اداریہ

سالِ نو : نئی سوچ اور عمل کی ضرورت

نئے سال کی آمد کو دنیا بھر میں ایک جشن اور تہوار کے طور پرمنایا جاتا ہے جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والے نئے سال کا سورج معاشرے اور سماج کے لئے نئی سوچ، نئی فکر اور مثبت طرزِ عمل کا پیغام لے کر اُبھرتا ہے۔ قومیں اور افراد اپنا احتساب کرتے ہیں کہ گزرے ہوئے سال میں جو کوتاہیاں ہوئیںیا خامیاں رہ گئیں وہ آنے والے سال میں نہ دُہرائی جائیں تاکہ زندگی ایک نئی لہر اور روشنی سے رُوشناس ہو۔ وطنِ عزیز پاکستان بھی کچھ ایسے ہی مراحل سے گزر رہا ہے۔جہاں ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ آنے والا ہر نیا دن خوبصورتی اور اُمید بن کر ہمارے معاشرے کو معطر کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک پاکستان کوامن اور دہشت گردی کے حوالے سے جو خطرات درپیش تھے وہ اب نہیں رہے۔ بلاشبہ امن کے حصول کے لئے قوم اور اداروں نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہماری قوم کے سترہزار سے زائد افراد زخمی یاشہید ہوئے۔ملک کے مختلف حصوں میں امن دشمنوں کے خلاف کئے گئے آپریشنز بالخصوص ضربِ عضب اور ردّ الفساد کی کامیابیوں کی بدولت ملک میں امن لوٹ آیا ہے اور یہ قوم امن اور خوشحالی کے حقیقی معنوں سے رُوشنا س ہوئی ہے۔
 سکیورٹی اور امنِ عامہ سے متعلق اداروں نے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ اب قوم کے دیگر اداروں کو بھی اپنے اپنے حصے کا کام اس انداز سے کرنا ہوگا کہ ملک کو درپیش بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا بطریقِ احسن مقابلہ کیا جاسکے ۔ ملک کی معیشت کو اتنا مضبوط کیا جاسکے کہ ہمیں بطورِ قوم دوسری اقوام کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں۔ اس کے لئے قوم کے ہر ایک فرد اور تمام اداروں کو دیانت ، امانت اور راست بازی کواپنا شعار بنانا ہوگا اورہر موقع پر اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے طلباء سے اپنے ایک خطاب میں فرمایاتھا کہ ''زندگی کے ہر شعبے میں کریکٹر کی بلندی ضروری چیز ہے۔ آپ کے احساسِ خودی و کردار کے ساتھ ساتھ یہ صفت ہونا ضروری ہے کہ آپ دنیا میں کسی چیز کے لئے بِک نہ جائیں۔'' قائد کے فرمان کی روشنی میں دیکھیں تو ہماری قوم کا کردار اور موجودہ  حالات میں کئے گئے فیصلے ہمارے مستقبل اور قومی وقار کا تعین کریں گے۔بے شک قومیں ایک دن میں نہیں بنتیں لیکن وہ اقوام جنہوںنے ترقی کی منازل طے کیں اُن کا ہر آنے والا دن اپنے گزرے ہوئے دن سے بہتر ہوتا ہے۔ ہمیں آج اس امر کا اعادہ کرنا ہوگا کہ معاشرے میں سب کے لئے صحت، انصاف ، بہبود اور حصولِ تعلیم کے یکساں مواقع یقینی بنائے جائیں اور نوجوان نسل کو تعلیمی نصاب رٹانے کے بجائے ان کی تربیت اس نہج پر کی جائے جس سے معاشرے میں برداشت اور افہام و تفہیم کا کلچر فروغ پاسکے۔ جس انداز سے بسا اوقات ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی تضحیک حتیٰ کہ قومی روایات کا بھی تمسخر اڑایا جاتا ہے، اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ نئی نسل کو تربیت کی اشدضرورت ہے۔ بلا شبہ جس قوم میں آئین اور نظم و ضبط کی پاسداری زیادہ ہوتی ہے وہ قوم ہی ترقی کے مدارج طے کرتی ہیں کیونکہ امن آزادی سے جُڑا ہوا ہے تو آزادی نظم و ضبط سے جُڑی ہوئی ہوتی ہے۔
ہمیں سال 2020 کے آغاز پر بحیثیت قوم اپنی اپنی ذمہ داریوں کا نہ صرف تعین کرنا ہے بلکہ نیت نیتی کے ساتھ ملک کی تعمیر میں اس انداز سے حصہ لینا ہے جس میں تمام مکاتبِفکرکو شمولیت کا موقع ملے تا کہ وہ سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے میں عملی طور پر آگے بڑھیں۔ خدا کرے نیاسال قوم اور مادرِ وطن کے لئے مسرتوںاور محبتوں سے لبریز سال ثابت ہو۔

یہ تحریر 461مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP