسطین ، عراق اور سری لنکا کے چھاتہ بردار دستے بھی شریک ہوئے۔ اس سال23 مارچ کو موسم کی خرابی کی وجہ سے پریڈ 25 مارچ کو منعقد کی گئی۔ 



پریڈمیں تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے سب سے پہلے وائس چیف آف ایئر سٹاف ایئر مارشل سید نعمان علی پریڈ ایونیو میں تشریف لائے کیونکہ ایئر چیف مارشل ظہیراحمدبابر سدھو فلائی پاسٹ کی قیادت کررہے تھے۔ اس کے بعد چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمدامجد خان نیازی ، اس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجودہ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، وزیرِ دفاع جناب پرویز خٹک تشریف لائے۔ بگل بجا کر صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی آمد کا اعلان ہوا جو پریذیڈنٹ باڈی گارڈ کی روائتی بگھی میں سوار ہو کر پریڈ گرائونڈ پہنچے۔ وزیرِاعظم پاکستان جناب عمران خان کرونا وائرس کی وجہ سے پریڈ میں شرکت نہیں کرسکے۔ 



 صدرِ مملکت نے پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر اظہریاسین کے ہمراہ پریڈ میں شامل دستوں کا معائنہ کیا جن میں پنجاب رجمنٹ، فرنٹیئر فورس، آزاد کشمیر رجمنٹ، سندھ رجمنٹ، ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ، پاک بحریہ کا دستہ، پاکستان ایئرفورس کا دستہ، فرنٹیئر کور، خیبرپختونخوا کا دستہ، فرنٹیئرکانسٹیبلری (پہلی مرتبہ) مجاہد رجمنٹ، پاکستان رینجرزسندھ اور پاکستان پولیس (پنجاب) ایئرپورٹ سیکورٹی فورس کا دستہ (پہلی مرتبہ) لیڈی آفیسرز کا دستہ، لائٹ کمانڈو بٹالین کا دستہ (بلوچ رجمنٹ) اور ٹرائی سروسز سپیشل سروسز گروپ شامل تھے۔



صدر مملکت نے دستوں کا معائنہ کرنے کے بعد انتہائی پرجوش اور پرعزم خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر مملکت نے کہا کہ'' پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اورترقی کے لئے مثبت کردار ادا کیا ہے ۔ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے اگر کبھی وقت آن پہنچا تو ہماری مسلح افواج جدید فن و حرب سے لیس دفاع پاکستان کے لئے تیار کھڑی ہیں ۔ ''
اس موقع پر وزیرِاعظم پاکستان کے اقوام متحدہ کی تقریر کے وہ تاریخی الفاظ بھی بڑی سکرینوں پر چلائے گئے کہ''ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے لا الہ الا اللہ ۔ اگر کبھی ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم  اپنے وطن کے دفاع کے لئے مرتے دم تک لڑیں گے۔'' 
سب سے پہلے افواج پاکستان کے علم بردار دستے نے واشگاف نعرہ تکبیر بلند کیا جو مارگلہ کی پہاڑیوں سے گونجتا ہوا آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا ۔ نعرہ تکبیر کے ساتھ ہی پاک افواج کے چاق چوبند دستوں نے مارچ پاسٹ شروع کیا ۔
 پاکستان آرمی کے بینڈ کی سریلی دھنوں کے ساتھ 
اے مردِ مجاہد جاگ ذرا
اب وقتِ شہادت ہے آیا 
اللہ اکبر  ۔  اللہ اکبر 
انتہائی چاق چوبند دستے منظم اور اپنے مخصوص انداز میں سلامی دیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ پریڈ پر تبصرہ کرنے والے اپنی مسحور کن آواز میں ناظرین کا لہو گرما رہے تھے ۔ اس مارچ پاسٹ میں ایک نمایاں دستہ پاک افواج کی خواتین آفیسرز کا بھی تھا جس میں خواتین آفیسرز تینوں مسلح افواج کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ پریڈ گرائونڈ میں افواجِ پاکستان کے مختلف دستے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے گزرے تو حاضرین کا جوش و جذبہ دیدنی تھا وہ اپنے ان سپوتوں کو پرجوش انداز میں خراجِ تحسین پیش کررہے تھے۔ اس مارچ میں جب ایس ایس جی کمانڈو کا چاق چوبند دستہ اپنے مخصوص انداز میں' اللہ ہو۔ اللہ ہو'، کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سلامی کے چبوترے کی طرف بڑھ رہا تھا تو حاضرین نے اوربھی پُرجوش انداز میں اُن کا استقبال کیا۔






اس کے بعد پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے جدید جنگی طیاروں، گن شپ ہیلی کاپٹرز نے فلائی پاسٹ کا بہترین مظاہرہ پیش کیا لیکن جب پاکستان ایئر فورس کے فضائی ہیرو اور پاکستان کی شان جے ایف 17 طیارہ افق کے اس پار سے نمودار ہوا تو حاضرین کی تالیوں نے شاندار استقبال کیا۔ 
جے ایف 17تھنڈر طیارے نے اسلام آباد کی فضا میں ایسے شاندار تکنیکی اور تدبیری کرتب کا مظاہرہ کیا کہ واقعی لہو گرم ہو رہا تھا ۔غیر ملکی مہمانان بھی کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔




 پریڈ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ پاکستان کے بہت سے ان مایہ ناز لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے بغیر کسی عہدے اورلالچ کے ملک کی خدمت کے لئے خود کو پیش کیا، کراچی کی پروین بی بی جو کئی سالوں سے ہزاروں بھوکے افراد کو مفت کھانا مہیا کرتی ہیں، اسلام آباد کے ماسٹر ایوب جو سالوں سے بلامعاوضہ سیکڑوں غریب بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ ردا زہرہ نقوی وہ باصلاحیت اور پُرعزم پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے Downsyndrome میں مبتلا ہونے کے باوجود سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنی پہچان بنائی۔ فرزانہ بی بی جنہوں نے خود پولیو کا شکار ہوتے ہوئے پولیو مہم کے لئے گھر گھر مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے۔  سکرود کے ساجد علی سدپارہ بیس سال کی عمر میں کے ٹو پر پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں ۔ کے پی کے کی پہلی بم ڈسپوزل سکواڈ آفیسر ہوں یا پاکستان کے پہلے سکھ کرکٹ کھلاڑی ایسے بہت سے نامور ہیرو پریڈ میں بطور مہمان موجود تھے۔ 



اس کے بعد ترک ایئر فورس کے مہمان طیارے سولو ترک کے پائلٹ نے اردو میں پاک ترک دوستی کا نعرہ بلند کیا اور شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا ۔ پاک فوج کے شیر دل طیاروں نے فضا میں رنگ بکھیر کر نیلے آسمان کو قوس قزح بنا دیا۔ ہیلی کاپٹر کے ساتھ رسوں کی مدد سے لٹکے ہوئے ایئر فورس اور نیوی کے انتہائی چوکس اور تازہ دم سپاہی فضا میں قومی پرچم کے رنگ بکھیرتے ہوئے پریڈ ایونیو کے سامنے سے گزرتے ہوئے مارگلہ کی پہاڑیوں کو مسخر کرتے ہوئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ۔ 
 پاکستان کے چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فلوٹ پریڈ ایونیو میں داخل ہوئے، جن میں ہر صوبے کی تہذیب و ثقافت کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ ان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا فلوٹ بھی پہلی دفعہ مارچ میں شامل تھا ۔ اس کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا فلوٹ کرونا کے دوران فرنٹ لائن پر خدمت کرنے والے ڈاکٹر، نرسز پیرا میڈکس  سٹاف کے ساتھ نمودار ہوا تو حاضرین نے کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کیا۔ 



آسمان کی بلندیوں سے افواج پاکستان کے شہباز پیراشوٹ کے ساتھ رنگ بکھیرتے، اپنے اپنے مخصوص جھنڈوں کے ساتھ نمودار ہوئے جن میں عراق، بحرین، سری لنکااور فلسطین کے پیرا شوٹرز بھی شامل تھے۔ انتہائی مہارت کے ساتھ پیراشوٹرز نے پریڈ ایونیو میں لینڈ کرتے ہوئے صدر مملکت کو  بہترین انداز میں سلامی پیش کی۔ 
 پریڈ میں ترک افواج کا 5 سو سالہ پرانا میوزک بینڈ خصوصی طور پر شریک تھا اس بینڈ نے دل دل پاکستان، اور ارطغرل غازی کی مخصوص دھن بجا کر بھرپور داد سمیٹی۔ آخر میں قومی نغموں کی دھنوں کے ساتھ فنکار اور بچے فضا میں قومی پرچم لہرتے ہوئے پریڈ ایونیو میں داخل ہوئے تو صدر مملکت کے ساتھ ساتھ تمام مہمانوں کی داد کے مستحق ٹھہرے۔ ||

یہ تحریر 243مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP