قومی و بین الاقوامی ایشوز

راہِ حق کے مسافر

گوجرانوالہ کے قریب ٹرین حادثے میں جامِ شہادت نوش کرنے ولے ’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ ‘‘کا احوال

 

یہ وُہ لمحہ تھا جب پانی مُجھ پر غالب آ چُکا تھااب میں نے گُھپ اندھیرے میں ایک آخری کوشش کے طور پر پھنسے ہُوئے دروازے کی سمت ہاتھ بڑھا کر زور لگا یا۔ میرا تھوڑا سا بازو جیسے دروازے کے معمولی سے خلا میں اٹک گیا۔ میرے کانوں میں پانی کی آواز یں سُنائی دے رہی تھیں۔ دروازے کا خلا بالکل ہی ناکافی تھا اور مُجھے اس کا ادراک تھا۔ بس اب کُچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ گہرے اندھیرے اور یخ بستہ پانی میں میری سا نسیں اب جواب دے رہی تھیں۔ میں نے جدوجہد ترک کر دی ۔ سانس لینے کی توانائی بھی ختم ہو گئی تھے۔ میں موت کا انتظار کرنے لگا۔ چند ہی ثانیوں میں مُجھے احساس ہوا کہ زِندگی اتنی آسانی سے نہیں چھوڑی جا سکتی ۔ میں نے آخری بار ایک بھر پُور کوشش کرنے کا سوچا اور خود کو دروازے کے معمولی سے خلا کی طرف دھکیلنے لگا۔

منصہ شہودپر جلوہ افروز ہوتے ہی ہدف کے تعاقب میں ایک آفیسر، تین جونیئر کمیشنڈ آفیسرز اور 32جوانوں کی شہادت کا نذرانہ پیش کرنے والی یونٹ’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ ‘‘ آج ایک نئے سفر پر روانہ ہو چُکی تھی۔ پنوں عاقل سے کھاریاں کی طرف عازمِ سفر ہوتے ہوئے ہر آفیسر، جے سی او اور سولجر کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ کھاریاں میں اِنہیں دراصل ایک ایسے ڈویژن کا حصہ بننا تھا جو پہلے ہی سوات میں اِنسانیت کی خِدمت میں پیش پیش اور دہشت گردوں کے لئے پیغامِ اجل تھا۔ دراصل ’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ‘ ‘کی روایات اور تاریخ بھی قربانیوں اور خِدمتِ مُلک و مِلت سے بھری پڑی تھی۔ 48برس قبل 15مارچ 1966ء کو جب یہ بٹالین روڈ کنسٹرکشن بٹالین کے نام سے رسالپور میں معرضِ وجود میں آئی تو اس نے اپنے پہلے مِشن میں ہی ’کومیل‘سے ’چلاس ‘ تک ایک دُشوار گُزار اور پُر خطر پہاڑی سلسلے کا سینہ چیر کر شاہراہِ قراقرم کے مُشکل ترین حصے کی تعمیر کا سہرا اپنے سر باندھا۔ اس مشن کی تکمیل میں اِسے آفیسرز اور جوانوں کی انمول جانیں بھی نچھاور کرنا پڑیں ۔

2015ء کے آغاز میں پُنوں عاقل میں یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون (شہید) کو جب یونٹ کے اگلے سٹیشن کھاریاں اور پِھر سوات میں تعیناتی کا پتہ چلا تو اُنہوں نے اس خبر کو اپنی سپاہ تک پہنچانے کا حُکم دِیا۔ اِ ن کی توقع کے عین مطابق یہ نوید ’ٹائیگرزآف کے کے ایچ ‘ کے لئے مژدۂ جان فزا سے کم نہ تھی۔ انہوں نے یہ خبر قبل از وقت اس لئے عام کی تھی کہ پنوں عاقل اور مضافات کی گرمی اور لُو سے ستائے ہُوئے جوانوں کے چہروں پر کُچھ رونق آجائے۔ وہ دراصل اپنے سولجرز کے دلوں پر راج کرتے تھے اور اُن کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور دُکھ درد کی پروا کرتے تھے۔ لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون کا تعلق ایک فوجی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد بھی ایک لیفٹیننٹ کرنل تھے اور 1965ء اور1971ء کی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے۔ جبکہ دو بھائی تا حال پاک فوج میں ہیں اور ایک بھائی پاکستان فضائیہ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران والدین کے یکے بعد دیگرے اس جہانِ فانی کو الوداع کہنے کے بعد لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون کی شخصیت میں ایک بڑی تبدیلی آئی تھی۔ ان میں اب نہ صِرف اپنے اہلِ خانہ اور بہن بھائیوں کے لئے ایک مخصوص شفقتِ پدری اور احساسِ ذمہ داری میں اضافہ ہوا تھا بلکہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور زیرِ کمان سپاہ کے ساتھ ایک خاص جذباتی لگاؤ بھی پیدا ہو گیا تھا ۔ وہ جب یونٹ میں ہوتے تو اپنی اہلیہ سمیت جوانوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور مسائل کے بارے میں فکر مند رہتے اور حل کرتے۔

پنوں عاقل سے روانہ ہوتے ہوئے جنرل آفیسرکمانڈنگ عارف حُسین وڑائچ نے نہ صرف یونٹ کے پانچ سالہ قیام کو سراہا بلکہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر انتظامی طور پر ضروری نہ ہوتا تو وہ اس یونٹ کو ہمیشہ اپنے ہی زیرِ کمان رکھنا پسند کرتے۔ جی او سی میجر جنرل عارف حُسین وڑائچ نے یونٹ کی پنوں عاقل سے روانگی سے قبل اپنے خطاب میں ’ٹائیگرز آف کے کے ایچ ‘ کے کارناموں کو دُہراتے ہُوئے بھرپُور خراجِ تحسین پیش کیا۔

 

اسی دوران یونٹ کی کھاریاں روانگی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ یونٹ کے سبھی آفیسرز، جونیئر کمیشنڈ آفیسرز اور سولجرز بڑھ چڑھ کر روانگی کے معاملات نبھانے میں مصروف تھے۔ یونٹ کے خصوصی امور کے ماہر کمانڈنگ آفیسر کے دستِ راست صوبیدار میجر محمد اسلام خان(شہید) کوہاٹ کے رہنے والے ایک منجھے ہوئے ایس ایم تھے جو 27اکتوبر 1981ء سے انجینئر کور میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ یونٹ میں اُن کا 33سالہ سفر بطور ایک مثالی سولجر اور حلیم و بُردبار انسان ، ہر سینئر اور جونیئر کی زبان پر تھا۔ جبکہ آفیسرز کی ٹیم میں میجر محمد عادل شریف (شہید)منڈی بہاؤالدین کے رہنے والے اور وانا (وزیرستان ) کے غازی تھے۔ جہاں انہوں نے تین سال تک دہشت گردوں کی سرکوبی میں شجاعت کی ایک سنہری تاریخ رقم کی تھی۔ میجر عادل 16فروری 1987ء کو ضلع منڈی بہاؤ الدین کے ایک گاؤں چک نمبر 25میں پیداہُوئے تھے۔ 3سال کی عمر میں والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سنٹرل ماڈل سکول لوئر مال لاہور سے حاصل کی ۔جبکہ 2004ء میں گورنمنٹ کالج آف سائنس سے ایف ایس سی (پری انجینئرنگ) کیا اور یو ای ٹی لاہور میں کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔ ابھی وہ پہلے سمسٹر میں ہی تھے کہ مُنتخب ہو کر مئی2005ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول چلے گئے۔ 15اپریل 2007ء کو کمیشن حاصل کرتے ہی وزیرستان میں تعینات ہوئے۔ 3سال بعد وانا(وزیرستان)سے بطور ایک غازی کے سُرخُرو لوٹے اس کے بعد اُن کو ’ٹائیگر آف کے کے ایچ‘میں خِدمات کا موقع مِلاتھا۔اس دوران انہوں نے رسالپور جا کر اپنی 4سالہ ڈگری بھی مکمل کی اوراس طرح ایک تجربہ کار اور کوالیفائیڈ فیلڈ آفیسر کے طور پر’’ ٹائیگر آف کے کے ایچ‘‘ کی ٹیم کا حصہ بنے۔

کرنل عامر کی ٹیم کے ایک اوررُکن کیپٹن کاشف ارشاد گورایہ(شہید)بھی پیدائشی فوجی تھے۔ان کے والد میجر (ریٹائرڈ)ارشاد علی گورایہ ایک منجھے ہُوئے توپچی تھے اوربھائی میجر عامر گورایہ تا حال پاک فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 14جنوری1988ء کو کوہاٹ میں پیدا ہونے والے کیپٹن کاشف (شہید)نے 2010ء میں رسالپور سے بطور سِول انجینئر اپنی تعلیم مکمل کی اور بطور کیپٹن پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ‘‘ میں کیپٹن کاشف ارشاد ایک ملنسار اور محنتی آفیسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ پنوں عاقل سے کھاریاں کی طرف عازمِ سفر ہونے والی ریل گاڑی پر سوار ایک اور نوجوان لیفٹیننٹ محمد عباس( شہید )بھی ایک فوجی گھرانے کے آفیسر تھے جو بچپن سے ہی شہادت کی دعائیں کیا کرتے۔ دراصل اُن کے خالہ زاد بھائی کیپٹن نصراللہ شہید پہلے ہی سیاچن میں جامِ شہادت نوش کر چُکے تھے اور اُن کی تصویر دیکھ دیکھ کر لیفٹیننٹ محمد عباس کا شوقِ شہادت پروان چڑھتا رہتا تھا۔لیفٹیننٹ عباس کا تعلق ضلع خوشاب کے موضع مردوال سے تھا اور انہوں نے 18 اکتوبر 2014ء کو ’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ‘‘ میں کمیشن حاصل کیا۔ یہ یونٹ ان کے والد نائب صوبیدار (ریٹائرڈ)اختر حُسین کی تھی۔ ان کے دوسرے بھائی میجر طارق بھی پہلے ہی پاک فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔جبکہ ایک اور بھائی آرمی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کر رہے تھے۔ یہ ایک دینی گھرانہ تھا اس لئے لیفٹیننٹ عباس بھی اکثر ذِکرِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ اس قافلے کی تیاریوں کے رُوحِ رواں لیفٹیننٹ مدثر حسن بطور کوارٹر ماسٹر فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ لیفٹیننٹ سید کاشف حسین شاہ کا ظمی کے پاس ایک کمپنی کی کمان تھی۔ بھرپور تیاریوں اور الوداعی تقریبات کے بعد پوری بٹالین ریل پر سوار ہُوئی تو سولجرز میں سے 29جوانوں اورجے سی اوز کے اہلِ خانہ کو بھی خصوصی بوگی میں جگہ دی گئی۔ کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون کی اہلیہ نے جب دیکھا کہ بٹالین کے سولجرز کی بیویاں اور بچے اسی ٹرین پر سفر کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بچوں سمیت اُن کی ہم سفر بنیں گی ۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ اُ ن کی اپنی کار جِس میں ائیر کنڈیشن کی سہولت بھی میسر تھی‘ وہ بھی بذریعہ سڑک کھاریاں جا رہی تھی اور بڑے آرام سے اس میں سفر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اپنے اسلاف کی روایات کی پاسدار تہمینہ جدون (شہید)کا فیصلہ اُن کی قائدانہ فہم و فراست اور ایثار کا آئینہ دار تھا۔وُ ہ اپنے پُھول جیسے نازک بچوں سمیت شدید گرمی میں اپنے سولجرز کے ہمراہ ٹرین پر عازم سفرہُوئیں۔دس سالہ معصوم سیف اللہ جدون (شہید) اور جان سے پیاری پانچ سالہ بیٹی فاطمہ جدون (شہید)بھی اِن کے ہمراہ تھی۔ کمانڈنگ آفیسر کی اہلیہ دراصل اپنے سولجرز کی فیمیلیز کو بھی اپنے بچوں کی طرح ہی سمجھتی تھیں۔ وہ باقاعدگی سے اُن سے ملاقاتیں کرتیں، اُن کے حال و احوال پُوچھتیں اورحتی الوُسع اُن کے مسائل کو حل کرانے کی سعی کرتیں۔

ٹرین میں مُسافروں کے لئے کُل چھ بوگیا ں تھیں جبکہ 21ویگنیں سامان والی تھیں۔ اِنجن کے فوراً پیچھے آفیسرز کا سلیپر تھاجِس میں چھ کیبن بنے ہُوئے تھے، اِن میں سے آگے سے پہلا کیبن صوبیدار میجر اسلام کو دِیا گیا تھا جبکہ دوسرے میں کیپٹن کاشف اور لیفٹیننٹ کاشف کاظمی سوار تھے۔ تیسرے کیبن میں لیفٹیننٹ سید عباس اور چوتھا کیبن بطور آفیسرز میس یا کامن روم خالی رکھا گیا تھا۔ پانچویں کیبن میں میجر عادل شریف اور لیفٹیننٹ مدثر حسن تھے۔ چھٹا کیبن کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون اور ان کی فیملی کے پاس تھا۔یونٹ کے انتظامی امور کے انچارج لیفٹیننٹ مدثر نے کمانڈنگ آفیسرکے کیبن کو آرام دہ بنانے کی اپنی سی کوشش کی۔ سیٹوں پر صاف سُتھری چادریں اور تکیے رکھوائے اور بچوں کے لئے ہلکی پُھلکی اشیائے خورد نوش کا اہتما م کیا۔ یہ بچے دراصل یونٹ کے سبھی افسروں کی آنکھ کا تارا تھے۔ ننھی فاطمہ جدون اکثر اپنے پاپا کی یونیفارم پہن لیتی تو یوں لگتا جیسے کسی کیمو فلاج مورچے میں بیٹھی ہواور کبھی وہ بابا کی نیلی ٹوپی اور چھڑی اُٹھا کر اپنے بھائی سیف اللہ جدون کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی دکھائی دیتی۔لیفٹیننٹ مدثر بتاتے ہیں کہ ان بچوں کو بطخوں اور خرگوشوں سے کھیلنے میں بڑا مزا آتا۔اگلا کیبن لیفٹیننٹ مدثر حسن کا تھا جو یونٹ کے کوارٹر ماسٹر(انتظامی امُور کے ذمہ دار ) اور پہلے دن کے لئے ٹرین کے ڈیوٹی آفیسر بھی تھے۔بے شمار انتظامی و انضباطی امور کے بعد بالآخر ٹرین پنوں عاقل سے روانہ ہُوئی۔ یکم جولائی کی سحر 3بجے کا وقت تھا جب سانگی سٹیشن کے پاس ایک پڑاؤ کے بعد گاڑی روانہ ہُوئی ۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ روزے داروں نے اندھیرے میں جیسے تیسے اپنی سحری کھائی اور روزہ رکھ لیا۔ اگلی صُبح ایک بجے گاڑی سمہ سٹہ پہنچی تو میجر عادل اور لیفٹیننٹ کاشف کاظمی سٹیشن ماسٹر اور مکینک کی تلاش میں نِکلے۔ مکینک نے جنریٹر کے کچھ پرزے نئے لینے کا مطالبہ کیا تو یونٹ نے نئے پُرزے بھی مہیا کر دئیے لیکن ٹرین میں بجلی آنی تھی نہ آئی۔ البتہ جب گاڑی وسطی پنجاب میں داخل ہُوئی تو بارانِ رحمت برس پڑی اور موسم کافی خوشگوار ہو گیا۔پروگرام کے مطابق گاڑی کو رات11بجے تک فیصل آباد پہنچ جانا چاہئے تھا لیکن غیر ضروری تاخیر اور سُست روی کے باعث یہ خصُوصی ملٹری ٹرین رات 2-3بجے کے درمیان فیصل آباد پہنچی۔ 2 جولائی کی صُبح یہ ریل بستی حافظ آباد میں مختصر سے قیام کے بعد ایک بار پھر روانہ ہوئی۔ یہ کوئی ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ ٹرین نے ایک اور گاڑی کو کراسنگ دی اور تقریباً40سے45کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فراٹے بھرنے لگی۔

اگلے چند گھنٹوں میں گاڑی نے کھاریاں کے پاس ہونا تھا۔ مسلسل کئی دن اورراتوں کے جاگے ہُوئے آفیسرز اپنے اگلے سٹیشن پر موجود استقبالیہ یونٹ کے آفیسرز سے رابطے میں تھے، مسلسل رت جگوں، گرمی اور تھکاوٹ کے ستائے آفیسر ز یہاں تک یقین دہانی کرواتے کہ انہیں کھاریاں پہنچنے پر’’ اچھا سا ٹھنڈی مشین والا‘‘ کمرا ہی مِل رہا ہے نا؟تاکہ وہ جی بھر کر سو سکیں۔ یکایک کھڑکی سے باہر دُھول کا ایک غیر معمولی جھونکا محسوس ہُوا۔ سامنے بیٹھے ہُوئے لیفٹیننٹ عباس نے تجویز کیا کہ مٹی سے بچنے کے لئے کھڑکی بند کر دیتے ہیں لیکن لیفٹیننٹ مدثر نے کہا کہ یہ مٹی اند ر تو آنہیں رہی اس لئے کھڑکی بند کرنے کی ضرورت نہیں۔ دُوسرے ہی لمحے مٹی اور دُھول کا یہ جھونکا طوفان کے ایک زور آور بگولے کی طرح کیبن کے اندر پہنچ گیا اور آناً فاناً ٹرین کے آہنی پہیوں اور پٹڑی کے مابین رگڑ کی ایک خوفناک چیخ سُنائی دی جیسے ریل گاڑی کو روکنے کے لئے بریکوں کو پُوری قوت سے استعمال کیا جا رہا ہو، ساتھ ہی ایک جھٹکا لگا جس نے انسان اور سامان بِلا اِمتیاز ہر کیبن میں اِدھر سے اُدھرپٹخ دیئے۔ نوجوان آفیسر لیفٹیننٹ محمد عباس جو ہر وقت ذِکرِ الٰہی میں مصرُوف رہنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے‘ با آواز بلند کلمہ طیبہ کا وِرد کرنے لگے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ریل گاڑی کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔ اب کیبن کی ہر چیز جیسے چھت کی طرف اُڑنے لگی اور ساتھ ہی ٹرین ایک زور دار جھٹکے سے ساکت ہوگئی۔ لیفٹیننٹ مدثر اس جھٹکے سے شاید نیم بے ہوشی میں چلے گئے تھے۔ لیفٹیننٹ مدثر کو اس منظر کے بعد اگلا احساس ایک ٹھنڈے پانی کے چھُونے کا ہُوا۔ پانی تیزی سے کیبن میں بھرنے لگا تھا جو اِن کے لاشعور نے اِنہیں محسوس کرا دیا۔’’ ہمیں فوراً اس پانی سے باہر نکلنا ہو گا‘‘مدثر نے سوچا اورجلدی سے لیفٹیننٹ عباس کو کندھے سے پکڑ کر کیبن کے سامنے والی گیلری کی طرف بڑھنے لگے ۔ فرش اب غیر ہموار اور ٹوٹا ہو ا تھا اور نقل و حرکت آسان نہ تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون کے بچوں کی چیخ و پکار لیفٹیننٹ مدثر کے کانوں میں واضح سنائی دے رہی تھی۔ قریب سے ہی میجر عادل شریف اور کیپٹن کاشف گورایہ تیزی سے گزرتے دِکھائی دیئے۔ کیپٹن کاشف چیخ چیخ کر سب کو باہر نکلنے کے لئے کہہ رہے تھے۔ خود دونوں آفیسرز جلدی سے آگے بڑھے اور اپنے کمانڈنگ آفیسر کے کیبن کو کھولنے کی کوشش کرنے لگے۔ یہ دروازہ بُری طرح پھنس چُکا تھا۔ لیفٹیننٹ مدثر بھی کمانڈنگ آفیسر کے درواز ے تک پہنچ چُکا تھا اور اس کے ساتھ ہی ایک اور آفیسر بھی پہنچا، دونوں نے مِل کر زور آزمائی شُروع کر دی۔ اس دروازے میں کوئی دو انچ کا خلاء پیدا ہو چُکا تھالیکن اس کے بعد بُری طرح پھنس چُکا تھا۔اندرونی طرف سے کرنل عامر جدون بھی پُوری قوت سے دروازہ کھولنے کی سعی کرتے رہے لیکن دروازے نے کھلنا تھا نہ کھلا۔ کرنل عامر جدون کے پسِ منظر میں اُن کے اہلِ خانہ بے یارومددگار دِکھائی دے رہے تھے۔ پانی تیزی سے کیبن میں بھرتا جا رہا تھا اور پِھر اچانک پانی کا ایک اور ریلا آیااور کیبن کی چھت تک پہنچ گیا۔ اب پانی سر سے گُزر چُکا تھا۔ اس پانی میں اِنجن کا ڈیزل بھی مِلا ہُوا تھا۔ ہر طرف گُھپ اندھیرا چھا چُکا تھا۔ لیفٹیننٹ مُدثرکو پانی نے فرش سے اُٹھایااور چھت سے جا لگایا۔ لیفٹیننٹ مُدثر کو بے رحم پانی کے اندر معصوم سیف اللہ جدون اور فاطمہ جدون بھی کیبن کی چھت کی طرف بلند ہوتے دِکھائی دیئے۔ادھر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون دروازے سے پیچھے پلٹتے دِکھائی دیئے۔ دُوسرے آفیسرز بھی پانی کے سامنے تقریباً بے بس ہو چُکے تھے۔ لیفٹیننٹ مدثر کہتے ہیں۔ ’’یہ وُہ لمحہ تھا جب پانی مُجھ پر غالب آ چُکا تھااب میں نے گُھپ اندھیرے میں ایک آخری کوشش کے طور پر پھنسے ہُوئے دروازے کی سمت ہاتھ بڑھا کر زور لگا یا۔ میرا تھوڑا سا بازو جیسے دروازے کے معمولی سے خلا میں اٹک گیا۔ میرے کانوں میں پانی کی آواز یں سُنائی دے رہی تھیں۔ دروازے کا خلا بالکل ہی ناکافی تھا اور مُجھے اس کا ادراک تھا۔ بس اب کُچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ گہرے اندھیرے اور یخ بستہ پانی میں میری سا نسیں اب جواب دے رہی تھیں۔ میں نے جدوجہد ترک کر دی ۔ سانس لینے کی توانائی بھی ختم ہو گئی تھے۔ میں موت کا انتظار کرنے لگا۔ چند ہی ثانیوں میں مُجھے احساس ہوا کہ زِندگی اتنی آسانی سے نہیں چھوڑی جا سکتی ۔ میں نے آخری بار ایک بھر پُور کوشش کرنے کا سوچا اور خود کو دروازے کے معمولی سے خلا کی طرف دھکیلنے لگا۔ جلد ہی میرا کندھا اور پھر پورا بازو باہر نِکل گیا اور پھر میرا اُوپر کا دھڑ باہر نِکل آیا۔اب میں نے اپنے دونوں بازوؤں سے بھرپُور زور لگایااور آزاد ہو گیا،میں اُٹھا ۔ روشنی کی ایک لکیر سی اندھیرے کو چیرتی ہُوئی اندر داخل ہو رہی تھی۔ جلد ہی میں سطح پر اُبھر چُکا تھا ۔ روشنی اور آوازیں!میں بھی چِلایا،اندر بچے ہیں کوئی مدد کرو،کوئی بچاؤ۔یہ ریل کی چھت تھی۔ اسی چھت پر مُجھے لیفٹیننٹ کاشف دکھائی دیئے‘‘۔

لیفٹیننٹ کاشف کاظمی چھ فُٹ 3انچ کے ایک دراز قد نوجوان آفیسر ہیں جو اپنی درازی قد پر سب سے زیادہ اللہ کا شُکر اس وقت بجا لائے جب پانی دُوسروں کے سروں سے توگُزر چُکا تھا لیکن لیفٹیننٹ کاشف کاظمی کی ٹھوڑی تک پہنچ کر بے بس ہو گیا تھا۔ جب ٹرین پٹڑی سے اُتر کر چنگھاڑتے ہُوئے پُل کے ایک دیو قامت ستون سے ٹکرائی تو اُس وقت لیفٹیننٹ کاظمی کیپٹن کاشف کی زبانی زندگی کے دِلچسپ واقعات سُن سُن کر قہقہے لگا رہے تھے۔ دِل دہلا دینے والی آواز اور جھٹکے نے دونوں آفیسرز کو روئی کے گالوں کی طرح سیٹوں سے اُٹھا کر سامنے کی دیوار پر پٹخا۔ اب ٹرین کی یہ بوگی جیسے ایک لمحے کے لئے فضا میں معلق ہو گئی تھی۔ یہ سب کُچھ چند لمحوں میں ہو چُکا تھا‘ کسی کے پاس ردِ عمل کا وقت ہی نہ تھا۔ کیپٹن کاشف اور لیفٹیننٹ کاظمی کے اوسان ابھی تک بحال تھے۔ دونوں آفیسرز تیزی سے اُٹھے اور کیبن سے باہر گیلری کی طرف دوڑے۔ انہیں بھی کمانڈنگ آفیسر کے زور زور سے پُکارتے ہوئے بچوں کی آہ و پُکار سنائی دی۔ دونوں آفیسرز نے جلدی سے سارے کیبن چیک کئے تو ایسے لگا کہ سب لوگ پہلے ہی باہر نکل چکے تھے۔ البتہ کمانڈنگ آفیسر اور اُن کے اہلِ خانہ ابھی تک اندر ہی تھے۔ چاروں اطراف سے کیبن میں پانی بھر رہا تھا۔ میجر عادل پہلے ہی گیلری میں تھے۔ سبھی آفیسرز نے مِل کر کوشش کی لیکن کمانڈنگ آفیسر کا کیبن کھولنے میں ناکام رہے۔ جب پانی چھت تک پہنچ گیا اور مکمل اندھیرا چھا گیا تو ایسے میں لیفٹیننٹ کاظمی کہتے ہیں۔

’’میں اس احساس کو بیان نہیں کر سکتا کہ جب ہم خود کو مکمل طور پر بے یارو مددگار محسوس کر رہے تھے۔ موت یقینی تھی، میں گیلری کے اطراف میں مُڑا، میرے خیال میں وہاں ایک کھڑکی ہونی چاہئے تھی۔ ذرا سا ٹٹولا تو کھڑکی پر پڑے شٹر کے لاک پر ہاتھ پڑ گیا۔ دو تین کوششوں میں شٹر کُھل گیا۔ میں پہلے ہی 15سیکنڈ سے سانس روکے ہُوئے تھا۔ میں نے جلدی سے اپنا سر اُس کھڑکی سے باہر نکالا اور آہستہ آہستہ اُوپر کی طرف جانے لگا، جلد ہی میں سانس لے سکتا تھا ۔ میں جلدی سے بوگی کی چھت پر پہنچ چکا تھا‘ جو آہستہ آہستہ خود ڈوبنے والی تھی۔ اس طرح میں پانی سے باہر آنے والاپہلا آفیسر تھا۔ باہر آتے ہی میں نے چیخ چیخ کر اپنے ساتھیوں کو بتا نے کی کوشش کی کہ یہ کھڑکی کُھلی ہے اور اس سے باہر آنے کی کوشش کریں لیکن بے سُود۔ کوئی ایک آدھ منٹ ہی گُزرا تھا کہ اچانک لیفٹیننٹ مدثر بھی پانی سے نمودار ہُوئے، میں نے فوراً انہیں چھت کے اوپر کھینچ لیا۔ وہ مسلسل حواس باختہ انداز میں چلا رہے تھے کہ’’ اندر بچے ہیں کوئی مدد کرو،کوئی بچا لو‘‘۔ میں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو سیپر ذیشان ملحقہ بوگی کی کھڑکی سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا،جو ہوا میں معلق تھی۔ وہ سمارٹ تھا لیکن اس کی بیلٹ آڑے آ رہی تھی میں نے اُسے بیلٹ اُتارنے کا مشورہ دیا اور پکڑ کا کھینچ لیا۔ اسی طرح ہم دو تین اور لوگوں کو بھی بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ دراصل اِس بوگی کی کھڑکیوں پر لوہے کی سلاخیں تھیں اور کسی آدمی کا گُزرنامُمکن نہ تھا۔ اب ہم نے پانی میں تیرتے ہُوئے لکڑی کے ایک مضبوط اور بھاری ٹکڑے کو اُٹھایا اور اس کی مدد سے کھڑکیوں کی سلاخیں توڑنے لگے۔ ےُوں متعدد لوگ باہر نکل آئے جنہیں ہم نے ایک اور لکڑی کو بطور پُل استعمال کرتے ہُوئے محفوظ بوگی کی چھت پر منتقل کر لیا۔‘‘

لیفٹیننٹ کاشف کاظمی اور لیفٹیننٹ مدثر حسن اگر چہ خود موت کے مُنہ سے بال بال بچے تھے لیکن اب وقت لُٹے پُٹے قافلے کو سنبھالنے کا تھا۔ دونوں نوجوان آفیسرز کے اندر جیسے نہایت سنجیدہ اور ذمہ دار رُوحیں عود کر آئی تھیں۔ انہیں یہ سمجھنے میں ذرا دیر نہیں لگی تھی کہ یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر اور دیگر سینئیر آفیسر ز کے بچنے کی اب کوئی اُمید نہیں تھی اور وہ جامِ شہادت نوش کر چُکے تھے۔ کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون نے شہادت کا یہ رُتبہ اپنی اہلیہ تہمینہ جدون ، ننھے مُنے بچوں سیف اللہ جدون اور فاطمہ جدون سمیت پایا تھا۔یقیناًیہ ان کے اللہ کے ہاں عظیم مرتبے کا ثبوت تھا۔اُن کی انسانیت سے ہمدردی کا یہ عالم کہ ایک بار مری میں تعیناتی کے دوران رات 9بجے دفتر سے واپس آتے ہُوئے ایک بُوڑھی عورت نے بس سٹاپ تک لفٹ مانگی تو اُسے لے کر بس سٹاپ چل پڑے۔ جب بس سٹاپ پر گاڑی نہ مِلی تو بُوڑھی عورت کی مجبوری اور بے بسی دیکھتے ہُوئے اپنی دِن بھر کی تھکاوٹ کی پروا کئے بغیر مری سے راولپنڈی چل پڑے اور خاتون کو راولپنڈی پہنچا کر دم لیا۔ جوانی میں جب کیپٹن تھے تو دریائے سندھ کے بہاؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چھلانگ لگا کر ایک ڈُوبتے ہوئے پولیس والے کو بچا لیا۔ اللہ نے اِنہیں ماں باپ کے ساتھ حج کا موقع دِیا تو ایک طرف بیمار والد اور دُوسری طرف والدہ کی دیکھ بھال کا اعزاز مِلا حالانکہ دونوں کے حرم جانے کے اوقات بھی مُختلف تھے۔ آفیسرز میں دوسرے نمبر پر میجر عادل شریف شہید تھے جو اپنی ایک سالہ بیٹی عسال عادل کی جان تھے۔ اُن کے ایک بھائی لیفٹیننٹ کمانڈر محمد عامر شریف پاکستان بحریہ میں خدمات میں خِدمات انجام دے رہے ہیں۔ ’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ‘‘کے تیسرے آفیسر جنہوں نے جامِ شہادت نوش کیا وہ کیپٹن کاشف تھے۔

کیپٹن کاشف ایک زندہ دِل ا نسان ، ہنس مُکھ آفیسر اور خوب صورت نوجوان تھے۔ اِن کے والد میجر (ریٹائرڈ)ارشاد علی گورایہ کا تعلق بھی پاک فوج سے ہے جبکہ ان کے ایک بھائی میجر طارق تاحال پاک فوج میں خِدمات انجام دے رہے ہیں۔ کیپٹن کاشف کے اہلِ خانہ کے لئے ان کی شہادت کی خبر ناقابلِ یقین تھی۔ ان کی بہن ڈاکٹر ماہم گورایہ سے جب ہم نے تاثرات پُوچھے تو ےُوں گویا ہُوئیں۔

’’میرا بھائی میرے لئے کیا تھا اور کیسا تھا اس کا اظہار میرے بس میں نہیں۔ تو پھر جِس بات کو نہ جُملوں میں ڈھالا جا سکے نہ نثر میں قید کیا جا سکے تو اِس پر میں کیا کہوں؟2 جولائی 2015ء میرے اور میرے گھر والوں کے لئے کڑے امتحان کا دِن تھا ۔ 28 سال تک محبت، پیار اور مُسکراہٹیں بانٹنے والا میرا بھائی کیپٹن کاشف اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چُکا تھا۔ الرّحمن نے اپنا فیصلہ سُنا دِیا تھا اور وہ ہم سے عباد الرّحمن بننے کا تقاضا کررہا تھا۔یہ خیال کہ کاشف سے یہ مُلاقات درحقیقت اپنے بھائی سے میری آخری مُلاقات ہے مُجھے نڈھال کر رہا تھا۔ ہر قدم کے ساتھ حزن و ملال میرے رگ و پے میں سرایت کر رہا تھا۔ تصویرِ زِندگی سے رنگ مدھم ہو رہے تھے۔ گوجرانوالہ کینٹ کی وہ گلیاں اور سڑکیں جو ہم بہن بھائیوں کے قہقہوں سے گونجا کرتی تھیں‘ آج مجھے میرے بھائی کی شہادت کی خبر دے رہی تھیں۔ بحیثیت ڈاکٹر سب کُچھ جان اور سمجھ لینے کے باوجود میں نے بار بار یہ سوال دُہرایا ’ کیا کُچھ نہیں ہو سکتا‘۔پھر میری آنکھوں نے وہ منظر بھی دیکھا کہ سفید چادر تلے چُھپا ایک جسدِ خاکی ہے اور اس کے ساتھ کیپٹن کاشف کے الفاظ رقم ہیں۔ دِل نے پھر ربُ العالمین سے اِلتجا کی کہ یہ میرا بھائی ، میری متاعِ جان نہ ہو ، پھر چادر ہٹائی گئی تو ہر چیز ساکت و جامد ہو گئی۔ وقت جیسے تھم گیا اور حقیقت در حقیقت مُجھے پر عیاں ہوتی رہی۔ عزت ،احترام، تکریم کے معنی پہلی بارمُجھ پر واضح ہُوئے۔ میں نے آگے بڑھ کر اللہ کے اِس مہمان کا ہاتھ چُوم لیا۔ اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا، میری زبان نے کاشی، کاشی کی صدا دی، میں نے اللہ کے اس سپاہی کے ماتھے کو بوسہ دِیا۔ اپنی رضا اور خوشی کا اظہار کیاتا کہ اللہ تعالیٰ کو بتا سکوں کہ تیرے چند دِل گرفتہ بندوں نے اپنی سب سے پیاری چیز تیری امانت سمجھ کر تیری طرف اس طرح لوٹائی ہے کہ ان کی آنکھیں اُس جُدائی پراشک بار ہیں مگر اِن کے دل تیری مشیت پر مسرور ہیں۔ وہ تجھ سے راضی ہیں، تیرے انعام پر شاداں و فرحاں ہیں، تیری رحمت کے منتظر ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی اس امانت کو میں نے چوما اور بارہا چوما، چاہا کہ اس کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے نقش و نگار ذہن نشین کر لوں ۔ وقفے وقفے سے میرے بھائی میجرطارق کی آواز بھی کانوں میں پڑتی رہی کہ ’’ اللہ تعالیٰ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جنت الفردوس میں اپنے بھائی سے ملانا‘‘۔پھر میں اپنے والد اور والدہ سے مِلی ، اُنہوں نے مُجھے دِلاسہ دیا نہ میں نے اُنہیں ۔ بس آنسوؤں کو بہنے دِیا ، کیونکہ جانے والا ایسا تھا کہ اس کے جانے پر آنسُو بہائے جائیں،وہ کہ جو ہم بہن ، بھائیوں میں سب پر سبقت لے گیا اور جس شہادت کی تمنا اور خواہش ہم دِلوں میں لئے پھرتے رہے، جس خوبی اور لذّت کے قِصّے ہم سکول و کالج میں سٹیج پر بیان کرتے رہے وہ اس عظیم مرتبے کو پہنچ کر حیاتِ جاوداں حاصل کر گیا۔ ڈاکٹر ماہم گورایہ اپنے بھائی کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید بتاتی ہیں: ’’گرمیوں کی ایک دوپہر،میں اور بھائی سکوُل سے واپس آ رہے تھے۔ راستے میں سڑک کے کنارے ایک بھکاری بیٹھا ہُوا تھا۔ ہم اپنی خوش گپیوں میں مگن اس سے گزر کر کچھ آگے نِکلے تو بھکاری نے کہا کہ اللہ کے نام پر کچھ دے جاؤ۔ کاشف بھائی پیچھے مُڑے اور کُچھ پیسے اسے دے کر آئے۔ پھر مجھ سے کہا کہ جب بھی کوئی اللہ کے نام پر مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں ضرور اِسے کُچھ دیتا ہُوں۔ یہ غالباً اس زمانے کی بات ہے جب بھائی آٹھویں جماعت میں اور میں غالباً تیسری جماعت میں پڑھتی تھی۔ لیکن بھائی کی سکھائی گئی یہ بات سالوں بعد بھی میرے ساتھ ہے اورچودہ پندرہ سال کے اس لڑکے کی فراست مجھے آج بھی تعجب میں مبتلا کر دیتی ہے۔‘‘

میں اکثر پڑھا کرتی تھی کہ خشیتِ الہٰی سے لوگوں کی آنکھیں جھک جاتی ہیں اور ان کے چہرے پر اس کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔لیکن اس کا عملی اظہار میں نے 28فروری2015ء کو تب دیکھاجب بھائی مجھے ہسپتال سے واپسی پر پِک کرنے آئے۔ میری ایک دو ست جو کہ ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کی وجہ سے ٹھیک سے چل نہیں سکتی اور چلنے کے لئے سپورٹ کا استعمال کرتی ہے، مجھے اچانک ملنے کے لئے آئی۔ میں نے بھائی سے ان کا تعارف کروانا چاہا تو دیکھا کہ بھائی کا چہرہ عاجزی اور انکساری سے سُرخ ہے اور ان کے ہونٹ اللہ سے دُعا کرتے ہُوئے ہِل رہے ہیں۔اللہ کے خوف سے مومن کا دِل کِس طرح نرم پڑتا ہے‘ میں نے اس دِن اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ واپسی پر بھائی برابر مجھے تلقین کرتے رہے کہ میں اپنی دوست کا خاص طور خیال کروں اور ان کا حوصلہ بڑھاتی رہوں ۔ یہاں تک کہ میں نے اپنی دوست کو میسج کیا کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا نہیں آپ کا بھائی ہے۔بھائی کی شہادت پر میری اس دوست نے مجھ سے کہا :

’’میں ساری رات یہ سوچتی رہی کہ جو لوگ سب سے مختلف ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی خاص نظر میں ہوتے ہیں۔بھائی کی شہاد ت کے بعد ایک خاتون ہمیں مِلیں جو میرے چچا کے گھر کے پاس رہتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا چھت سے گِر کر زخمی ہو گیاتھا‘ گھر پر اس وقت کوئی موجود نہ تھا، ان کے رونے اور چیخنے سے اِرد گِرد سے لوگ جمع ہُوئے تو ان میں کاشف بھائی بھی تھے انہوں نے فوراً اس بچے کو گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال لے گئے اور مکمل طبی امداد دلانے کے بعد واپس آئے۔ وہ خاتون بار بار یہ کہتی رہی ’’ اس نے تو میر ے بیٹے کو بچا یا تھا‘‘۔بھائی کی جگہ شاید کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا لیکن جو بات مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بھائی نے آج تک اس واقعے کا ذِکر ہم سے نہیں کیا۔ اِن کے لئے یہ شاید کوئی اہم بات نہ ہو اور شاید یہی اصل نیکی کا معیار ہے کہ کرنے والا اس سے بے خبر رہے گویا کہ اس نے کوئی قابلِ ذِکر کام کیا ہی نہ ہو۔ان کے بھائی میجر طارق نے پرانی تصاویر حاصل کرنے کے لئے ان کے بریگیڈ میں رابطہ کیاتو بریگیڈ کے جی تھری کیپٹن وقاص نے کیپٹن کاشف کا ذِکر یوں کیا’’کیپٹن کاشف گورایہ بریگیڈ میں میری آمد سے پہلے انفینٹری سکول کورس پر جا چُکے تھے‘ تاہم اس بریگیڈ میں ہر طرف کاشف گورایہ کی شہرت کے قصے عام تھے ، سب کو کہتے سنا کہ ان کی قیادت میں انجینئر کمپنی نے رحیم یار خان میں بہت اعلیٰ کام کیا۔ اسی شہرت کی بنیاد پر کیپٹن کاشف سے ملنے کا بہت اشتیاق ہُوا۔پھر ایک دن کیپٹن کاشف کورس کے بعدبٹالین ہیڈ کوارٹر پنوں عاقل سے رحیم یار خان آئے تو ملاقات ہو گئی۔ ایک ہی ملاقات میں ان کو اتنا اچھا پایا کہ ان کا چہرہ ‘مُسکراہٹ اور باتیں دِل پر نقش ہو گئی ہیں‘‘۔ میجر طارق پاک فوج سے کیپٹن کاشف کے لگاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ’’2005ء میں جب کاشف کو پتہ چلا کہ وہ ائیایس ایس بی کلیئرکر کے پاک فوج کے لئے سیلیکٹ ہو گیا ہے تو سب سے پہلے سجدے میں گِر کر اللہ کا شُکر ادا کیا۔ اکتوبر 2011ء میں پاکِستان مِلٹری اکیڈمی کاکول سے پاس آؤٹ ہواور میرے پاس پہنچا تو مجھے فخر سے سیلیوٹ کیا۔ میں نے سیلیوٹ کا جواب دینے کے بجائے فرطِ جذبات میں گلے سے لگا لیااور سر فخر سے بلند ہو گیا کہ میرا بھائی بھی پاکِستان آرمی میں میرا ساتھی بن چُکا۔ اس وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ مُلک و قوم کا یہ بہادر بیٹاشہداء اسلام کی صف میں شامل ہو کرحیاتِ جاوداں پانے والا ہے۔‘‘

’’اس خصوصی ٹرین قافلے کے نوجوان شہید لیفٹیننٹ محمد عباس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادات اور اپنے محبوب سے مِلن کے جذبے پر کم سِنی میں ہی مقام شہادت عطا کر دیا۔ ان کے ایک کزن کیپٹن محمد عامر سجاد کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ عباس بچپن سے ہی سب کی آنکھوں کا تارا، نہایت دلیر، باوفا اور ذہین نوجوان تھا، وہ ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتا تھا اور جہان فانی سے جاتے ہُوئے بھی اِمتیازی مقام حاصل کر کے رُخصت ہُوا۔ شہادت کا درجہ پانے والوں میں آفیسرز کے ساتھ ساتھ ’’ ٹائیگرز آف کے کے ایچ ‘‘ کے رُوحِ رواں صوبیدار میجر اسلام خان، نائیک عارف محمود، لانس نائیک ظفر حیات، سیپر سُلطان زیب، سیپر محمد سلیم ، سیپر دھنی بخش، کُک نصیر احمد، باربر شاپ کے کنٹریکٹر محمد عثمان اور دھوبی شاپ کے کنٹریکٹر محمد ارشد شامِل ہیں۔ جائے حادثہ پر اب سینئر ترین آفیسر لیفٹیننٹ کاشف کاظمی اور لیفٹیننٹ مدثر حسن ہی تھے۔ وہ انتہائی چابکدستی سے اپنی ریزہ ریزہ یونٹ کے بِکھرے ہُوئے حصّوں کو منضبط کرنے اور موت و حیات کی کشمکش میں مُبتلا زخمیوں کو بچانے لگے۔ ےُونٹ کے سولجرز بھی بڑھ چڑھ کر پُوری ذمہ داری سے ان کے احکامات بجا لاتے۔ اس طرح جلد ہی جائے حادثہ کو محفوظ بنا کر زخمیوں کو ریسکیو کے لئے تیار کیا جانے لگا۔ دراصل چند لمحوں میں بپا ہونے والے اس خوفناک حادثے نے ہر طرف چیخ و پُکار اور خوف و ہراس بپا کر دِیا تھا۔ دیو قامت ستونوں والا پُل کسی کاٹھ کباڑ کے جھونپڑے کی طرح ٹُوٹا پڑا تھا۔ ٹرین کے ڈبے ماچس کی ڈبیوں سے بنی بچوں کی ریل گاڑی کی طرح ہوا میں معلق اور کُچھ نہر میں ڈُوبے ہُوئے تھے۔ دونوں آفیسرز اور سولجرز بے بسی کے عالم میں ڈُوبنے والوں کو بچانے کے لئے کبھی کلہاڑوں کی مدد سے ڈُوبتے ہُوئے ریل گاڑی کے ڈبے کی چھت پھاڑنے کی کوشش کرتے تو کبھی دائیں بائیں سے ڈبوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے لیکن یہ سب کوششیں بے کار تھیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پُوری بوگی پانی میں ڈُوب گئی۔ البتہ دوسرے ڈبوں میں پھنسے سولجرز، عورتوں اور بچوں کو بچا لیا گیا۔ دونوں آفیسرز نے چاروں اطراف میں محافظ کھڑے کئے اور ننگے پاؤں بھاگ بھاگ کر ریسکیو کا کام جاری رکھا تا وقتیکہ قریبی شہروں سے ریسکیو کی ٹیمیں اور سینئیر فوجی آفیسرز پہنچنا شروع ہو گئے۔اب حادثے کے مقام پر کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل غیور احمد بنفسِ نفیس پہنچ چُکے تھے اور ان کی کور کے متعدد آفیسرز اور ریسکیو ٹیمیں مصروفِ عمل تھیں۔ علاوہ بریں ایس ایس جی ڈرائیور جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے منگلا سے لایا گیا جبکہ سول ڈائیورز جو جہلم سے بذریعہ روڈ گئے انہوں نے جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی امدادی کاموں میں گوجرانوالہ کے آرمرڈ ڈویژن اور منگلا کور انجینئرز کے دستوں نے بھی عُمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جامکے چٹھہ کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی اس خصوصی ٹرین نے چار آفیسرز، ایک آفیسرز کی اہلیہ، دو بچوں ، ایک صوبیدار میجر، پانچ سولجرز اور تین سویلین مُلازمین کی جان لی۔ حادثہ ہو نے پر چھناواں پُل ٹُوٹنے سے ٹرین کا اِنجن اورتین بوگیاں لوئر چناب نہر میں جا گِریں۔ حادثے کے بعد کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل غیور احمد کے علاوہ کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد ہلال حُسین اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ذاتی طور پر تشریف لائے اور پھر آرمی ایوی ایشن بیس پر شُہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے اس موقع پر سی ایم ایچ گوجرانوالہ میں زخمیوں کی عیادت بھی کی اور حادثے میں بچ جانے والوں کا حوصلہ بڑھایا اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا۔ حادثہ اگرچہ تباہ کُن اور بھیانک تھا لیکن پاک فوج کی اس مایہ ناز یونٹ ’’ٹائیگرز آف کے کے ایچ ‘‘ نے چند ہی دِنوں میں اپنے نئے کمانڈنگ آفیسرلیفٹیننٹ کرنل سُلیمان اور دیگر نئے آفیسرز میجر عثمان، کیپٹن وصی اور پُرانے غازیوں لیفٹیننٹ کاشف کاظمی و لیفٹیننٹ مدثر حسن کی قیادت میں خُود کو ایسے سنبھالا کہ صرف دو ہی ہفتوں بعد عید الفطر کے موقع پر کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد ہلال حُسین ہلال امتیاز (مِلٹری) نے جب یونٹ کا دورہ کیا تووہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ ’’ یہ ایک ایسی توانا اور مثالی یونٹ ہے جِس نے نہ صرف خود کو زبردست سنبھالا ہے بلکہ ہر سطح پر ایک عُمدہ چمک اور اُونچا مورال دِکھائی دے رہا ہے۔‘‘

[email protected]

یہ تحریر 242مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP